راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)شمالی ، جنوبی اور وسطی پنجاب کی متعدد فعال کسان تنظیموں کے رہنماں نے آج منگل کے روز یہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اورکسان ونگ کے آرگنائزر شیخ وقاص اکرم اور کسان ونگ کے ترجمان خالد نواز سدھرائچ سے ایک اہم ملاقات کی ہے. ملاقات کے دوران کسان رہنماں نے حکومت کی جانب سے گندم کے لیے اشارتی قیمت (INDICATIVE PRICE)کی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کسانوں کے معاشی تحفظ کے لیے فوری طور پر باقاعدہ "سپورٹ پرائس” (امدادی قیمت) کا اعلان کرے. ملاقات کرنے والوں میں کسان بورڈ جڑانوالہ سمیت راولپنڈی ، حافظ آباد ، پھالیہ ، جھنگ، چنیوٹ ، فیصل آباد ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، ملتان اور دیگر اضلاع کے کسان نمائندے شامل تھے . کسان رہنماں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اشاراتی قیمت کسانوں کے ساتھ مذاق ہے جس سے زراعت اور کسان کو درپیش مشکلات کا ازالہ نہیں ہوگا . ملاقات کے دوران کسان نمائندوں نے شیخ وقاص اکرم اور خالد نواز سدھرائچ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب عام کسان بھی انڈیکیٹو اور سپورٹ پرائس کے تکنیکی فرق کو اچھی طرح جا ن چکے ہیں. انہوں نے کہا کہ اشاراتی یا علامتی قیمت پر عمل کرنا کھلی مارکیٹ یا خود حکومت پر لازم نہیں ہوتاجبکہ امدادی قیمت کا مقرر کیا جانا قانونی طور پر کسان کو تحفظ دیتاہے . جب کھلی مارکیٹ ریٹ گرا دے تو امدادی قیمت کی موجودگی کسان اپنی فصل حکومتی اداروں کو مقررہ نرخوں پر بیج کر نقصان سے بچ سکتا ہے .انہوں نے کہا کہ کھلی مارکیٹ میں تاجر اور مڈل مین کسانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس اشارتی قیمت سے بہت کم داموں پر فصل خریدتے ہیں اور باقاعدہ امدادی قیمت مقرر نہ ہونے کے سبب کسانوں کا استحصال کیا جاتا ہے . شیخ وقاص اکرم اور خالد نواز سدھرائچ نے کسانوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی آواز اعلی ایوانوں تک پہنچائیں گے،انہوں نے کہا کہ اگر حکومت گندم کی اعلان کردہ قیمت کو علامتی کی بجائے باقاعدہ امدادی قیمت قرار دے بھی دے تو تب بھی کسانوں کا بھلا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک دیگر مسائل کا پائیدار حل نہ دیا جائے . انہوں نے کہا کہ کسان کمیونٹی بالخصوص 12 ایکڑ تک زرعی اراضی رکھنے والے کسانوں کو ڈیزل ، کھاد ، بجلی تصدیق شدہ بیج اور دیگر زرعی مداخل میں خاطر خواہ سبسڈی کی ضرورت ہے . انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو بچانے اور نیشنل فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے لازم ہے کہ حکومت نہ صرف گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کرے بلکہ اس کو مکمل طور پر نافذ العمل کرکے درمیان میں سے ناجائز منافع خور مافیاز کا کردار ختم کرے جو ہر دفعہ کسانوں کا استحصال کرتے ہیں،خالد نواز سدھرائچ نے کہا کہ خیبر سے کراچی تک پوری کسان کمیونٹی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حکومت ڈنگ ٹپا زرعی فیصلوں کی بجائے ایک دیرپا اور کسان دوست مستقل زرعی پالیسی کا اعلان کرے . انہوں نے مطالبہ کیا کہ آنے والی فصلوں کی خریداری حکومت خود کرے اور آڑھتیوں کو کسانوں کا استحصال کرنے کی چھٹی ہر گز نہ دی جائے .
