All posts by Daily Khabrain

کابلستان سے افغانستان تک کی کہانی

خضر کلاسرا
چھ لاکھ پچاس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ملک افغانستان عجیب خصوصیات کا حامل ہے ‘مشرق سے مغرب کی طرف بڑھتا ہوا پہاڑوں کا سلسلہ ہندوکش کہلاتا ہے۔ جس کی کئی چوٹیاں چار پانچ ہزار میڑ سے بھی بلند ہیں۔ اور یہ ہندوکش افغانستان کو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔یہ وسیع کوہ ہزار کلومیٹر طویل اور اڑھائی سوکلومیٹر کے قریب چوڑا ہے۔ اس میں کئی درے ہیں جوکہ شمال سے جنوب کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے شمالی مشرقی کونے میں یہ سلسلہ کوہ مرتفع پامیر سے جاملتا ہے۔ جس کی بعض چوٹیاں ساڑھے سات ہزار میڑ بلند ہیں۔ اور یہ چوٹیاں کسی رہائشی مکان کی غلام گردش کی طرح علاقے واِخان سے گزرتی ہیں ‘ جہاں افغانستان کی سرحدیں چین اور سویت یونین سے ملتی ہیں۔ ہندوکش کے شمال میں علاقے کے نیم صحرائی میدان آمو دریاتک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہرات کے اردگرد کا مغربی علاقہ ایرانی سطح مرتفع کی توسیع ہے۔ جنوب مغرب کا علاقہ پتھریلا صحرا ہے۔ہزارہ جات کا صوبہ مرکزی سلسلہ کوہ کے دامن میں ہے۔ مشرق کی طرف بھی پہاڑ ہیں۔ جو شمال میں بدخشاں سے ہوتے ہوئے نورستان سے گزر کر جنوب میں پکتیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔
افغان قطعہ زمین قریب قریب برہنہ ہے۔کنڑ، نورستان اور پکتیا میں جنگل ابھی تک موجود ہیں۔مگر یہ جنگل بھی آہستہ آہستہ ختم ہورہے ہیں۔ گرماخشک اور سخت گرم ہے۔ سردیاں شدید اور تکلیف دہ ہیں۔ بارش عام طور پر دسمبر اور فروری کے درمیان ہوتی ہیں۔ نومبر سے مارچ تک پہاڑ برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ اور اس موسم میں سفر انتہائی مشکل اور مضرصحت ہوتا ہے۔ صحرائی علاقوں میں ایک سو بیس دن تک یعنی جولائی سے ستمبر تک ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو باعث زحمت بن جاتی ہے۔اس ہواکانام بھی مقامی لوگوں نے ایک بیس دن رکھا ہوا ہے۔افغانستان میں دوسرے ایشائی ممالک کی طرح پانی کی کمی تو نہیں مگر پانی کو قابو کرنا اور استعمال کرنا سب سے بڑا مسلہ ہے۔افغانستان میں چاربڑے دریا ہیں۔ شمال میں آمو جوکہ افغانستان کو سوویت یونین سے علیحدہ کرتا ہے۔ مغرب میں ہری رود۔مشرق میں دریائے کابل ‘جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں ہلمند- ارغنہ اب یہ چاروں دریا افغانستان کے دوتہائی علاقے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود افغانستان میں پانی کی کمی ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ پندرہ فیصد زمین قابل کاشت ہے۔ افغانستان میں ہندو کش کے شمالی علاقے زرخیز بھی ہیں اور ان زمینوں پر عمدہ قسم کی کپاس پیدا ہوتی ہے۔افغانستان میں کئی نسلی گروہ آباد ہیں لیکن پختون اکثریت میں ہیں۔ انکی آبادی ایک اندازے کے مطابق افغانستان کی چالیس فیصد آبادی ہے۔ یہاں تاجک نورستانی ‘ترک ‘مغل ‘بلوچ ‘کرغز ‘ازبک’ ایماق اور بروہی بھی آباد ہیں۔ پختون ملک کے جنوب میں رہتے ہیں۔ اور نسلی اعتبار سے ڈیورنڈ لائن کے اس پار پاکستان میں آباد پٹھانوں کے قریب ہیں۔ دنیا کے سیاسی نقشہ پر افغانستان درحقیقت1747 میں نمودار ہوا۔ جدید افغانستان کا خالق اصل میں امیر عبدالرحمان خان تھا۔ جس نے 1880 سے1901 تک افغانستان پرحکومت کی۔ اس نے کافرستان کو فتِح کیا اور اس کو نورستان کا نام دیا۔ ہزارہ جات کو زیر کیا اور ملکی سرحدات کا تعین کیا۔ 1893 میں افغانستان کو ایک ملک بنانے کی غرض سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کیا ‘اس کا مقصد تھاکہ اسے اپنے ملک کی سرحدات کا علم ہواتاکہ وہ ان سرحدات کا دفاع کرسکے۔
عبدالرحمان خان کے اقتدار سنھبالنے سے پہلے ملک کئی حصوں میں تقسیم تھا۔ کوہ ہندوکش کے شمالی علاقہ جات کو ترکستان کہاجاتا تھا۔ہندوکش سے دریائے سندہ تک پھیلے علاقے کو کابلستان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔اس کے جنوب اورجنوب مغربی علاقے کا نام زابلستان تھا۔امیر عبدالرحمان خان نے ان سب علاقوں کو جوکہ مختلف نام رکھتے تھے ان کو یکجا کردیا ‘مطلب کابلستان’ زابلستان اور ترکستان نام ختم کردیئے۔ اور افغانستان کا نام دیدیا۔ انگریزوں نے جب وہ برصغیر پاک وہند کے حکمران تھے ‘کئی بار افغانستان میں مداخلت کی اور دو ایک بار ذلت آمیز شکت کھائی۔ ان کا بنیادی مقصد مداِخلت کرکے روس کی توسیع پسندی کا سدباب کرنا تھا۔سویت یونین جو اس وقت دو براعظموں پر پھیلا ہوا تھا۔ اور کسی زمانے میں ماسکو کی ریاستی حدود تک محدود تھا۔1505 میں اس کا علاقہ صرف دس لاکھ مربع میل تھا۔ اور چارسو سال کے عرصے میں یہ علاقہ پچاس مربع میل فی یوم سے بڑھتا ہوا 1900 میں 8500000 مربع میل تک پھیل گیا۔ اس علاقہ میں اس کے بعد بھی توسیع ہوئی۔ افغانستان انیسویں صدی میں دو استعماری قوتوں کی کشمکش میں ملوث ہوگیا تھا۔
1837 میں روسیوں کی ہلہ شیری پر ایران نے ہرات پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ اس سے پہلے1826 میں روس سے ایران کی جنگ ہوچکی تھی۔اور ایران کو امن خریدنے کیلئے ٹرانس کیثیا کو روس کے حوالے کرنا پڑا تھا۔ انگریزوں نے روس کی جنوب کی جانب یلغار روکنے کیلئے افغانستان میں دوبارہ مداخلت کی اور دونوں بار منہ کی کھانی پڑی۔ 1885 میں روس نے افغانستان کے علاقے پنجدہ پر قبضہ کرلیا اور جب انگریزوں نے ہندوستان میں لام بندی کا اعلان کیا تو روسیوں نے جنوب کی طرف مزید پیش قدمی نہ کرنے کاوعدہ کیا۔ 1887 میں سینٹ پیٹرس برگ میں روس اور برطانیہ کے درمیان ایک معائدہ طے پایا۔ برطانیہ اس معاہدہ سے یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ روس کب اور کہاں رکے گا؟موجودہ حالات میں افغانستان کی جنگ وجدل کا ایک اور واقعہ یوں سامنے آکھڑا ہوتا ہے جوکہ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ افغانستان کا صدر اشرف غنی طالبان کی کابل میں پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی صدارتی محل کو چھوڑ کر کیوں فرار ہوا ہے؟ اگلی بات بھی کرتے ہیں لیکن اس تاریخی واقعہ کو پڑھ لیں جوکہ داود خان کے پورے خاندان سمیت قتل کا سبب بنا تھا۔
دنیا حیرت میں مبتلاہے کہ طالبان کیسے پوری قوت اور طاقت کیساتھ افغانستان واپس آگئے ہیں؟ ایک طرف لوگ طالبان کی یوں تیزترین فتح پر حیرت میں ہیں تو دوسری طرف اس بات پر بھی حیران و پریشان ہیں کہ آخر امریکہ بہادر یوں خوف کے عالم میں افغانستان سے کیوں بھاگ رہا ہے؟ اس بارے میں فی الحال کیاعرض کروں لیکن تاریخ میں تو امریکہ کے یوں بھاگنے کو بڑی دیر تک یاد رکھا جائیگا؟ اس صورتحال میں دلچسپ امر یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کے فاتح کے طور پر داِخل ہونے پر آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل حمید گل کے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہے گئے تاریخی جملہ کی گونج امریکہ تک سنائی دے رہی ہے ‘امریکہ میں مقیم حسین حقانی جیسے دانشور تو اس جملہ میں پھنس گئے ہیں۔ جنرل حمید گل نے کہا تھا کہ ایک وقت میں کہا جائیگا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دیدی۔ پھر ایک اور جملہ ہوگا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکت دیدی۔ جنرل حمید گل کے اس تاریخی جملہ پر بحث ہے کہ بڑھتی جارہی ہے۔ یوں آپ بھی جنرل حمید گل کے اس تاریخی جملہ کی گہرائی میں جاکر اس کے معنی تلاش کریں؟ اور اگر معنی مل جائیں تو مجھے بھی بتائیے گا۔ منتظر ہوں۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭

طالبان کی طاقت

سردارآصف احمدعلی
پندرہ اگست کے بعد افغانستان میں اب تک مشروط حکومت نہیں بن سکی لیکن طالبان اس عمل میں پوری طرح مصروف ہیں اور اب تو تحریک طالبان کے سینئر قائدین کابل پہنچ چکے ہیں۔ شمالی افغانستان کے قائدین کا ایک وفد پاکستان کا دورہ بھی کر چکا ہے اور وفد کے قائدین نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ٗ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں بھی کر لی ہیں۔ کابل میں اب جناب حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی طالبان کے قائدین کے ساتھ بہت سی میٹنگیں کر چکے ہیں اور گزشتہ دنوں انجینئر گلبدین حکمت یار نے بھی طالبان کے قائد کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ اس سارے عمل میں پاکستان کا ایک کلیدی کردار نظر آ رہا ہے۔ چاہے وہ وزیر خارجہ ہوں یا کابل میں پاکستان کے سفیر ہوں، یہ عمل تو اب ہم نہیں جانتے کہ کب تک جاری رہے گا لیکن کچھ ایسی ڈویلپمنٹس ضرور ہوئی ہیں جو قابل ذکر ہیں جو حسب ذیل ہیں۔
(1 مغربی میڈیا اور مغرب کی قیادت کے رویئے اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور تاثر یہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان افغانستان کی حکومت نہیں چلا سکیں گے اور آئندہ افغانستان میں خانہ جنگی کے امکانات ہیں۔
(2 بین الاقوامی رپورٹنگ کا محور کابل ایئرپورٹ بن چکا ہے اور یوں لگتا ہے کہ مغرب کی دلچسپی صرف اسی ایئرپورٹ پر ہے نہ کہ افغانستان کے عوام پر یا ان کے مستقبل پر۔ یہ بتانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے عوام طالبان سے خوفزدہ ہیں اور وہ بیرونی ممالک میں جانا چاہتے ہیں۔
(3 مغرب کے اندازوں کے مطابق خانہ جنگی کی جوپیشگوئی کی گئی تھی اور وہ کسی حد تک درست بھی نظر آ رہی ہے کیونکہ ایک سابق نائب صدر نے پنج شیر وادی میں جا کر اعلان بغاوت کر دیا ہے۔
(4 اب یاد رہے کہ وادی پنج شیر چاروں طرف سے طالبان کے گھیرے میں ہے اور وہ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جنگ نہیں کرنا چاہتے اور مصالحت کی طرف معاملات کو لے کر جانا چاہتے ہیں۔ ابھی تک پنج شیر کی قیادت نے اس بات کا جواب نہیں دیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ پنج شیر وادی پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور اس پر حملہ کرنا یا قبضہ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ جب روس کا افغانستان پر قبضہ ہوا تو انہوں نے بھی پنج شیر وادی کو اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ کچھ ایسا ہی ملا عمر کے دور میں ہوا جبکہ پنج شیر وادی کو انہوں نے بھی اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ روس کی پالیسی سے اور نہ ہی ملا عمر کی پالیسی سے پنج شیر وادی کا افغانستان پر کوئی اثر پڑا۔ اب بھی طالبان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پنج شیر میں وہ اپنا مورچہ بنائے رکھیں گے اور وہ وہاں سے باہر نہیں آ سکیں گے۔ اس طرح بھی ہے کہ پنج شیر کی آبادی تمام کی تمام تر تاجک قومیت پر مشتمل ہے اور باقی افغانستان میں تاجک بہت کم ہیں اور بڑی بھاری اکثریت پختونوں کی ہے لہٰذا پنج شیر سے جو امیدیں بیرونی ممالک لگائے بیٹھے ہیں، ان کو بڑی سخت مایوسی ہوگی۔ نہ ہندوستان وہاں سے کچھ پا سکے گا اور نہ ہی مغربی قوتیں کچھ حاصل کر پائیں گی۔
(5 پاکستان کے لئے خوشخبری ہے کہ افغان طالبان نے یہ اعلان کیا ہے بلکہ ایک کمیٹی بھی بنا دی ہے جس کے تحت وہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کا سدباب کریں گے۔ پاکستان بڑا مثبت کردار ادا کر رہا ہے اور اب تک ہزاروں لوگوں کو وہاں سے بذریعہ ٹرک اور ہوائی جہاز نکال چکا ہے۔
(6 سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا طالبان ایک مخلوط حکومت بنا سکیں گے یا نہیں اور اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو وہ اتحادیوں کو اقتدار میں کس قدر حصہ دینا پسند کرے گی۔ اس میں پیچیدگی یہ ہے کہ جو شمالی علاقے ہیں، ان کے قائدین کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کو ساتھ ملانا طالبان کی کوئی مجبوری ہے اور اس سے وہ اپنی قیمت کو زیادہ بڑھا نہ لیں۔ اس نکتے پر ہی سمجھوتہ ہوگا یا پھر نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب افغانستان میں طالبان کا 99 فیصد قبضہ ہے۔ اس حقیقت کو اگر شمالی اتحاد والے بھول گئے تو پھر وہ افغانستان کے ساتھ زیادتی کریں گے۔ وہ اپنی طاقت کے مطابق اپنا حصہ مانگیں تو پھر بات بن سکتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ طالبان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ اب انہیں اقتدار میں بہت بڑا حصہ دینا پڑے گا۔ آئندہ حکومت میں صدر بھی انہی کا ہونا چاہئے۔ وزیر خارجہ ٗ وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ اور وزیر اندرونی سیکورٹی وہ بھی انہی کے بنانے پڑیں گے۔ اگر کچھ مزید نائب صدور بنانے ہوں گے تو پھر ایک تاجک نائب صدر بن سکتا ہے اور ایک ترک قومیت کا نائب صدر بن سکتا ہے۔ کچھ اس طرح سے اقتدار میں حصہ داری ممکن ہوگی۔ مگر بالآخر یہ افغانیوں ہی کا فیصلہ ہے اگر اس نوعیت کا فیصلہ ہو گیا تو پھر ساری دنیا اس حکومت کو تسلیم کرلے گی اور اگر یہ فیصلہ نہ ہو سکا تو اس کی ساری کی ساری ذمہ داری شمالی اتحاد کے اوپر آئے گی اور حامد کرزئی پر آئے گی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ پر آئے گی۔
اس وقت یہ سوال اٹھے گا کہ کیا افغانستان کو تسلیم کیا جائے یا نہیں۔ اگر یہ وقت آتا ہے تو پاکستان کو کیا کرنا ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ پاکستان کو فوری چین ٗ روس ٗ ایران اور ترکی کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے اور پھر یہ پانچوں ملک مل کر یہ فیصلہ کریں کہ بیک وقت افغان حکومت کو تسلیم کر لیں۔ اس کے بعد اس میں دنیا کے دیگر بہت سے ممالک بھی شامل ہو جائیں گے کیونکہ سیکورٹی کونسل کے دو مستقل ممبر اس فیصلے میں شریک ہوں گے اور وہ ہیں چین اور روس۔
(کالم نگار سابق وزیرخارجہ اورممتاز ماہرمعیشت ہیں)
٭……٭……٭

قرض کے وینٹی لیٹر پر کب تک؟

شفقت حسین
آج مجھے مرحوم احمد فراز کی ایک معروف غزل کا ذیل کا شعر بے طرح یاد آ رہا ہے۔ کون لکھے گا اس طرح کی چیزیں۔ کہاں گئے فیض احمد فیض، جناب ڈاکٹر جمیل جالبی کہاں گئے، قتیل شفائی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، کہاں گئی اچانک بچھڑ کر اداس کر جانے والی پروین شاکر، منوں مٹی تلے جا کر سو جانے والے میرے بڑے بھائیوں کی طرح عزیز اور مربی ّشہید محسن نقوی۔ کس کس کا ذکر کیا جائے اور کس کس کے بچھڑ جانے پر نوحہ پڑھا جائے یا بین کیا جائے۔ ادب تو آج بھی اپنے ارتقائی عمل سے اسی طرح گزر رہا ہے جس طرح ماضی میں گزرتا رہا ہے لیکن وہ ادبی شہ پارے بدقسمتی سے نظروں سے نہیں گزر رہے جو کبھی پڑھنے اور سننے کو ملا کرتے تھے۔ ذکر ہوا تھا احمد فراز کی ایک غزل کے ایک شعر کا جو کچھ یوں ہے: قارئین کرام! آپ بھی لطف لیجئے اور سر دھنیئے:
شکوہئ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اور میرے پیارے پڑھنے والے! یہ بھی میں عرض کردوں کہ اس غزل یا شعر کے یاد آنے کا محرک مرکزی حکومت کا وہ دعویٰ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے نادرا کے تعاون سے ڈیڑھ کروڑ ایسے افراد کا سراغ لگا لیا ہے جو قومی خزانے میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ڈالتے۔ اطلاع یہ ہے کہ اس وقت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس ٹیکس نیٹ میں بیس بائیس کروڑ کی آبادی میں سے (ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر پڑھئے) صرف 72 لاکھ افراد ہیں جو اپنی آمدنی میں سے ٹیکس جمع کرواتے ہیں۔ اگرچہ خبر پڑھ کر تفصیلات کے حوالے سے تشنگی باقی ہے کیونکہ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حکومت ہر سال ان 72لاکھ افراد معاشرہ سے ٹیکس کی مد میں کس قدر پیسہ وصول کرتی ہے آیا یہ لوگ قومی خزانے میں اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈالتے ہیں یا مبینہ طور پر کچھ دے دلا کر گلو خلاصی کروا لیتے ہیں البتہ ایک بات ضرور ہے کہ حکومت نے مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے (یہ بھی ذرا دل بڑا کرکے پڑھیئے) پورے پندرہ سو آڈیٹرز بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ ملک و قوم کے ساتھ مذاق کے ہم معنی ہی ہے کیونکہ یہ آڈیٹرز جو کچھ ماہانہ مشاہروں اور مراعات اور دیگر سہولیات کی مد میں حاصل کریں گے اس سے تو ٹیکسز میں بڑھوتری کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا یعنی جو کچھ قومی خزانے میں آئے گا اس سے تو کہیں زیادہ یہ آڈیٹرز لے جائیں گے۔
اس ”نیک عمل“ سے حکومت کے بعض قریب سمجھے جانے والے اس کے خیرخواہ تو شاید Oblige ہو جائیں مگر حکومت حصولِ مقصد میں اسی طرح ناکام رہے گی جس طرح ماضی کی حکومتیں ناکام رہی ہیں یا جیسا کہ پچھلے تین سالوں سے موجودہ حکومت شومئی قسمت کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ اس کے لئے تو لوگوں میں شعور بیدار کرنے اور آگاہی مہم شروع کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ آڈیٹرز کی فوج ظفر موج بھرتی کرنے کی۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ہر ادارے میں اوور سٹافنگ اور سرپلس لوگوں کی تعداد پہلے ہی روز افزوں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی میں گولڈن شیک ہینڈ کی مہم چلا کر زائد از ضرورت سٹاف کو کچھ دے دلا کر جان چھڑائی گئی۔ لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران میں بظاہر بھرتیوں پر پابندی کے باوصف اندرون خانہ یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح سارا سال جاری و ساری رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی نہ کوئی چور دروازہ تلاش کرنے میں بھی چنداں مشکل پیش نہیں آتی۔ میرا تاثر یہ ہے کہ اپنی ذات اور شخصیت کے حوالے سے ہمہ دانی کے مدعی وزیراعظم اگر خود عوام میں یہ شعور پیدا کرنے کا عزمِ بالجزم کر لیں تو پھر میرا دعویٰ ہے کہ عوام بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ وقت نازک ہے اور مقابلہ عالمی معیارات سے ہے، معاصر دنیا سے مقابلے میں اور زندگی کی دوڑ میں ہم بہت پیچھے ہیں اور جو قرض ہم پر واجب بھی نہیں تھے ہم نے وہ بھی ادا کرنے ہیں جو ماضی کے حکمرانوں نے قوم پر ڈالے تھے اور ہاں اگر گھی سیدھے سبھاؤ نہیں نکلتا تو پھر انگلیوں کو ٹیڑھا بھی کرنا پڑے تو بھی ایک لمحے کیلئے تاخیر اور توقف نہ کیا جائے کہ اس وقت ہم حالت نزاع میں ہیں، وینٹی لیٹر پر ہیں اور یہ وینٹی لیٹر وہ قرضہ ہے جو وقتاًًً فوقتاً ہم عالمی مالیاتی اداروں سے لیتے رہے ہیں اور سوموار کے روز بھی آئی ایم ایف نے ہمیں دو ارب 77 کروڑ ڈالرز کی صورت میں دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ قرض ہے چاہے تو پاکستان اس سے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھالے یا پھر اپنے اوپر واجب الادا قرضوں کی ادائیگی کر دے اور ظاہر ہے کہ ہم عالمی مالیاتی اداروں ہی کے مقروض ہیں جن میں آئی ایم ایف بھی شامل ہے یعنی یوں اس کا دیا ہوا قرض بھی اسی کی جیب میں پرانے قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں چلا جائیگالیکن کیا کریں ہم قرض کی مے تو پیتے ہیں اپنے وطن سے جو حاصل کرتے ہیں اس کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں۔ اس حوالے سے مغرب اور یورپ کے مقابلے پر تو ہمارے ہاں سختی ان کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر وہ اپنے شہریوں کی خون پسینے کی کمائی کا معتدبہ حصہ لیتے بھی ہیں تو اسی نسبت تناسب سے وہ اپنے شہریوں کو سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں جن میں نمایاں طور پر صحت اور تعلیم کے شعبے ہیں۔ ان ممالک میں کوئی شہری ٹیکس چوری کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر قباحتوں کے باوجود وہ معاشرے خوشحال اور پُرسکون ہیں۔
لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ وزیراعظم اگر اگلے دو سال میں جو بھی حربہ اور طریقہ اختیار کریں گے لازماً اختیار کریں۔ کوئی شہری ٹیکس نیٹ سے باہر نہ چھوڑا جائے۔ خاکروب سے لے کر چپڑاسی تک اور کلرک سے لے کر گریڈ بائیس کے افسران تک، ریڑھی بان اور رکشہ ڈرائیور سے لے کر صنعتکار اور بڑے بڑے ٹیکسٹائل ملزمالکان تک سب کو رجسٹر کرے اور قومی خزانے میں انہیں اپنا اپنا ڈالنے پر مجبور کریں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کے ریلیف کا بھی خیال رکھیں۔مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند رکھیں، حکومتی اللّوں تللّوں پر بھی روک لگائیں۔ بجلی، گیس، پانی سمیت ہونے والے ہر قومی ضیاع کو بھی آہنی ہاتھوں سے روکیں۔ مشیرانِ کرام اور وزراء صاحبان کی تعداد بے شک بڑھائیں لیکن انہیں قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے سے باز رکھیں کہ اللہ پاک کی ان پر عنایات اور رحمتیں پہلے ہی بے پایاں ہیں اور بھرے ہوئے کو مزید بھرنا خالی کاسے سے ناانصافی ہے۔ قرضے تو ملتے رہیں گے لیکن سود بڑھتا رہے گا قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرض لینا پڑے گا اور سود در سود سے ہماری کمر کبھی سیدھی نہیں ہوگی۔ کسی غیر سے گلہ کرنے سے بہتر ہے کہ
بقول احمد فراز قوم کو اپنے حصہ کی شمع خود جلانے کی تلقین ہی کارگر ثابت ہوگی۔
(کالم نگار سیاسی‘سماجی اورمعاشرتی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

وزیراعظم احتساب کے لئے پُرعزم

طارق ملک
جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے روزانہ چہ مگوئیاں سننے کو ملتی ہیں کہ عمران خان کی حکومت آج جا رہی ہے یاکل جا رہی ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے اور عمران خان خاموشی سے عوامی مسائل کو حل کیے جا رہے ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ ان کی حکومت رہتی ہے یا نہیں یوں لگتا ہے جیسے اللہ تعالی عمران خان کی مدد کر رہا ہے دوستوں کا کہنا ہے کہ عمران خان آسانی سے اپنے پانچ سال پورے کرے گا بلکہ اگلے پانچ سال بھی اسی کی حکومت ہوگی۔دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کے مسلم لیگ(ن)دوسرے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی تیسرے نمبر سے دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ نا سمجھ لوگ اب بھی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں۔
دوستوں کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی وفاق میں عمران خان کی حکومت ہوگی سندھ پیپلز پارٹی کے پاس جائے گا پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی۔خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی جبکہ بلوچستان میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی مل کرحکومت بنائیں گے۔پیپلز پارٹی بڑی اپوزیشن پارٹی بن کر ابھرے گی۔دوستوں کا کہنا ہے کہ میاں صاحبان اپنی وعدہ خلافی کی وجہ سے اپنے دوست ممالک کا اعتماد کھو چکے ہیں جس کی وجہ سے جنرل مشرف نے ان کو چھوڑا تھا اور انہوں نے دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کا معاہدہ کیا تھا مگر تین سال کے بعد ہی سعودی عرب سے دوسرے ممالک میں آنا جانا شروع کر دیا اور پانچ سال کے بعد پاکستان واپس آگئے تھے۔دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں نواز شریف عمران خان کی مرضی سے پاکستان سے نہیں گئے بلکہ شہباز شریف کو بھی عمران خان نے پاکستان سے باہر جانے سے روکا۔عمران خان بھرپور احتساب کرنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ حلقے ان کی صحیح طریقے سے مدد نہیں کر رہے۔
دوستوں کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کو دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا میاں صاحبان جب تک رقم واپس نہیں کرینگے ان کو چھوڑا نہیں جائے گا۔دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان کسی بھی صورت میں احتساب کے نعرے سے پیچھے ہٹنے میں تیار نہیں ہوگا اگر اسے مجبور کیا گیا تو وہ اسمبلیاں توڑ دے گا اور دوبارہ عوام کے پاس جائے گا اور اپنی تقریروں میں عوام کو بتائے گا کہ کس طرح احتساب کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔اس طرح عوام کی ہمدردی حاصل کرکے ووٹ لینے کی کوشش کرے گا۔اس وقت عمران خان کے لئیے سب سے بڑا مسئلہ مصنوعی مہنگائی کو روکنا اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے لوگ ہوشربا مصنوعی مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں اور عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔
جس طرح عمران خان نے ثابت قدمی سے حالات کا مقابلہ کیا ہے اور جہانگیر ترین اور زُلفی بخاری جیسے دوستوں کو بھی معاف نہیں کیا۔کورونا جیسی وبا کا احسن طریقے سے مقابلہ کیا ہے اور ملک کو مکمل لاک ڈاؤن سے بچایا ہے اور عوام کی بلا تفریق ویکسینیشن کروائی ہے۔کرونا کے دنوں میں غریبوں کی مالی مدد کی ہے۔عوام کی نظر میں اس کی عزت اور وقارمیں مزید اضافہ ہوا ہے۔میاں صاحبا ن کے زوال کا اصل سبب ان کا تکبر ہے۔تکبر اللہ تعالی کو بالکل پسند نہیں ہے سیاست دانوں اور اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک وقوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ہر ایک کو بطور مسلمان اس بات پر یقین ہونا چاہیے کہ یہ زندگی عارضی ہے ہر شخص کو مرنا ہے اور رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہے جس کو اللہ نے جتنا عطا کیا ہے اتنا ہی اس کو حساب بھی دینا پڑے گا۔اللہ تعالی نے کلام پاک میں ہر چیز کا وضاحت سے ذکرکیا ہے۔
جھوٹ،وعدہ خلافی، کسی کی حق تلفی، غیبت اور تکبر کی سزاؤں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔احادیث میں بھی تفصیل بتائی گئی ہے جھوٹے پر خدا کی لعنت،قول اور فعل میں فرق پر دائرہ اسلام سے خارج ہونا۔جس نے غیبت کی گویا اس نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھایا۔تکبر کی معافی نہیں ہے۔تکبر صرف اللہ کی ذات کے شایان شان ہے۔کسی انسان کا تکبر کرنا اللہ تعالی سے مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔حق تلفی بہت بڑا گناہ ہے جس کی حق تلفی کی گئی ہو جب تک وہ معاف نہ کرے اللہ تعالی بھی معاف نہیں کرتے۔
اللہ تعالی ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور جھوٹ، وعدہ خلافی،غیبت،کسی کی حق تلفی اور تکبر سے بچائے اور صحیح معنوں میں ملک و قوم کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
(کالم نگار ریٹائرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ہیں)
٭……٭……٭

بلاول بھٹو زرداری کی طویل مصروفیات، دورہ سندھ

چیئرمین  پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری 5 روزہ دورہ سندھ کا بلاول ہاؤس میڈیا سیل نے تفصیلی شیڈول جاری کردیا ہے ۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کل بتاریخ 27 اگست کو سہ پہر 3بجے ضلع ٹھٹہ میں مکلی کے مقام پر پہنچیں گے، بلاول بھٹو زردا ری کا ٹھٹھہ میں تاریخی استقبال ہوگا۔

بلاول ہاؤس ترجمان  کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری رکن سندھ اسمبلی محمد علی ملکانی کی رہائش گاہ جائیں گے جہاں وہ ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کریں گے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملکانی ہاؤس پر سوا 4 بجے میڈیا ٹاک بھی کریں گے۔

  بلاول بھٹو ٹھٹھہ کے بعد ضلع ٹنڈوالہیار کے لئے روانہ ہوجائیں گے، بلاول بھٹو کا ٹنڈو الہیار میں بھی تاریخی استقبال ہوگا،  بلاول بھٹو زرداری ٹنڈوالہیار میں رکن قومی اسمبلی پیر امیر علی شاہ سے ان کے والد پیر نور محمد شاہ سے تعزیت کریں گے۔

  بلاول بھٹو زرداری اسکے بعد ہالا، رانی پور، سکھر اور گھوٹکی کے دورے کریں گے، ترجمان بلاول ہاؤس  کا کہنا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا دورہ سندھ 5 روز پر محیط ہے یہ دورہ 31 اگست بروز منگل تک جاری رہے گا۔

 بلاول بھٹو زرداری 31 اگست کو جنوبی پنجاب دورے پر سندھ سے روانہ ہونگے۔

افغانستان سے دہشتگردوں کی پاک فوج کی چیک پوسٹ پر فائرنگ، حوالدار شہید

انٹر سروسز  پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق لوئر دیر میں  افغانستان کی طرف سے دہشتگردوں نے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حوالدار گل امیر  شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دہشتگردوں کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا، پاک فوجی کی جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کی فائرنگ سے حوالدار گل امیر شدید زخمی ہوئے تھے لیکن دوران علاج وہ  شہید ہوگئے۔

 شہید حوالدار گل امیر کا تعلق لکی مروت سے تھا۔

قومی کرکٹ ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز مکمل کرکے جمیکا سے لندن پہنچ گئی

پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ ویسٹ انڈیز مکمل کرکے جمیکا سے لندن پہنچ گئی۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی آج رات لندن سے وطن واپس پہنچیں گے،یاسر شاہ اور نسیم شاہ کیریبیئن پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے ویسٹ انڈیز  ہی رک گئے ہیں۔

فاسٹ بولر  محمد عباس اور  سینیئر بلے باز اظہرعلی انگلینڈ میں کاؤنٹی سیزن کھیلیں گے اس لیے وہ دونوں لندن میں ہی رکیں گے۔

ان کے علاوہ کوچ مصباح الحق کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث اسکواڈ کے ساتھ وطن واپس نہیں آئیں گے وہ جمیکا میں ہی قرنطینہ ہوگئے ہیں۔

خود کو ڈیموکریٹس کہنے والے جمہوری حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑے ہیں، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں، میں نے بھی فوج پر تنقید کی ہے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ آپ اپنی فوج کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور ان کے پیچھے پڑ جائیں، خود کو ڈیموکریٹس کہنے والے فوج کے پیچھے پڑے ہیں کہ جمہوری حکومت کو گرا دیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر اپنی پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اراکین اسمبلی، پارٹی کے اراکین اور یوتھ ونگ اور آزاد جموں و کشمیر کے نئے وزیراعظم سمیت سب کا شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا بھارتی میڈیا کو منہ توڑ جواب

ان کا کہنا تھا کہ میری اقتدار میں آنے سے قبل 22سالہ جدوجہد بہت سخت تھی، ایسے وقت بھی آئے جب صرف پانچ سے چھ لوگ ساتھ رہ گئے تھے اور باقی لوگ گھروں میں بیٹھ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس برے وقت میں کئی لوگ مذاق اڑاتے تھے، میرے کئی لوگ کہا کرتے تھے کہ ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ تم تحریک انصاف میں ہو۔

عمران خان نے کہا کہ میرے لیے ان مشکل دنوں میں سب سے بڑی تحریک نبی اکرمﷺ تھے، انہوں نے بھی بہت مشکل وقت گزارا، اللہ کے سب سے محبوب تھے لیکن 13سال وہ انتہائی مشکل وقت سے گزرے، انہیں اس مشکل وقت سے گزرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن جب وہ رائے حق پر آئے تو لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا اور میں ہمیشہ ان کی زندگی سے سیکھتا تھا۔

ابتدائی تین سال بہت مشکل تھے، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے، اگر ہم مشکل وقت کو سمجھ لیں اور اس کا تجزیہ کر لیں تو وہی آپ کے عروج کا راستہ بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی روایات اور دین کے مطابق سیاحت کو فروغ دیں گے، وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں آج تک کسی نے بڑا کام نہیں کیا جو فیل نہیں ہوا، یہ ناممکن ہے کہ آپ سیدھا پرچی پکڑ کر لیڈر بن جائیں، ایسے نہیں ہو سکتا، جب تک آپ مشکل جدوجہد سے نہیں گزرتے، اس وقت تک آپ بڑا کام نہیں کر سکتے، کوئی بھی شارٹ کٹ لے کر لیڈر نہیں بنا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تین سال بہت مشکل گزرے کیونکہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو یہ ملک کا دیوالیہ کر کے جا چکے تھے، ہمارے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے پیسے ہی نہیں تھے، ادائیگیوں کے حوالے سے دیوالیہ ہو رہے تھے کیونکہ ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر ہی نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 20ارب ڈالر تھا اس کی وجہ سے اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو ہماری قوم جس مشکل وقت سے گزری وہ کچھ بھی نہیں کیونکہ روپیہ بہت بری طرح نیچے آتا۔

مشکلات سے نکل ہی رہے تھے کہ پلوامہ اور کورونا آ گیا، عمران خان

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا کیونکہ ہمارے پاس پیسے ہی نہیں تھے، پیسے لینے کے لیے انہوں نے شرائط عائد کردیں کہ بجلی مہنگی کرنی پڑے، روپے کی قدر گرانی پڑے گی، ٹیکس لگانے پڑیں گے اور جب ہم ان شرائط پر چلتے ہیں تو عوام کو مشکلات ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان مشکلات سے نکل ہی رہے تھے کہ کورونا آ گیا، کورونا سے پہلے پلوامہ آ گیا لیکن اس معاملے میں اللہ نے ہمیں کامیابی دی اور میں خاص طور پر فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسی فوج اور فضائیہ ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا صوبوں میں یکساں قومی نصاب متعارف کرانے پر زور

انہوں نے کہا کہ جس وقت بھارت نے ہمارے ملک میں رات گئے آ کر بمباری کی تو مجھے احساس ہوا کہ اگر ہمارے پاس اس طرح کی فوج نہ ہو تو ہم سات گنا زیادہ بڑے ملک کے سامنے کیا کرتے، ایسے میں ہمیں اپنی فوج کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔

خود کو ڈیموکریٹس کہنے والے حکومت گرانے کے لیے فوج کے پیچھے پڑے ہیں، وزیر اعظم

اس موقع پر انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب فوج کے خلاف بیانات کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں میں نے بھی فوج پر تنقید کی ہے، کوئی بھی ادارہ غلطیاں کر سکتا ہے، عدلیہ، فوج اور ہم سیاستدان بھی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ آپ اپنی فوج کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور ان کے پیچھے پڑ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ فوج کے پیچھے اس لیے پڑے ہیں کیونکہ یہ چاہ رہے ہیں کہ فوج کسی طرح حکومت گرادے، یہ خود کو ڈیموکریٹس کہتے ہیں اور فوج کے پیچھے پڑے ہیں کہ جمہوری حکومت کو گرا دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پلوامہ ہوا تو مجھے اپنی فوج کی اہمیت کا اندازہ ہوا اور اسی لیے ہم نے نریندر مودی کو کہا کہ اگر تم نے کچھ کیا تو ہم تمہیں منہ توڑ جواب دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مینار پاکستان کا واقعہ انتہائی شرم ناک ہے، وزیراعظم عمران خان

عمران خان نے کہا کہ پھر کورونا آ گیا، لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ ہمارے لیے کس قدر مشکل وقت تھا، مشکل وقت اس لیے تھا کہ ہم سے 30 سے 40 گنا بڑی جی ڈی پی کے حامل یورپی ممالک نے لاک ڈاؤن کردیا اور پھر بھارت میں نریندر مودی نے بھی لاک ڈاؤن لگا دیا کیونکہ یہ درست ہے کہ لاک ڈاؤن سے وبا پھیلتی کم ہے۔

‘لاک ڈاؤن نہ کرنے کا مشکل فیصلہ کیا جس کی برکت سے اللہ نے ہمیں بچا لیا’

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس موقع پر ان لوگوں کا سوچنا تھا جو یومیہ کماتے تھے اور ہماری اپوزیشن جماعتوں نے تنقید شروع کردی جبکہ ہسپتال بھرنے پر ہماری جماعت کے بھی کچھ لوگ گھبرا گئے لیکن ہم نے مشکل فیصلہ کیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہم پورا لاک ڈاؤن نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے غریب بھوکے مر جائیں گے اور میرا ایمان ہے کہ اس کی برکت سے اللہ نے ہمیں بچا لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے لیے بہترین اقدمات پر ورلڈ اکنامک فورم، عالمی ادارہ صحت اور اکنامکس نے ہماری مثال دی اور اگر ہم غلط فیصلہ کر لیتے تو یہاں لوگ بھوکے مرتے جو آج ہندوستان میں ہو رہا ہے۔

تین سالہ میں ٹیکس اور زرمبادلہ میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی

وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے تین سالہ دور کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب ہم آئے تھے تو کرنٹ اکاؤنٹ کو 20ارب ڈالر کا خسارہ تھا اور آج یہ خسارہ 1.8ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ووٹ ڈالنے کا عملی مظاہرہ

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم آئے تھے تو ہمارے غیرملکی زرمبادلہ کے کُل ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے اور آج ہمارے 27ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم آئے تو 3ہزار 800ارب ٹیکس اکٹھا کیا جاتا تھا اور آج 4ہزار 700ارب ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہوں، یہ جو اعدادوشمار میں آپ کو بتا رہا ہوں وہ اسحاق ڈار کے نہیں بلکہ اصل ہیں۔

انہوں نے ایک مرتبہ پھر بیرون ملک پاکستانیوں کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم آئے تو ترسیلات زر 19.9ارب ڈالر تھیں اور آج ہماری ترسیلات زر 29.4ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری صنعت میں 18فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ دس سال بعد ہماری صنعت اتنی تیزی سے اوپر جا رہی ہے جبکہ تعمیرات کے شعبے میں سیمنٹ کی 42فیصد فروخت بڑھی ہے، زراعت میں 1100ارب اضافی کسانوں کے پاس گیا ہے۔

نیب اور اینٹی کرپشن کی کارکردگی میں بہتری

ان کا کہنا تھا کہ ہماری موٹر سائیکلیں ریکارڈ تعداد میں بکیں، ریکارڈ ٹریکٹر فروخت ہوئے جبکہ گاڑیوں کی فروخت 85فیصد بڑھ گئی اور ٹویوٹا نے اپنی تاریخ میں اتنی گاڑیاں نہیں فروخت کیں جتنی آج بیچی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم کا ایئر لفٹ میں ساڑھے 8 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی اینٹی کرپشن نے مسلم لیگ(ن) کے 10سالوں میں کُل ڈھائی ارب روپے برآمد کیے تھے جبکہ ہمارے تین سالوں میں وہی ادارہ ساڑھے چار سو ارب روپے برآمد کر چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آنے سے پہلے نیب نے 18سالوں میں 290ارب روپے برآمد کیے تھے جبکہ ہمارے 3سالوں میں 519 ارب روپے برآمد کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے احساس پروگرام سے قبل 11ارب روپے نچلے طبقے کی مدد کے لیے دیا جاتا تھا اور ہم یہ رقم بڑھا کر 260 ارب روپے پر لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دنوں میں ہم نے احساس پروگرام کے تحت جو پیسہ خرچ کیا تو عالمی بینک نے کہا کہ اس پروگرام کی بدولت ساری دنیا میں پاکستان تیسرے نمبر پر تھا کیونکہ ہم نے انتہائی شفاف اور بہترین طریقے سے پیسے بانٹے۔

ان کا کہنا تھا کہ احساس کے ساتھ ہمارا سب سے بڑا پروگرام ‘کامیاب پاکستان پروگرام’ ہے جس کے تحت ہم 40 لاکھ غریب خاندانوں میں سے ہر فرد کو بلاسود قرضے فراہم کریں گے، ایک فرد کو ٹیکنیکل ایجوکیشن فراہم کریں گے، ہیلتھ انشورنس دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: 2023 تک برآمدات ریکارڈ سطح تک پہنچ جائیں گی، عبدالرزاق داؤد

انہوں نے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ دیے جا چکے ہیں جبکہ پنجاب میں بھی اس سال ہو جائے گا، یہ کام صوبوں کی سطح پر ہو رہا ہے لہٰذا جب سب جگہ یہ کام ہو جائے گا تو صوبہ سندھ پر بھی دباؤ پڑے گا اور انہیں بھی ہیلتھ کارڈ دینے پڑیں گے۔

10سال میں 10 نئے ڈیم بنائیں گے، عمران خان

عمران خان نے کہا کہ غریبوں کو اقساط پر سستے گھر لے کر دیں گے یعنی انہیں کرائے کی جگہ گھر کی قسط دینی ہو گی اور وہ گھر کے مالک بن جائیں گے جبکہ کسانوں کو کسان کارڈ دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 10 ڈیم بن رہے ہیں جو اگلے 10سال میں مکمل ہو جائیں گے، 2025 میں مہمنڈ ڈیم بن جائے گی، اس کے بعد داسو ڈیم بھی بن جائے گا اور 50سال میں پہلی بار ہم نے پانی کے ریزروائر بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ کسانوں کو پانی مل جائے۔

اس موقع پر انہوں نے پورے ملک میں یکساں نصاب پر محکمہ تعلیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں سب کو یکساں مواقع میسر آئیں اور آئندہ چند ماہ میں آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت کے لیے سیرت النبیﷺ کا خصوصی کورس شروع کررہے ہیں کیونکہ آج یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فون کی وجہ سے جنسی جرائم اور بچوں سے زیادتی جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور بحیثیت قوم ہمارے لیے مینار پاکستان جیسے واقعے سے زیادہ شرمناک چیز نہیں ہو سکتی لہٰذا ہمیں اپنے بچوں کی کردار سازی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: معاشی اعتبار سے وزیراعظم عمران خان کے 3 سال

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک کے جو علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان پر توجہ دی جائے، بلوچستان اور ہمارے پرانے قبائلی علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، ان علاقوں کے لیے ہم نے خصوصی پیکیجز دیے ہیں، سندھ کے 14 اضلاع، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے 9 اضلاع کی ترقی کے لیے 1300 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے معاشی حالات کی وجہ سے مجھے دوسرے ملکوں کے سامنے جا کر قرض مانگنے پڑے، ہم نے جو پیسے مانگنے کا غلط راستہ چنا اس کی وجہ سے ہمیں کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ اللہ نے ہمیں اس ملک کی شکل میں کتنا بڑا تحفہ دیا ہے۔

اب اپنے ملک کو استعمال نہیں ہونے دیں گے، وزیر اعظم

عمران خان نے کہا کہ اس وقت ہمارا ملک جس راستے ہر ہے اس کی بدولت ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، ہماری ترسیلات زر بڑھ رہی ہیں، ہم سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار میں آسانیوں کے انڈیکس میں 28درجے ترقی کر گئے ہیں اور گزشتہ ایک سال میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں 108فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کو ہم نے اپنے پیر پر کھڑا کرنا ہے، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے ملک کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے، بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق

انہوں نے کہا کہ پہلے ہم اپنے کے ساتھ 80کی دہائی میں جنگ میں شامل ہوئے، افغانستان میں پیسے انہوں نے دیے اور جہادیوں کی تربیت ہم نے کی، جیسے ہی روس سوویت یونین وہاں سے گئی تو امریکی بھی چلے گئے اور ہم پر پابندی لگا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ 9/11 کے بعد امریکا کو پھر ہماری ضرورت پڑ گئی کیونکہ انہوں نے افغانستان میں جنگ لڑنی تھی، میری طرح کے لوگوں نے کہا کہ ہمیں اس جنگ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی صدر جیاج ڈبلیو بش نے کہا کہ اب ہم پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم یہ کہہ کر امریکا کی جنگ کا حصہ بن گئے کہ یہ ہماری جنگ ہے، ہم ان کی مدد کررہے تھے اور وہ ہم پر بمباری کررہے تھے، پاکستان میں 480ڈرون حملے کیے اور دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کسی ملک پر اس کا اپنا اتحادی بمباری کررہا ہے۔

ماضی میں دوسروں کی جنگ لڑی، اب کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، عمران خان

انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں مرنے والے بے چارے پاکستان اور ہماری فوج سے بدلہ لیتے تھے، ہمارے ملک میں بم دھماکے ہوئے، فوجی شہید ہوئے، کسی اور کی جنگ لڑ کے ہم نے 70 سے 80 ہزار لوگوں کی قربانی دی اور وہ ہی ہمیں کہنا شروع ہو گئے کہ ہم آپ کی وجہ سے افغانستان میں کامیاب نہیں ہوئے، اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کسی کے بھی ہاتھوں خود کو استعمال نہیں ہونے دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہماری خارجہ پالیسی کے تحت ہم امن میں تو شریک ہوں گے لیکن کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کی حکومت کے 3 سال بعد خارجہ پالیسی کہاں کھڑی ہے؟

انہوں نے کہا کہ طالبان کی فتح اور افغانستان کی تین لاکھ افواج نے ہتھیار اس لیے ڈالے کے حکومت کرپٹ تھی، کرپٹ حکومت کے لیے کوئی نہیں لڑتا اور افغان عوام کی یہ سوچ ہے کہ کہ باہر سے اگر کوئی آ کر ان پر مسلط ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں اور لڑتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب پوری دنیا کی کوشش ہونی چاہیے کہ موجودہ حالات میں افغانستان کی مدد کریں، طالبان نے سارے مطالبات مان لیے ہیں تو یہ کہنا عجیب ہے کہ پتہ نہیں وہ اپنی زبان پر قائم رہیں گے یا نہیں، اگر نہیں کریں گے تو اس وقت دیکھیں گے، ابھی تو آپ ان کی مدد کریں تاکہ افغانستان میں امن ہو۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت پہلی حکومت ہے جو عوام کے سامنے اپنی کارکردگی رپورٹ باقاعدگی سے پیش کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم تقریب سے 3 بجے خطاب کریں گے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ایک پرفارمنس رپورٹ کا اجرا کریں گے جو کہ ہر وزارت کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

رپورٹ 21-2018 کو وزارت اطلاعات و نشریات نے مرتب کیا ہے اور ‘کورونا وائرس وبائی امراض کے تناظر میں عالمی معاشی بحران کے باوجود حکومت نے جو کارنامے کیے ہیں ان پر توجہ مرکوز کرتی ہے’۔

مزید کہا گیا کہ یہ رپورٹ 251 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ‘عوامی اداروں، بشمول وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کی کامیابیوں کو انفوگرافکس اور متعلقہ حقائق اور اعداد و شمار کے ذریعے بیان کیا گیا ہے’۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ رپورٹ ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہوگی۔

رپورٹ کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘یہ عمران خان کی حکومت ہے جو تین سال کی کارکردگی عوام کے سامنے فخر سے رکھ سکتی ہے’۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ ‏پاکستان میں کتنی حکومتیں اپنی کارکردگی پر عوام کو جوابدہی کرتی رہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘3 سال میں معیشت، خارجہ پالیسی اور اندرونی استحکام کے حقائق کے ساتھ سامنے لائیں گے’۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے کہا کہ انصاف یوتھ ونگ کے کارکن وزیراعظم کے خطاب کو سات شہروں بشمول گلگت، کراچی، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاو، حیدرآباد میں براہ راست نشر کریں گے۔

کابل ائیرپورٹ پر 2 دھماکے، 13 افراد ہلاک متعدد زخمی

افغانستان کے کابل ائیرپورٹ کے باہر بم دھماکہ ہوگیا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک جبکہ معتدد زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزارت دفاع نے دھماکے کی تصدیق کر دی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل ایئر پورٹ کے مشرقی گیٹ پر دھماکہ کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایک دن پہلے ائیرپورٹ پر بڑے حملے کی اطلاع دی تھی، خطرے کے پیشِ نظر امریکیوں کو فوراً کابل ائیرپورٹ سے دور ہونے کی بھی ہدایت کی تھی۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت معطل اور جہازوں کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر دو دھماکے ہوئے ہیں، دھماکے میں 13 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق دھماکے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں 3 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے رمیز راجہ کی بطور چیئرمین پی سی بی تقرری کی منظوری دیدی

وزیراعظم عمران خان نے قومی ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) تقرری کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم آفس نے رمیز راجہ کو فون کر کے چیئرمین پی سی بی بنائے جانے کی اطلاع دی۔

 گفتگو میں سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ نے چیئرمین پی سی بی نامزد کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی بننا میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے اعتماد پر شکر گزار ہوں، مجھے عوام کی سپورٹ اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔

ایک غیر ملکی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ میں نے پی سی بی چیئرمین کا عہدہ قبول کرلیا ہے، بہتری کا حصول میرا ہدف ہے۔

بورڈ آف گورنرز سے منتخب ہوکر پریس کانفرنس کروں گا، رمیز راجہ

نامزد چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے میرے پاس کئی منصوبے ہیں ، بورڈ آف گورنرز سے منتخب ہوکر پریس کانفرنس کروں گا۔

رمیز راجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس سے چیئرمین پی سی بی بنانے کا بتایا گیا ہے، ابھی نہیں بتا سکتا کہ گورننگ بورڈ میں وزیر اعظم کا دوسرا رکن کون ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد علی خان کو بھی  پی سی بی بورڈ آف گورنرز کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔

رمیز راجہ نے 1984 سے 1997 تک پاکستان کی نمائندگی کی، وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور  پی سی بی کے چیف ایگزيکٹو بھی رہے ہیں۔

احسان مانی کا مزید کام کرنے سے انکار

پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین احسان مانی کے حوالے سے یہ خبریں تھیں کہ انہیں کام جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے تاہم اب احسان مانی نے خود ہی مزید کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔

 گفتگو میں احسان مانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے بطور چیئرمین پی سی بی مزید کام کرنے سے معذرت کر لی ہے۔