گوجرخان (بیورو رپورٹ) پوٹھوہار ہوٹل کو سیل کیے جانے کے خلاف ہوٹل کے مالک حاجی اصغر قریشی نے پوٹھوہار پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان اور پیرا فورس نے محض 15
منٹ کا نوٹس دے کر ان کا ہوٹل سیل کر دیا، جبکہ ہوٹل کے اندر تقریبا 50 لاکھ روپے مالیت کا سامان تاحال موجود ہے۔ انہوں نے اعلی حکام سے معاملے کا نوٹس لینے اور ہوٹل ڈی سیل کرانے کی اپیل کی ہے۔پریس کانفرنس میں پوٹھوہار ہوٹل کے مالک حاجی اصغر قریشی کے علاوہ جمیل قریشی، شکیل قریشی، اکرم قریشی، اسلام قریشی، اسلم قریشی، عثمان قریشی اور دیگر بھی موجود تھے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی اصغر قریشی نے کہا کہ وہ ہوٹل کے کرایے کی رقم باقاعدگی سے عدالت میں جمع کرا رہے ہیں اور ان کے بقول کرایے کی مد میں کوئی بقایا واجب الادا نہیں۔ اس کے باوجود ہوٹل سیل کیے جانے سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل بند ہونے سے نہ صرف ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے بلکہ اس سے وابستہ دو درجن سے زائد خاندان بھی مالی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔حاجی اصغر قریشی کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ان کا ہوٹل آٹھ ماہ تک سیل رہا، تاہم اس عرصے میں بھی وہ باقاعدگی سے کرایہ جمع کراتے رہے۔ انہوں نے مقف اختیار کیا کہ ہوٹل کے حوالے سے معاہدہ موجود ہے اور وہ عدالتی کارروائی کے ذریعے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق ہوٹل سیل کیے جانے کے وقت انہیں صرف 15 منٹ کی مہلت دی گئی، جبکہ ہوٹل کے اندر موجود لاکھوں روپے مالیت کا سامان بھی تاحال نہیں نکالا جا سکا۔انہوں نے وزیراعلی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور متعلقہ اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ہوٹل سیل کرنے کی وجوہات اور قانونی طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کی بندش سے ان کے کاروبار اور روزگار سے وابستہ افراد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، لہذا معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
15 منٹ کا نوٹس دے کر ہوٹل سیل کیا گیا،مالک حاجی اصغر قریشی

