اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ممتاز ماہرِ تعلیم، محقق اور سماجی کارکن ڈاکٹر حمیرا عنبرین کو پاکستان ویمن لیڈرز پروجیکٹ کے لیڈرشپ بوٹ کیمپ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ ملک بھر کے 57 اضلاع سے 8 ہزار سے زائد خواتین کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں میں ڈاکٹر حمیرا عنبرین کا انتخاب ان کی قائدانہ صلاحیتوں، علمی و تحقیقی خدمات، سماجی سرگرمیوں اور خواتین کو معاشی و معاشرتی طور پر بااختیار بنانے کے لیے جاری کوششوں کا اہم اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک کے مختلف علاقوں سے منتخب ہونے والی خواتین رہنماں کو قائدانہ صلاحیتوں میں بہتری، سماجی ترقی، عوامی معاملات میں مثر کردار اور مقامی سطح پر خواتین کی شمولیت بڑھانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ڈاکٹر حمیرا عنبرین کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے تعلیم، تحقیق، سماجی بہبود اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ کرم ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی صدر ہیں، جہاں وہ بالخصوص ضلع کرم اور خیبرپختونخوا کی خواتین کو کاروباری مواقع فراہم کرنے، ان کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور کاروباری شعبے میں خواتین کی مثر نمائندگی یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی کوششوں کا بنیادی مقصد خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانا اور انہیں معاشرے کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ڈاکٹر حمیرا عنبرین شی لیڈز ویلفیئر آرگنائزیشن کی بانی اور چیئرپرسن بھی ہیں۔ یہ تنظیم خواتین کی فلاح و بہبود، سماجی آگاہی، مقامی آبادی کی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تنظیم کے ذریعے خواتین کو درپیش سماجی و معاشی مسائل اجاگر کرنے، ان میں خوداعتمادی پیدا کرنے اور مختلف شعبوں میں ان کی شرکت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بھی ڈاکٹر حمیرا عنبرین وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بطور فیکلٹی ممبر بھی تدریسی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ اس وقت وہ اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز میں بطور ریسرچ آفیسر خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی امور سے متعلق تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ان کی تحقیق کے اہم موضوعات میں بین الاقوامی تعلقات، علاقائی سلامتی، تنازعات کا حل، انسانی حقوق اور قیام امن شامل ہیں۔ ڈاکٹر حمیرا عنبرین نے اپنے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے میں ضلع کرم میں قیام امن کے امکانات اور اس سلسلے میں غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور مقامی جرگہ نظام کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق کا محور مقامی سطح پر تنازعات کے پائیدار حل اور امن کے قیام میں سماجی اداروں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ڈاکٹر حمیرا عنبرین نے بین الاقوامی تعلقات میں ایم فل اور ماسٹرز، معاشیات میں ایم ایس سی جبکہ تعلیم کے شعبے میں بھی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف تعلیمی شعبوں میں ان کی مہارت نے انہیں تحقیق، تدریس، ادارہ جاتی قیادت اور سماجی ترقی کے میدان میں مثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔پاکستان ویمن لیڈرز پروجیکٹ کے تحت ڈاکٹر حمیرا عنبرین اپنے ضلع میں منعقد ہونے والے لیڈرشپ بوٹ کیمپ میں شرکت کریں گی، جہاں ملک کے مختلف علاقوں سے منتخب ہونے والی دیگر خواتین رہنما بھی شریک ہوں گی۔ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنا، انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا اور معاشرتی و عوامی زندگی میں ان کی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ڈاکٹر حمیرا عنبرین کا اس اہم پروگرام کے لیے انتخاب بالخصوص خیبرپختونخوا اور ضلع کرم کی خواتین کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ ان کی علمی، تحقیقی اور سماجی خدمات خواتین کی معاشی شمولیت، مقامی اداروں کے استحکام اور معاشرتی ترقی کے لیے جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان ویمن لیڈرز پروجیکٹ میں ان کی شرکت سے خواتین کی قیادت، سماجی ترقی اور معاشی خودمختاری کے لیے ان کے تجربات کو مزید مثر انداز میں بروئے کار لانے کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
