All posts by Daily Khabrain

پولیس گردی ، اہلکاروں نے سیکنڈ ائیر کا طالبعلم غائب کر دیا ، بوڑھی ماں کی ”خبریں ہیلپ لائن “ سے مدد کی اپیل

لودہراں (رپورٹ:امین چوہدری سے)مقامی پولیس تھانہ قریشی والا نے ظلم کے پہاڑ ڈھا دیئے 16سالہ طالبعلم 3روز سے غیر قانونی حراست میں محبوس سال 2013میں پہلے نوجوان بیٹے کو کھا گئے30ہزار لینے کے باوجود بھی بیٹے کو نہ چھوڑا گیا 65سالہ والدہ نذیراں بی بی حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور حصول انصاف کی خاطر ”خبریںہیلپ لائن“ پرکال”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان اور DPOلودہراں سے اپنے بیٹے کی رہائی اور پولیس یونیفارم میں ملبوس کالی بھیڑوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی اپیل اگر انصاف نہ ملا تو DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی ۔ تفصیل کے مطابقلودہراں کے نواحی علاقہ بستی غریب آباد موضع گوگڑاں کی رہائشی65سالہ نذیراں بی بی نے ”خبریں“دفتر آکر دہائی دی کہ اسکا اور اسکے بیٹوں کا مقامی تھانہ قریشی والہ میں تعینات افسران و کانسٹیبلان نے جینا محال بنا دیا ہے 65سالہ نذیراں بی بی نے بتایا کہ تھانہ قریشی والہ میں تعینات کانسٹیبل مصطفی اور نائب محرر راشد ڈوگر کی میرے نوجوان بیٹے محمد اشرف کے ساتھ دوستی تھی مگر انھوں نے اسکا جینا حرام بنا رکھا تھا مصطفی اور راشد ڈوگر جو کہ پرچی جوا اور خود بھی کھیلتے تھے اور جواریوں کی سرپرستی بھی منتھلیاں لے کر کرتے تھے کی میرے بیٹے محمد اشرف کے ساتھ توں تکرار ہو گئی جس پر انھوں نے میرے بیٹے کو کہیں غائب کر دیا جس کا 5سال گزرنے کے بعد بھی تاحال تک کوئی پتہ نہ چل سکا ہے ہم نے کئی بار اپنے بیٹے کو ان سے بازیاب کروانے کی کوشش کی مگر جب بھی ہم کوئی کاروائی کرنا چاہتے تو یہ ہمیں بلیک میل کرتے تھے اور کوئی بھی قدم اٹھانے پر جان سے مار دینے اور تیزاب پھینکنے جیسی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں جس پر ہم کاروائی کرنے سے رک جاتے تھے اب ان کے خلاف اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے کاروائی کرنا چاہی مگر اس کی پاداش میں انھوں نے میرے دوسرے بیٹے محمد ارشد جس کی عمر 16سال ہے اور وہ سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے 20جون 2013کو شام 4بجے گھر سے انسپکٹر حاجی بشیر ،نائب محر ر راشد ڈوگر ،کانسٹیبل مصطفی اور 3عدد کانسٹیبلان کے ہمراہ ہمارے گھر پر دھاوا بول کر اسے زبردست پولیس وین میں غیر قانونی پکڑ کر لے آئے اورحوالات بند کر دیا جس پر میں اور میرا بیٹا محمد ارشد فوراََ تھانہ پہنچے جہاں پر معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے خلاف کوئی درخواست اور FIRدرج نہ ہے بلکہ مصطفی اور راشد ڈوگر کے کہنے پر میرے بیٹے کو پکڑا ہے جب راشد ڈوگر اور مصطفی سے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے دہائی دی تو انھوں نے ہمیں تھانہ سے دھکے مار کر نکال دیا اور کہا کہ جو رقم ہم نے اشرف سے لینی تھی وہ دے جاو¿ اور اپنے بیٹے کو لے جاو¿ وگرنہ اسے بھی ایسے ہی غائب کریں گے جیسے آج تک تمہارے بڑے بیٹے کا علم ہی نہ ہے بعد ازاں میں نے مصطفی کے کہنے پر اسے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے 14ہزار روپے ادا کر دیئے مگر انھوں نے پھر بھی میرے بیٹے کو نہ چھوڑا بلکہ راشد ڈوگر نے مزید 70ہزار کی ڈیمانڈ رکھ دی جس پر مزید اسے اپنے بیٹے کی بازیابی کیلئے 10ہزار روپے دے دیئے مگر پھر بھی بیٹے کو نہ چھوڑا گیا بلکہ ہمیں کہا گیا کہ SHOنہیں مان رہا اسکی رہائی کیلئے تمہیں 50ہزار کی رقم تو ہر صورت میں ادا کرنا ہوگی وگرنہ اپنے بیٹے کو بھول جاو¿ اگلے دن جب ہم تھانہ گئے تو ہم نے اپنے بیٹے کو حوالات میں نہ پایا جس پر ہمیں تشویش ہو ئی ہم نے تھانہ میں موجود کانسٹیبلان و افسران سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا مگر انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تمہارے بیٹے کو تو تھانہ کا کوئی بندہ لے کر ہی نہیں آیا ہے میں نے اپنے بیٹے محمد ارشد کے ہمراہ تھانہ میں موجود ایس ایچ او سمیت تمام افسران و کانسٹیبلان کی منت سماجت کی مگر کسی نے میرے بیٹے کے بارے میں کچھ نہ بتایا جس پر ہمیں گہری تشویش ہوئی میری اآنکھیں ابھی تک پہلے بیٹے کو دیکھنے کیلئے ترس رہیں ہیں مگر ان ظالم پولیس افسران نے میرے دوسرے بیٹے کو بھی غائب کر دیا مجھے اندیشی ہے کہ کہیں انھوں نے میرے بیٹے کو جان سے ہی نہ مار ڈالا ہو میں نے اپنے بیٹے کی ان ظالموں کے چنگل سے بازیابی کے لیءبہت بھاگ دوڑ کی مگر مجھے اپنے بیٹے کا کوئی سراغ نہ مل سکا بالآخر حصول انصاف کی خاطر ”خبریں“کا دروازہ کھٹکھٹایا اور”خبریں“کے توسط سے اعلیٰ حکام ،RPOملتان اور DPOلودہراں سے اپنے بیٹے کی رہائی اور پولیس یونیفارم میں ملبوس کالی بھیڑوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی اپیل اگر انصاف نہ ملا تو DPOآفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لوں گی ۔

 

مومنہ کی انوکھی خواہش‘ خوبصورتی کے بجائے آواز سے پہچانا جائے

ممبئی (شوبزڈیسک) پاکستان کی خوبرو گلوکارہ مومنہ مستحسن نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ دنیا انہیں خوبصورتی کے بجائے ان کے کام سے پہچانے۔ ایک بھارتی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی مجھے میری آواز کے بجائے میری خوبصورتی کی وجہ سے پسند کر رہا ہے، میں جہاں بھی جاﺅں مجھے یہی سننے کو ملتا کہ ارے دیکھو کتنی پیاری لڑکی ہے لیکن میں یہ نہیں چاہتی۔ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی تھی کہ خوبصورت چہرے کے علاوہ بھی میری پہچان ہو جس کے لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک میں اپنے آپ کو ثابت نہیں کرلوں گی تب تک کوئی گانا ریکارڈ نہیں کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تعلیم، صحت اور خاص طور پر پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنا شروع کیا ۔جس کے بعد مجھے امریکی جریدے فوربز نے 30 انڈر 30 کی فہرست میں شامل کیا جس نے مجھے دوبارہ میوزک کی طرف لوٹنے کی راہ دکھائی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی گلوکار ارجن کننگو کے ساتھ مومنہ کا گانا آیا نہ تو ریلیز کیا گیا، جسے مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی مل رہی ہے۔

 

موسیقی میں نئے رجحانات متعارف کرانے میںکوئی حرج نہیں

لاہور( شوبزڈیسک) نامور گلوکارہ سائرہ نسیم نے کہا ہے کہ موسیقی میں نئے رجحانات متعارف کرانے میںکوئی حرج نہیں لیکن اس کےلئے متعین کردہ حدسے باہر نہیں جانا چاہیے ،نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی قائل ہوں اور انہیں تاکید کرتی ہوں کہ خاص طو رپر موسیقی کے شعبے میں بغیر کسی کی سر پرستی کے زور آزمائی نہ کی جائے ۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سائرہ نسیم نے کہا کہ عید الفطر پر پیش کی جانے والی پاکستانی فلموںکو شائقین نے بیحد پذیرائی دی ہے جو انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ کسی ایک فلم کی کامیابی سے کئی لوگوں کی کامیابی اوررزق وابستہ ہوتا ہے ۔بلا تعطل فلمیں بنتی رہنی چاہئیںاور وقت بھی آئے گا جب ہماری انڈسٹری دوبارہ عروج حاصل کرے گی ۔ سائرہ نسیم نے کہا کہ موسیقی میں نئے رجحانات متعارف کرانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کےلئے متعین کردہ حد سے باہر نہیں جانا چاہیے کیونکہ کوئی بھی چیز ایک حد میں اچھی لگتی ہے اور اگر وہ اس سے باہر نکلے گی تو نہ صرف اپنی وقعت کھو دے گی بلکہ لوگوں کو بھی نا گوار گزرے گا۔

 

علی ظفر فلم ”طیفا ان ٹربل“ کی پروموشن کے دوران زخمی ہوگئے

لاہور(شوبزڈیسک) اداکار و گلوکار علی ظفر طیفا ان ٹربل کی ریلیز سے قبل ہی زخمی ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق وہ مقامی ہوٹل میں فلم کی پروموشن کے سلسلے میں موجود تھے کہ سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہوگئے جس کے بعد ان کو جوہر ٹاو¿ن میں ایک نجی کلینک پر لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں مکمل طور پر چھ ہفتے کیلئے آرام کا مشورہ دیدیا۔یاد رہے کہ علی ظفر اپنی پہلی پاکستانی فلم ”طیفا ان ٹربل“ کے حوالے سے بہت پرجوش ہیں ۔
اور وہ مایا علی کیساتھ فلم کی پروموشن کے سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے بھی کررہے ہیں۔

 

کسان دوست زرعی پالیسی نافذ، ایگروبیسڈ صنعت کوفروغ دیاجائے : مظفر حیا ت خان خاکوانی، چین سے محتاط معاہدے کئے جائیں : عامر نذیر بُچہ، چینی فیکٹریوں پر چیک رکھاجائے:ڈاکٹر طارق ملک، کلسٹر فارمنگ کی طرف جانا ہوگا:ڈاکٹرعابد حمید، ”فانا فلورا“ محفوظ رکھنے کےلئے جنگلات لگائے جائیں: شفقت سعید، حکومت آم کی ایکسپورٹ پر ریلیف دے:میجر(ر) طارق خان اسماعیل، سبزیوں، پھلوں کے ایکسپورٹرز کو سبسڈی دی جائے: اکرم چاون، اعظم صابری، ملتان آم کے حوالے سے پہچان کھو چکا:ظفر حسین مہے، باغبانوں کےلئے سبسڈی سکیم متعارف کرا دی:نویدعصمت، ” خبریں فورم “ میںا ظہار خیال

ملتان(اہتمام و رپورٹ: سجاد بخاری، طارق اسماعیل، تصاویر: سرفراز نیازی) پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک CPEC) منصوبے کی آڑ میں غیرملکی کمپنیوں کو زرعی زمینیں اور سرکاری فارم دینے کے بجائے کسان دوست زرعی پالیسی نافذ کی جائے۔ سی پیک منصوبے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین پاکستان میں اپنی صنعتیں تو لگا سکتا ہے لیکن اس کے پاس ہماری زراعت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس حوالے سے محتاط معاہدے کئے جائیں۔ ہم بہتر منصوبہ بندی سے وافر زرعی اجناس پیدا کرکے چین سمیت دنیا بھر کی بیشتر آبادی کو کھلا سکتے ہیں۔ مانگے تانگے کی صنعت پر انحصار کے بجائے ویلیو ایڈیشنز پر توجہ دی جائے اور ہر چھوٹی صنعتیں لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ حکومت سی پیک کے ساتھ کارپوریٹ فارمنگ کے بجائے کوآپریٹو فارمنگ کو فروغ دے۔ زراعت ماحولیات سمیت تمام متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پاکستان کو سی پیک کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک سے جوڑنے کے لئے تیاری رکھیں۔ یہ تجاویز ”خبریں“ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے شرکاءنے دیں۔ عدنان شاہد فورم ہال میں ہونے والے فورم میں محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید، مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ماہرین ڈاکٹر طارق ملک، ڈاکٹر عابد حمید ملغانی، سینئر زرعی سائنسدان ملک عامر بُچہ، ترقی پسند کاشتکار اور مینگو گروورز میجر(ر) طارق خان اسماعیل زئی، مظفرحیات خاکوانی، ملک ظفر حسین مہے، راﺅ محمد عمران، محکمہ زراعت پنجاب کے میڈیا لائز ان یونٹ ملتان کے نوید عصمت کاہلوں، انجمن آڑھتیان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل اعظم صابری اور سبزی اور پھلوں کے ایکسپورٹر محمد اکرم چاون نے شرکت کی۔ ”خبریں“ زرعی فورم میں شرکاءنے سی پیک اور ہماری زراعت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جس میں اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تجاویز بھی دیں۔ ترقی پسند مینگو گروور مظفر حیات خان خاکوانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان اور پالیسی سازوں کو چاہےے کہ وہ سرکاری و نجی زمینیں چین سمیت تمام غیرملکی کمپنیوں کے حوالے نہ کریں۔ کمپنیوں سے قلیل المدتی محتاط معاہدوں کے تحت زمینیں لیز پر دینے سے کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہےے کہ ہم مانگے تانگے کی صنعت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی ایگرو بیسڈ صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کریں۔ سی پیک کے منصوبے کے ساتھ چین سے ایک بڑی تعداد میں غیرتربیت یافتہ افراد اپنے آپ کو نامور ماہرین ظاہر کرکے ہمیں ٹریننگ دینے کے در پے ہیں، انہیں روکا جائے۔ چین سے زرعی ٹیکنالوجی ، تحقیق کا تبادلہ ضرور کیا جائے۔ فیکٹریوں اور شہریوں کا فضلہ نہروں میںڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے کیونکہ اس روش سے زراعت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ چین جتنی بڑی صنعت لگا لے ہمیں اپنی زراعت پر فخر ہے اور ہماری زراعت کا چین سمیت دنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ سینئر زرعی سائنسدان اور پلانٹ پتھالوجسٹ ملک عامر نذیر بُچہ نے کہا ہے کہ ہمیں خواب غفلت سے باہر آنا ہوگا اور بہتر کل کے لئے آج کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ باغات سمیت فصلوں کی خوراک کا کیلنڈر تبدیل ہوگیا ہے لیکن ہمارے ادارے پرانے طریقوں پر چل رہے ہیں۔ زراعت کے نئے تقاضوں کے مطابق کاشتکاروں کی ٹریننگ کی جائے۔ مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر طارق ملک نے کہا کہ ہم باغات کی سڈن ڈیتھ کوئیک ڈیکلائن کی وجہ 10سال بعد جان چکے ہیں اور ہم اس وائرس تک بھی پہنچ چکے ہیں، ہمیں باغات کو بچانے اور ان سے بھرپور پیداوار لینے کےلئے تمام تقاضے تبدیل کرنا ہونگے۔ آبپاشی کے طریقوں کو تبدیل کرنا ہوگا اور باغات کو فوری طور پر ڈرپ اری گیشن پر لانا ہوگا تاکہ پانی کی بچت کی جاسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ یہاں لگنے والی فیکٹریوں پر چیک رکھا جائے تاکہ وہ یہاں کا ماحول اور پانی آلودہ کرنے سے باز رہیں کیونکہ دنیا بھر میں امریکہ کے بعد چین دوسرا بڑا ملک ہے جو ماحولیاتی آلودگی پھیلا رہا ہے اور چینی کمپنیوں کی فیکٹریوں کے پاکستان میں آنے سے انہیں ماحولیاتی تقاضوں سے سختی سے مانیٹر کیا جائے۔ مینگوریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینئرماہر ڈاکٹر عابدحمید ملغانی نے کہا کہ سی پیک ہمارے لئے ایک نعمت ہے اور ہمیں اپنی معیشت مضبوط کرنے کا بہترین موقع مل رہا ہے۔ ہم صرف ٹال پلازوں سے ہی سالانہ بجٹ سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں منصوبہ بندی بہتر کرناہوگی۔ ہمیں باغات کے علاقوں میں سڑکیں اور انفراسٹرکچر بہتر بنانا ہوں گے تاکہ ہم سی پیک کے ساتھ اپنی بنیادی ڈھانچے کا بھی موازنہ کرسکیں۔ ہمیں کلسٹر فارمنگ کی طرف جانا ہوگا۔ محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے جہاںملک کے داخلی پوائنٹس سے سبزی و پھل کے ٹرک اور کنٹینر آئیں گے تو وہ اس دوران فصلوں کی نئی سنڈیاں اور کیڑے بھی لائیں گے۔ یہاں چینی کلچر آنے سے نیا پیسٹ بھی آئے گا۔ ہمیں چینی کلچر کے تناظر میں نئے پیسٹ کلچر سے بھی نبردآزما ہونا ہوگا۔ ہمیں کپاس کی فصل پر خاصی محنت کی ضرورت ہے کیونکہ ہماری کپاس زرمبادلہ کمانے کا سب سے اہم اور ضروری عنصر ہے۔ ہمیں کپاس کی فصل اور باغات پر توجہ دیکر پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سی پیک منصوبے میں جہاں جہاں سڑکیں بن رہی ہیں ان کے ساتھ مقامی درخت اور جنگلات لگائے جائیں تاکہ ہمارا ”فانا فلورا“ محفوظ رہے اور ہم ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم منصوبہ بندی بہتر کرلیں تو دنیا بھر کو زرعی اجناس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں کھلا سکتے ہیں۔ چین ہر میدان میں ہمارا مقابلہ کرسکتاہے لیکن ہماری زراعت میں کوئی مقابل نہیں ہے۔ہمارے ملک میں بی ٹی کاٹن تو کاشت کر لی گئی ہے لیکن بی ٹی کو چیک کرنے کے لئے ایک بھی لیبارٹری نہیں ہے اور اب بی ٹی پر بھی خطرناک قسم کی سنڈیوں کا حملہ بڑھ گیا ہے جو بی ٹی پر حملہ آور نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بی ٹی کاٹن کی تمام اقسام مناسب ٹیسٹ کئے بغیر منظور کی جاتی ہیں۔ سی پیک منصوبے کے دوران ماحولیات کا خاص خیال رکھنا ہوگا تاکہ چین پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک میں صنعتیں منتقل کرتے وقت محتاط رہے۔ ترقی پسند مینگو گروور میجر(ر) طارق خان اسماعیل زئی نے کہا کہ حکومت ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آم کی ایکسپورٹ کرنے والوں کو ریلیف دے۔ انہوں نے کہا کہ مینگو پلٹ پلانٹ پر قبضہ مافیا کی اجارہ داری ختم کرائی جائے۔ سرکاری ایئرلائن پی آئی اے آم کی ایکسپورٹ کے لئے کرایوں میں کمی کرے اور حکومت نجی کمپنیوں کو بھی کرائے کم کرنے پر مجبور کرے۔ ناقص حکمت عملی اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے اور ہم اپنی پیداوار کا نصف بھی ایکسپورٹ نہیں کررہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے ایکسپورٹر محمد اکرم چاون نے کہا کہ ڈالر کے چڑھاﺅ کی وجہ سے پیکنگ میٹریل بھی آئے روز مہنگا ہورہا ہے اور بھارت کے مقابلے میں ہمیں سبزی یا پھل ایکسپورٹ کرنے کے لئے ایک چوتھائی زیادہ اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح سی فریٹس پر حکومت کی مانیٹرنگ نہیں ہے، کمپنیاں اپنی من مانی کرتی ہیں اور جگہ جگہ بلیک میلنگ کرکے ہمیں لوٹتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت شپنگ لائن کے لئے پالیسی واضح کرکے اور کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرائے۔ اگر سبزی، پھلوں کی ایکسپورٹ زیادہ ہوئی تو کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انجمن آڑھتیان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کے صدر اعظم صابری نے ”خبریں“ فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے سبزیاں اور پھل ایکسپورٹ کرنے کے دوران ایکسپورٹرز کو پریشان کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک پھلوں کے ایکسپورٹرز کو ای (E)فارم جاری کرنے کے ساتھ رقم منگوانے کی مدت کا دورانیہ 90روز کرے۔ انہوں نے کہا کہ 30روز میں معاملات کلیئر نہیں ہو پاتے اور ایکسپورٹرز نقصان اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے لئے چھوٹی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ملتان میں مینگوپلٹ پلانٹ کے معاملات میرٹ پر چلانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بحال کیا جائے۔ حکومت ایکسپورٹرز کو سبسڈی دے۔ محکمہ زرعی اطلاعات ملتان کے ترجمان نوید عصمت کاہلوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ملتان سمیت صوبہ بھر میں باغبانوں کی حوصلہ افزائی کےلئے جدید مشینری اور آلات سبسڈی پر فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے باغات میں ڈرپ اری گیشن کے لئے بھی سبسڈی سکیم متعارف کرائی ہے۔ ملک ظفر حسین مہے نے کہا کہ شہری آبادی کے بے ہنگم اضافے اور نئی رہائشی کالونیوں کی وجہ سے آم کا دارالخلافہ ملتان آم کے لحاظ سے اپنی پہچان کھو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم کے تحقیقاتی ادارے کم رقبے میں زیادہ پودے لگانے کی اقسام تیار کریں اور روایتی اقسام کے ساتھ ایکسپورٹ کوالٹی کی اقسام تیار کی جائیں۔ راﺅ محمد عمران نے کہا کہ پانی کی کمی سنجیدہ مسئلہ ہے اسے حل کیا جائے۔

میرا نے میرا فاونڈیشن کے نام پر فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی

لاہور(شوبزڈیسک) اداکارہ میرا نے فلاحی ہسپتال کے بعد اب میرا فاونڈیشن کے نام پر بھی فنڈ ریزنگ مہم شروع کردی۔اداکارہ میرا نے ہسپتال کے بعد اب میرا فانڈیشن نامی پراجیکٹ پراپنی تمام ترتوجہ مرکوز کردی ہے اوراسی لیے وہ دبئی میں مقیم بھی ہیں۔ میرا کی جانب اس مہم میں فنڈریزنگ کے لیے اپنا اورسٹارمیکرجراررضوی کانمبر بھی دیدیا ہے۔ لیکن جب اس سلسلہ میں جراررضوی سے رابطہ کیا گیا توان کا کہنا تھا کہ اداکارہ میرا کے ہسپتال اورمیرا فانڈیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرا فون نمبرمیری اجازت کے بغیردیا گیا ہے، جوکہ انتہائی غیراخلاقی حرکت ہے۔فلمسٹار میرا کے اس پراجیکٹ کے بارے میں فلم کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اداکارہ میرا کا فنی سفرتقریبا ختم ہوچکا ہے۔ انھوں نے اپنے کیرئیرمیں بہت سی اچھی فلموں میں کام کیا ہے لیکن گزشتہ برسوں سے وہ جس طرح سے شہرت اورکام حاصل کرنے کے لیے سکینڈلز بنوا رہی ہیں، اس سے ان کی ہی نہیں بلکہ پاکستان فلم انڈسٹری کی ساکھ بھی متاثرہوئی ہے۔ انھوں نے جب اسپتال بنانے کا اعلان کیا تھا توبہت سے لوگ ان کے ساتھ تھے لیکن اسپتال کی تعمیر کے لیے جمع ہونے والی رقم کا آج تک کسی علم نہیں کہ وہ کہاں ہے ؟ ایسے میں ایک نیا فلاحی پراجیکٹ شروع کرنا تو اچھی بات ہے۔لیکن اس کومستحق لوگوںتک پہنچایا جائے تواس کا فائدہ ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میرا کوفلاحی کاموں پرتوجہ دینے کے بجائے نجی زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

 

ماضی کی اداکارہ زرین پنا چین سے وطن واپس پہنچ گئیں

لاہور(شوبزڈیسک ) ماضی کی اداکارہ وکوریوگرافر زرین پنا چین کا دورہ کرکے واپس لاہور پہنچ گئیں‘انہوں نے ایک ملاقات میں بتایاکہ مجھے چین کی ایک ثقافتی تنظیم نے مدعوکیا تھا جہاں بچوں کے رقص کے حوالے سے ایک عالمی سطح کا سیمینار تھا‘ زرین پنا نے بتایا کہ میں نے وہاں بچوں کورقص کرایا اور پاکستان کے ملی نغمات بھی گائے اور اس طرح ”پاک چین دوستی“ کو بھی بے حد سراہا گیا‘ زرین پنا نے بتایاکہ مجھے اور میرے فن کوچین میں بے حد سراہا گیا‘ یہ میرے ملک کی عزت بھی ہے جس پر مجھے فخرہے۔

 

پاکستانی ڈراموں نے بھارتی ڈراموں کاسحرتوڑ دیا

لاہور( شوبزڈیسک) ٹی وی کی خوبرو اداکارہ ثناءجاوید نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص میں آگے بڑھنے اور منزل پانے کا جذبہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی ،ہر گزرتے دن کے ساتھ نیاتجربہ ملتاہے جس سے شخصیت اور کام میںپختگی آتی ہے ۔ ایک انٹر ویو میں اداکارہ نے کہا کہ حالیہ چند سالوںمیں ڈرامہ انڈسٹری نے بے پناہ ترقی کی ہے جبکہ پاکستانی ڈراموںنے اپنے معیار کی وجہ سے ہمسایہ ملک کے ڈراموں کاسحرتوڑ دیا ہے ۔ ثناءجاوید نے کہاکہ جوبھی نیا پراجیکٹ سائن کرتی ہوںاس کےلئے خوب سوچ بچارکے ساتھ ساتھ اپنے قریبی لوگوں سے مشاورت بھی کرتی ہوں ۔ ہمیشہ نیک نیتی اور لگن سے کام کیا ہے اور اس کاصلہ مجھے کامیابی کی صورت میںملا ہے ۔ ثناءجاوید نے کہاکہ کوئی بھی شخص پرفیکٹ نہیں ہوتا ۔بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے کام اور شخصیت میں پختگی آتی ہے او رمیں بھی اسی جانب گامزن ہوں۔

 

ماہرہ کا حمزہ علی عباسی کی سالگرہ پراداکار کوانوکھا مشورہ

کراچی(شوبز ڈیسک) بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے قریبی دوست حمزہ علی عباسی کو سالگرہ کے موقع پر انوکھے مشورے سے نوازا ہے۔دوستی کے ناطے ماہرہ خان نے حمزہ علی عباسی کو ایک مخلصانہ مشورہ دیا ہے جسے حمزہ علی عباسی نے شکریے کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کردیا۔گزشتہ روز حمزہ علی عباسی نے اپنی 34 ویں سالگرہ منائی اس موقع پر انہیں ان کے مداحوں اورقریبی عزیزوں کے ساتھ اداکارہ ماہرہ خان نے بھی مبارکباد دی، تاہم ماہرہ نے حمزہ علی عباسی کو دوستانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا امید ہے اس سال آپ ویڈیو گیمز کھیلنا چھوڑدیں گے(دوسری چیزوں کے ساتھ)۔ شاید ماہرہ خان سوچتی ہیں حمزہ علی عباسی کی عمر ویڈیو گیمز کھیلنے کے لیے زیادہ ہوگئی ہے، جب کہ دوسری چیزوں کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے شاہد ماہرہ اپنے عزیز دوست کو اس مشورے کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ ٹی وی پر آکر سیاستدانوں کے بارے میں تبصرے کرنا چھوڑدیں۔دوسری جانب حمزہ علی عباسی نے ماہرہ خان کے مشورے کو شکریہ کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا شکریہ خان! لیکن میں ویڈیو گیمز کھیلنا نہیں چھوڑسکتا، میں ان ویڈیو گیمز کو مستقبل میں زیادہ سے زیادہ جیتنے کی کوشش کروں گا۔واضح رہے کہ ماہرہ خان اورحمزہ علی عباسی ایک ساتھ فلممولا جٹ 2میں کام کررہے ہیں، فلم کی دیگر کاسٹ میں اداکارفواد خان بھی شامل ہیں فلم کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیاگیا ہے۔

 

کسی کی جعلی آواز نکالنا مشکل کام نہیں ، ٹی وی چینلز پر فنکار سیاستدانوں کی ہو بہو پیروڈی کر چکے ، ضیاءالحق دور میں ایک فنکار نے چودھری نظام دین کی آواز میں ایک آڈیو بناکر پورے ملک میں پھیلا دی تھی

لاہور (مزمل گجر سے) مختلف ٹی وی چینلوں کے پروگرام میں آکر بعض لوگ سیاستدانوں، فنکاروں اور کھلاڑیوں کی آواز میں ایسی ایسی پیروڈی کرچکے ہیں کہ سننے والے حیران رہ جاتے ہیں اگر بولنے والے ٹی وی سکرین پر نظر نہ آرہے ہوں تو لگتا ہے کہ جس شخص کے لہجے میں بولا جارہا ہے یہ وہی شخص ہے ٹی وی چینلز پر دوسروں کے آواز میں پیروڈی کرنے والے مختلف سیاستدانوں کی آواز میں تقریریں بھی کرچکے ہیں۔ لہذا اس دور میں کسی بھی شخص کی آواز میں جعلی گفتگو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر ڈالنا کوئی مشکل کام نہیں اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں ہوچکے ہیں۔ کئی مذہبی اور سیاسی شخصیات کی جعلی آڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں۔ ضیاءالحق کے دور میں چودھری نظام دین کی آواز میں ایک آڈیو بناکر پورے ملک میں پھیلا دی گئی تھی بعدازاں مرزا سلطان عرف چودھری نظام دین نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی سختی سے تردید کی تھی کہ یہ میری آواز نہیں ہے۔یاد رہے کہ چودھری نظام دین ریڈیو پاکستان پر مزاحیہ پروگرام کرتے تھے جو ملک بھر میں بڑی دلچسپی سے سنا جاتا تھا۔