All posts by Daily Khabrain

ڈالرکی اڑا

طارق ملک
لیجئے قارئین کرام!آج ڈالر 167 روپے 23 پیسے کا ہو گیا ہے اگر ماضی کی طرف نظر دہرائی جائے تو جنرل مشرف کے دور میں ڈالر 57 روپے کا رہا۔جمہوری حکومتوں میں ڈالر 110 روپے 23 پیسے مہنگا ہواجس کی وجہ سے ملک میں غربت، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ملک میں اس وقت سینٹ کی 100 قو می اسمبلی کی 342، بلوچستان اسمبلی کی 65، خیبر پختو نخواہ اسمبلی کی 145 پنجاب اسمبلی کی 371 اور سندھ اسمبلی کی 168 نشستیں بنتی ہیں۔میرے ناقص علم کے مطابق 1 نشست جیتنے کے لئے کم ازکم 10 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس طرح کم ازکم 11 ہزار 910 کروڑ روپے خرچ کرکے 1191 افراد سینیٹرز، ایم این اے اورایم پی اے بنتے ہیں۔اور میرے ناقص علم کے مطابق جیتنے والے سینیٹرز، ایم این اے اور ایم پی اے 5 سال میں اپنی خرچ کی ہوئی رقم کو کم از کم 10 گنا ہ کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس طرح ملک کو ان منتخب نمائندوں کے لئیے 1 لاکھ 19 ہزار ایک سو کروڑ روپے کی ضرورت ہے جو کہ سال کے 23 ہزار 8 سو بیس کروڑ بنتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ڈالر 167 روپے 23 پیسے کا ہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں تقریباً3 سو کروڑ روپے سالانہ انکی تنخواہوں وغیرہ پر خرچ ہوتے ہیں۔وزرا،مشیران، معاونین خصوصی، پارلیمانی سیکرٹریز اور سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چئیر مینوں کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں یہی وجہ ہے کہ میرا ملک غریب سے غریب ہوتا جا رہا ہے اور اسکے غریب عوام غربت اور مہنگائی کی چکی میں پیس رہے ہیں۔ہمارے ملک کی ایک بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے ایک ٹی وی کے مورخہ 01-09-2021 کے پروگرام میں بتایاکہ مرغی کا گوشت 500 روپے کلو مل رہا ہے۔جبکہ گزشتہ 1 ماہ سے مرغی کا گوشت 200 سے 250 روپے مل رہا ہے جب ہمارے سیاست دانوں کی عوام کے مسائل سے اس طرح دلچسپی ہوگی کہ ان کو مارکیٹ کے ریٹ کا ہی پتہ نہیں ہوگا تو وہ ہمارے مسائل کیا خاک حل کریں گے۔یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ میری رائے میں ہمارا ملک اس طرح کے اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ہمیں اس جمہوری نظام کو خیر آباد کہنا ہوگا جس میں سیاسی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات لگیں اور ثابت ہوئے ہوں۔
ہمیں اپنے غریب عوام کو اس نظام کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے کیونکہ ہم اس نظام کے قابل ہی نہیں ہیں یہ نظام صرف ایماندار،کسی کا حق نہ مارنے والے،سچ بولنے والے اور وعدہ خلافی نہ کرنے والے معاشروں کے لئے ہے۔میں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہیے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ محترمہ مریم نواز شریف نے بھی ایک بیان میں میری اس بات کی تائید کی ہے اور چودھری نثا ر علی خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اسی بات پر زور دیا ہے۔چودھری نثار علی خان ایک بے داغ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں۔انہوں نے بھی قومی سیاست میں متحرک ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔یا تو ہمارے سیاست دان خدا کو یاد رکھتے ہوئے موت کو یاد رکھتے ہوئے خدا سے ڈرتے ہوئے جھوٹ، بد دیانتی، وعدہ خلافی اور منافقت سے توبہ کرلیں بصورت دیگر ہمیں صدارتی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا تمام پارٹیاں اپنا اپنا امیدوار کھڑا کریں۔
جس کو اللہ عزت دے وہ اپنی حکومت بنائے اور انتظامیہ کے ذریعے جس میں وفاقی سیکر ٹریز،ایف آئی اے نیب اور صوبائی چیف سیکر ٹریز انسپکٹر جنرل پولیس کے ذریعے حکومت چلائیں۔اس طرح ایک لاکھ بیس ہزار 6 سو کروڑ روپے 5 سال میں بچائے جا سکتے ہیں۔ملک پر زیادہ قرضہ جمہوری حکومتوں کے دور میں ہی بڑھا ہے ان جمہوری حکومتوں نے سوائے قرضہ بڑھانے اور عوام کو مہنگائی اور غربت سے دوچار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا۔
اپنے پچھلے کالم میں بھی عمران خان، نواز شریف، آصف علی زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی عمروں کا ذکر کر چکا ہوں اور ساتھ ہی ان کی خدمت میں پاکستان میں اوسط عمر 35 سال عرض کر چکا ہوں لہذا ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگر جمہوریت چاہتے ہیں تو خدا کے لئے سچ بول کر، ایمانداری، وعدہ خلافی نہ کرکے عوام کی خدمت کریں۔بصورت دیگر ملک جو کہ انتہائی نازک دور سے گز ررہا ہے ان کو کبھی معاف نہیں کرے گا اور تاریخ میں ان کا نام اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا۔آج بھی وقت ہے کہ ہم سب توبہ کر لیں اور دل و جان سے عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومت وقت کی اچھی پالیسیوں پر ان کا ساتھ دیں او ر اگر حکومت وقت کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے تو مہذب انداز میں ان کو بتائیں اور ان کو ان مسائل کے حل کے لئے قابل عمل تجاویز دیں اس وقت ہمارا ایک ایک دن اور ایک ایک پل قیمتی ہے ہمیں اپنا وقت ضائع کیے بغیر ملک و قوم کی خدمت کرنا ہے اور اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملک کے دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
(کالم نگار ریٹائرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ہیں)
٭……٭……٭

رومانویت اور حقیقت پسندی

میاں انوارالحق رامے
گزشتہ صدی غلام اور محکوم قوموں کیلئے آزادی اور خود مختاری کی صدی تھی۔بر صغیر پاک و ہند کے لوگ انگریز کی غلامی کا شکار تھے۔گزشتہ صدی میں برصغیر کی دو قوموں کے اندر آزادی اور خود مختاری کے خوابوں نے جنم لیا۔مسلمان برصغیر پاک و ہند میں چونکہ حکمران رہ چکے تھے ان میں آزادی کے آدرش زیادہ بلند تھے۔علی گیلانی بطل حریت ان افراد میں شامل تھے جس نے بر صغیر میں آزادی کے پرچم کو اکیسویں صدی تک اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق بلند کئے رکھا۔سید علی گیلانی نے زندگی کی آخری سانس تک سبز ہلالی پرچم کے ساتھ اپنی نسبت و محبت کو برقرار رکھا۔ان کے آزادی پسند قفس عنصری نے ہلالی پرچم میں لپٹا پسند کیا۔ مرنے کے بعد بھی ان کی مجاہدانہ شخصیت آزادی پسند لوگوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا شخص غلام قوموں کے لئے ایک صدا ئے اسرافیل ہے جو غلام قوموں کیلئے پیغام حریت ہے۔برصغیر پاک و ہند کے محکوم مسلمانوں کیلئے پاکستان ایک آدرش اور زندگی بخش رومان تھا۔وہ مجاہدانہ روحیں آہستہ آہستہ خالق حقیقی کی طرف منتقل ہو رہی ہیں بلکہ ان بے تاب انقلابی روحوں میں ایک روح مرد مجاہد سید علی گیلانی کی پاکیزہ روح تھی جو ہمیں جدوجہد کا درس دے کر مالک حقیقی سے مل چکی ہے۔اب رومان کی جگہ حقیقت پسندی نے لے لی ہے زندگی کے تمام شعبے انحطاط پذیر ہو چکے ہیں۔صحافت و سیاست سب بانجھ پن کا شکار ہو کر قعر مزلت میں ڈوب چکے ہیں۔
اہل صحافت میں جناب ضیاشاہد‘ میرخلیل الرحمن‘ مجیدنظامی اوردیگر جنہوں نے ہمیشہ صداقت کے علم کو بلند کئے رکھا۔سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان کے بعد اس وادی بے آب و گیاہ میں گزشتہ پچاس برسوں میں کوئی ایسی شخصیت مطلع سیاست پر نمودار نہیں ہوئی جس کو بطور مثال پیش کیا جا سکے۔سیاست کے ایوانوں میں ہر طرف نا اہلی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔جن کو خواہش نفس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ہر طرف طلب زر و منصب کے مناظر آنکھوں کوخیرہ کرتے نظر آئیں گے۔تحریک پاکستان کے جلو میں اور بھی ارمان محو سفر تھے۔جن کی کاشت بیسویں صدی میں ہمارے نیک دل بزرگوں نے کی تھی۔ان رومانوں میں سر فہرست اسلامی انقلاب کا رومان تھا۔ وہ بھی مدت ہوئی قصہ پارینہ بن گیا ہے۔حقیقت یہ ہے جن خواہشوں نے 20ویں صدی میں جنم لیا تھا وہ سب خواہشیں اب خواب و خیال ہو چکی ہیں۔ اب ہم پر ایک نیا عہد مسلط ہو چکا ہے جس سے مفر ممکن نظر نہیں آتا ہے اس عہد کی ضروریات اور تقاضے مختلف ہیں۔
کشمیر کی آزادی ہماری ترجیح اول ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی آزادی کے بغیر تشکیل پاکستان کا ایجنڈا نامکمل ہے۔ مہا راجہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ ظالمانہ فیصلہ تھا کوئی مستند دستاویز فیصلے کی تائید نہیں کرتی ہے۔ بھارت آج تک کوئی مستند دستاویز اقوام متحدہ میں پیش کرنے سے قاصر رہا ہے اس لئے باامر مجبوری اس نے اقوام متحدہ کے سامنے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کر لیا تھا۔جب اس کا روبہ عمل آنے کا وقت آیا تو اقرار و وعدہ سے منحرف ہو گیا تھا۔اگست 2019 اس نے ہر باہمی اور بین الاقوامی معا ہدے کو پاؤں تلے روندتے ہوئے تاریخ کے ساتھ جغرافیہ بھی تبدیل کر دیا تھا۔ بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کے خلاف کوئی مرد مجاہد سامنے نہیں آیا۔علی گیلانی نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس منظر کو ابھرتے دیکھا لیکن انہیں کوئی آزادی کا علم بلند کرنے والا نظر نہیں آیا۔ وہ آس و امید کی مدھم لو کو اپنے سامنے بجھتے ہوئے دیکھتے رہے۔
عصر حاضر میں تاریخ جغرافیہ بدل گئے ہیں 1947 کے نقشے میں جوہری تبدیلیاں چکی ہے۔نقشہ کی پہلی خورد برد بانڈری کمیشن نے کی تھی۔پھر حیدر آباد نقشے سے محو ہو گیا پھر کشمیر کو غلامی کی زنجیریں پہنا دی گئیں پھر مشرقی پاکستان کو بزور شمشیر ہم سے الگ کر دیا گیا۔حقائق تبدیل ہو چکے ہیں۔قدرت کا قانون فطرت ہے صاحبان عزم و ہمت نئے حقائق کی تخلیق کرتے ہیں۔صاحباں رخصت ان کو قاضی کا فیصلہ سمجھتے ہوئے قبول کر لیتے ہیں, تاریخ میں ہمارا شمار صاحبان رخصت میں ہوتا ہے سید علی گیلانی جیسے مجاہد کا شمار صاحبان عزیمت میں ہوتا ہے۔ نئے حقائق کی تخلیق کیلئے قدرت نے اصول مقرر ر رکھے ہیں۔ایک تاریخی جبریت کی ذریعے ظہور پذیر ہوتے ہیں دوسرے صاحبان عزم کے دست ہنر کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔ہر دور اپنے تقاضے اور اسلوب لے کر جنم لیتا ہے۔صنعتی دور کی معاشرت زرعی اور خانہ بدوشی کے دور سے بالکل مختلف تھی۔ اس سے فرار ممکن نہیں ہے۔دوسری طرف کسی قوم کی صلاحیت اور عزم نئی تاریخ مرتب کر دیتا ہے بلکہ جغرافیہ بدلنے کی صلاحیت کا بھی مالک ہوتا ہے۔امریکہ اور اس کے حریفوں نے مل کر دنیا کا جغرافیہ اور تاریخ بدل دی ہے۔ایران کی مذہبی قیادت نے بھی یہ کام کر ڈالا ہے ایران صدیوں تک بادشاہی کے شکنجہ میں پستا رہا ہے اب ایران میں بادشاہت ایک قصہ پارینہ بن گئی ہے۔اسی طرح علم کی کائنات میں بھی لوگ نئی دنیا آباد کر لیتے ہیں۔۔قائد اعظم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو تاریخ بدلتے ہیں۔
پاکستان کا وجود مسعود ان کی کھلی اور درخشاں نشانی ہے۔علی گیلانی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کی کوشش میں اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دیتے ہیں۔ہر غلام فرد چاہے وہ فلسطینی ہو یا کشمیری قائد اعظم کی جدوجہد کو اپنے لئے ایک مثال سمجھتا ہے۔اب کشمیری قیادت میں کوئی رومان نہیں ہے اب حقیقت پسندی نے لوگوں کی سوچوں کو اسیر بنا لیا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں آج ان جیسا کوئی با ہمت نہیں ہے جو ان کی خلا پر کر سکے۔آج برصغیر میں ایک طرف حقیقت پسند قیادت ہے دوسری طرف سرحد کے پار انتہا پسند قیادت ہے۔جو کشمیر پر ظلم ستم کی خوگر ہو چکی ہے۔سید گیلانی جیسے عزیم المرتبت لوگ اپنے پیچھے بہادری اور عزم صمیم کی داستانیں چھوڑ جاتے ہیں جن کی برکت سے نئے جرات مند کردار پیدا ہوتے ہیں۔ جو ہمت و جرات کے نئے اور تابندہ چراغ روشن کر دیتے ہیں۔سید علی گیلانی کو ایک چمکتے ہوئے ستارے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
(کالم نگارمعروف سابق پارلیمنٹیرین اورپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہیں)
٭……٭……٭

سیگون بھی یاد آیا اور ہوچی منھ بھی

عارف بہار
ڈیڈ لائن کی آخری لکیر سے چند گھنٹے کی دوری پر ہی امریکہ کا آخری جہاز آخری فوجی کو لے کر افغانستان کی حدود پار ہوگیا۔امریکہ نے افغانستان آنے میں بھی عجلت کی تھی اور رخصتی میں بھی عجلت کا پہلو نمایاں رہا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق آخری جہاز کے کابل ائر پورٹ سے ٹیک آف کرتے ہی کابل شہر ہوائی فائرنگ سے گونج اُٹھا۔امریکی فوجی کے جہاز میں سوا ر ہو کر اُڑان بھرتے ہی طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد فاتحانہ انداز میں ائر پورٹ میں داخل ہوئے اور مختلف حصوں کا جائزہ لیا۔ ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ امریکہ شکست کھا کر جا چکا ہے اور یہ سب افغانوں کی فتح ہے اور دنیا کے لئے سبق بھی ہے تاہم انہوں نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی قیام کی خواہش ظاہر کی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلینکن نے انخلا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب طالبان کے ساتھ رابطہ دوحہ دفتر کے ذریعے ہی رہے گا۔انہوں نے انخلا کی مشن کو بہادرانہ اور تاریخی قرار دیا۔ اس طرح بیس سال بعد افغانستان کی امریکی جنگ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔کابل سے امریکی فوجیوں کی اُڑانیں بھرنے کے یہ آخری مناظر دہائیوں پہلے سوویت افواج کے ٹینکوں پر دریائے آمو عبور کرنے جیسے ہی تھے۔دونوں فوجیں واپس لوٹتے ہوئے حملوں کی یقین دہانی حاصل کرنے کی ضمانت کے بعد افغانستان کو خالی کر رہی تھیں۔ سوویت یونین کے آخری حکمران گوورباچوف نے تو افغان مجاہدین سے باضابطہ اپیل کی تھی کہ وہ واپس لوٹتی ہوئی فوجوں پر حملے نہ کریں۔امریکہ کے موجود ہ صدر جو بائیڈن نے طالبان سے اس امر کی باضابطہ ضمانت حاصل کی تھی۔بیس سال پر محیط مار دھاڑ سے بھرپور ”ہالی ووڈ“ کی یہ فلم امریکہ کو بہت مہنگی پڑی۔ بیس سال کی اس جنگ میں آٹھ لاکھ امریکی فوجیوں نے حصہ لیا۔اس دوران سرکاری اعداد وشمار کے مطابق دوہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے جبکہ بیس ہزارسے زیاد ہ زخمی ہوئے۔امریکہ نے یہ جنگ لڑنے کے لئے822ارب ڈالر خرچ کئے۔یہ محض سرسری اعدادوشمار ہیں۔کاغذوں میں دفن اصل حقیقت کچھ وقت گزرنے کے بعد امریکی روایت کے عین مطابق”ڈی کلاسیفائی“ہو کر دنیا کے سامنے آئے گی اور تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔انخلاء کا یہ عمل جس انداز سے دراز سے دراز تر ہوتا رہا یہاں تک کہ امریکی حکام کے مطابق اب بھی امریکہ کے دو سو شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ امریکہ ہی نہیں اس کے اتحادی اور دست بازو اور ایک جنوبی ایشیائی شہ بالا افغانستان میں دہائیوں تک قیام کے ار ادوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔وہ مارشل افغان قوم کو فنِ سپاہ گری سے آشنا کرنے کے نام پر اپنے قیام کو جواز اور وجوہات کے دلائل کے پرتوں اور پردوں میں چھپائے بیٹھے تھے۔اسی لئے جب عمران خان نے کہا کہ افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑدی ہیں تو اس کی سب سے زیادہ تکلیف بھارت میں محسوس ہوئی کیونکہ امریکہ اگر افغانستان پر حملے کی بارات کا دولہا تھا تو بھارت اس کا شہ بالا تھا۔اس تشریح کے مطابق بھارت افغانستان کی زنجیروں کا حصہ تھا۔ بیس سال پر محیط دور اگر غلامی تھا تو بھارت کتاب کا مرکزی باب ہے۔امریکہ نے افغانستان میں مار ہی کھائی اس ریت کی بوری کے پیچھے چھپے بھارت نے حالات کو پاکستان کے خلاف اپنی”ایناکونڈا“ حکمت عملی کے لئے استعمال کیا۔اژدھے کی طرح پاکستان کے گرد گھیر اڈالنے کی یہ حکمت عملی کچھ وقت تک کامیاب ہوئی مگر امریکی فوج کی رخصتی کے ساتھ اژدھا کئی ٹکڑوں میں بٹ کر رہ گیا۔اس عرصے میں پاکستان کے لئے مغرب اور مشرق کی سرحدوں کا فرق ہی ختم ہوگیا۔یہی نہیں بلکہ اس حکمت عملی کو کامیاب بنانے کے لئے بحیرہ عرب کے پار بھی ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ خلیجی ممالک پاکستان سے دور ہو کر رہ جائیں۔افغانستان سے امریکہ کے آخری سپاہی کے انخلا کے بعد اینا کونڈا پالیسی بری طرح ناکام ہوگئی۔حکمت یار نے بہت اچھے انداز میں بھارت میں پاکستان کی سٹریٹجک ڈیپتھ پالیسی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی پالیسی میں تبدیلی کا مشورہ دیا۔بھارت کی ایناکونڈا پالیسی نے افغانستان کو کئی قوتوں کی لڑائی کا اکھاڑہ بنا ئے رکھا۔آج بھی افغانستان کبڈی کا میدان ہے۔ مخالف ٹیم کا کوئی رکن جب کبڈی کبڈی کرتا ہوا اس میں قدم رکھتا ہے تو سارے علاقائی کھلاڑی اس کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں۔یہ مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ اس لئے سب کے لئے بہتر یہی ہے کہ اس پُرخطر مقام کا رخ ہی نہ کریں۔
بیس برس امریکہ نے ایک لمحے اور ایک تاثر کو ٹالنے میں ضائع کئے۔وہ یہ تھا کہ امریکہ کی افغانستان سے رخصتی میں سیگون یعنی ویت نام کی جھلک نظر نہ آئے اور جنگ کے اس گرد وغبار سے کسی ہوچی مین کی شبیہ نہ اُبھرے مگر اس کا کیاکیجئے کہ سیگون بھی زیر بحث آیا اور ہوچی میں بھی۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

یہ کہاں کی دوستی ہے

لیفٹیننٹ جنرل(ر)سلیم اشرف
چالیس اکتالیس سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں دو نسلیں جوان ہو جاتیں ہیں اور دنیا بالکل بدل جاتی ہے۔ خواص طور پر آج کی ڈیجیٹل ایج میں تو اتنے عرصے میں ایک مختلف اور نئی دنیا جنم لے لیتی ہے۔ 1979 کا سال گزشتہ صدی کا ایک نہایت ہی اہم سال تھا جس میں تاریخ کا نیا مگر بہت ہی عہد ساز سال شروع ہوا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج داخل ہو گئیں اور وہاں جنگ کاایک طویل اوربہت ہی تباہ کن سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ جنگ پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے لئے بھی نہایت اہم تھی۔ سوویت فوج کابل میں رہنے کے لئے نہیں آئی تھی بلکہ وہاں وہ اپنا قبضہ مستحکم کر کے سویت یونین پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے راستے بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک جانے کا عزم رکھتی تھی۔ ان کو اس کے لئے کل چار سے پانچ سال درکار تھے۔ مگر تقدیر کا لکھا کچھ اور تھا۔
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں کے مصداق افغان مجاہدین نے چند ہی سالوں میں حالات کا دھارا بدل دیا اور روسی اپنے زخم چاٹتے ہوئے دریائے آمو کے اس پار بھاگ گئے۔ اس جنگ میں امریکہ، پاکستان، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور افغانستان کے مجاھدین کے مفادات ایک تھے۔ امریکہ شاید ویٹنام میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے جذبے سے اس جنگ میں آیا، جبکہ پاکستان اپنی سلامتی کے تحفظ اور سوویت یونین کے 1971 کی جنگ میں ہندوستان کا ساتھ دینے کا حساب چکانے کے لئے بے تاب تھا۔ افغان مجاھدین اپنے آپ کو غیر ملکی روسی تسلط سے آزاد کرانا کے لئے جذ بہ اور آرزو لے کر میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔ یہ جنگ مکمل طور پر ایک جائز اور حق کی جنگ تھی جس میں افغانوں نے خوب بہادری کے جوہر دکھائے اور پاکستان نے اس جنگ میں کھل کر افغان مجاھدین کی نہ صرف سیاسی اور سفارتی حمائت کی بلکہ فوجی طور پر بھی ان مجاھدین کی ہر طرح سے مکمل مدد کی۔
لیکن مقدر نے روسیوں کے بعد افغانستان کے زندہ دل مجاھدین کے لئے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں اور آزمائشوں اور جدوجہد کے بہت سارے اور مراحل رکھے تھے۔ نائین الیون کے واقعہ کے بعد افغان مجاہدین جو اب طالبان کے روپ میں آچکے تھے، نے امریکہ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دیا اور افغانوں کی آزمائش کا ایک نیامگر قدرے طویل عرصہ شروع ہو گیا۔ 2001 سے لے کر 2021 تک امریکہ اور نیٹو افواج نے تمام جدید اسلحہ سے لیس ہو کر یہ جنگ لڑی مگر آخر انہیں بھی روس کی طرح اپنے زخم گہرے ہوتے نظر آئے۔ 2021 ایک اور تاریخ رقم کر گیا۔
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
طالبان کا ذوق یقین اور جذبہ جہاد قابل دید ہے۔نہ عددی برتری نہ جنگی سازوسامان کی بہتات مگر قوت ایمانی حب الوطنی اور جذبہ کی بہتات تھی جس نے کم تعداد کو بالا کر دیا۔
اب افغانستان جنگ سے بیزار ہے افغان نہیں چاہتے کی ان کا ملک اور برباد ہو بلکہ برباد ہونے کو بچا کیا ہے؟ اب مرحلہ ہے کہ تمام ممالک خاص طور پر پڑوسی ممالک جن میں پاکستان ایران چین اور وسطی ایشیائی مسلم اکثریتی ریاستیں شامل ہیں سب مل کر افغانستان کے تعمیر نو کے مراحل میں افغانوں کی مدد کریں تاکہ وہ اپنی یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی ترقی اور تعمیر نو کے مراحل کو آسانی سے طے کر سکیں۔ اگر یہ نہ ہوا تو افغانستان خدانخواستہ دوبارہ مشکل حالات سے دو چار نہ ہو جائے۔ خاص طور پر بہت سارے سپائیلرز کی موجودگی میں جس میں مسلم امہ اور پاکستان کا دشمن نمبر ایک یعنی ہندوستان پیش پیش ہے، بہت ساری ممکنات پیش آ سکتی ہیں۔ ان حالات میں ہمارے لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان بغیر افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کئے افغانوں کی دامے درمے اور سخنے کھل کر مدد کرے کیونکہ ہمارا مستقبل بھی افغانستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ہمیں خواہ مِخواہ کے خدشات سے بالاتر ہو کر اور چین کی مدد سے افغانستان کی تعمیر نو کا آغاز کرنا چاہئے اور دشمنوں کی انکلوسو inclusive کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرنا چاہئے۔ افغان کیسی حکومت بناتے ہیں یہ انکا اندرونی معاملہ ہے۔ عورتوں کے حقوق بھی ان کا اپنا مسلہ ہے جو وہ اپنی روایات اور کلچر کے مطابق طے کریں گے کسی بیرونی قوت یا ملک کو اس سے غرض نہیں ہونی چاہئے۔ ہاں جب ملک ترقی کرے گا تو یہ تمام معاملات حل ہو جائیں گے۔ ابھی وقت ہے افغان حکومت کی مدد کی جائے چہ جائے کہ ان کو بن مانگے مشورے دئیے جائیں۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا
تو پھر پاکستان ان حالات میں کیا کرے؟
افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم کرنے کامرحلہ سب سے اہم ہے۔ دنیا کے باقی بڑے اور چھوٹے ممالک کی بات اور ہے وہ بغیر کسی وجہ کے تسلیم کے مرحلے کو طول دے سکتے ہیں مگر پاکستان کے لئے لمبی مدت کے لئے اس مرحلے کو پس پشت ڈالے رکھنا مشکل ہو گا اور حالات کا مکمل جائزہ لے کر نئی افغان حکومت کو چند دنوں یا ہفتوں میں یہ فیصلہ کرنا ہو گا اورہمارے وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ سطحی وفد کا کابل کا دورہ ضروری ہو گا۔ نئی حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کے اپنے فائدے ہیں اور ہمیں کابل میں سفارتی سطح پر ایک بہت ہی بہتر مقام حاصل ہو سکتا ہے۔ دیر سے تو سب ممالک تسلیم کر ہی لیں گے۔
لیکن جب تک تسلیم کا مرحلہ نہیں آتا ہم بہت سارے دیگر اقدامات سے کابل میں اور افغان عوام کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ذکرمندرجہ ذیل ہے:
اگرچہ پاکستان نے کچھ جہاز سامان اور ادویات کے افغانستان روانہ کئے ہیں مگر افغان عوام کی توقعات پاکستان سے زیادہ ہیں۔ فوری طور پر پاکستان اپنے افغان بھائیوں کے لئیے کم از کم بیس سے تیس ہزار ٹن گندم چاول اور چینی بھیجنے کا اعلان کرے۔ اس کے علاوہ باقی ضروریات زندگی افغان تاجر پاکستانی مارکیٹ سے بآسانی خرید سکیں اور اس کے لئے نرم ڈیوٹی قواعد کا اعلان کیا جائے۔
افغانستان میں ادویات کی ضرورت ہو گی جس کے لئے ہم جو بھی سہولیات فراہم کر سکیں وہ کرنے چاہئیں۔
ضرورت ہو تو میڈیکل مشن بھی روانہ کئے جائیں۔
تعمیر نو کے لئے جو اشیا افغانستان کو ضرورت ہو مثلا سیمنٹ سریا وغیرہ وہ کم ڈیوٹی پر لے جانے کی اجازت دی جائے۔افغانستان کو اس مرحلے پر بہت مدد درکار ہوگی اور پاکستان اس کے لئے ہر طرح تیار رہے۔
پاکستان خاص طور پر تعلیم اور تکنیکی تعلیم اور صحت کے معاملات میں افغان حکومت کی دل کھول کے مدد کرے۔ یہ سب پاکستان کر سکتا ہے اور یہ وقت ہے کچھ کر گزرنے کا۔
ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اچھے نہیں رہے جس کی کئی وجوہات ہیں اس حوالے سے کچھ اور ممالک کا کردار کلیدی تھا اب ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان ممالک کو دوبارہ کھل کھیلنے کا موقعہ نہ ملے گیند اب اسلام آباد اور کابل دونوں کے کورٹ میں ہے اور دونوں ممالک کوماضی کی غلطیوں سے اجتناب کرناچاہیے۔
(کالم نگار ہلال ملٹری امتیازاورسابق ہائی کمشنر ہیں)
٭……٭……٭

افغان حکومت اور درپیش چیلنجز

ملک منظور احمد
افغانستان میں آخری چند روز بہت ہی ہنگامہ خیز گزرے ہیں۔ بالآخر کابل پر قبضے کے تقریبا ً دو ہفتے بعد طالبان نے اپنی عبوری حکومت کا تو اعلان کر دیا ہے لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی طالبان کے لیے چیلنجز کا صرف آغاز ہو ا ہے۔ طالبان کی جانب سے اعلان کردہ نئی عبوری افغان حکومت میں ملا حسن اخوند وزیر اعظم،ملا برادر اور ملا عبد اسلام نائب وزیر اعظم ہوں گے،ملا یعقوب وزیر دفاع اور سراج حقانی وزیر داخلہ ہوں گے ملا ہیبت اللہ امیر امومنین ہوں گے،ملا امیر متقی وزیر خا رجہ ہوں گے،ہدایت بدری وزیر خزانہ،ملا عبد الحق انٹیلی جنس چیف ہوں گے، جبکہ ملا خیر اللہ وزیر اطلا عات اور ذبیح اللہ مجاہد نائب وزیر اطلا عات ہوں گے۔ یہاں پر دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی نام ابھی بھی امریکی اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہیں،جبکہ ان میں سے کئی بد نام زمانہ گوانتانا مو بے جیل کے سابق قیدی بھی رہ چکے ہیں۔ طالبان نے گزشتہ 20برس ایک سپر پاور سمیت دنیا کی بھر کی بڑی اور امیر ترین قوتوں کے خلاف جنگ و جدل میں گزارے ہیں اور ایک نا قابل یقین اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے لیکن جنگ لڑنے اور گورننس کرنے میں بہت فرق ہوا کرتا ہے۔اسی لیے اگر یہ کہا جائے کہ طالبان کی عبوری حکومت کا قیام طالبان کی نئی حکومت کا پہلا قدم ہے تو غلط نہیں ہو گا۔
اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے اس وقت افغانستان کے معاشی حالات نہایت ہی مخدوش ہیں اور امریکہ کی جانب سے افغان مرکزی بینک کے 10ارب ڈالر منجمد کیے جانے کے بعد افغانستان کے عوام کے لیے روز مرہ کی زندگی کے معاملات چلانا بھی آسان نہیں ہے۔اور شاید طالبان کو بھی اس حقیقت کا احساس ہے کہ ایک ملک اور ریاست کو چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے انہوں نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ افغان مرکزی بینک کے منجمد کیے گئے اثاثے فوری طور پر بحال کیے جا ئیں۔طالبان نے اپنی عبوری حکومت کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن اس کو عالمی سطح پر اتنی قبولیت نہیں مل سکی ہے،شاید اس بات کی توقع بھی کی جاسکتی تھی۔امریکہ اور یورپی یونین نے طالبان کی نئی تشکیل پانے والی عبوری حکومت کویکسر مسترد کر دیا ہے تو دوسری طرف ایران نے بھی اس حکومت کو مسترد کیا ہے جبکہ ترکی کی جانب سے اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔چین نے کسی حد تک طالبان کی حکومت کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ روس ابھی اس حوالے سے خاموش ہے،جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان کی حکومت بھی دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر ہی گامزن دکھائی دے رہی ہے اور اس سلسلے میں ابھی تک حکومت نے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے جو کہ درست پالیسی ہے،پاکستان کو کسی بھی صورت اتنے اہم فیصلے لیتے وقت جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ نہایت ہی سوچ سمجھ کر اور دانش مندی سے فیصلے لینے کی ضرورت ہے۔طالبان کی عبوری حکومت میں جہاں پر تحریک طالبان سے وابستہ پرانے لیڈران کو فوقیت دی گئی ہے وہیں پر نا قدین کی جانب سے اس بات پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں کہ نہ تو طالبان ایک وسیع البنیاد حکومت بنانے میں کامیاب ہو ئے ہیں اور نہ ہی خواتین سمیت اقلیتوں کو اس حکومت میں کوئی نمائندگی دی گئی ہے۔
عالمی برادری شاید طالبان سے کچھ زیادہ ہی امیدیں لگائے بیٹھی تھی لیکن بہر حال اس بات کا قوی امکان ہے کہ جلد یا بدیر کئی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم کر ہی لیں گے۔جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کرنا ہو گی اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔لیکن مجموعی طور پر مغربی ممالک افغانستان میں طالبان کی حکومت کے لیے کسی قسم کی کو ئی آسانی پیدا نہیں کریں گے اس بات میں کسی کو ئی شک نہیں ہو نا چاہیے،طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے افغان عوام سے امدادکی اپیل کر دی ہے اور اسی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے چین،پاکستان اور ترکی وہ پہلے تین ملک ہیں جنہوں نے افغان عوام کے لیے امداد بھجوانے کا اعلان کر دیا ہے۔
چین نے افغان عوام کی مدد کے لیے 200ملین ڈالر کا اعلان کیا ہے جبکہ پاکستان نے امدادی سامان سے بھرے ہوئے 3 سی 130 جہاز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ترکی نے بھی اسی طرح کا اعلان کیا ہے۔جبکہ قطر کی جانب سے پہلے ہی کچھ طیارے امدادی سامان لے کر کابل پہنچ چکے ہیں۔امریکی صدر با ئیڈن نے طالبان کی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بہت ہی معنی خیز بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ چین،روس،ایران اور پاکستان طالبان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ مقصد کس طرح حاصل کریں گے یہ دیکھنے کی بات ہے۔اس بیان کا یہی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ اب علاقائی ممالک مل کر افغانستان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں لیکن شاید ان تمام ممالک کے لیے اس حوالے سے امریکہ اور مغرب کی جانب سے کو ئی آسانی پیدا نہ کی جائے۔طالبان حکومت کے خلا ف غیر اعلانیہ پابندیوں کا سلسلہ شروع تو ہو ہی چکا ہے اور آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے بھی افغانستان کے لیے اپنی امداد بند کر دی ہے۔
طالبان نے گزشتہ روز اس بات کا اعلان کیا کہ انہوں نے افغانستان کی ویمن کرکٹ ٹیم پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ ان کے خیال میں خواتین کا کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا ٹھیک نہیں ہے اور اس اعلان کے بعد آسٹریلیا جو کہ امریکہ کا قریبی اتحادی ہے کی جانب سے افغان کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔یہ تو ابھی آغاز ہی ہے تمام مغربی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کو ایسی ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ سخت پابندیوں اور اقدامات کا سامنا ہو گا۔اس تمام صورتحال میں ایران کا ردعمل بھی بہت معنی خیز ہے کیونکہ ایران کی نئی قیادت نے کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد طالبان کی حکومت کے حوالے سے مثبت بیانات دیے تھے لیکن پھر اچانک پنج شیر کی لڑائی کے بعد طالبان کے حوالے سے ایران کے موقف میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے اورتو اور ایران نے پنج شیر کے حوالے سے پاکستان مخالف بیان بھی داغے ہیں۔خطے کے ممالک کے درمیان اس حوالے سے کوئی دراڑ خطے کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ایران کو بھی اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ساتھ مل کر چلیں گے تو ہی اس خطے میں امن اور استحکام اور ترقی کو یقینی بنا یا جاسکے گا۔طالبان کیسی گورننس کرتے ہیں ان کی حکومت کس حد تک کامیاب ہو تی ہے،خواتین کو کس حد تک آزادی ملتی ہے یہ تمام سوالات دنیا کی توجہ کر مرکز ہیں اگر طالبان اپنے گزشتہ دور کی نسبت بہتر پالیساں اپنائیں تمام نسلی اور لسانی گروپوں کو ساتھ لے کر چلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ خطے میں امن کی صورتحال بہتر ہو،بیرونی مداخلت کا راستہ رکے اور پاکستان سمیت دیگر ممالک بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔
(کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
٭……٭……٭

حکومت کا آئندہ انتخابات ہرصورت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا عندیہ

اسلام آباد: حکومت نے آئندہ عام انتخابات میں ہر صورت سمندر پارپاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا عندیہ دیدیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے میڈیا کے مخصوص نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور ای وی ایم سے حکومت پیچھے ہٹ سکتی ہے، آئی ووٹنگ و ای وی ایم سے نہ وزیراعظم عمران خان پیچھے ہٹے گا نہ اس کی حکومت ہٹے گی۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ سمندرپار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے، حکومت سمجھتی ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق نہ دینا توہین عدالت ہے، الیکشن کمیشن انتخابات کرانے کیلئے آئینی ریگولیٹر ہے، الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق الیکشن کرائے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ قانون بنانا نہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے نہ ہی اختیار، قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے اور اگر قانون بن جائے تو الیکشن کمیشن کا موقف ہی ختم ہوجاتا ہے، حکومت نے الیکشن کمیشن سمیت سب کو گھنٹوں سنا ہے، بتایا جائے کہ کیا سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراضات کرنے والوں نے دھاندلی روکنے کا کوئی طریقہ بتایا ہے، اگر جواب ناں میں ہے تو اس کا مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے، انہوں نے ہر حلقے میں 20 سے 25 ہزار جعلی ووٹ بنائے ہوئے ہیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ کھلے دل سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو قبول کرے، ای وی ایم مشین الیکشن کمیشن خریدے گا حکومت نہیں، ہم حکومت کی تیار شدہ یا خریدی گئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اصرار نہیں کر رہے، حکومت فنڈز فراہم کرے گی، مشین الیکشن کمیشن خریدے گا

لیفٹ آرم اسپنر محمد نواز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

 راولپنڈی: قومی ٹیم کے لیفٹ آرم اسپنر محمد نواز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔

اسپنر محمد نواز کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر پی سی بی کے کوویڈ 19 پروٹوکولز کے مطابق قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔

محمد نواز کا کا کورونا ٹیسٹ گزشتہ روز اسلام پہنچنے پر کی جانے والی آرائیول کوویڈ 19 ٹیسٹنگ کے دوران مثبت آیا۔

سری جانب قومی اسکواڈ میں شامل دیگر تمام ارکان کے کورونا ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں لہٰذا انہیں 10 ستمبر بروز جمعہ سے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں ٹریننگ کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز پر مشتمل سیریز کے لیے 11 ستمبر کو اسلام آباد پہنچے گی۔ دونوں ممالک کے مابین کرکٹ سیریز 17 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہے گی۔

افغان حکومت کا 11 ستمبر کو حلف اٹھانے کا اعلان

کابل: نئی افغان حکومت نے 11 ستمبر کو حلف اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نئی افغان حکومت نے 11 ستمبر کو حلف اٹھانے کا اعلان کیا ہے، سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ میں طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئی حکومت کی حلف برداری تقریب 11 ستمبر کو ہوگی۔

9/11 حملوں کو رواں سال 11 ستمبر کو 20 سال مکمل ہوجائیں گے، 2001 میں امریکی حکومت نے اتحادی ممالک کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کیا تھا جس کے بعد طالبان کی حکومت ختم ہوگئی تھی تاہم طالبان نے ٹھیک اسی دن حلف بردراری کی تقریب کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل طالبان نے افغانستان میں عبوری حکومت تشکیل دیتے ہوئے کابینہ کے ناموں کا اعلان کیا تھا، اسلامی حکومت کے قائم مقام وزیراعظم محمد حسن اخوند جب کہ ملا عبدالغنی برادر اور ملا عبدالسلام نائب وزرائے اعظم ہوں گے۔

آرمی چیف سے ڈائریکٹر سی آئی اے کی ملاقات ، افغان صورتحال پر پاکستانی کردار کی تعریف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ملاقات میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے افغان صورتحال پر پاکستانی کردار سمیت غیرملکی عملے کے انخلا اور دیگر معاملات میں تعاون کی تعریف کی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے ڈائریکٹرسی آئی اے ولیم جوزف برنز کی ملاقات ہوئی ، سی آئی اےڈائریکٹر نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سےبھی ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی امور سمیت ،علاقائی سیکیورٹی اور افغانستان صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق اس دوران پاکستانی حکام کی جانب سے خطےمیں امن کیلئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ااور افغانستان میں دیرپاامن کیلئےکوششیں جاری رکھنے کےعزم کا اظہار کیا۔

سی آئی اے ڈائریکٹر نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو بھی سراہا اور افغان صورتحال پر پاکستانی کردار سمیت غیرملکی عملے کے انخلااوردیگرمعاملات میں تعاون کی تعریف بھی کی۔

ن لیگ اپوزیشن کا کردار ادا کرے یا حکومتی سہولت کار ہونے کا اعلان کرے، بلاول

رحیم یار خان: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو ساتھ مل کر پنجاب حکومت گرانے کا چیلنج دے دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے رحیم یار خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) پر بھی خوب وار کیے۔

بلاول کہا کہ ہم نے ایک طرف نالائق اور نااہل حکومت کو للکارنا ہے ، وہیں اپنے دوستوں کو بھی مجبور کرنا ہے، اب یہ دوغلی پالیسی نہیں چلے گی، یا تو اپوزیشن کا کردار ادا کریں یا پھر اعلان کردیں کہ آپ حکومت کے سہولت کار ہیں۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ہم نے یوسف رضا گیلانی کو منتخب کراکر حکومت کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیا اور لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لیکن آپ اس وقت بھی پیچھے ہٹے، پہلے ہم نے آپ کو بیٹھ کر سمجھایا، اب ہم آپ کو مجبور کریں گے کہ آپ اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے عثمان بزدار اور عمران خان کو گھر بھیجیں، الیکشن کرواکر نئی حکومت بنوائیں، کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ووٹ کی عزت کی بات ہو لیکن جب ووٹ کے استعمال کا وقت آئے تو بھاگ جائیں اور الیکشن میں بائیکاٹ کردیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کی وجہ سے عوام ہم سے بھی ناراض ہورہے ہیں، اگر ووٹ کی عزت کرتے ہیں تو اسے استعمال بھی کریں اور بزدار اور عمران کو بھگائیں، اگر مل کر مقابلہ کریں گے تو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت گرجائے گی کیونکہ یہ کٹھ پتلی کا پٹھ پتلی ہے، عثمان بزدار گرے گا تو عمران خان خودبخود گرجائے گا۔

بلاول نے مزید کہا کہ آپ ہمت پکڑیں اور کسی کی انا و ذاتی مفاد کو ترجیح نہ دیں، اگر آپ تیار نہیں ہوئے اور اپنے ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے بزدار کو چلاتے رہے تو عوام آپ کو معاف نہیں کریں گے، جب ہم ساتھ تھے تو آپ کہتے تھے استعفے کے بغیر کام نہیں چلے گا، اب آپ کو چیلنج ہے کہ مل کر ووٹ استعمال کریں اور وار کریں، ورنہ استعفے ہی دے دیں، ان میں سے کوئی ایک کام تو کریں ورنہ پنجاب کے عوام جان لیں گے کہ یہ مفاہمت ہے نہ مخالفت، بلکہ منافقت ہے، جسے پنجاب کے عوام رد کردیں گے، آج نہیں کل ہم اس حکومت سے حساب لیں گے اور جب حساب کا وقت ہوگا تو عمران خان اکیلا ہی رہ جائے گا۔