لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، اپنے سٹاف رپورٹر سے) پنجاب حکومت کی جانب سے سول سروسز ایکٹ میں ترمیم کے بعد ایک نیا بحران پیدا ہو گیا، پنجاب بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز نے قلم چھوڑ ہڑتال کر دی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے سول سروسز ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم کے بعد پنجاب بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز نے قلم چھوڑ ہڑتال کر کے دفاترز کو تالے لگا دیئے تھے جس کے بعد ابھی تک حکومت کی جانب سے ہڑتالی اسسٹنٹ کمشنرز کے بارے میں کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سرگودھا ، اٹک ، چکوال ،گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں موجود اسسٹنٹ کمشنرز نے سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ میں کی جانے والی ترمیم کے خلاف قلم چھوڑ ہڑتال کرتے ہوئے دفاتر بند کر دیئے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کا کہنا تھا کہ جب جسٹس آف پیس کی پاور اور اختیارات نہیں ہوں گے تو کس طرح عوام کی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں؟ ۔اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال کے بعد ان دفاتر میں کام کرنے والا عملہ بھی گھروں کو چلا گیا تھا جس کی وجہ سے سائلین کو دن بھر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ دوسری طرف صوبائی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے قلم چھوڑ ہڑتال اور دفاتر کی تالہ بندی کے بعد ابھی تک اس پیدا ہونے والے بحران سے نبٹنے کے لئے واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آ سکا جس کی وجہ سے پنجاب میں انتظامی سطح پر ایک نئے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ پرویز مشرف دور میں نافذ کیا گیا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 ختم کرکے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 نافذ کر دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق لوکل گورنمنٹ کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف دور میں نافذ کیا گیا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001 یکم جنوری 2017 سے ختم ہوجائے گا اور یکم جنوری سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 نافذ کیا جائے گا۔ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے تمام ٹاﺅنز کو زون میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب کی بیورو کریسی کا غیرقانونی طریقے سے پولیس کا کنٹرول حاصل کرنے کے درپہ ہو گئی۔ پولیس کے 35 ریٹائرڈ آئی جیز جن میں سابق آئی جی پنجاب نثار احمد چیمہ، عباس خان، سید مسعود شاہ، شوکت جاوید اور احمد نسیم شامل ہیں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب بیورو کریسی کا ایک سیکشن سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016ءڈرافٹ کر رہا ہے جس کا مقصد حالیہ منتخب مقامی حکومت کے نمائندوں کے اختیارات کو کمزور کرنے اور ڈپٹی کمشنر نظام متعارف کر رہا ہے۔ تاکہ تمام ضلعی سربراہوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ اس طرح ضلعی کونسلر کے چیئرمین اور کارپوریشنز کے میئرز کی پاور کو کمزور ہو جائے گی سب سے بڑھ کر وہ پولیس پر مکمل کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جو پولیس آرڈیننس 2002ءکی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریٹائرڈ آئی جیز نے وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ پر زور دیا ہے کہ وہ بیورو کریسی کی جمہوریت اور مقامی حکومت نظام کو کمزور کرنے کی اس کو کسی صورت تسلیم نہ کریں اور کوئی نیا قانون بنانے سے پہلے معاملے پر پنجاب اسمبلی میں بحث کی جائے۔ آئی جیز نے کہا کہ پولیس کے موجودہ نظام اور مقامی حکومت قوانین کی خلاف ورزی کی کسی صورت اجازت نہیں ملنی چاہیے۔اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) 35 ریٹائرڈ انسپکٹرز جنرل پولیس نے پنجاب میں نیا پولیس آرڈیننس لائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ پنجاب کی بیورو کریسی پولیس پر اپنے غیر قانونی تسلط پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ ان سابق اعلی پولیس افسران جن میں نثار احمد چیمہ، عباس خان، سید مسعود شاہ، شوکت جادید اور احمد نسیم شامل ہیں، انہوں نے سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016 لانے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ جس کا مقصد حالیہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کو گھٹاکر ڈپٹی کمشنرز کے نظام کو دوبارہ متعارف کرانا ہے۔ جس سے پولیس سمیت تمام ضلعی محکموں پر ان کا کنٹرول ہوجائے گا۔ پولیس جو ایک صوبائی ادارہ ہے وہ آئی جی کے ذریعہ حکومت کو جواب دہ ہے۔ رابطہ کار کے کردار تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے مجوزہ ڈپٹی کمشنرز حکومتی نمائندے کے طور پر ضلعی انتظامیہ کی سربراہی چاہتے ہیں۔ اس طرح کا رپوریشنز کے مئیرز اور ضلعی کونسلوں کے چیئر مین کی اہمیت گھٹانا چاہتے ہیں۔ اس سے کہیں بڑھ کر ڈسٹرکٹ پولیس افسران پر اپنے کنٹرول کے خواہاں ہیں۔ جو پولیس آرڈیننس 2002 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ ریٹائرڈ اعلی پولیس افسران نے وزیر اعلی پنجاب اور ان کی کابینہ سے بیورو کریسی کے اس اقدام کو قبول نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ جس سے جمہوریت اور بلدیاتی نظام متاثر ہوگا۔ کوئی نیا قانون بنانے سے قبل معاملہ پنجاب اسمبلی میں زیر بحث لایا جانا اور آئین موجودہ پولیس اور بلدیاتی قوانین کی ایسی کھلی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔
پنجاب میں انتظامی بحران …. اے سی کی قلم چھوڑ ہڑتال

