All posts by Daily Khabrain

دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں جنوبی افریقہ کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

ڈربن (ویب ڈیسک) پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں پروٹیز کپتان فاف ڈوپلیسی نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کافیصلہ کر لیا ہے۔میچ کیلئے قومی ٹیم کی قیادت سرفراز احمد کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں فخر زمان، امام الحق، بابراعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک، شاداب خان، عماد وسیم، فہیم اشرف، حسن علی، عثمان خان شنواری، محمد عامر، شان مسعود اور حسین طلعت شامل ہیں،پروٹیز ٹیم کی قیادت فاف ڈوپلیسی کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں ہینرک کلاسن، ہاشم آملہ، ریزہ ہینڈرکس، ریسی وینڈر ڈوسن، ڈیوڈ ملر، ڈوین پروٹوریس، اینڈیل فہلوک وائیو، کاگیسو ربادا، عمران طاہر، ڈوین اولیور، ایڈن مارکرم، ڈین پیٹرسن اور تبریز شمسی شامل ہیں۔

‘مغل اعظم’کی شوٹنگ دیکھنے چو این لائی، فیض احمد فیض ، بھٹو کیوں گئے؟بی بی سی کی چو نکا دینے والی سٹو ری

لاہور (ویب ڈیسک)اگر فلم ‘مغل اعظم’ انڈین سینیما کے سر کا تاج ہے تو سنہ 1950 کی دہائی میں اس تاج کو بنانے کے لیے جس جنون، تخلیقی صلاحیت اور ضد کی ضرورت تھی وہ کے آصف میں بدرجہ ا±تم موجود تھی۔ہمیشہ چٹکی سے سگریٹ یا سگار کی راکھ جھاڑنے والے کریم الدین آصف اداکار نذیر کے بھتیجے تھے۔ابتدائی طور پر نذیر نے انھیں فلموں سے وابستہ کرنے کی کوشش کی لیکن آصف وہاں دل نہیں لگا۔پھر نذیر نے اپنے بھتیجے کے لیے درزی کی ایک دکان کھلوا دی۔تھوڑے ہی عرصے میں وہ دکان بند کروانی پڑی کیونکہ یہ دیکھا گیا کہ آصف کا زیادہ وقت پڑوس کے ایک درزی کی بیٹی کے ساتھ رومانس میں گزر رہا ہے۔ایک بار پھر نذیر نے انھیں فلمی صنعت میں زبردستی بھیج دیا۔کے آصف نے اپنی زندگی میں صرف دو فلموں کی ہدایت کی، ا انارکلی کو دیوار میں زندہ چنوائے جانے کے منظر سے قبل اکبر ان سے آخری خواہش پوچھتے ہیں۔ اور وہ کہتی ہے کہ ایک دن کے لیے وہ ہندوستان کی عظیم الشان سلطنت کی ملکہ بننا چاہتی ہے۔’کے آصف نے اپنی فلم کے تینوں مکالمہ نگاروں سے پوچھا کہ انارکلی کو کیا کہنا چاہیے۔ امان اللہ صاحب جو زینت امان کے والد تھے اور احسان رضوی نے اپنے لکھے ڈائیلاگ سنائے۔ اس کے بعد آصف صاحب نے وجاہت مرزا کی طرف دیکھا۔’وجاہت مرزا نے پان کی پیک اگلدان میں ڈالتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سب مکالمے بکواس ہیں۔ اتنے سارے لفظوں کی کیا ضرورت؟”پھر انھوں نے اپنے پاندان سے ایک پرچی نکال کر پڑھا، انارکلی صرف سلام کرے گی اور بس اتنا کہے گی کہ ‘شہنشاہ کی ان بے حساب بخششوں کے بدلے میں یہ کنیز جلال الدین محمد اکبر کو اپنا یہ خون معاف کرتی ہے۔”مرزا کا یہ کہنا تھا کہ آصف نے بھاگ کر انھیں گلے لگا لیا اور وہاں موجود دونوں مکالمہ نگاروں نے اپنے اپنے پرزے پھینک دیے۔’جب ‘موہے پنگھٹ پہ نندلال چھیڑ گیو’ گانا فلمایا جا رہا تھا تو پہلے آصف اور پھر رقص ڈائریکٹر لچھو مہاراج موسیقار نوشاد کے پاس گئے اور کہا: ‘نوشاد صاحب یہ گانا ایسا بنائیں کہ واجد علی شاہ کے دربار کے زمانے کی ٹھمری اور دادرا یاد آجائے۔”نوشاد نے کہا کہ کتھک رقص میں چہرے اور ہاتھ کے بھاو¿ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ اسے مدھوبالا پر فلمایا جائے گا۔ لیکن کیا وہ اس کے ساتھ انصاف کر پائیں گی، کیونکہ وہ ?تھک رقاصہ تو ہیں نہیں؟”لچھو مہاراج نے کہا، یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ انھوں نے شوٹنگ سے پہلے مدھوبالا سے رقص کی گھنٹوں مشق کروائی۔ مکمل گیت ان پر فلمایا گیا اور کسی ‘ڈپلیکیٹ’ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ذوالفقار علی بھٹومغل اعظم کی شوٹنگ میں روزانہ آتے
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیت کی شوٹنگ دیکھنے بہت سے لوگ آیا کرتے تھے جن میں بہت سے معروف لوگ بھی شامل تھے جن میں چینی وزیر اعظم چو این لائی، معروف شاعر فیض احمد فیض اور بعد میں پاکستان کے وزیر اعظم بننے والے ذوالفقار علی بھٹو اہم تھے۔یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘اس زمانے میں بھٹو ممبئی میں ہی رہا کرتے تھے۔ اس گانے کی شوٹنگ جتنے دن جاری رہی، وہ روز شوٹنگ دیکھنے آتے۔ بھٹو اور آصف میں گہری دوستی تھی۔ وہ جب بھی سیٹ پر ہوتے تھے، آصف صاحب اور دیگر لوگ ساتھ ہی کھانا کھاتے تھے۔’اس وقت کسی کے حاشیہ خیال میں نہیں آ?ا ہوگا کہ یہ شخص ایک دن پاکستان کا وزیراعظم بن جائے گا۔’اس فلم کی جان کے آصف کی باریک بینی تھی جس کے تحت وہ چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی نظر رکھتے تھے۔فلم میں جودھا بائی نے جو کپڑے پہنے وہ حیدرآباد کے سالار جنگ میوزیم سے مستعار لیے گئے تھے۔ سیٹ کے محراب، ستون اور دیواروں کو بنانے میں مہینوں لگ گئے تھے۔خدیجہ اکبر نے اپنی کتاب ‘دی سٹوری آف مدھوبالا’ میں لکھا کہ ‘شیش محل کا سیٹ بنانے میں پورے دو سال لگ گئے۔’کے آصف کو شیش محل کی تحریک آمیر کے قلعے میں تعمیرشدہ شیش محل سے ملی تھی لیکن اس وقت ہندوستان میں دستیاب شیشوں کی قسم بہت اچھی نہیں تھی۔’ان شیشوں کو بہت زیادہ قیمت پر بیلجیئم سے منگوایا گیا۔ اس سے پہلے عید آگئی۔ عیدی کی رسم پر عمل کرتے ہوئے مغل اعظم کے فائنینسر شاہپور جی مستری آصف کے گھر پہنچے۔’وہ ایک چاندی کی ٹرے پر کچھ سونے کے سکے اور ایک لاکھ روپے لے کر گئے تھے۔ آصف نے پیسے اٹھائے اور مستری کو واپس کرتے ہوئے کہا ‘ان پیسوں کا استعمال بیلجیئم سے شیشے منگانے پر کیجیے۔’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا کی تخلیق
‘مغل اعظم’ فلم کا سب سے زیادہ مشہور گیت ‘پیار کیا تو ڈرنا کیا۔۔۔’ ثابت ہوا۔ اس کو لکھنے اور موسیقی میں ڈھالنے میں نوشاد اور شکیل بدایونی نے ساری رات لگا دی۔’یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘جب آصف نے نوشاد کو اس گانے کی ‘سیچوئ?شن’ بتائی تو اسی زمانے میں انارکلی نام سے ایک دوسری فلم بن رہی تھی۔ نوشاد نے ان سے کہا کہ دونوں فلموں میں بہت مماثلت ہے ان کا گانا ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے میں نے سنا ہے۔’اگر ہم بھی اسی طرح کے گیت دیں گے تو یہ ‘رپ?ٹیشن’ ہوگا۔ آپ اس ‘سیچوئیشن’ کو تبدیل کیوں نہیں کر دیتے۔ آصف صاحب نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ میں نے یہ چیلنج قبول کیا ہے۔ اب آپ کی باری ہے۔ جب اسے موسیقی میں ڈھالنے کا وقت آیا تو سب سے مشکل کام اس گیت کا لکھنا تھا۔’شام کو چھ بجے جب سورج غروب ہو رہا تھا نوشاد اور شکیل بدایونی نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ شکیل صاحب نے قریب ایک درجن مکھڑے لکھے، کبھی گیت کا سہارا لیا تو کبھی غزل کا۔ لیکن بات بنی نہیں تھوڑی دیر میں پورے کمرہ کاغذ کے ٹکڑوں سے بھرا پڑا تھا۔’انھوں نے ساری رات نہ کچھ کھایا اور نہ ہی پیا۔ کافی دیر بعد نوشاد کو ایک پورب گیت کا مکھڑا یاد آیا جو انھوں نے اپنے بچپن میں سنا تھا، ‘پریم کیا کا چوری کری’۔ انھوں نے شکیل کو سنایا، شکیل کو وہ جملہ پسند آیا پھر شکیل نے اسی وقت وہ گیت لکھا:پیار کیا تو ڈرنا کیا، پیار کیا کوئی چوری نہیں کی۔۔۔”جب ہم صبح یہ گانا ‘کمپوز’ کر کے باہر نکلے تو ہمارے سر پر سورج چمک رہا تھا۔ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پرانے گانوں کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟ میرا جواب ہوتا ہے کہ ان کے بنانے میں پوری رات گزر جاتی تھی تب کہیں جا کر اسے حتمی شکل ملتی تھی۔’بڑے غلام علی خان کو ایک گیت کے لیے 25000 روپے ملے۔ایک دن آصف نے نوشاد سے کہا کہ وہ سکرین پر تان سین کو گاتے ہوئے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ سوال تھا کہ اسے گائے گا کون؟ نوشاد نے کہا کہ اس وقت کے تان سین بڑے غلام علی خان سے اس کے بات کرنی چاہیے لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘آصف نے کہا یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ آپ صرف ان سے ملاقات کا وقت طے کیجیے۔‘جب دونوں ان سے ملنے گئے تو انھوں نے انکار کردیا اور کہا کہ فلموں میں گلوکاروں پر بہت پابندیاں ہوتی ہیں۔آصف نے کہا کہ ‘خان صاحب یہ گانا تو آپ ہی گائیں گے۔’ یہ سن کر بڑے غلام علی خاں نے نوشاد کو ایک طرف لے جا کر کہا، آپ کس کو میرے پاس لے آئے ہیں؟ میرے منع کرنے پر بھی یہ کہہ رہا ہے یہ گانا تو آپ ہی گائیں گے۔ میں اس شخص سے اس گانے کے لیے اتنی زیادہ فیس مانگوں گا کہ خود ہی بھاگ کھڑا ہوگا۔’غلام علی نے آصف سے پوچھا، ’آپ مجھے کتنے پیسہ دیں گے؟‘آصف نے کہا: ’جو بھی آپ چاہتے ہیں۔‘انھوں نے کہا: ’25 ہزار روپے۔’آصف نے کہا ’صرف 25 ہزار؟ آپ اس سے زیادہ مستحق ہیں۔’اس طرح بڑے غلام علی خاں ‘مغل اعظم’ فلم کے لیے 25ہزار روپے پر راضی ہوئے جبکہ اس وقت کے نامورگلوکاروں لتا منگیشکر اور محمد رفیع کو ایک گانے کے لیے صرف 500 سے 1000 روپے ہی ملتے تھے۔’بڑے غلام علی خان نے مغل اعظم کے لیے ‘پریم جوگن بن کے۔۔۔ سندر پیا اور چلے’ گیت گایا۔مغل اعظم بننے کے آخری مرحلے میں مدھوبالا اور دلیپ کمار کے درمیان بات چیت بند ہو گئی تھی، کیونکہ مدھوبالا نے اپنے خاندان کے دباو¿ کے تحت دلیپ کمار کی شادی کی پیشکش ٹھکرا دی تھی۔فلم میں درجن سنگھ کا رول کرنے والے اجیت نے ایک بار لکھا تھا کہ ‘ایک سین میں دلیپ کمار کو مدھوبالا کو تھپڑ مارنا تھا۔ جب کیمرا رول ہوا تو دلیپ کمار نے مدھوبالا کو اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ وہاں موجود سارے لوگ سناٹے میں آ گئے، شاٹ ٹھیک تھا، لیکن لوگوں کو سمجھ نہیں آیا کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟'”کیا مدھوبالا سیٹ سے واک آو¿ٹ کر جائیں گی؟ کیا شوٹنگ روکنی پڑے گی؟ اس سے پہلے کہ مدھوبالا کچھ ?ہت?ں، آصف انھیں کونے میں لے جا کر کہنے لگے ‘میں آج بہت خوش ہوں، کیونکہ یہ واضح ہے کہ وہ اب بھی تم سے محبت کرتا ہے۔ اور یہ کہ ایک عاشق کے علاوہ کوئی اپنی معشوقہ سے ایسا کیونکر کر سکتا ہے؟’کے آصف کے سامنے یہ مشکل تھی کہ مدھوبالا کے والد عطائ اللہ اکثر فلم کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر حاضر رہتے تھے لیکن آصف نے ان سے چھٹکارے کی نئی راہ نکالی۔فلم مو¿رخ بنی ر?وبن اپنی کتاب ‘فالی وڈ فلیش بیک: اے کلیکشن آف فلم میموائرس’ میں لکھتے ہیں: ‘جس دن دلیپ کمار اور مدھوبالا کے درمیان قریبی محبت کے مناظر فلمائے جانے ہوتے تھے، آصف مدھوبالا کے والد عطائ اللہ خان کو سیٹ سے دور رکھنے کے لیے انھیں اپنے ایک معاون کے ساتھ رمی کھیلنے بھیج دیتے۔ کیونکہ عطائ اللہ کو رمی کا بہت شوق تھا۔’اپنے پبلسسٹ تار?ناتھ گاندھی کو کچھ ہزار روپے دے کر کہا، آج سے تمہارا کام، اگلے چند دنوں تک خاں صاحب کے ساتھ رمی کھیلنا ہے اور تم جان بوجھ کر ہر بازی ہار جاو¿ گے۔برسوں کی شوٹنگ کی وجہ سے فلم اپنے بجٹ سے تجاوز کر گئی اور فلم ساز شاہپورجی مستری یہ بھی سوچنے لگے کہ فلم کے آصف سے لے کر سہراب مودی کی ہدایت میں بنے۔یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘اس فلم کو بننے میں بہت وقت لگا۔ دس سال کا عرصہ گزرا۔ ظاہر ہے سارا بجٹ بگڑ گیا۔ آصف صاحب پانی کی طرح پیسہ بہاتے تھے، کیونکہ انہیں معیار چاہیے تھا۔ ایک دن تنگ آکر شاہپورجی نے فیصلہ کیا کہ اب میں ہدایتکار کو ہی تبدیل کروں گا۔”انھوں نے سہراب مودی سے بات کی اور ایک دن وہ انھیں شیش محل کا سیٹ دکھانے لے آئے۔ آصف صاحب وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر تک وہ خاموشی سے دیکھتے رہے، پھر وہ دونوں کے پاس جا کر بولے، سیٹھ جی جس سے چاہے یہ فلم مکمل کروا لیں۔
‘لیکن یہ سیٹ میں نے بنایا ہے اور میں ہی یہاں شوٹنگ مکمل کروں گا۔ اگر کوئی دوسرا اس سیٹ پر قدم رکھے گا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دونگا۔’کے آصف کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تھی ۔مغل اعظم اپنے وقت کی سب سے مہنگی اور کامیاب فلم تھی لیکن اس کے ڈائریکٹر کے آصف تا عمر ایک کرایہ کے گھر میں رہے اور ٹیکسی پر سفر کرتے تھے۔
یاسر عباسی بتاتے ہیں: ‘جب شاہپور ج? بہت تنگ آگئے تو ان سے ایک بار نوشاد نے پوچھا کہ اگر آپ کو آصف سے اتنی شکایات ہیں، تو آپ نے ان کے ساتھ فلم بنانے کا فیصلہ ہی کیوں کیا؟ شاہپورجی نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا کہ نوشاد، ایک بات بتاو¿ں، یہ آدمی ایماندار ہے۔
‘اس نے اس فلم میں ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کر دیے لیکن اس نے اپنی جیب میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ڈالی۔ باقی تمام فنکاروں نے اپنا کنٹریکٹ کئی بار تبدیل کرایا کیونکہ وقت گزرتا جا رہا تھا۔ لیکن اس شخص نے پرانے کنٹریکٹ پر کام کیا اور کسی قسم کی دھوکہ دہی نہیں کی۔‘
‘رقم میں کوئی غبن نہیں کیا۔ یہ آدمی آج بھی چٹائی پر سوتا ہے، ٹیکسی پر چھ آنا فی میل کرایہ دے کر سفر کرتا ہے اور سگریٹ بھی دوسروں سے مانگ کر پیتا ہے۔ یہ آدمی 20 گھنٹے کھڑے ہو کر مسلسل کام کرتا ہے اور ہم حیران رہ جاتے ہیں۔’

حب: مسافر کوچ اور ٹرک میں تصادم سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہو گئی ، لاشیں آبائی علاقوں میں پہنچنے کے بعد کہرام مچ گیا

کراچی (ویب ڈیسک ) بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی تحصیل حب کے قریب بیلہ کراس پر مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان تصادم کے بعد آگ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہوگئی جبکہ واقعے میں 15 افراد زخمی بھی ہیں۔مسافر کوچ میں لگ بھگ 40 افراد سوار تھے جو کراچی سے پنجگور جارہی تھے کہ بیلہ کراس کے مقام پر اس کا ٹرک سے تصادم ہوگیا، ٹرک میں ایرانی ڈیزل ہونے کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔آگ اتنی شدید تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ جل کر خاکستر ہوگیا اور واقعے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ایک زخمی بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ابتدائی طور پر ایس ایس پی لسبیلہ آغا رمضان علی نے حادثے میں 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔ایس ایس پی لسبیلہ کے مطابق سانحہ بیلہ میں جاں بحق 7 افراد کی شناخت ہوگئی، جنہیں ان افراد کے ورثا نے شناخت کیا۔انہوں نے بتایا کہ حادے میں شناخت ہونے والے افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کردی اس سے قبل حادثے میں زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی۔حادثے کے شدید زخمیوں کو علاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کراچی منتقل کرنے میں تاخیر ہوئی تھی۔ریسکیو اہلکاروں نے بس میں موجود مزید افراد کو نکالنے کے لیے کوششیں کی تھی جبکہ ان کی طرف سے کوچ اور ٹرک میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کی گئی واقعے سے متعلق ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل نے کہا تھا کہ بس اندر سے انتہائی گرم ہے اور اس لیے لاشیں نکالنے میں جلد بازی نہیں کی جاسکتی۔بعد ازاں سانحہ بیلہ میں جاں بحق افراد کی لاشیں بیلہ سے ایدھی سرد خانہ سہراب گوٹھ کراچی منتقل کردی گئی تھیں۔

آئی سی سی ٹیسٹ اور ون ڈے ‘ ٹیم آف دی ایئر’ کا اعلان، صرف ایک پاکستانی شامل

دبئی (ویب ڈیسک ) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سال 2018 کی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیموں کا اعلان کردیا اور دونوں ٹیموں کا کپتان ویرات کوہلی کو منتخب کیا ہے۔

آئی سی سی ون ڈے ٹیم میں کوئی پاکستانی کھلاڑی جگہ نہ بنا سکا، ٹیسٹ ٹیم میں تین بھارتی اور تین نیوزی لینڈ کے کھلاڑی شامل ہیں جب کہ ون ڈے ٹیم میں بھارت اور انگلینڈ کے 4،4 کھلاڑی جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔

ویرات کوہلی کی 2018 کے دوران زبردست کارکردگی پر انہیں ون ڈے ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا، جب کہ آئی سی سی ون ڈے ٹیم میں روہت شرما، جونی برسٹو، جوئے روٹ، راس ٹیلر، جوز بٹلر، بین اسٹوک، مستفیض الرحمان، راشد خان، کلدیپ یادیو اور جسپریت بمرا شامل ہیں۔

آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بھی ویرات کوہلی کو ہی منتخب کیا گیا اور ٹیم میں ٹام لیتھم، کرونا رتنے، کین ولیمسن ، ہنری نکلز، رشب پنٹ، جیسن ہولڈر، کگیسو رباڈا، نیتھن لائن، جسپرت بمرا اور محمد عباس شامل ہیں۔

2018 کے دوران ویرات کوہلی نے 13 ٹیسٹ میچز میں 5 سنچریوں کی بدولت 55.08 کی اوسط سے ایک ہزار 322 رنز بنائے اور ایک سال میں انہوں نے 14 ایک روزہ میچز میں 6 سنچریوں کی مدد سے 133.55 کی اوسط سے ایک ہزار 202 رنز بنائے۔

کوہلی ٹیسٹ، ون ڈے اور کرکٹرآف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے

بہترین کارکردگی پیش کرنے پر ووٹنگ ممبر نے ویرات کوہلی کو ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حق میں ووٹ دیا۔

سری لنکا کے کمار دھرماسینا نے آئی سی سی امپائر آف دی ایئر ایوارڈ جیت لیا، انہوں نے دوسری مرتبہ یہ ایوارڈ حاصل کیا، اس سے قبل کمار دھرما سینا 2012 میں بھی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ کے بیٹسمین کلیم میکلیوڈ ایسوسی ایٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار پائے، انہوں نے گزشتہ سال 2 سنچریاں اسکور کیں۔

کوہلی ٹیسٹ، ون ڈے اور کرکٹرآف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے

دبئی( ویب ڈیسک ) ویرات کوہلی آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹر ، ون ڈے کرکٹر اور مینز کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) نے سال 2018 کے دوران بہترین کارکردگی پیش کرنے پر ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کا اعلان کردیا جس کی قیادت کے لیے ویرات کوہلی کو منتخب کیا۔ویرات کوہلی پہلے کرکٹر بن گئے جنہوں نے ایک سال کے دوران ٹیسٹ، ون ڈے اور کرکٹر آف دی ایئر کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ویرات کوہلی مسلسل تیسری مرتبہ آئی سی سی مینز کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔2018 کے دوران ویرات کوہلی نے 13 ٹیسٹ میچز میں 5 سنچریوں کی بدولت 55.08 کی اوسط سے ایک ہزار 322 رنز بنائے اور ایک سال میں انہوں نے 14 ایک روزہ میچز میں 6 سنچریوں کی مدد سے 133.55 کی اوسط سے ایک ہزار 202 رنز بنائے۔بہترین کارکردگی پیش کرنے پر ووٹنگ ممبر نے ویرات کوہلی کو ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حق میں ووٹ دیا۔

پھڈا پڑ گیا

لاہور (خصوصی رپورٹ) تحریک انصاف کی حکومت سے مسلم لیگ ق کے اختلافات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ حکومت سے اختلاف کی بنا پر ہی صوبائی وزیر برائے معدنیات عمار یاسر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی سے ملاقات کی لیکن ملاقات بے سود رہی اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سارا معاملہ وزیراعظم عمران خان کے سامنے پیش کرنے اور مسلم لیگ ق کے تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروادی۔ تاہم مسلم لیگ ق کے ترجمان کامل آغا نے نام لئے بغیر دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں حکومت سازی کی پیشکش کی ہے جبکہ مسلم لیگ ق سے پیپلزپارٹی بھی رابطے میں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اچھا سلوک نہیں کر رہی اگر عمران خان کا یہی رویہ رہاتو ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا۔(ق) لیگ اور تحریک انصاف میں بڑھتی ہوئی دوریوں کا فائدہ ا ٹھانے کیلئے اپوزیشن متحرک ہو گئی ،آ صف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے چودھری برادران سے جلد ملاقات کیلئے رابطے شروع کر دیئے ۔جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے اہم رہنما بھی اس اتحاد کے حوالے سے نہ صرف متحرک ہو چکے ہیں بلکہ یہ بھی طے کیا جا رہا ہے کہ کس طرح ان ناراضگیوں کو دور کیا جا سکتا ہے ، با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک انصاف کی حکومت کو سخت جھٹکا دینے کیلئے اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے دو محاذوں پر کام شروع کر دیا ، ایک سانحہ ساہیوال پر حکومت کے خلاف عوامی دباﺅبڑھانا اور دوسرا (ق) لیگ کی قیادت سے رابطے کر کے ان کی حکومت سے علیحدگی کیلئے منانا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد آ صف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان اپنے اپنے طور پر چودھری برادران سے ملاقات کریں، ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری برادران کی طرف سے ابھی تک حکومت کا ساتھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وہ تحریک انصاف کی اعلی قیادت کو معاملات سلجھانے کیلئے وقت دینا چاہتے ہیں،اس حوالے سے انہوں نے تحریک انصاف کی ایک اہم شخصیت کو اعتراضات بھیجے ہیں جن میں اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

حالت بگڑ گئی

لاہور(خصوصی رپورٹ)مسلم لیگ ن کے قائد وسابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو آج میڈیکل بورڈ کی سفارش پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی(پی آئی سی) میں علاج کیلئے داخل کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد پی آئی سی کو سب جیل قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نواز شریف کی ناساز ی طبع پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ان کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ والد کی طبیعت ٹھیک نہیں لیکن ہماری فیملی کو اس بارے میں آگاہ تک نہیں کیا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کی طبیعت ناساز ہے اور انہیں آج پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا جائےگا تاہم میڈیکل بورڈ کی جانب سے ابھی تک نوازشریف کی رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں جبکہ اس سلسلے میں محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ داخلہ کو بھی درخواست دے چکے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کیپٹن (ر) فضیل اصغر نے بتایا کہ پرائیویٹ ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس میں کچھ پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں اس لئے انہیں آج میڈیکل بورڈ کی سفارش کے بعد پی آئی سی بھیجا جائے گا۔

زرداری ، بلاول ، فریال تالپور ، مراد علی شاہ کیخلا ف تحقیقات نیب راولپنڈی کے سپرد

اسلام آباد (وائس آف ایشیا‘ اے این این) چیئرمین نیب نے جعلی اکاﺅنٹس کیس نیب راولپنڈی کے حوالے کر دیا۔ پانامہ جے آئی ٹی کے رکن عرفان نعیم منگی آصف زرداری، فریال تالپور، بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کیخلاف تحقیقات کریں گے۔ نیب کی جانب سے 16 ریفرنس دائر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین جاوید اقبال کی ہدایت پر جعلی اکاﺅنٹس کیس کی تحقیقات نیب راولپنڈی کے سپرد کی گئی ہیں۔ بطور ڈی جی عرفان نعیم منگی اس سارے سکینڈل کی تحقیقات کریں گے جس کے بعد جڑواں شہروں کی احتساب عدالتوں میں ریفرنسز دائر کئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی سابق صدر آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، بیٹے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کرے گا۔ نیب جعلی اکاﺅنٹس کیس میں 16 ریفرنسز دائر کرنے پر غور کر رہا ہے۔ حتمی فیصلہ عرفان نعیم منگی کی تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ عرفان نعیم منگی نواز شریف کے خلاف بننے والی پانامہ جے آئی ٹی میں بھی نیب کی جانب سے رکن تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سابق صدر آصف علی زرداری کی نااہلی کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز سپریم کورٹ میں آصف علی زرداری کی نااہلی کے لیےتحریک انصاف کے رہنماو¿ں عثمان ڈار اور خرم شیر زمان کی جانب سے دائر کی گئیں۔ درخواستیں آصف زرداری کے امریکہ میں مبینہ فلیٹ کی دستاویزات اور ظاہر نہ کئے جانے پر ان کے اثاثوں کی تفصیلات ساتھ جمع کروائی گئی ہیں۔درخواست میں سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی آصف علی زرداری کی آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت تاحیات نا اہلی کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواستوں میں آصف علی زرداری کی جانب سے چھ±پائے گئے اثاثوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ آصف علی زرداری نے بیرون ملک کروڑوں روپے کی جائیداد بنائی لیکن اپنے اثاثے چھ±پائے۔ آصف زرداری کے نیویارک میں مین ہیٹن اپر ایسٹ میں پانچ لاکھ 30 ہزار ڈالر مالیت کے اپارٹمنٹس کی تفصیلات بھی درخواست کے ساتھ شامل ہیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ چھپائے گئے اثاثوں کی مالیت 14 کروڑ 37 لاکھ بنتی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ آصف زرداری کو انتخابی حلقہ این اے 213 سے بھی نااہل قرار دیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ آصف زرداری نیو یارک میں پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔موقف اختیار کیاگیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ انکے بیرون ملک کوئی اثاثت نہیں ہیں۔

افغان جنگ خاتمہ کیلئے ، قطر میں امریکہ ، طالبان مذاکرات شروع

دوحہ‘ اسلام آباد (این این آئی‘مانیٹرنگ ڈیسک)افغان طالبان اور امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے درمیان امن مذاکرات ہفتوں کے تعطل کے بعد پیر کو دوبارہ شروع ہوگئے ہیں ۔ طالبان کے ایک مختصر بیان میں کہاگیا کہ امریکہ کی جانب سے اس ایجنڈے جس میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی اور افغانستان سے مستقبل میں کسی کو خطرہ نہ ہونے کی یقین دہانی پر متفق ہونے کے بعد مذاکرات شروع ہوئے اور پیر کو امریکی نمائندوں نے دو حہ میں طالبان کے سیاسی نمائندوں سے ملاقات کی جو (آج) منگل کو بھی جاری رہے گی ۔یاد رہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی نے نو اور دس جنوری کو قطر میں پہلے سے طے شدہ مذاکرات منسوخ کر دیئے گئے تھے ۔بعد میں پاکستان نے ان مذاکرات کو دوبار شروع کر انے کی کوششیں کی تھیں اور طالبان کو خلیل زاد سے پاکستان میں مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی تاہم طالبان نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا تھااور قطر کے دفتر کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔ پاکستان کا چار روزہ دورہ مکمل کر نے کے بعد زلمے خلیل زاد اتوار کوقطر پہنچ گئے تھے اور پیر کو طالبان اور خلیل زاد کے درمیان دس بجے مذاکرات شروع ہوئے جو دوپہر تک جاری رہے ۔اس سے پہلے طالبان اور امریکہ کے درمیان سترہ اور اٹھارہ دسمبر 2018ءکو متحدہ عرب امارات میں ہوئے تھے جس میں پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی ۔”این این آئی “کو معلوم ہواہے کہ قطر میں پیر کو شروع ہونے والے مذاکرالت میں پاکستان نے اہم کر دار ادا کیا ہے ۔پاکستانی رہنماﺅں نے زلمے خلیل زاد کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ طالبان کےساتھ قطر میں مذاکرات بحال کریں تاکہ تعطل کا تاثر دور ہو جائے۔افغانستان میں 17سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کیلئے امریکی حکام نے طالبان سے قطر میں ملاقات کی۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کیلئے انہوں نے امریکی حکام سے ملاقات کی۔ جس میں مختلف امور پر بات کی گئی۔ امریکہ کی جانب سے طالبان کے اس دعوے کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا گیا جہاں دونوں فریقین نے اس سے قبل آخری مرتبہ گزشتہ سال دسمبر میں ملاقات کی تھی۔ طالبان ترجمان ذؓبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا کی جانب سے افغانستان پر قبضے کے خاتمے اور مستقبل میں اسے کشی اور ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کا ایجنڈا تسلیم کئے جانے کے بعد امریکی نمائندوں سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات ہوئی۔

ہم دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں ، پا کستان اپنے مسائل پر قابو پا کر بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گا ،جمہوری ادارے مضبوط ہونگے ، انسانی حقوق کا احترام ہو گا ، ارجنٹیناسفیر کی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹرویو :ملک منظور احمد ،تصاویر نکلس جان ) اسلام آباد میں تعینات ارجنٹینا کے سفیر ایوان ایوان اسیوچ کا کہنا ہے کہ ارجنٹینا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سپورٹ کرتا ہے ،پاکستان نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔پاکستان نے افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کر کے بھی بہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے ،افغان مہاجرین جو اپنے ملک میں خانہ جنگی کے باعث تباہ حال تھے پا کستان نے انہیں قبول کیا ۔ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پا کستان کی کوششوں کے معترف ہیں ۔ارجنٹینا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے امن مذاکرات جو کہ پا کستان کی مدد سے ممکن ہوئے ان کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ہم توقع کرتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان اور اس خطے میں امن لوٹ کے آئے گا ،معاشی ترقی کا حدف امن کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔امن کے دو ہی راستے ہیں یا تو دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے یا پھر ان کو اپنی منفی سرگرمیوں سے باز رکھنے پر قائل کر لیا جائے تاکہ معاشرہ امن اور ترقی کی منزلیں حاصل کر سکے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فا ئیو کے پروگرام ©©©’ڈپلومیٹک انکلیو “میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ،©ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیسری بار جمہوری طریقے سے اقتدار منتقل ہوا ہے ،جو کہ بہت ہی خوش آئند پیش رفت ہے ،جمہوریت کا تسلسل ہی قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے ،ارجنٹینا نے بھی 1976ءسے لے کر 1983ءتک ایک فوجی حکومت کا تجربہ کیا جو کہ بہت ہی ناکام ثابت ہوا ،جمہوریت فوری طور پر نتائج نہیں دیتی ،اورسوےلین حکمران غلطیاں بھی کرتے ہیں اور انہی غلطیوں سے سیکھتے بھی ہیں ۔طویل مدتی نظام کے طور پر جمہوریت ہی اچھا نظام ہے لیکن اس کے ساتھ پا لیسیوں کا تسلسل بھی ضروری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں کہ پا کستان اپنے مسائل پر قابو پا لے گا ،اور بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گا ۔جمہوری ادارے تقویت پکڑیں گے ،سول اداروں اور انسانی حقوق کا احترام ہو گا ،آزادی اظہارپر بھی کوئی قدغن نہیں ہو گی ،پاکستان ابھی سیکھنے کے ارتقائی مراحل میں ہے ،اور ہمیں پر امید ہونا چاہیے ،کہ وقت کے ساتھ بہتری آئیگی ،اور ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کا مستقبل روشن ہو گا ۔سیا حت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ،مجھے ذاتی طور پر پہاڑی علاقے بہت پسند ہیں ،میں خاص طور پر پولو میچ دیکھنے شندور بھی جا چکا ہوں،اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے لوگ بھی بہت ہی ملنسار اور مہمان نواز ہیں،پاکستان جیسے پہاڑی سلسلے دنیا میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتے ہیں،ایک کام جو کرنے کی ضرورت ہے کہ ان علاقوں میں ہوٹلوں کی صنعت کو فروغ دیا جائے ،سیکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری آچکی ہے ،اورخاص طور پر شمالی علاقہ جات بہت محفوظ ہو چکے ہیں ،اور مجھے کبھی ان علاقوں میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا ۔میری ایک خواہش ہے کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک اسٹیم انجن کی لا ئن کو بحال کیا جائے ،مجھے ذاتی طور پر اسٹیم ٹرینیں اور پرانی ٹرینوں پر سفر کا بہت شوق ہے ،میں 2004ءمیں پشاور سے لنڈی کوتل اس اسٹیم ٹرین کا سفر کر چکا ہوں اور مجھے جو خو بصورتی اس سفر کے دوران دیکھنے کو ملی وہ آپ کو دنیا میں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رجنٹینا نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات 1951ءمیں استوار کیے ،ہم یہ تعلقات قا ئد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں ہی استوار کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا ہوا ،واشنگٹن میں پا کستانی سفیر نے بیونس آ ئرس کا دورہ کرنا تھا لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ واپس چلے گئے اور یہ دورہ نہ ہو سکا اور ہمیں سرکاری سطح پر تعلقات استوار کرنے میں مزید تین سال لگ گئے ،لیکن ارجینٹینا نے 1948ءمیں ہی ایک کونسل خانہ کراچی میں قائم کرلیا تھا اور ہم اس وقت پا کستان سے یوٹی امپورٹ کیا کرتے تھے ، جو کہ گندم کی بوری بنانے میں کام آتی تھی ،اور پاکستان ارجینٹینا کو یوٹی سپلائی کرنے والا مرکزی ملک تھا ،دونوں ممالک کے درمیان اسی دور سے ایک گہرا تجارتی رشتہ قائم ہو چکا تھا ۔پاکستان اور ارجنٹینا کے درمیان با ہمی تجارت سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہ پا کستان کے ساتھ اپنی با ہمی تجارت کا فروغ چاہتے ہیں ،اس وقت جو ہمیں مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت دونوں ممالک پا کستان اور ارجینٹینا کو معاشی مسائل کا سامنا ہے ،اور جب بھی معیشت خراب ہوتی ہے تو تجارت میں کمی کا رجحان دیکھا جا تا ہے ،لیکن اس کے باوجود ارجینٹینا میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے فروغ کی بڑی گنجائش موجود ہے ،اور پا کستان کھیلوں کے سامان کو فراہم کرنے والا مرکزی ملک ہے ،پا کستان میں دنیا کے بہترین فٹ بال باسکٹ بال اور رگبی بال بنائے جاتے ہیں ،پاکستان کو اپنے فنشڈ کپڑوں کی برآمد بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے ،پا کستان اس وقت بیڈ لنن اور تولیے زیادہ برآمد کر رہا ہے ،پاکستان کو کپڑوں کی ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے ،پاکستان ارجینٹینا کو پہلے بھی کپڑے جن میں شرٹس وغیرہ شامل ہیں برآمد کر رہا ہے ،لیکن پا کستان کو فیشن برانڈز کی برآمد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں فیشن کی صنعت کا شعبہ اہمیت اختیار کر رہا ہے ،جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ،لیکن بات پھر وہی ہے اس کے لیے بہتر معاشی حالات کی ضرورت ہے ،کیونکہ خراب معاشی حالات میں پہلی چیز جو لو گ خریدنا بند کر دیتے ہیں وہ کپڑے ہوتے ہیں ،لوگ کپڑوں کو چھوڑ کر اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ہمارے ملک مہنگائی کی شرح بھی چالیس فیصد ہے جو کہ بہت ہی بلند ہے ،ہمارا ملک پا کستان کو زیادہ تر زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے ،سیویا بین اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات اور پاکستان کو وہ دالیں بھی برآمد کر رہے ہیں جوپا کستان میں پیدا نہیں ہوتیں ،اس کے علاوہ پاکستان کی ڈیری کی صنعت کے لیے پاکستان کو چارہ بھی برآمد کرتے ہیں ۔فارما سیوٹیکل کے شعبے میں سرل نامی پاکستانی کمپنی اور ارجنٹائن کی کمپنی کا اشتراک ہوا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اشتراک کامیاب ہو گا ،اور ارجنٹینا کی کمپنیاں پا کستان میں سائلو بیگز فروخت کر رہی ہے جو کہ زرعی مصنوعات کی پیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے ،یہ بیگز نجی شعبے تحت صوبہ پنجاب میں فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایم اﺅ یو (MOU)سائن کرنے کے حق میں نہیں ہوں یہ سائن کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ،میں ٹھوس اقدامات پر یقین رکھتا ہوں ،جیسا کہ پا کستان اور ارجینٹینا کے درمیان نجی شعبے میں کوئی ایم اﺅ یو موجود نہیں لیکن اس کے با وجود نجی شعبے کے تحت زرعات میںبہت اچھا کام ہو رہا ہے ۔میرے خیال میں دونوں ممالک کا نجی شعبہ ہی معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ ایوان ایوان اسیوچ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سے مطمئن نہیں ہوں ،اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا ہجم 277ملین ڈالر ہے جو کہ ماضی میں 500ملین ڈالر بھی رہ چکا ہے ،یعنی کہ اس وقت تجارتی ہجم نصف رہ گیا ہے ،اس میں معیشت کا بھی کافی عمل دخل ہے ،دونوں ملکوں کی معیشتیں اس وقت زیادہ درآمدات کرنے کی سکت نہیں رکھتیں ،ماسوائے بنیادی اشیا کے جن میں فٹ بال ،رگبی بال ہاکی اسٹک اور گلوز وغیرہ شامل ہیں ۔پاکستان پہلے ارجنٹینا سے فارما مصنوعات بھی درآمد کر رہا تھا جس کا سلسلہ اب ختم ہو چکا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری کے ماحول میں بہت بہتری آئی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن یہ درست سمت کی جانب پہلا قدم ہے ،مزید بہتری کی کافی گنجائش ہے ۔بدقسمتی سے اس وقت ارجینٹینا میں کاروبار کافی مندی کا شکار ہیں اور بیرون ملک سرمایہ کاری نہیں کر رہے ارجینٹینا کی برازیل ،یورا گوائے ،پیرا گوائے اور ایکوڈور کے ساتھ مشترکہ منڈی ہے اور ان ممالک کے ساتھ ہی کا روبار کا رجحان زیادہ ہے ،جیسا کہ پا کستان بھی چین اور عرب ممالک کے ساتھ زیادہ تجارت کر رہا ہے۔ پاکستان میں ارجنٹینا کی سرمائی کاری سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ارجینٹینا کی کمپنیاں بیرون ملک زیادہ تر فارما اور زرعات کے شعبوں میں ہی سرمایہ کاری کرتیں ہیں ،اس کے علاوہ ڈیزائن کے شعبے میں خدمات برآمد کی جاتیں ہیں ،لیکن یہ خدمات بھی پا کستان کے لحاظ سے بہت مختلف ہیں ،یہ زیادہ یورپی اسٹائل میں زیادہ ہیں ،جو کہ پاکستانیوں کے زوق سے مطابقت نہیں رکھتیں،لیکن زراعت اور فارما سیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے کی گنجائش موجود ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نہیں دفا ع کے شعبے میں بھی پا کستان اور ارجینٹینا کا تعاون اتنا زیادہ نہیں ہے ،ارجینٹیا کی مسلح افواج محدود پیمانے پر کام کرتیں ہیں ہمارا اپنے کسی پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے ۔ہم اپنی دفاعی ضروریات پر اپنے جی ڈی پی کا صرف 1فیصد خرچ کرتے ہیں ،ہمارا زیادہ خرچ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر ہی ہوتا ہے ،ہم تعلیم پر جی ڈی پی کا 6فیصد جب کہ صحت پر 4.5فیصد خرچ کرتے ہیں ۔ہماری زیادہ توجہ مچھلی کے غیر قانونی شکار کو روکنے پر ہوتی ہے ، اس کے لیے ہمیں کشتیاں اور جہاز چاہیے ہوتے ہیں ،ہمارے پانی کے ساتھ ایک اسپیشل اکنامک زون ہے جس سے مچھیرے ہمارے پا نیوں میں آجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کلچر ایک ایسی چیز ہے جو مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو بھی قریب لے آتی ہے اور انھیں ملنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ آرجنٹائن کے فنکار پا کستان آئیں ،اور اس کے علاوہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے ،تاکہ بطور انسان ہم اپنی مشترکہ قدروں کو پہچان سکیں ،ایسے انسانوں کو ملایا جائے جو مختلف ثقافتی پس منظر رکھتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کلچر ارجنٹینا کے مقابلے مین ہزاروں سال پرانا ہے ۔ اس کے ساتھ کھیلوں کی ثقافت کو بھی فروغ دینا چاہیے ،ہم نے پا کستان سے پولو کا کھیل لیا ہے جو اگرچہ ہمارا سب سے مقبول کھیل تو نہیں لیکن ہمارا قومی کھیل ہے ، ہے۔پاکستان اور ارجنٹینا کے درمیان ہاکی کے کھیل میں بھی قریبی روابط ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ پا کستان میں ارجنٹائن کا سفارت خانہ پولو کے کھیل کے فروغ کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ،سفارت خانہ اسلام آباد کلب کے پولو کلب کو سپورٹ کرتا ہے ،اور یہ کلب ارجینٹینا کے پولو پلیئر متھیاس اولموس مشترکہ طور پر چلاتے ہیں ،اور کھلاڑی اپنے خاندان کے ہمراہ سال میں دو مرتبہ تین ماہ کے لیے پا کستان آکر بچوں اور بڑوں کو پولو کھیل کے گر سکھاتے ہیں یہ اکیڈمی بہت اچھے کھلاڑی پیدا کر رہی ہے ،آخری برس ارجینٹینا کے فرسٹ کلاس میں نمایاں کھلاڑی اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑی کا تعلق بھی اسی کلب سے تھا ،اس کے ساتھ ساتھ ہم ہر سال ایک پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی کرتے ہیں ،یہ ایک بڑا پولو ٹورنمنٹ ہوتا ہے ،اور اس سال اس ٹورنمنٹ میں لاہور سمیت ملک کے دوسرے حصوں سے بھی کھلاڑیوں نے شرکت کی ،اس سال اس ٹورنمنٹ کا فائنل میچ 700کے قریب لوگوں نے دیکھا ،یہ ایونٹ ہر سال بڑا ہو رہا ہے ۔سال 2016میں ہم نے بڑے ایونٹس منعقد کیے جن میں ارجینٹینا کے پینٹر کی ایگزی بیشن بھی شال تھی اس پینٹر نے پا کستان میں آرٹ کی ورکشاپس بھی منعقد کیں ۔ہم نے کچھ فنکار جن میں ٹینگو ڈانسرز بھی شامل تھے ان کو پا کستان مدعو کیا اور انھوں نے یہاں آکر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اس سال بھی ہم بہت سے ثقافتی ایونٹس منعقد کرنے جا رہے ہیں ،جن میں خواتین شعرا اپنا کلام پیش کریں گیں ،اس کے علاوہ موسیقی کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے ۔اس ساتھ ایک اور نہایت کی کامیاب ایونٹ جو ہم نے پچھلے سال منعقد کروایا تھا اور ہم اس سال بھی منعقد کروئیں گے پیر رفیع ٹھیٹر گروپ نے مختلف اسکولوں کے 150سے زیادہ بچوں کے لیے پرفارم کیا ،ان بچوں میں اسٹریٹ چلڈرن اور اچھے اسکولوں کے بچے بھی شامل تھے اور سب نے اس ایونٹ کو بہت انجوائے کیا ۔2016میں ہم نے پا کستانی کلاسیکل مو سیقی کی محفل کا انعقاد بھی کیا اس قسم کی موسقی مجھے زاتی طور پر بھی بپت پسند ہے ،اس سال ہم فنڈز کی کمی کے باعث یہ ایونٹ منعقد نہیں کروا سکے لیکن مستقبل میں اس ایونٹ کے دوبارہ انعقاد کی بھر پور کوشش کی جائے گی ۔اور میرے خیال میں پا کستان کو اپنے فنکاروں کو ارجنٹینا لے کر جانا چاہئے اور بیونس آئرس میں پا کستانی ایمبیسی کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے ،کیونکہ میرے خیال میں ارجنٹینا میں پا کستانی فنکاروں کو ایک بڑی ما رکیٹ ملے گی ۔جواب:ارجنٹینا پارک 1973میں اس وقت کے صدر پورٹو کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک تحفہ تھا ۔یہ پارک 1971ءکی جنگ میں پاکستان کو ارجنٹینا کی جانب سے بطور صدر سیکورٹی کونسل جنگ بندی میں مدد دینے کی نشانی کے طور پر بنوایا گیا یہ ایک بہت اچھا پارک ہے ،میں خود بھی اس پارک میں جاتا رہتا ہوں ،یہ شہر کے بالکل مرکز میں واقع ہے اور بچوں کے لیے تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے ،ہم میئر اسلام آباد کے ساتھ مل کر اس پارک کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں ،اور مجھے خوشی ہے اس پارک کو پبلک کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔