(سید سجاد بخاری ،عبد الستار قمر، وسیم بابر سے ) روزنامہ
خبریں کے زیر اہتمام آرٹس کونسل ملتان کے شتراک سے سالانہ سرائیکی مشاعرہ، 126 شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا ۔
آرٹس کونسل ملتان میں روزنامہ خبریں کے زیر اہتمام سالانہ سرائیکی مشاعرہ شاندار ادبی ماحول میں منعقد ہوا۔
مشاعرے کے لیے سجایا گیا اسٹیج انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب تھا، جس میں سرائیکی وسیب کی ثقافت، روایات اور علاقائی شناخت کی بھرپور عکاسی کی گئی۔
سرائیکی زبان و ادب سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد نے مشاعرے میں شرکت کی، جبکہ ملتان کی ادبی، سماجی، سیاسی اور دیگر معزز شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں۔
سرائیکی نوجوان تحریک کے مظہر کات اور سرائیکی پارٹی کے اللہ نواز ونیس گروپ کی صورت میں شرکاء نے آرٹس کونسل ملتان پہنچ کر ادبی سرگرمی میں شرکت کی۔
شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے سرائیکی وسیب کی تہذیب، ثقافت، محبت، معاشرتی مسائل اور عوامی جذبات کی خوبصورت ترجمانی کی۔
مشاعرے میں سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری پیش کی گئی، جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی اور محفل کو خوبصورت ادبی رنگوں سے سجا دیا۔
شعراء کے منفرد اندازِ بیان، برجستہ اشعار اور مزاحیہ کلام نے حاضرین کو محظوظ کیا، جبکہ سنجیدہ شاعری نے سامعین کو گہری سوچ اور احساسات کی دنیا میں پہنچا دیا۔
مشاعرے کے دوران شعراء اور ادبی شخصیات کے درمیان ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس سے سرائیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے باہمی رابطوں کو تقویت ملی۔مختلف شعراء نے مہمانانِ گرامی کو اپنی تصانیف بطور تحفہ پیش کیں، جو کتاب اور ادب سے محبت کی خوبصورت روایت کا اظہار تھا۔
تقریب میں سرائیکی زبان کی ترویج، وسیب کی شناخت اور ادبی روایات کے تحفظ کا پیغام نمایاں رہا۔
روزنامہ ”خبریں ”کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس سالانہ مشاعرے نے سرائیکی ادب سے وابستہ شعراء کو اپنے فن کے اظہار اور ادبی حلقوں سے رابطے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔
سرائیکی مشاعرہ دوپہر 1 بجے شروع ہوا اور شعر و سخن سے سجی یہ طویل ادبی محفل شام ساڑھے 8بجے اختتام پذیر ہوئی۔ 7 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں شعراء اور سامعین کی بھرپور دلچسپی نے محفل کو یادگار بنا دیا۔
مظفرگڑھ کی شاعرہ شاہدہ وفاعلوی نے اپنی نظم”دھی رانی” پیش کی جسے سامعین نے بہت سراہا۔
اس مشاعرے کے اکثر شرکاء اپنی تمام ترمصروفیات کوبالائے طاق رکھ کر شریک ہوئے جس سے ان کی وابستگی پتہ چلتا ہے۔
متعدد شعراء کرام نے اپنامجموعہ کلام بھی پیش کیا۔
مشاعرے میں نوجوان شعراء کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور انہوں نے اپنا انقلابی کلام پیش کرکے حاضرین کوحیران کردیا او رحاضرین یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ سرائیکی وسیب میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔
جھلکیاں
