All posts by Daily Khabrain

کووڈ کے خلاف ویکسینز کی افادیت کی شرح وقت کے ساتھ کم ہوجاتی ہے، تحقیق

کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ سے ویکسینیشن سے ملنے والا تحفظ وقت کے ساتھ کم ہوجاتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ فائزر/بائیو این ٹیک اور آکسفورڈ/ایسٹرا زینیکا ویکسینز کی 2 خوراکوں سے کووڈ 19 کے خلاف ملنے والے تحفظ کی شرح وقت کے ساتھ گھٹ جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ویکسینز کی افادیت غیرمتوقع نہیں مگر ویکسینز بریک تھرو انفیکشنز (ویکسینیشن کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) پر لوگوں بیماری کی سنگین شدت سے بچانے میں بہترین کام کرتی ہیں۔

حقیقی دنیا میں ہونے والی اس تحقیق میں مئی سے جولائی 2021 کے دوران ویکسینیشن مکمل کرنے والے 10 لاکھ سے زیادہ افراد کے پی سی آر ٹیسٹوں کے نتائج کے ڈیٹا کو مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے گئے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر ویکسین کی 2 خوراکوں کے استعمال کے ایک ماہ بعد بیماری سے تحفظ کی شرح 88 فیصد ہوتی ہے جو 5 سے 6 ماہ میں گھٹ کر 74 فیصد تک آجاتی ہے۔

ایسٹرا زینیکا ویکسین سے ملنے والے تحفظ کی شرح 4 سے 5 ماہ میں 77 فیصد سے گھٹ کر 67 فیصد رہ جاتی ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والی ایپ زوئی کووڈ سیمپٹم اسٹڈی نے برطانیہ میں ویکسینز کی افادیت کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے بتایا کہ نتائج سے حالیہ ہفتوں میں ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے کچھ افراد میں کووڈ کی تشخیص کی وضاحت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ویکسینز کی افادیت میں کمی متوقع تھی اور یہ ویکسنیشن نہ کرانے کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویکسینز سے آبادی کی زیادہ تر تعداد کو بیماری بالخصوص کورونا کی زیادہ خطرناک قسم ڈیلٹا کے خلا ٹھوس تحفظ ملتا ہے، تو زیادہ سے زیادہ افراد کی ویکسینیشن مکمل کرائی جانی چاہیے۔

انہوں نے تخمینہ لگایا کہ سال کے آغاز میں جن افراد کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی ان کے لیے ویکسینز کی افادیت میں موسم سرما تک 50 فیصد تک کمی آسکتی ہے اور اضافی خوراک کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں کچھ افراد کو ستمبر 2021 سے ویکسینیز کی تیسری خوراک دینے پر غور کیا جارہا ہے مگر اس کے لیے خودمختار کونسل کی سفارشات کا اتنظار کیا جارہا ہے۔

پروفیسر ٹم اسپیکٹر نے کہا کہ بیشتر افراد کو بوسٹر ڈوز کی ضرورت نہیں ہوگی، کووڈ کو شکست دینے والے کچھ افراد کو قدرتی طور پر اضافی تحفظ حاصل ہوگا، تو ہمارے خیال میں ہر ایک کو تیسری خوراک دینے کا فیصلہ سب کچھ مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے، اس حوالے سے مخصوص اہداف کو حاصل کرنا بہتر ہوگا۔

اس سے قبل 19 اگست 2021 کو برطانیہ کے آفس فار نیشنل اسٹیٹکس اور آکسفورڈ ویکسین گروپ کی جانب سے بھی اسی طرح کی تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے تھے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کی افادیت ڈیلٹا قسم کے خلاف 3 ماہ کے اندر کم ہوجاتی ہے۔

30 لاکھ سے زیادہ ناک اور حلق کے سواب ٹیسٹ کے نمونوں کے تجزیے پر مبنی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا کی اس نئی قسم کے خلاف فائزر/بائیو این ٹیک کی ایم آر این اے ویکسین اور ایسٹرا زینیکا ویکسین کی افادیت میں ویکسینیشن کے ابتدائی 90 دن کے بعد کمی آئی۔

تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں ڈیلٹا سے بیمار ہونے کا امکان وائرس کی دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

دونوں کی دوسری خوراک کے استعمال کے 2 ہفتے بعد فائزر ویکسین کی افادیت 85 فیصد اور ایسٹرا زینیکا کی 68 فیصد تھی مگر 90 دن بعد یہ افادیت گھٹ کر 75 فیصد (فائزر ویکسین) اور 61 فیصد (ایسٹرا زینیکا ویکسین) رہ گئی۔

ویکسینز کی افادیت میں یہ کمی 35 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ نمایاں تھی۔

محققین نے یہ نہیں بتایا کہ وقت کے ساتھ ویکسینز سے ملنے والے تحفظ میں مزید کتنی کمی آسکتی ہے مگر انہوں نے عندیہ دیا کہ اس حوالے سے مزید کام جاری رکھا جائے گا۔

انخلا کے بیچ میں 2 امریکی کانگریس اراکین کا خفیہ دورہ کابل

واشنگٹن: ایسے وقت میں جب امریکا افغانستان سے اپنے شہریوں اور فوجیوں کو بحفاظت نکلانے کی کوششوں میں مصروف ہے ،  امریکی پارلیمان کے دو اپوزیشن اراکین غیرقانونی خفیہ دورے پر کابل پہنچ گئے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو اس معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا ہے کہ ریپبلکن ارکان سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر نےکابل کا غیرقانونی اور خفیہ دورہ کیا جس پر امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے کئی عہدیدار مشتعل ہوگئے ۔

واضح رہے کہ ریپبلکن رکن سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر دونوں سابق فوجی ہیں جنہوں نے عراق جنگ میں بھی حصہ لیا اور وہ صدر جو بائیڈن کی افغانستان پالیسی کے سخت ناقد ہیں۔

کابل سمیت تقریباً پورے افغانستان میں اس وقت طالبان کا کنٹرول ہے اور امریکی فوجی صرف کابل کے ہوائی اڈے پر موجود ہے جب کہ امریکی حکام اپنے شہریوں ، افغان مترجموں اورفوج کے لیے کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اتوار کو امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے خبردار کیا کہ اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے ائیرپورٹ پر حملے کا خطرہ ‘حقیقی’ اور ‘شدید’ہے۔

سیٹھ مولٹن کے ترجمان ٹم بیبا نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ وہ پہلے متحدہ عرب امارات گئے اور پھر افغانستان جانے والی خالی فوجی پرواز کے ذریعے کابل پہنچے۔

ترجمان کے مطابق دونوں ریپبلکن ارکان کابل پہنچنے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکیوں کے انخلا کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک ہوائی جہاز میں واپس چلے گئے تھے۔

ٹم بیبا نے کہا کہ دونوں  نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ صرف اسی صورت میں کابل سے نکلیں گے جب انہیں کسی طیارے میں تین خالی نشستیں دستیاب ہوں گی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی اصل حقدار کی سیٹوں پر سفر کریں۔

ترجمان نے اخبار کو مزید بتایا کہ اس سفر کا مقصد ایسے علاقے میں جانا تھا جہاں ملک چھوڑنے والے افراد کو عارضی طور پر رکھا جا رہا تھا تاکہ انہیں اضافی معلومات اوران کی مؤثر نگرانی میں مدد مل سکے۔

سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر نے کابل میں کیا کیا؟

ایک مشترکہ بیان میں ، سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجر نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ انہوں نے کابل میں سروس ممبران اور محکمہ خارجہ کے عہدیداروں کے ساتھ بات کی  اور ان کا ماننا ہے کہ بائیڈن کو امریکیوں اور افغان شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے 31 اگست کی آخری تاریخ میں توسیع کرنی چاہیے۔

کئی امریکی عہدیداروں اور سفارت کاروں نے دونوں کانگریس اراکین پر شدید تنقید کی اور کہا ہے کہ انہوں نے فوجی اور سویلین کارکنوں کی توجہ ہٹا دی جو کہ لوگوں کو جلد از جلد افغانستان سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک ناراض سفارت کار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ کام ہے جو انہوں نے ایک قانون ساز کو کرتے ہوئے سنا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اور سینیئر عہدیدار نے اس عمل کو ‘بدمعاشی ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ خودغرضی کی انتہا ہے کہ آپ امریکیوں اور خطرے سے دوچار افغانوں سے صرف اس لیے نشستیں لے لیں تاکہ آپ کو کیمروں کی توجہ مل جائے ۔

Continue reading انخلا کے بیچ میں 2 امریکی کانگریس اراکین کا خفیہ دورہ کابل

پی آئی اے کا کابل میں فضائی آپریشن تاحال بند

افغانستان میں کشیدہ صورتحال کے باعث پی آئی اے کا کابل میں فضائی آپریشن تاحال بند ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ائیرپورٹ پر صورتحال بہتر ہوتے ہی کابل آپریشن بحال کردیا جائیگا۔

پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فلائٹس کے ذریعے 2528 مسافروں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں لیکن پیر سے یہ آپریشن معطل ہے ، صورتحال بہتر ہونے پر دوبارہ آپریشن بحال کردیا جائیگا۔

سلطان محمود چوہدری نے آزاد کشمیر کے 28ویں صدر کا حلف اٹھا لیا

نومنتخب صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری  نے آزاد کشمیر کے 28ویں صدر کا حلف اٹھا لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر سپریم کورٹ جسٹس راجہ سعید اکرم نے منتخب صدر سے ان کے عہدے کا حلف لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حلف برداری کی تقریب میں سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیر اعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی، چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی سمیت سابق وزراء اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔a

عالمی بینک کا افغانستان کی امداد بند کرنے کا اعلان

عالمی بینک نے افغانستان کی امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ 

عالمی بینک نے طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی صورتحال پرانتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عالمی بینک کا کہناہےکہ افغانستان میں ورلڈ بینک کے 2 درجن سے زائد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، اس وقت صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

 عالمی بینک کے مطابق 2002 سے افغانستان کو 5.3 ارب ڈالر دیے جاچکے ہیں جس میں زیادہ تر امداد شامل ہے۔

دریائےراوی پر3نئےبیراج بنائیں گے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دریائےراوی پر3نئےبیراج بنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیراج بنانے سے زیر زمین پانی کا لیول بلند ہوگا ، پاکستان کی تاریخ میں 64کروڑ درخت اگائے گئے ، ہمیں اب 10کروڑدرخت اگانےہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے3 سال میں ایک ارب سے زائد پودے لگائے ، درخت اگانے سے ماحولیات میں بہتری آئے گی ، اسمارٹ جنگل میں ایک کروڑدرخت اگائےجائیں گے ، راوی ریور منصوبے کو سیاحت کے لیے بھی پر کشش بنائیں گے ، راوی ریور منصوبے سے 10 لاکھ  نوکریاں پیدا ہوں گی ، راوی ریورمنصوبےسے40ارب ڈالرزآئیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان گلوبل وارمنگ سےمتاثر10ممالک میں شامل ہے ، آلودگی سےبچوں اوربزرگوں کی جانیں خطرےمیں ہیں ، اسمارٹ لاک ڈاؤن پر ہمارا مذاق اڑایاگیا ، اسمارٹ لاک ڈاؤن کےذریعےکوروناپرقابوپایا ، دنیانےکورونا سے متعلق ہمارے اقدامات کو سراہا ، اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اب سب اپنارہےہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کےبعداسمارٹ جنگل کاآغازہورہاہے ، اسمارٹ جنگل میں سینسرز لگےہوں گے ، جنگل سے کوئی اگر درخت کاٹے گا تو فوری اطلاع ملے گی ، اسمارٹ جنگل میں ٹیکنالوجی کااستعمال کیاجائےگا ، راوی اربن پروجیکٹ پاکستان کےمستقبل کیلئےبہت اہم ہے ، پروجیکٹ شروع کرنےپربہت سی مشکلات پیش آئیں۔

انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ آسان ہوتاتو شہبازشریف بنا لیتے ، لاہورمیں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہاہے ، لاہورمیں زیرزمین پانی کی سطح نیچےچلی گئی ہے ، یہ پاکستان کی تاریخ کابڑاپروجیکٹ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نئی نسل کوبہترپاکستان دیناہےتوملک کوسرسبزکرناہے ، پاکستان میں جنگلات کوتباہ ہوتےدیکھا ، سب دیکھیں گےہم نیااورماڈرن شہربناسکتےہیں۔

دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان 109 رنز سے کامیاب، سیریز برابر

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاہین شاہ آفریدی کی شاندار باؤلنگ کے باعث 109 رنز سے فتح حاصل کرکے سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

کنگسٹن میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے آخری روز پاکستان کی جانب سے دیے گئے 329 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز نے کھیل شروع کیا تو اسکور ایک وکٹ پر 49 رنز تھا۔

شاہین شاہ آفریدی نے پاکستان کو پہلی وکٹ دلاتے ہوئے الزاری جوزف کو 17 رنز کی انفرادی اننگز پر آؤٹ کردیا، جس کے بعد حسن علی نے بونر کو 2 رنز بنانے کے بعد پویلین بھیج دیا۔

ویسٹ انڈیز کا اسکور جب 73 رنز پر پہنچا تھا تو حسن علی نے نئے آنے والے بلے باز روسٹن چیز کی وکٹیں اڑا دیں اور انہیں کھاتہ کھولنے کی بھی اجازت نہیں دی۔

جرمین بلیک ووڈ نے کپتان کریگ بریتھویٹ کے ساتھ مل کر ٹیم کے 100 رنز مکمل کیے۔

نعمان علی نے پاکستان کو اہم کامیابی دلائی اور 25 رنز پر کھیلنے والے بلیک ووڈ کو محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان بریتھویٹ 39 رنز بنا کر نعمان علی کی وکٹ بن گئے تو میزبان ٹیم شدید مشکلات کا شکار ہوگئی۔

کائل مائرز اور جیسن ہولڈرز نے 46 رنز کی شراکت قائم کی اور اسکور 159 رنز تک پہنچایا، مگر شاہین آفریدی نے مائرز کی وکٹ حاصل کرلی۔

کائل مائرز 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

بارش کے باعث کچھ دیر کے تعطل کے بعد میچ شروع ہوا تو جیسن ہولڈر اور جوشوا ڈی سلوا نے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا۔

تاہم نعمان علی نے 199 کے مجموعے پر جیسن ہولڈر کو ان کی نصف سنچری سے محض 3 رنز قبل پویلین کی راہ دکھادی جس سے میزبان ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔

اس کے بعد اس کے آخری دو کھلاڑی بھی پاکستانی باؤلروں کے آگے زیادہ دیر نہ ٹک سکے اور پوری ٹیم 219 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے دوسری اننگز میں بھی شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، یوں انہوں نے میچ میں اپنی 10 وکٹیں مکمل کیں جبکہ نعمان علی نے 3 اور حسن علی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

قبل ازیں پاکستان نے پہلی اننگز میں 302 رنز بنائےتھے، جس کے جواب میں شاہین شاہ آفریدی کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 150 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستان نے دوسری اننگز 6 وکٹوں پر 176 رنز بنا کر ڈیکلیئر کردی تھی اور ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 329 رنز کا ہدف دیا تھا۔

افغانستان سے 31اگست تک انخلاء مکمل کر لیں گے، امریکی صدر جوبائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے حملے کے بڑھتے ہوئے امکانات کے پیشِ نظر انخلا کا عمل جلد مکمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ  انخلا جتنی جلد مکمل ہو اتنا بہتر ہے،ہم جانتے ہیں کہ داعش کابل ائیر پورٹ،امریکی اور اتحادی افواج پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔

 امریکی صدر کا کہنا تھا کہ صرف 10 روز میں 70 ہزار 700 افراد کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب ہوئے ،اس رفتار سے انخلا 31 اگست تک پورا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی سیون ممالک اور دیگر اتحادی طالبان کےبارےمیں متحد ہیں اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ افغانستان کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم میں سے کسی کو بھی طالبان کی باتوں پر یقین نہیں،  ہم سب مل کر طالبان کے طرز عمل کو دیکھیں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن  نے کہا کہ اس مشن کو مکمل کرنے کا بھرپور عزم ہے اور میں  ممکنہ خطرات سے آگاہ ہوں ۔

 جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ  پینٹاگون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کوکہا ہےکہ ضرورت ہوئی تو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا پلان بنائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ  تمام اتحادی ممالک مل کر افغان پناہ گزین کی امداد جاری رکھیں گے جبکہ افغان عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے اُمید ظاہر کی تھی کہ 31 اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کر لیا جائے گا۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کا پس منظر

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں طالبان نے کہا تھا کہ 31 اگست تک امریکا اور برطانیہ اپنا انخلا مکمل کریں اور اگر 31 اگست کے بعد بھی امریکی فوجی موجود رہتے ہیں تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا اور نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

طالبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک ایک بھی امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہے حکومت کا اعلان کریں گے نہ کابینہ تشکیل دیں گے۔

ہماری حکومت نے لاہور میں اربوں کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، عثمان بزدار

لاہور :(خصوصی رپورٹر) و زیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے آج لاہور کےشہریوں کے لئے میگا پروجیکٹ شاہکام چوک فلائی اوور کی تعمیر کا باضابطہ سنگ بنیاد رکھ دیا۔

شاہکام چوک فلائی اوور کی تعمیر پر 4 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی-شفاف ٹینڈرنگ اور لینڈ ایکوزیشن کی مد میں اس عوامی منصوبے میں 39 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کی بچت کی گئی ہے-606 میٹر طویل تین رویہ، دو طرفہ فلائی اوور 10 ماہ میں مکمل ہوگا اورروزانہ تقریباً سوا لاکھ سے زائد گاڑیوں کو آمد و رفت میں آسانی ہوگی۔

سگنل فری ٹریفک کی بدولت وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی-لیبر کالونی تا ملتان روڈ تقریباً 6کلو میٹر طویل ڈیفنس روڈ کو دو رویہ بھی کیا جائے گا جبکہ ہڈیارہ ڈرین اور نہر پر 2،2 چھوٹے پلوں کی تعمیر بھی منصوبے میں شامل ہے-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لاہورپنجاب کا دل اورپاکستان کا ثقافتی مرکزہے- ہم ترقی کے سفر میں جس مقام پر پہنچ چکے ہیں، جو اہداف حاصل کر چکے ہیں، اس کا کریڈٹ ہمارے قائدوزیراعظم عمران خان کی غیرمتزلزل قیادت کو جاتا ہے۔پنجاب کے ہر شہری کو مساوی حقوق کے ساتھ یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے ویژن پر عمل پیرا ہیں – ہماری ترجیحات میں پنجاب کے ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر قصبے کی ترقی شامل ہے۔

محروم اور پسماندہ لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنا اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے- صحت، تعلیم اور ترقی ہر فرد کا حق ہے اور یہ حق اسے مل کر رہے گا- اب پنجاب ترقی کی راہ پریونہی آگے بڑھتا رہے گا – پی ٹی آئی کی حکومت لاہور کے گنجان آباد علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے-لاہور میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے رش سے نمٹنے کیلئے روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری سے عوام کو سہولت فراہم کرنا ہماری اہم ترجیح ہے – لاہور شہر کے نظر اندازکردہ علاقوں میں عوامی ضروریات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں -انہوں نے کہاکہ بیشتر نئی آبادیوں ا ورٹاؤنز میں آمد ورفت کیلئے شاہکام چوک کی حیثیت مرکزی ہے۔ کینال اور ڈیفنس روڈ سے موٹروے اورملتان روڈ کیلئے بھی یہی گزرگاہ ہے- ٹریفک کے بہاؤ کے مطابق کشادہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ٹریفک اکثر کئی کئی گھنٹے بلاک رہتی ہے -عوام کو ذہنی کوفت کا سامنا ہوتا ہے اوروقت کا ضیاع الگ ہے- ماضی میں اس اہم چوک پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ شاہکام چوک فلائی اوور منصوبہ 4ارب23کروڑ روپے لاگت سے مکمل ہوگا اور شاہکام چوک پر 606 میٹر طویل دو طرفہ فلائی اوور بنا ئے جا رہے ہیں – لیبر کالونی سے شاہکام چوک تک تقریباً6 کلو میٹر طویل ڈیفنس روڈ کو دو رویہ بنایا جائے گا- ہڈیارہ ڈرین اور نہر پر مزید چھوٹے پل بھی تعمیر کئے جائیں گے اور دورویہ فلائی اوور تین تین لینز پر مشتمل ہوگا-ٹریفک کیلئے سگنل فری کوریڈوربنایا جائے گا-شاہکام چوک فلائی اوورسے روزانہ سوا لاکھ سے زائد گاڑیاں گزریں گی اوراس منصوبے کی تکمیل سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی- وقت کی بچت اورایندھن کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہو گی- پراجیکٹ میں زمین کی خریداری کے عمل میں شفافیت کی بدولت 39 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد کی بچت بھی کی گئی ہے-

پاکستان نے گائیڈڈ میزائل فتح ون کا کامیاب تجربہ کرلیا

راولپنڈی: (بیورو رپورٹ) پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ گائیڈڈ راکٹ سسٹم فتح-ون کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے آج مقامی طور پر تیار کردہ فتح-ون (گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم) کا کامیاب آزمائشی تجربہ کیا جو روایتی جنگی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں مزید بتایا گیا کہ ہتھیاروں کا نظام پاک فوج کو دشمن کی سرزمین پر مزید اندر تک ہدف کی درستگی کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

وزیراعظم، صدر مملکت، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف نے کامیاب تجربے پر تمام افسران اور سائنسدانوں کو مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے رواں ماہ 12 اگست کو بھی بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔

سنگل اسٹیج سالڈ فیول راکٹ موٹر کا حامل غزنوی میزائل 320 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس سے قبل رواں سال 26 مارچ کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ‘شاہین ون-اے’ کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ میزائل کی رینج 900 کلومیٹر ہے اور اس میزائل تجربے کا مقصد جدید نیویگیشن سسٹم سمیت ہتھیاروں کے نظام کے مختلف ڈیزائن اور تکنیکی پیرامیٹرز کی دوبارہ توثیق کرنا ہے۔

پاکستان نے 11 فروری کو بابر کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا جو 450 کلو میٹر فاصلے تک زمین اور سمندر میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل 3 فروری کو پاکستان نے 290 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والے بلیسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔