اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران وزیر اعلیٰ کے اختیارات گورنر کو منتقل کردئیے۔ کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کی منظوری دیدی جبکہ 10روپے کا نوٹ ختم کرکے سکہ رائج کرنے کی بھی منظوری دیدی، ادھر ای سی سی نے54 ارب روپے کے دفاعی اورآبی منصوبوں کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کی سہل انجام دہی اور گورننس کی مزید بہتری کے لیے وزیراعلیٰ کو تفویض شدہ اختیارات صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے گورنر خیبرپختونخوا کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی۔گورنر خیبرپختونخوا اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے، وفاقی کابینہ نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل، گورنر خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبے کے عوام کی بہتری، خوشحالی اور امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کاوشیں یقینی بنائے گی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق بھی کر دی، پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ 11جون 2023کو طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، کویتی حکومت 19 جولائی کو اس معاہدے کی توثیق کر چکی ہے۔وفاقی کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے دی، کابینہ کو نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے ملک بھر سے مصوروں اور ڈیزائنرز سے تجاویز لی گئیں، وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے تمام سٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت بھی کی۔شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کے لیے سکیورٹی فیچرز بڑھانے کے ساتھ جدید میٹریل استعمال کیا جائے گا، جس سے نوٹوں کی استعمال کی معیاد میں بھی اضافہ ہوگا۔وفاقی کابینہ نے 10روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10روپے کا سکہ متعارف کروانے کی بھی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں کے 26 اکتوبر کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 22 جنوری، 26 فروری، 5، 18 اور 27 اگست جبکہ 11 اور 22 ستمبر کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،اس کی بڑی وجہ خطے میں بدامنی ہے،پاکستان امن قائم کرنے کے لئے پہلے کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے،گزشتہ ہفتے میں پاکستانی وفد نے دو بار تہران کا دورہ کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی تہران گئے جہاں پاکستان،سعودی عرب ، ایران اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت ہوئی، وہاں پر پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدے کے حوالے سے بھی اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی کہ کس طرح خطے میں باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فیول سبسڈی کا شاندار پروگرام کامیابی سے جاری ہے جو دسمبر کے آخر تک رہے گا،ڈیڑھ کروڑ افراد نے ٹوکن استعمال کئے ہیں اور اگر پانچ افراد پر مبنی کنبہ ہو تو کم از کم ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہوچکے ہیں، حکومت نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام آدمی پر نہیں پڑنے دیا، جمعہ کو عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا بلکہ وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم نے ریفائنریز کے ساتھ اہم بات چیت کی اور انہیں کہا گیا کہ یہ بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے وہ برداشت کریں، اس پر وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ خطے کے حالات کی وجہ سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے پیش نظر عوامی ریلیف کیلئے فیول سبسڈی سکیم کا اجرا کیا گیا جس سے اب تک ساڑھے سات کروڑ افراد مستفید ہو چکے ہیں اور اس مد میں تقریبا ً 28 ارب روپے کی سبسڈی دی جا چکی ہے، یہ پروگرام انتہائی کامیابی اور شفاف طریقے سے آگے چل رہا ہے، اس پر متعلقہ حکام نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے، کچھ پٹرولیم پمپوں سے اس سکیم کے تحت گڑ بڑ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم اس پر مکمل نظر ہے اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہو گی۔ انہوں نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ ایسے پٹرول پمپوں کو بند کریں، انہیں سزا دی جائے تاکہ یہ عبرت پکڑیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح ہم نے ایل این جی مافیا جنہوں نے اس کی درآمد سے اربوں روپے کمائے، اس سے کئی دہائیوں بعد چھٹکارا حاصل کیا ہے اور اب مافیا کا دور ختم ہو چکا ہے، اب مسابقت اور شفافیت کے ساتھ ایل پی جی کی درآمد اور اس کا انتظام کیا جا رہا ہے، پی ایس او اور پارکو جیسے سرکاری اداروں کے ذریعے امور کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم، وزیر توانائی اور وزیر خزانہ سمیت ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہیں کہ کئی دہائیوں بعد یہ کفر خدا خدا کرکے ٹوٹا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایل پی جی کی درآمد میں مسابقت ہوگی اور مقامی ایل پی جی کی لاٹ میں نیلامی ہوگی اور اس کا منافع حکومت عوام تک سبسڈی دے کر پہنچائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ روز خیبرپختونخوا کیلئے ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے جس کی مالیت 160 ارب روپے ہے اور اس میں سکیورٹی کو مقدم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کثیر تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں، وہاں پر دی جانے والی عظیم قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ کی مدد اور فورسز کی بھرپور کاوشوں سے اس کا خاتمہ ہو گا، صوبے میں اس وقت کی حکومت اور وفاقی حکومت باہمی تعاون سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا سر کچلیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت ترین صوبہ ہے جہاں کے بسنے والے غیور اور بہادر لوگ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے آ رہے ہیں وہاں پر بڑی شہادتیں ہوئی ہیں، بلوچستان میں بھی ایک عرصہ سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا تاہم بدقسمتی سے دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، اب اس کا قلع قمع ہو گا اور پوری قوم کی دعائوں سے اس سے نجات ملے گی۔ وزیراعظم نے موسم سرما کی آمد پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ بحری راستوں میں درپیش حائل رکاوٹوں کے حوالے سے ہر دوسرے، تیسرے دن ان چیلنجز پر غور کرنے کیلئے اجلاس منعقد ہوتا ہے اور اس میں فیول اور ایل پی جی سمیت دیگر ذرائع کی دستیابی اور فراہمی کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے قوم کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انسانی حد تک اپنی پوری کوشش کریں گے کہ ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی درکار طلب ان تک باہم پہنچائی جائیں، بجلی کے کارخانے چلتے رہیں، اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دبائو کو بھی پوری محنت کاوش سے کنٹرول میں رکھیں گے، بھرپور کاوش ہو گی کہ کوئی مشکلات درپیش نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کو گروپ آف 24کی چیئرمین ملنے پر کابینہ کے پلیٹ فارم سے ایک مرتبہ پھر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ہمیں پورا یقین ہے کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو جو عزت اور ذمہ داری عطا فرمائی ہے وہ پوری محنت سے وہاں ہر فورم پر اپنا کیس پیش کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ روز فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس کامیابی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی پوری ٹیم، تمام اداروں اور شخصیات کو جاتا ہے جنہوں نے ان کی لیڈر شپ میں یہ کامیاب تجربہ کیا۔ اس موقع پر وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایل پی جی کی درآمد کے حوالے سے انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔دریں اثناء وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس بدھ کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام، وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔وزارت خزانہ میں ہونے والے اجلاس میں 11نکاتی ایجنڈے پر غور کرتے ہوئے متعدد اہم مالیاتی اور انتظامی اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔ وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی کے اجلاس میں دفاعی خدمات کے جاری منصوبوں کے لیے 54ارب روپے، لائن ایج ایل ایل ہزار طیارے کی شمولیت کے لیے ایک ارب 94کروڑ روپے اور پروجیکٹ استقلال کے لیے 29ارب 13کروڑ 90 لاکھ روپے کی الگ الگ تکنیکی ضمنی گرانٹس (ٹی ایس جیز)منظور کی گئی ہیں جن کا مقصد ضروری آپریشنل تقاضے پورے کرنے اور قومی سلامتی کی ترجیحات کو آگے بڑھانا ہے۔کمیٹی نے وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی سمری پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کے لیے 37 لاکھ 10 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔ اجلاس میں وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے مختلف درجات اور بینک ریٹ میں مجوزہ نظرثانی منظور کرلی گئی جس کا مقصد نوجوانوں کو سستے قرضوں تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے ساتھ نوجوانوں میں کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔ای سی سی نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 15 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بچت وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی جو مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری وسائل کے محتاط استعمال کے حکومتی عزم کا حصہ ہے۔کمیٹی نے وزارت آبی وسائل کے تحت اہم آبی منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کرلی جس سے آبی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جاری منصوبوں پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔ وزارت تجارت کی سمری پر کیمروں سے لیس اسمارٹ چشموں کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ کو بھی ان آلات کے استعمال کو ضابطے میں لانے کے لیے مناسب دفتری قواعد و ضوابط وضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ای سی سی نے ایس این جی پی ایل کے نظام سے منسلک کھاد بنانے والے دو کارخانوں فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو 31 دسمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی منظوری بھی دی تاہم یہ فراہمی مطلوبہ توانائی کی دستیابی سے مشروط ہوگی۔کمیٹی نے مقررہ شرائط پوری کرنے سے مشروط 89 پٹرولیم حقوق کی توسیع اور تجدید کے لیے ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) رولز میں نرمی کی بھی منظوری دی اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 کے دوران گیس پیداواری فیلڈز کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات کو گیس فراہم کرنے کے لیے ایک ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی جس سے گیس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور پیداواری علاقوں کے قریبی دیہات میں قدرتی گیس کی سہولت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی کابینہ
بریکنگ نیوز
- عبدال السید آدم حماوی رشیدہ طلیب نبیلہ سید لہان عمر
- سعودی عرب کا حوثیوں کے کسی بھی حملے کا بھر پور جواب دینے کا اعلان
- مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے اسعد محمود کے گرد نیب کا گھیرا تنگ 10 نومبر کو طلب
- وفاقی کابینہ وزیراعلی کے پی کے اختیارات گورنر کو منتقل کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کی منظوری
- اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہبازشریف کابینہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔
- سعودی عرب کے ساتھ 3ارب ڈالر قرض رول اوور ہوچکا: محمد اورنگزیب
- 2050 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز میں 20.2 فیصد، اموات میں 39.3 فیصد اضافے کا خدشہ
- کراچی سے آنے والی ٹرین رکن پورکے قریب پٹڑی سے اتر گئی،ٹرین آپریشن معطل
- سیاسی و معاشی استحکام کیلئے قومی اتحاد ،قانون کی بالادستی ناگزیر، پنجاب بار کونسل
- نیا محلہ میں خوفناک آتشزدگی،3منزلہ عمارت بھی شعلوں کے لپیٹ میں
- نجی کلینک میںمبینہ طبی غفلت، زچگی آپریشن کے بعد خاتون کی حالت تشویشناک
- نوٹس کسی دوسرے شہری کو جبکہ چار دیواری کسی اور کی گرا دی، لاکھوں کا نقصان
- خاتون، بیٹی سے مبینہ بدسلوکی، تشدد ، 56 ہزار و موبائل فون چھیننے کا الزام
- موٹر سائیکل چوری و دیگر وارداتوں میں ملوث گینگز کیخلاف کارروائیاں
- چکوال ڈینگی کیسز میں اضافہ، محکمہ صحت ،ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی توجہ کا مرکز
- انگور اڈا ، پاک فوج نے افغان طالبان کو بھاگنے پر مجبور کر دیا :راجہ علی اصغر
- چکوال میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانی اب بھی موجود
- میرپورپارک ویو پوائنٹ کا رقبہ 104 کنال سے سکڑ کر 54 کنال رہ گیا شہری حلقوں میں تشویش
- سی پی او کی ہدایتپرسینئر افسران کا چرچز اور دیگر اہم مقامات کا دورہ
- راولپنڈی :سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایات پر گرجا گھروں کی سیکورٹی کیلئے سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہ کر تمام تر سیکورٹی انتظا مات کی نگرانی کر تے ہوئے ۔
