All posts by Daily Khabrain

6 ماہ میں بینکوں سے حاصل کردہ حکومتی قرضوں میں 485 ارب روپے کا اضافہ

کراچی( ویب ڈیسک ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت میں 485 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت میں 485 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور مجموعی قرضوں کی مالیت 10 ہزار 777 ارب 76کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے پہلی ششماہی کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک ہزار 250ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے جبکہ کمرشل بینکوں سے قرض گیری کا رجحان کم ہوگیا۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک پر انحصار بڑھاتے ہوئے کمرشل بینکوں کو ان کے قرضے لوٹائے جس کی وجہ سے شیڈول بینکوں کے حکومت پر قرضوں کی مالیت 764ارب 80کروڑ روپے کمی سے 5ہزار 927ارب 2کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔
پہلی ششماہی کے دوران سرکاری اداروں کو جاری کردہ قرضوں کی مالیت میں 117ارب 43کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ان اداروں میں خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل و دیگر شامل ہیں۔ پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبہ کے لیے جاری کردہ کاروباری قرضوں کی مالیت میں 506ارب 73کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور نجی شعبے کے مجموعی قرضے 5ہزار 101ارب 43کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔
چھ ماہ کے دوران بینکوں نے کنزیومر فنانسنگ کی مد میں 29ارب 76کروڑ روپے کے نئے قرضے جاری کیے جس کے بعد مجموعی صارف قرضوں کی مالیت 505ارب 77کروڑ 10لاکھ روپے کی سطح تک پہنچ گئی.

منی بجٹ کا مقصد حکومت کی آمدنی بڑھانا ہوگا، رپورٹ

کراچی( ویب ڈیسک ) مالی سال 2019 کے ساتویں مہینے میں حکومت کی جانب سے تیسری مرتبہ منی بجٹ 23 جنوری پیش کیا جائے گا۔بجٹ پیش کرنے کا مقصد آمدنی کا خسارہ کم کرنے کے ساتھ ملک میں کاروبار کرنے کا طریقہ کار ا?سان بنانا ہے، ایک نجی ادارے کی جانب سے بجٹ اقدامات اور ان اقدامات کے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات پر مبنی ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ منی بجٹ پیش کرنے کا مقصد پاکستان میں کاروبار کرنے میں ا?سانیاں پیدا کرنا ہے۔
اس کے علاوہ بجٹ سے حکومت کی آمدنی میں کمی کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی، مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومتی ا?مدنی 170 ارب روپے سے کم تھی، بجٹ اقدامات کے ذریعے حکومت 150ارب روپے کی کمی دور کرسکے گی، حکومت کا عزم اور توجہ برا?مدی شعبے کی صنعتوں کو بحال کرنے پر ہے۔

انٹیلی جنس کے پاس اطلاع پر تحقیقات ہوتی ہیں: ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف ، ساہیوال واقعہ پر بغیر تصدیق کارروائی کی گئی، واقعہ نے لوگوں کے دل ہلا دیئے: عبدالقادر پٹیل کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنماءعبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ساہیوال واقعے نے لوگوں کے دل ہلا دیے ہیں عوام اس حوالے سے کوئی بھی تاویل قبول نہیں کرے گی۔چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی عجیب بات ہے وزیر اعلی پھول لے کر اس زخمی بچے کے پاس گئے جس کے والدین کو قتل کیا گیااب ان بچوں کو کیسے مطمئن کیا جائے گا۔ حکومت تو چل ہی جے آئی ٹیز پر رہی ہے۔حکومتی وزراءبھی بغیر سوچے سمجھے بیانات دیتے رہے۔ میرا سوال ہے کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کہاں ہیں۔ایئر مارشل ر شاہد لطیف نے کہا ہے کہ اگر کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس کوئی اطلاع آتی ہے تو تحقیقات کی جاتی ہیں لیکن ساہیوال واقعے میں سوچے سمجھے بغیر ہی کارروائی کی گئی کوئی تصدیق تک نہیں کی گئی۔پھر نامعلوم افراد کے نام ایف آر درج کی گئی اس کی بھی سمجھ نہیں آئی کیا سی ٹی ڈی کے لوگ نامعلوم ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس قسم کے واقعے سے لوگوں کے دلوں میں ایک خوف بیٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع وقت کی ضرورت ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماءعبدالمنان نے کہا کہ حکومتی وزراءکے بیانات میں تضادات ہیں میں کہتا ہوں ساہیوال میں ان لوگوں کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا گولیاں کیوں ماری گئیں جب اندر سے فائرنگ ہوئی تھی تو گاڑی سے خول کیوں نہ ملے۔قوم جے آئی ٹیز نہیں چاہتی انصاف چاہتی ہے۔

 

فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑا طیارہ اڑان بھرنے کے لیے تیار

لاہور( ویب ڈیسک )دنیا کا سب سے بڑا طیارہ اتنا بڑا ہے کہ اسے چلانے کے لیے 2 کیبن اور کاک پٹس کی ضرورت ہے۔

جی ہاں واقعی, یہ ہے سٹراٹولانچ نامی طیارہ، جسے بالائی خلائ میں راکٹ لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

جون 2017 میں اسے متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس طیارے کی آزمائش جاری ہے اور پہلی باقاعدہ پرواز 2019 میں اڑان بھرے گی۔

مگر اب اس نے اپنی پہلی پرواز کے لیے ایک اہم پیشرفت اس وقت کی جب اس کے نوز وہیل کو تیز رفتار رن وے ٹیسٹ میں زمین سے اوپر اٹھانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔

سٹرا?لائنچ ٹیم نے تیز رفتار ٹیکسی ٹیسٹنگ 9 جنوری 2019 کو کی تھی۔

تین مرحلے کے ٹیسٹ کے دوران ٹیم نے 119 ناٹ کی حد رفتار تک طیارے کو دوڑایا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ
یہ اس طیارے کے ٹیسٹ کا نیا سلسلہ تھا جس کا انجن ٹیسٹ گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا۔

ویسے یہ جان لیں کہ یہ طیارہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے بازو?ں کا گھیرا? فٹبال کے گرا?نڈ سے بھی بڑا ہے، جیسا آپ نیچے تصاویر میں دیکھ کر بھی اندازہ کرسکیں گے۔

یہ طیارہ سٹراٹولانچ سسٹم نامی کمپنی نے تیار کیا ہے جس کی ملکیت مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کے پاس ہے، جن کا اکتوبر 2018 میں انتقال ہوا تھا۔

پال ایلن کا اس کمپنی کی تشکیل کا مقصد ایسے طیارے کو بناتا تھا جو زمین کے نچلے مدار تک آسان، قابل بھروسا رسائی فراہم کرسکے۔

اس طیارے کے ذریعے راکٹوں کو فضائ میں لانچ کرنے میں مدد ملے سکے گی اور کمپنی کو توقع ہے کہ اس سے یہ عمل زیادہ سستا ہوجائے گا جبکہ کمرشل اسپیس پروازیں بھی ممکن ہوسکیں گی۔

اس کی 385 فٹ کے پر یا بازو کسی فٹ بال فیلڈ سے زیادہ چوڑے ہیں اور اس طرح اسے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بناتے ہیں۔

اس طیارے کے نوز سے دم تک لمبائی 238 فٹ ہے جبکہ یہ 50 فٹ لمبا ہے اور اس میں 6 انجن نصب کیے گئے ہیں۔

ااس کا وزن پانچ لاکھ پونڈ ہے اور اس کے دونوں کیبن کے لیے 28 پہیے لگے ہوئے ہیں۔

اسے باقاعدہ پرواز کے لیے اہل قرار دینے سے قبل اس کے کئی طرح کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جو ابھی کیے بھی جارہے ہیں۔

سانحہ ساہیوال دلخراش واقعہ ، پولیس نے آنکھیں بند کر کے پورا خاندان مار دیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ساہیوال کا واقعہ اتنا دلخراش ہے کہ اس کی جوں جوں تفصیلات سامنے آتی جا رہی ہے پہلے سے بھی زیادہ دکھ ہونے لگتا ہے کہ ہم کس قسم کے معاشرے میں زندہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کے بھی ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی سا الزام لگ سکتا ہے ایک مرتبہ کچھ کہا گیا دوسری دفعہ کچھ کہا گیا۔ تیسری مرتبہ کچھ کہا گیا۔ پولیس پنجاب تو بڑی شاندار روایات رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں جب روس میں ماسکو کیپٹل تھا۔ مثال دی جاتی تھی کہ اگر پنجاب کی پولیس کو مشن سونپا جائے کہ جو کوسیجن وغیرہ جو سربراہ مملکت ہوتے تھے ان کی گھڑی گم ہو گئی۔ انہوں نے حکم دیا کہ میری گھڑی تلاش کی جائے۔ کہتے ہیںکہ یہ کام پنجاب پولیس کے سپرد کیا یہ کام بہت باصلاحیت ہیں تو پولیس کے لوگوں نے تین مختلف مقامات پر تین آدمی گرفتار کر لئے اور تینوں نے مان لیا کہ ہم نے گھڑی چوری کی ہے۔ پنجاب پولیس ٹارچر اتنا کرتی ہے اور مشہور ہے کہ جو جرم تسلیم نہ کرتا ہو اسے پنجاب پولیس کے حوالے کر دو۔ پنجاب پولیس کے افسر تو پڑھے لکھے آ رہے ہیں مگر نیچے جو عام اہلکار ہے تو اتنا ہی بدتمیز ہے۔ قانون کی زبان وہ خود نہیں سمجھتا۔ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں سرخ بتی جل رہی ہوتی ہے اور پولاس والا بڑے ٹھاٹ سے موٹر سائیکل چلاتا ہوا گزر جاتا ہے۔ ماورائے قتل کرنے والے پولیس افسروںکی سفارشیں بہت بڑی بڑی ہیں اور سب سے بڑی سفارش پیسہ ہے ان کا پیسہ، ان کی جائیدادیں اور ان کا رہن سہن، شان و شوکت دیکھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح سے دھن دولت میں کھیلتے ہیں۔ اثرورسوخ اور دولت کی وجہ سے یہ لوگ صاف بچ نکلتے ہیں۔ ایک تو ہم رکتے ہی نہیں 14 سو سال میں۔ ایک دم سے مدینہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اللہ کے بندو ہمارا افسر، ہمارا اہلکار، سرکاری ملازم، عام شہری کیا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ریاست مدینہ جیسا سلوک کیا جائے۔ کیا مدینہ کی ریاست کا سربراہ اپنے تحفظ کے لئے اتنے سپاہی کھڑے کر سکتا تھا کیا مدینہ میں جو حاکم تھا اس کے جسم پر جو کپڑے ہوتے تھے عام آدمی پوچھ سکتا تھا کہ ”عمر جو بات کر رہے ہو ہمیں پہلے یہ بات بتاﺅ اتنا لمبا پہنا ہوا ہے سب لوگوں کو ایک ایک چادر ملی تھی یہ ایک چادر میں نہیں بنتا۔ یہ تم نے کرتا کہاں سے لیا۔ اس کو وضاحت کرنا پڑتا تھا کہ ایک چادر میرے بیٹے کو ملی تھی ایک مجھے ملی تھی تو میرے بیٹے نے اپنی چادر بھی مجھے دے دی تھی جس پر می ںنے لمبا کرتا بنوایا ہے۔ ہم کس سے موازنہ کر رہے ہیں کیا ہمارا حاکم جو ہے معاف کیجئے گا خواہش بڑی اچھی ہے۔ عمران خان صاحب کی لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ یہ ملازمین سرکار جو ہیں یہ مدینہ کی ریاست بننے دیں گے سانحہ ساہیوال بارے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے جب ایک بندہ منت کر رہا ہے اس کے ساتھ بیوی بچے ہیں اگر غلط اطلاع مل بھی جائے کہ تو کیا اِن کو نظر نہیں آتا کہ فیملی ہے بے گناہ لوگ ہیں اسلحہ ان کے پاس نہیں ہے کیا پولیس والے اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ صرف ایک غلط اطلاع ملنے پر صحیح ہو یا غلط ہو وہ اپنی گن کی نالیاں سیدھی کر دیتے ہیں اور اندے کو تڑپتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں کیوں آخر جو حملہ کرنے آئے تھے کیوں اس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ آدمی دیکھ کر ہی سمجھ لیتا ہے کہ ساتھ عورت ہے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ منتیں کر رہا ہے گولی نہ چلاﺅ، گولی نہ چلاﺅ کیا پولیس والوں کے کان نہیں ہوتے دل نہیں ہوتا۔ آنکھیں نہیں ہوتیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ میں جب اس واقعہ کا خاکہ اپنے ذہن میں بناتا ہوں تو مجھ سے تو یہ تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ اگر غلط فہمی ہو بھی گئی اور نشاندہی غلط ہوئی اور غلط گاڑی کی یا کم از کم افراد کی غلط نشاندہی ہو گئی لیکن جب اتنے قریب سے گولیاں چلائی گئی ہیں تو سارے متاثرین نظر آ رہے تھے ایک آدمی ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہے بچوں کو گولی مت مارو، گولی نہ چلاﺅ سمجھ نہیں آتی اس کے باوجود پولیس کس طرح بے حس ہو جاتی ہے۔ اس میں جلدی کی کیا ضرورت تھی آپ نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ گن پوائنٹ پر ان کو باہر کھڑا کر لیں۔ کون سی ایسی قیامت آ گئی تھی بغیر سوچے سمجھے انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی صف ماتم بچھی رہی۔ پولیس ایک جھوٹ بولتی ہے پھر اسے چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولتی ہے ساہیوال واقعہ میں بھی اسی طرح کئی بیانات بولے گئے۔ بچوں کے سامنے والدین کا قتل اور پھر بچوں کو گھسیٹ کر باہر نکالنا سب غیر انسانی رویہ ہے پنجاب میں نظم و نسق کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے جانے کس بنا پر عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ لگایا ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ قطر سے واپس آ کر فوری ساہیوال جائیں تمام تر صورتحال کا خود جائزہ لیں ایسے واقعات حکمرانوں کیلئے ٹیسٹ کیس ہوتے ہیں کہ کیا وہ عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ سارا نظام ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سرکاری مشینری بالکل زیرو ہو چکی ہے۔ سرکاری ملازمین بے حس لاشوں کی طرح ہیں جو اوپر سے سیٹی بجنے پر چل پڑتے ہیں یا رک جاتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام پریشان ہیں روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور حکومتی رہنماﺅں کی ریاست مدینہ کی باتیں یہی ختم نہیں ہوتیں انہیں چاہئے کہ یہ مثال دینا بند کر دیں کہ ہمیں تو کہیں اس مثالی ریاست جیسی کوئی بات یہاں نظر نہیں آتی۔

فرانس نے گوگل پر 5 کروڑ یورو جرمانہ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک ) فرانس نے امریکی سرچ انجن ‘گوگل’ پر پالیسی کے مطابق معلومات کی فراہمی میں ناکامی پر 5 کروڑ یورو (5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) جرمانہ عائد کردیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق فرانس کے مانٹیرنگ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی ا?ر) کے تحت پہلی مرتبہ گوگل پر 5 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے۔بیان کے مطابق گوگل کو فرانسیسی ادارے ‘سی این ا?ئی ایل’ نے ریکارڈ جرمانہ اس لیے کیا ہے کیونکہ وہ دستاویزات کے حوالے سے باہمی پالیسی کے تحت معلومات تک واضح اور ا?سان رسائی دینے میں ناکام ہوا۔سی ایل آئی ایل کا کہنا تھا کہ گوگل نے صارفین کے لیے معلومات تک رسائی کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا اور ان کی ذاتی معلومات کے استعمال کے مطابق ترجیحات ترتیب دیں خاص کر اشتہارات کے معاملے میں زیادہ مشکل بنا دیا گیا۔گوگل کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘عوام ہم سے کنٹرول اور شفافیت کے اعلیٰ معیار کی توقع رکھتے ہیں اور ہم ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے پرعزم ہیں اور جی ڈی پی آر کی ضروریات پوری کریں گے’۔گوگل کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے اگلے لائحہ عمل کے لیے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں’۔خیال رہے کہ یہ شکایات گزشتہ برس مئی میں دو گروپس کی جانب سے جی ڈی پی ا?ر کے نافذ ہونے کے فوری بعد درج کرائی گئی تھیں۔فرانس کے ‘کواڈریچر نیٹ گروپ’ کی جانب سے درج کی گئی ایک شکایت میں 10 ہزار افراد کے دستخط تھے، جبکہ دوسری شکایت ا?سٹریا کی تنظیم ‘میکس شریمز’ کے نون ا?ف یور بزنس نامی گروپ کی تھی۔

ا?سٹرین گروپ نے گوگل کے خلاف شکایت میں کہا تھا کہ ان کے اینڈرائیڈ سے اپنے ایپ یا ا?ن لائن سروس کے ذریعے معلومات چوری کی گئی ہیں کیونکہ وہ ایپ اس وقت تک فعال نہیں ہوتی جب تک ان کی شرائط کو قبول نہیں کیا جاتا۔

سی این ا?ئی ایل کا کہنا تھا کہ ‘اس کے باوجود جو معلومات فراہم بھی کی گئی تھیں وہ واضح نہیں تھی کہ اس سے کچھ حاصل کیا جائے’۔

ا?سٹرین گروپ کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کو مختلف انداز میں قانون کی تشریح کرتے پایا ہے’۔

خیال رہے کہ جی ڈی پی ا?ر کو ویب کی تاریخ میں سخت ترین قانون قرار دیا جارہا ہے جو ان کمپنیوں پر بھی نافذ العمل ہوتا ہے جو یورپی یونین کی حدود میں سرگرم ہو چاہے وہ رکن ممالک سے تعلق نہ رکھتی ہوں۔

اسی قانون کے تحت فرانس کے ادارے ‘سی این ا?ئی ایل’ نے گوگل کو ایک سال میں نئے قوانین پر عمل کرتے ہوئے نہیں پایا اور نہ ہی کوئی تبدیلی دیکھی گئی۔

موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی پہلی جھلک سامنے آگئی

لاہور( ویب ڈیسک ) موٹرولا کا پہلا فولڈ ایبل فون ممکنہ طور پر آئندہ ماہ متعارف کرایا جارہا ہے جو ماضی کے آئیکونک موبائل ریزر کا اپ ڈیٹ ورڑن ہوگا۔

اور اب اس کا ڈیزائن بھی سامنے آگیا ہے جس میں ایک فولڈنگ اسکرین اندر جبکہ ایک چھوٹی اسکرین باہر موجود ہے۔

اگرچہ ڈیزائن کے دستاویزات میں ریزر برانڈ کا نام موجود نہیں مگر ان خاکوں میں ریزر وی تھری سے کافی مماثلت نظر آتی ہے۔

موٹرولا کی جانب سے اس ڈیزائن کا پیٹنٹ ورلڈ انٹیلیکوچل آرگنائزیشن میں 17 دسمبر کو جمع کرایا گیا۔

فولڈ ایبل ریزر فون کے بارے میں رپورٹ گزشتہ دنوں وال اسٹریٹ جرنل میں سامنے آئی تھی جو 21 فروری کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

سام سنگ کے 1700 ڈالرز کے فولڈ ایبل فون کی طرح یہ نیا ریزر فون بھی ممکنہ طورپر ڈیڑھ ہزار ڈالرز کا ہوسکتا ہے۔

اوریجنل ریزر فون ہر دور کے مقبول ترین موبائل فونز میں سے ایک ہے اور موٹرولا کی پیرنٹ کمپنی لیناوو اس برانڈ کے نام سے فائدہ اٹھا کر اسے فولڈ ایبل اسمارٹ فون کی شکل دینا چاہتی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ نئی ڈیوائس فی الحال آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہے اور اس کے حتمی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوسکیں۔

اس فون کے بارے میں ابھی کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آسکی یعنی اس کا اسکرین سائز کیا ہوگا، فیچرز اور کیمرہ کیسا ہوگا، کچھ بھی معلوم نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ریزر برانڈ ایک مرتبہ پھر وایسی کی کوشش کررہا ہے، اس سے قبل 2011 اور 2012 میں موٹرولا نے ایسی کوشش کی تھی۔

مگر اب کمپنی کو لگتا ہے کہ پرانے اسمارٹ ڈیزائن کو جدید شکل دے کر اپ ڈیٹ کرنا لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔

ایک فرد ایک دن میں کتنے کیلے کھا سکتا ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک ) کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔

مگر کیا آپ نے کبھی سنا کہ ایک دن میں بہت زیادہ کھانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے بلکہ یہ تصور بھی موجود ہے کہ بیک وقت 6 سے زائد کیلے کھانے موت کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیا یہ واقعی درست ہے؟
جیسا اوپر لکھا جاچکا ہے کہ کیلے دنیا کے مقبول ترین پھلوں میں سے ایک ہے جو صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند بھی ہے تو آخر کچھ لوگ سے مہلک کیوں سمجھتے ہیں؟

مزید پڑھیں : روزانہ صرف 2 کیلے جسم پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟

درحقیقت متعدد افراد کا ماننا ہے کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم ایسا جز ہے جو موت کی وجہ بن سکتا ہے، یعنی 6 کیلوں کے ذریعے اتنا پوٹاشیم جزو بدن بن جاتا ہے جو موت کا باعث بننے کے لیے کافی ہے۔

تو پوٹاشیم کتنا خطرناک جز ہے؟ حقیقت میں تو یہ زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے جو کہ جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق خلیے کے افعال کے لیے پوٹاشیم برقی رو بنانے میں مدد دیتا ہے، یہ دل کی دھڑکن کو مستحکم رکھنے کے ساتھ لبلبے سے انسولین کے اخراج کو حرکت میں لاکر بلڈشوگر بھی کنٹرول کرتا ہے اور سب سے اہم یہ بلڈپریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔

دوسری جانب جسم میں پوٹاشیم کی بہت کم یا زیادہ مقدار سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے، پیٹ میں درد، قے اور ہیضے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اب جہاں تک کیلوں سے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے کی بات ہے تو ماہرین کے مطابق کیلوں سے ایسا ہونا لگ بھگ ناممکن ہے۔

درحقیقت پوٹاشیم کی سطح دل کی حرکت روک دینے تک بڑھانے کے لیے ایک فرد کو دن بھر میں 400 کیلے کھانے ہوں گے اور ایسا ممکن نہیں، تو یہ پھل خطرناک نہیں بلکہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

بالغ افراد کو روزانہ 3500 ایم جی پوٹاشیم جزو بدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ ایک اوسط کیلے میں یہ مقدار 450 ایم جی ہوتی ہے، تو ایک وقت میں ایک صحت مند شخص ساڑھے 7 کیلے کھا سکتا ہے جس کے بعد تجویز کردہ حد پوری ہوجاتی ہے۔

مگر ماہرین زیادہ پوٹاشیم والی غذا?ں کا استعمال گردوں کے امراض کے شکار افراد کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں جن کا یہ عضو زیادہ کام نہیں کرپاتا تو دوران خون میں موجود پوٹاشیم کو کارج کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا، جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

کیلوں کو اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے تاہم اگر ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھالیا جائے تو سردرد اور غنودگی کا باعث بن سکتا ہے۔

علی الصبح یا رات گئے جاگنے والوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک) رات گئے تک جاگنا کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے یہ طرز زندگی کے معمولات کا حصہ بن جاتا ہے۔

کیا آپ بھی ایسے افراد میں شامل ہیں جن کے لیے صبح جلد بستر سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے؟

یقیناً انسان سونے کے لیے اپنی مرضی کا وقت کا انتخاب کرسکتے ہیں اور وہ رات گئے تک جاگنے یا جلد سو کر علی الصبح اٹھ سکتے ہیں۔

جلد اٹھنے والے صبح جلدی اٹھتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والے علی الصبح تک خوشی سے جاگتے ہیں۔

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ درحقیقت انسان 2 قسم کے ہوتے ہیں ایک صبح جلد اٹھنے والے جبکہ دوسرے رات گئے تک جاگنے والے اور ایسا جسمانی گھڑی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

یعنی دماغ کا 20 ہزار عصبی خلیات پر مبنی حصہ دن بھر جسم کا شیڈول مرتب کرتا ہے یعنی ہر نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے ہارمون لیول سے لے کر غذا ہضم کرنے تک اور یقیناً اس میں نیند بھی شامل ہے۔

صبح جلد جاگنے والے شام ہوتے ہی تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں کو دیر تک ذہنی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔

مگر جلد سونے والوں کو رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں ذہنی طور پر کچھ سبقت حاصل ہوتی ہے۔

2013 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جلد اور دیر سے سونے والوں کا دماغی اسٹرکچر مختلف ہوتا ہے اور جلد سونے جاگنے والے افراد میں سفید میٹر کا معیار زیادہ بہر ہوتا ہے جس سے عصبی خلیات کو کمیونیکٹ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مگر کیا کوئی اپن سونے جاگنے کے وقت کو بدل سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ ایسا کسی حد تک ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صبح جلد اٹھنا اچھا خیال کیوں ہے؟

جسمانی گھڑی عمر کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، بچے علی الصبح جاگ جاتے ہیں، نوجوانوں کے لیے دوپہر سے پہلے بستر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، مگر عمر بڑھنے سے لوگوں کے لیے صبح جلد اٹھنا آسان ہونے لگتا ہے۔

اس کے علاوہ جسمانی گھڑی کے شیڈول کو بدلنے کے لیے نیند کے نظام الاوقات کو اپنایا جاسکتا ہے۔

ویسے ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایک جین لوگوں کے رات گئے تک جاگنے، علی الصبح اٹھنے یا ان دونوں کے درمیان رہنے کا تعین کرتا ہے۔

اونٹنی کا دودھ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

لاہور( ویب ڈیسک ) لگ بھگ ہر ایک ہی گائے کا دودھ پیتا ہے مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ اونٹنی کا دودھ کتنا فائدہ مند ہے؟کیا آپ جانتے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ ایسے متعدد امراض کا علاج ثابت ہوتا ہے جو کہ گائے کے دودھ سے دور نہیں ہوتے؟

گائے کا دودھ بمقابلہ اونٹنی کا دودھ
اونٹنی کے دودھ کے متعدد فوائد دیگر اقسام کے دودھ سے زیادہ ہوتے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ صحت بخش ہے، یہ ماں کے دودھ کے قریب ہوتا ہے جسے ہضم کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ یہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔

دونوں میں فرق کیا ہے؟
اونٹنی کے دودھ میں منرلز جیسے آئرن، زنک، پوٹاشیم، کاپر، سوڈیم اور میگنیشم کا اجتماع گائے کے دودھ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح اس دودھ میں وٹامن اے اور بی ٹو کی سطھ بھی زیادہ ہوتی ہے اور ہاں پروٹین کی مقدار بھی گائے کے دودھ سے زیادہ ہوتی ہے۔

اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار گائے کے دودھ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔

یہ دودھ جراثیم کش ہوتا ہے جبکہ اس میں کولیسٹرول کی مقدار بھی گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

اس دودھ کے فوائد
بچوں کی الرجی کے لیے فائدہ مند
یہ دودھ ان بچوں کے لیے مثالی گھریلو ٹوٹکا ہے جو متعدد اقسام کی غذا?ں سے لارجی کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اونٹنی کے دودھ کا استعمال بچوں میں گائے کے دودھ یا دیگر غذا?ں سے ہونے والی الرجی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

آٹو امیون امراض کے خلاف مزاحمت
آٹو امیون (ایسے امراض جن میں ہمارا مدافعتی جسم ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے) امراض پر قابو پانے کے لیے بھی اونٹنی کا دودھ فائدہ مند ہے، یہ اینٹ باڈیز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ خارجی باڈیز کو ہدف بناکر امراض کا باعث بننے والے مواد کا خاتمہ کرتے ہیں۔

قوت مدافعت میں اضافہ
اونٹنی کا دودھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے اخراج میں مدد دیتے ہیں، جس سے مختلف امراض سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ جاننا بہت آسان

عمر کے اثرات کو کنٹرول کرے
اس دودھ میں ایک جز الفا ہائیڈروڑل ایسڈ ہوتا ہے جو کہ فائن لائن کو ہموار کرکے جھریوں کی روک تھام کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ورم کش
اس دودھ میں ورم کش خصوصیات بھی ہیں جو کہ کھانسی، جڑوں کے امراض اور دیگر کے علاج میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کی روک تھام
اس دودھ میں موجود اجزا ذیابیطس سے تحفظ دینے یا اس سے کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں، اس مٰں ایک انسولین جیسا پروٹین موجود ہے جو کہ ذیابیطس کے اثرات کو کم کرتا ہے،خون کے لیے اس دودھ میں موجود انسولین کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی موثر
اس دودھ میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ کم کرتی ہے، اس مٰں موجود اجزا بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرتے ہیں جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔