پٹرول کی قیمتوں میں بڑی تبدیلیاں, منظوری دیدی گئی

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر خزانہ اسحا ق ڈار نے کہاہے کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 2روپے فی لیٹر،ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2روپے70پیسے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیاہے کہ جبکہ ،مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ،ہائی اوکٹین پر ای سی سی کے فیصلہ کے مطابق اوگرا کی سفارش کے تحت اضافہ پر عملد رآمد ہو گا، اوگرا کی سفارشات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 4 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کرے گی، ٹیکس گوشوارے تاریخ میں 15دسمبر تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، صنعتوں کے لئے گیس کی قیمتوں پر حکومت کو سبسڈی نہیں دینی پڑے گی،رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات اور پارلیمنٹ کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں،صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ جو ویلیوز ہم نے دی ہیں ان کو اپنا لیں،پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت کو دیے گئے مطالبات پر پیش رفت ممکن ہے اس حوالے سے وزیراعظم سے ہدایت لیکر بات کو آگے بڑھانے کے لئے تیار ہیں ۔بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سات ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جس کی وجہ سے حکومت پیٹرولیم مصنوعات میں اضافی بوجھ برداشت کر رہی ہے ، اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 6روپے24پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی تھی، حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 2روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ،مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2روپے70پیسے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا۔ اوگرا کی سفارشات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 4 ارب سے زائد کا اضافی بوجھ برداشت کر رہی ہے جبکہ آدھا بوجھ صارفین برداشت کر رہے ہیں،ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا ہائی اوکٹین کے حوالے سے اوگرا جو سفارش کرے گی اس پر عمل درآمد کیا جائے گا ، ہائی اوکٹین کے صارفین اس کو برداشت کر سکتے ہیں اس پر آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ٹیکس گوشوارے تاریخ میں 15دسمبر تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ، گزشتہ سال 30نومبر کو 4لاکھ ٹیکس ریٹرن تھے اوراس سال اب تک 6لاکھ سے زائد ٹیکس ریٹرن آچکے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات اور پارلیمنٹ کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں ،صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ جو ویلیوز ہم نے دی ہیں اس کو اپنا لیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے لئے گیس کی قیمتوں پر حکومت کو سبسڈی نہیں دینی پڑے گی ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے حکومت کو دیے گئے چار مطالبات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چار میں سے ایک مطالبہ عدالت میں زیر سماعت ہے باقی تین مطالبات پر پیش رفت ممکن ہے اس حوالے سے وزیراعظم سے ہدایت لیکر بات کو آگے بڑھائیں گے۔

آسٹریلیا ٹورمیں غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا

لاہور(اے این این)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ دو تین اننگز کی خراب کارکردگی یا ناکامی پر تبدیلیوں کے حق میں نہیں ہوں اتنی جلدی کھلاڑیوں کو اندر باہر کرنے سے انکا اعتماد خراب ہوتا ہے۔ مہینہ پہلے یہی ٹیم دنیا کی نمبر ون ٹیم بنی۔ کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع دینے کے لئے آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے سکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کو منتخب کیا جاتا ہے تو اسے بھرپور موقع ملنا چاہئے اگر پھر بھی ناکام رہتا ہے تو یقینا ٹیم سے باہر ہو گا۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے تمام پرفارمرز پر نظر ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ ہم نے غلطیاں کی ہیں۔ جب تیز کھیلنے کی کوشش میں وکٹیں گریں تو پھر چند اوورز روک لینا چاہئے تھے۔ بلے بازوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ غلطیوں سے سیکھنے اور کھیل میں بہتری لانے کے لیے زیادہ محنت لگن یکسوئی اور توجہ کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا کا دورہ بھی مشکل ہے عمدہ پرفارمنس سے کھلاڑی نام بنا سکتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ٹف کنڈیشنز میں بھی خود کو جلد ایڈجسٹ کرنا چاہیے ۔ فاسٹ بالرز کی کارکردگی پر بھی نظر ہے ماضی قریب میں زیادہ کامیابیاں یاسر شاہ کے آﺅٹ کرنیکی وجہ سے ملی ہیں لیکن فاسٹ باولرز کو بھی وکٹیں حاصل کرنا ہونگی یہ ہمارے لیے پریشان کن ہے کہ ایک بھی تیز گیند باز نے اننگز میں پانچ آوٹ نہیں کئے۔

انڈیا سے باہمی سیریزکی بھیک نہیں مانگیں گے

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں)چیئرمین پی سی بی نے کہا ہے کہ بھارت سے دوطرفہ سیریز کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ معاملہ ایشیائی کرکٹ کونسل میں اٹھایا جائے گا۔ شہریار خان نے کراچی میں حنیف خان کرکٹ اکیڈمی کے قیام کی خوشخبری دیدی۔چیئرمین پی سی بی مودی سرکار پر برس پڑے۔ کہتے ہیں انڈیا کے دو طرفہ سیریز سے بھاگنے کا معاملہ ایشین کرکٹ کونسل میں اٹھائیں گے۔ شہریار خان نے میڈیا سے گفتگو میں مودی سرکار کو پاک بھارت سیریز میں رکاوٹ قرار دیا۔ چیئرمین پی سی بی نے اس سے قبل سینیٹ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بتایا کہ بلوچستان، فاٹا اور کراچی میں کرکٹ اکیڈیمیز قائم کی جا رہی ہیں۔ کراچی کی اکیڈمی لیجنڈ کرکٹر حنیف محمد مرحوم کے نام سے منسوب کی جائے گی۔

ٹیسٹ رینکنگ میںیونس اوریاسرکوتنزلی کاسامنا

دبئی (اے پی پی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی تازہ ترین ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ میں بلے بازوں میں سٹیون سمتھ، باﺅلرز اور آل راﺅنڈرز میں روی چندرن ایشون بدستور سرفہرست ہیں، یونس خان 4 درجے تنزلی کا شکار ہو کر دسویں نمبر پر چلے گئے، اسدشفیق بھی ٹاپ ٹونٹی سے باہر ہو گئے، جونی بیئرسٹو 3 درجے ترقی پا کر ٹاپ ٹین میں شامل ہو گئے، یاسرشاہ 2 درجے تنزلی کے بعد نویں نمبر پر چلے گئے، نیل واگنر کی بھی ٹاپ ٹین میں شمولیت ہوئی ہے۔ آئی سی سی کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ٹیسٹ پلیئرز رینکنگ کے تحت بلے بازوں میں سٹیون سمتھ پہلے اور جوروٹ دوسرے نمبر پر موجود ہیں، ویرات کوہلی ایک درجہ ترقی پا کر تیسرے نمبر پر آ گئے، ولیمسن ایک درجہ تنزلی کے بعد چوتھے نمبر پر چلے گئے، ہاشم آملہ کا پانچواں نمبر ہے، ڈی ویلیئرز، ڈیوڈ وارنر اور چیتشورپوجارا ایک، ایک سیڑھی چڑھ کر بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر آ گئے، انگلینڈ کے جونی بیئرسٹو تین درجے بہتری کے بعد نویں نمبر پر پہنچ گئے، یونس خان 4 درجے تنزلی کے بعد دسویں نمبر پر چلے گئے۔ مصباح الحق کا 14واں نمبر برقرار ہے، اظہرعلی ایک درجہ گر کر 17ویں نمبر پر چلے گئے، اسدشفیق کی 4 درجے تنزلی ہوئی ہے اور وہ 24ویں نمبر پر چلے گئے۔ باﺅلرز میں ایشون پہلے، ہیراتھ دوسرے، سٹین تیسرے، جیمز اینڈرسن چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جوش ہیزلووڈ 4 درجے ترقی کے ساتھ پانچویں نمبر پر پہنچ گئے، یاسرشاہ دو درجے گر کر نویں نمبر پر چلے گئے۔ نیوزی لینڈ کے نیل واگنر ترقی پاتے ہوئے پہلی بار ٹاپ ٹین میں شامل ہو گئے۔ آل راﺅنڈرز میں ایشون پہلے، شکیب الحسن دوسرے، بین سٹوکس تیسرے، جدیجہ چوتھے اور معین علی پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔

پروفیسر نے بڑا امتحان پاس کرلیا

دبئی(نیوزایجنسیاں)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی آل راو¿نڈر محمد حفیظ کے باو¿لنگ ایکشن کو قانونی قرار دے کر انھیں بین الاقوامی کرکٹ میں باو¿لنگ کی اجازت دے دی۔آئی سی سی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’17 نومبر کو حفیظ کے باو¿لنگ ایکشن کا برسبین کے نیشنل کرکٹ سینٹر میں ٹیسٹ لیا گیا، جہاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ان کی کرائی گئی آف اسپن گیندوں میں کہنی کا زاویہ 15 ڈگری کے اندر تھا، جو آئی سی سی قواعد کے مطابق ہے’۔مزید کہا گیا کہ ‘امپائرز کو اب بھی اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ اگر وہ سمجھیں کہ حفیظ کا باو¿لنگ ایکشن مشکوک ہے، تو وہ اس کی رپورٹ کرسکتے ہیں، جبکہ امپائرز کی رہنمائی کے لیے انھیں محمد حفیظ کے تبدیل شدہ باو¿لنگ ایکشن کی تصاویر اور ویڈیوز بھی فراہم کی جائیں گی’۔باو¿لنگ ایکشن کلیئر ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمد حفیظ نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘پابندی کے دنوں میں وہ اپنی باو¿لنگ کو بہت مِس کرتے تھے، تاہم اب ان کی نظریں مستقبل پر مرکوز ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ قومی ٹیم کی جانب سے دوبارہ کھیلیں گے’۔واضح رہے کہ 50 ٹیسٹ، 177 ایک روزہ اور 77 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 36 سالہ محمد حفیظ کو 2014 سے باو¿لنگ ایکشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ایک سال میں دوسری بار ایکشن غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد ان پر جولائی 2015 میں انٹرنیشنل کرکٹ میں باو¿لنگ پر ایک سال کی پابندی لگادی گئی تھی۔کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ میں باو¿لنگ ایکشن کے ٹیسٹ سے قبل، محمد حفیظ کا ایکشن درست کرانے کے لیے باو¿لنگ کوچ کارل کرووے کی خدمات حاصل کیں، تاہم حفیظ نے فٹنس مسائل کے باعث ٹیسٹ نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔محمد حفیظ کو انجری اور فارم میں نہ ہونے کے باعث، ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں رواں ماہ نیوز لینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھی اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

بلاول بھٹو نے حکومت کیلئے نئی مشکل کھڑی کردی, ڈیڈ لائن جاری

لاہور (لیڈی رپورٹر) پےپلزپارٹی کے چےئر مےن بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ لگتا ہے نوازشرےف ہمارے 4مطالبات نہےں مانےں گے اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو پھر27دسمبر کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا‘27دسمبر دور نہیں ہے میں اپنی فورس تیار کررہا ہوں‘بلاول بھٹو سڑکوں پر نکلا تو پورا ملک سڑکوں پر آجائے گا سب مل کر تخت لاہورکی آمریت کو گرائیں گے اور انقلاب لائےں گے’شےر کو بلی بن کر بھاگنے نہےں دےں گے ‘مےں خر ےد ے ہوئے ججز ےا کنگرو کورٹس کے ذرےعے بلکہ ملک مےں جمہو ری عمل کے ذرےعے احتساب کی بات کر رہا ہوں ‘ےہ کےسا انصاف ہے‘ جس مےں بھٹو شہےد کو پھانسی ‘بے نظےر بھٹو کے قاتلوں غداروں کو آزادی ‘اکبر بگٹی کےلئے اےف16اور کالعدم تنظےموں کےلئے پر وٹوکول ہم اےسے انصاف کو نہےں مانتے ‘پانامہ لےکس کر پشن کا دنےا کاسب سے بڑ اسکےنڈ ل ہے حکمرانوں کو اس کا حساب دےنا ہی پڑ ےگا مگر انصاف کے ادارے اس پر پہلے بھی خاموش تھے اور اب بھی ہےں ‘ےوسف رضاگےلانی خط نہ لکھنے پرنااہل ہوئے مگر آج وزےر اعظم کے شاہی خاندان کو استثنیٰ کےوں دےا جا رہا ہے ‘ہمےں سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کےاجائے حکومت ہمارے 4مطالبات کو منظور کر لےں ‘2013کے انتخابات مےں اےک بکے ہوئے ججز اور دےگر لوگوں نے ہمےں پنجاب مےں دھاندلی سے ہرا ےا مگر2018مےں پےپلزپارٹی کامےاب ہو گی اور کسی کو دھاندلی نہےں کر نے دےں گے ‘ لاہور مےں نئی پےپلزپارٹی جنم لے رہی ہے‘ ملک مےں انقلاب ‘سوشل ‘اکنامک ‘بےوروکرےسی اور جوڈےشل رےفامز لےکر آئےں گے ےہ تمام جمہو ری او ر انقلابی رےفامز ضرور ہے جو وقت پر انصاف نہ دےا جائے وہ انصاف نہےں ہوتا ‘ہم پےپلزپارٹی کو بھٹو او ر بے نظےر بھٹو شہےد کے مشن کے مطابق لےکر چل رہے ہےں‘پیپلز پارٹی کشمیر،گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کی زنجیر ہے،ہم ضلعی سطح پر پارٹی کو منظم کریں گے،پارٹی کو نیا منشور دیں گے،ہم انٹرا پارٹی انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں،ایک نئی پیپلز پارٹی لاہور میں جنم لے رہی ہے ۔ وہ بدھ کے روز بلاول ہاﺅس لاہور مےں پےپلزپارٹی کے 49ےوم تاسےس کی تقرےب سے خطاب کر رہے تھے جبکہ اس موقعہ پر سابق وزر اءاعظم سےد ےوسف رضا گےلانی ‘راجہ پرو ےز اشرف ‘وزےر اعلی سےد مراد علی شاہ ‘اپوزےشن لےڈر سےد خورشےد شاہ ‘سابق وزےر اعلی سےد قائم علی شاہ ‘سےنےٹرز شےری رحمن ‘رحمن ملک ‘سعےد غنی ‘سندھ کے مشےر مولا بخش چانڈےو‘وزےر نثار کھوڑو ُپےپلزپارٹی کے صوبائی صدور مخدوم سےد احمد محمود ‘قمر الزمان کائرہ ‘جنرل سےکرٹری ندےم افضل چن ‘شعبہ خواتےن لاہور کی صدر فائزہ ملک سمےت پےپلزپارٹی کے چاروں صوبوں اور گلگت آزادکشمےر کے عہدےداروں سمےت ہزاروں کارکنان نے شر کت کی اس موقعہ پر بلاول بھٹو نے اپنے خطا ب کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے مےں لاہور سے پےار کر تاہوں اور آپ سب کو بلاول ہاﺅس لاہور مےں آنے پر خوش آمدےد کہتاہوں اس لاہور نے پےپلزپارٹی کو ہمشےہ بے نظےر محبت دی ہے 1970مےں لاہور نے بھٹو شہےد محبت دی اور 1986مےں مےری والدہ کو شاندار کو استقبال دےا ہے اس لےے بلاول بھٹو کے انقلاب کےلئے ہم نے لاہور کو چنا ہے آج ہم سب ملکر پارٹی کا 49ےوم تاسےس منا رہے ہےں لاہور جو داتا کی نگری اور پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے جو ترقی پسندوں کا شہر تھا جو پاکستان پےپلزپارٹی کی پےدائش کا شہر ہے اور جہا نگےر بدر بھی اسی لاہور کی پہچان ہے وہ آج ہم موجود نہےں مگر ہم سب کے دلوں مےں زندہ ہے وہ دلےری اور وفاداری کی اےک مثال تھے جو ہمےشہ ےاد رہےں گے مےں آج کا ےوم تاسےس جہا نگےر بدر کے نام کر تاہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کی شہےد ہونے کے بعد جب بے نظےر بھٹو لاہور آئی تو ان جےسا استقبال دنےا مےں کسی اور ملک مےں کسی کا نہےں دےکھا تھا لوگوں کو سمندر سٹر کوں پرتھا دنےا کی اور کون سے لےڈر ہے جس نے اتنی کم عمر مےں آمر ےت کا مقابلہ کےا وہ بھی روالپنڈی مےںدھر نہ دے دےتی تو پھر کےاہوتا ؟مگر بے نظےر بھٹو نے کسی چوک مےں دھر نہ دےا نہ کسی کا گالےاں دی اور نہ ہی کسی رےاستی ادارے پر حملہ کےاوہ سےاسی لےڈرہی نہےں وہ بے نظےر لےڈر تھےں جنہوں نے سےاسی مخالفےن کو ڈٹ کر مقابلہ کےا ہے ۔انہوں نے پاکستان پےپلزپارٹی آزاد کشمےر ‘گلگت اور چاروں صوبوں کی زنجےرہے ہر آمر ‘غاصب نے پےپلزپارٹی کو توڑنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام ہوئے مگر آج لاہور مےں نئی پےپلزپارٹی جنم لے رہی ہے پارٹی انتخابات تک کی جانب سے بڑھ رہے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب ‘سوشل ‘اکنامک ‘بےوروکرےسی اور جوڈےشل رےفامز لےکر آئےں گے ےہ تمام جمہو ری او ر انقلابی رےفامز ضرور ہے جو وقت پر انصاف نہ دےا جائے وہ انصاف نہےں ہوتا ےہ کےسا انصاف ہے بھٹو شہےد کےلئے پھانسی اور بے نظےر بھٹو شہےد کے قاتلوں کےلئے معافی ہے اور وزےر اعظم کے شاہی خاندان کےلئے معافی وزےر اعظم گےلانی کو اےک خط نہ لکھنے پرنااہلی ہوئی ہے اور آصف زداری 12سال کسی جرم کے بغےرجےل مےں رہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لےکس پر انصاف کے ادارے خاموش تھے اور ہے اکبر بگٹی کےلئے اےف16اور کالعدم تنظےموں اور اپنے بچوں کےلئے خصوصی پر وٹوکول ہم اےسے انصاف کو نہےں مانتے ۔ انہوں نے کہا کہ پےپلزپارٹی نے اس ملک کو آئےن دےا بڑے بڑے قانون دان دےئے ہےں ہم سب سے زےادہ آئےن وقانون کو کون جانتا ہے ہم تمام قانون دانوں ‘بار اےسوسی اےشن اور تمام طبقات سے ملکر ملک مےں جمہو ری رےفار مز لائےں گے ملک مےں آزاد خارجہ پالےسی سمےت تمام شعبوں مےں رےفامز لائےں گے بلاول آئےگا اور ملک مےں انقلاب لائےگا ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظےر بھٹو کے جےلوں مےں سندھ مےں تبدےلی لے آےا ہے اور مےں پارٹی مےں بھی تبدےلی لا رہے ہےںعوام مےرا ساتھ دےتے ہےں تو ہم سب ملکر ملک مےں جمہوری انقلاب لے آئےں گے ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لےگ اپنی ہٹ دھر می کی وجہ سے مےرے4مطالبات کو ابھی تک منظور نہےں کےا مےں نے کون سی اےسی ڈےمانڈ کی جو منظورنہےں ہوسکتی مےں اپنے لےے نہےں عوام ‘پار لےمنٹ ‘جمہو رےت کو مضبوط کر نے کی بات کر رہا ہے مےں خر ےد گئے ججز کے ذرےعے انصاف خر ےدنے اور کنگرو کورٹس کی بات نہےں بلکہ ملک مےں جمہو ری احتساب کی بات کر رہوں ۔انہوں نے کہا کہ اگلے الےکشن مےں ملک مےں کسی صورت دھاندلی نہےں ہونے دوں گا اور2018کے انتخابات مےں پےپلزپارٹی جےتے گی سندھ کو جوان وزےر اعلی دےاہے اور بھٹو شہےد کی پارٹی مےں نوجوانوں کو لےکر آےا ہوں۔انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کشمیر،گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کی زنجیر ہے،ہم ضلعی سطح پر پارٹی کو منظم کریں گے،پارٹی کو نیا منشور دیں گے،ہم انٹرا پارٹی انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں،ایک نئی پیپلز پارٹی لاہور میں جنم لے رہی ہے،یہ کیسا انصاف ہے ذوالفقار بھٹو کیلئے پھانسی،بے نظیر کو شہید کردیا جاتا ہے جبکہ دہشتگرد آزاد ہیں،ہم انصاف اور جمہوری اصلاحات کیلئے جدو جہد کریں گے۔

سی پیک منصوبہ, وزیراعظم کا تمام صوبوں کیلئے اہم اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں اجلاس منعقد کیا گیا۔وزیرا عظم ہاﺅس کے اعلامیہ کے مطابق میاں نواز شریف کی زیر صدارت اقتصادی راہداری منصوبے پر ہونے والی پیش رفت اور ترقی کی رفتار کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میںگوادر پورٹ کی ترقی اور گوادر میں دیگر منصوبوں کے قیام، توانائی ، ٹرانسپورٹ ، انفراسٹرکچر اور صنعتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 2روپے 60پیسے فی یونٹ کمی کر دی اجلاس میں شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ 2013ئ میں جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو اس وقت ملکی معیشت ابتر تھی مگر پھر چینی حکومت نے اس کڑے وقت میں معاشی بحالی کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کیا جس پر حکومت اور پاکستانی عوام چینی حکام کے شکر گزار ہیں۔” چین کے دوراندیش حکمرانوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے ہماری مدد کی “۔ وزیرا عظم نے 2013ئ کے دوران اپنے دورہ چین کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے دونوںممالک کے مابین نہ صرف معاشی تعاون کو فروغ ملا بلکہ دوطرفہ تعلقات بھی مضبوط ہوئے ، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے پاکستان نے اقتصادی ترقی کا آغاز کیا جو اب دنیا اور خطے کے ممالک کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے اور اس سے سیکیورٹی کے حوالے سے منفی سوچ کوپاکستان کیلئے مثبت اقتصادی پیرائے میں تبدیل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کی چھتری تلے منصوبوں پر کامیابی سے عملدرآمد پاک چین لازوال دوستی کا برملا اظہار ہے اور یہ منصوبہ پاکستان میں مزید بیرونی سرمایہ کاری کا عکاس ہے اورا س میگا پراجیکٹ کے کامیابی کو دیکھ کر بین الاقوامی سرمایہ کارپاکستان میں سرمایہ کاری پر مجبور ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں سمیت کوئلے ، ہائیڈل ، ہوا ، سورج ، ایل این جی اور ٹرانسمیشن لائنز پر کام جاری ہے۔ اجلاس کے شرکائ نے سی پیک کے تحت جاری ہر منصوبے کی مدت ، شفافیت ، لاگت ، انفراسٹرکچر منصوبوں جن میں سڑکیں ، ریل ، ایوی ایشن اور ڈیٹا کنیکٹیوٹی کے بارے میں بتایا گیا اور اس دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان منصوبوں کو 2017ئ کے احتتام یا 2018ئ کے آغاز تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس دوران وزیرا عظم نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبے کے ثمرات سے کسی صوبے کو محروم نہیں رکھا جائے گا۔ اجلا س میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے ، نیوگوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ ، صاف پانی کے منصوبوں ، سپلائی اور ترسیل ، ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ ، پاک چین دوستی ہسپتال ، فری زون کی ترقی اور گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان پر بھی غور کیا گیا اور زور دیا گیا کہ صنعتوں کو فوائد دیتے وقت مقامی آبادی کو ترجیخ دی جائے گی۔ اجلاس کے شرکائ کو سی پیک منصوبوں میں کام کرنے والے چینی مزدوروں کی سیکیورٹی اور تحفظ کے بارے میں اقدامات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی تکمیل کیلئے ہماری انتھک کاوشوں سے پاکستان کا معاشی اور اقتصادی نقشہ تبدیل ہوجائے گا جہاں کسی کو فوائد کے حصول میں محروم نہیں رکھا جائے گا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ رواں سال سڑکوں کیلئے334ارب مختص کیے گئے ہیں،ملک کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کو بڑے شہروں سے ملایا جارہا ہے،ان اقدامات سے روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے،روڈ نیٹ ورک کی مضبوطی سے باہمی روابط اور قومی اتحاد کو فروغ ملے گا،سڑکوں کی بدولت صوبوں کے درمیان بھی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔وہ بدھ کو شاہراہوں کی تعمیر کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ بہترروڈ نیٹ ورک کی بدولت شرح نمو میں ایک سے ڈیڑھ فیصد اضافہ ہوگا۔اجلاس میں چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی شاہد اشرف تارڑ نے اجلاس کو گوجرہ ،شورکوٹ،خانیوال موٹروے،لاہور عبدالحکیم،ملتان،سکھر اور لاہور،سیالکوٹ موٹروے پر بریفنگ دی اور بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار ہزار ارب روپے سڑکوں کے نیٹ ورک پر خرچ کیے گئے ہیں،اعلیٰ معیار کا روڈ نیٹ ورک تشکیل دیا جارہا ہے،سڑکوں کی تعمیر میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ گوادر پورٹ سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کیلئے تمام وسائل فراہم کریں گے۔وزیر اعظم نواز شریف سے وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ میرحاصل بزنجو نے وزیراعظم ہاو¿س میں ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان حکومت کے معاملات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ میر حاصل بزنجو نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گوادر سے بلوچستان کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کیلئے تمام وسائل فراہم کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کا وزیراعظم بارے اہم اعلان, ن لیگ میں کھلبلی

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے کیس میں اخباری خبروں کو لانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ کے موکل کے بارے انگریزی اخباروں میں جو 30 سال تک چھپتا رہا کیا اسے مان لیں ؟اخباری خبروں پر فیصلہ سنایا تو آپ کے موکل کےلئے بھی پریشانی ہو سکتی ہے ¾ یونہی زور نہ لگائیں اور کچی دیواروں پر پیر نہ جمائیں، ہم سیاسی بیانات کا جائزہ نہیں لے سکتے ¾آپ سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں؟آپ کو 2006ءسے پہلے شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کی ملکیت ثابت کرنا ہو گی؟۔ اگر یہ ثابت ہوجائے تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہوگا۔ بدھ کو یہاں وزیراعظم نوازشریف¾ ان کے بچوں کےخلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کے الزامات اور پاناما لیکس میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور مسلم لیگ (ن) کے وزراءبھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت میں پی ٹی آئی کی نمائندگی نعیم بخاری اور بابر اعوان نے کی جبکہ وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ اور ان کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ بھی عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے کا این ٹی این ہی نہیں ہے۔ مریم نواز وزیر اعظم کی زیرکفالت ہیں اور وہ لندن فلیٹس کی بینی فشل اونر ہیں ¾وزیر اعظم کو یہ بات گوشواروں میں پیش کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہاکہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے مو¿قف سے مختلف ہے ¾نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے۔ نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا۔ نیب چیئرمین کےخلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے ¾اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آ چکا ہے ۔پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ رقوم کی منتقلی کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں ¾وزیر اعظم کے بیانات کے بعد وہ صادق اور امین نہیں رہے،وزیر اعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور دبئی میں کاروبار کےلئے رقم موجود نہیں تھی ¾وزیر اعظم نہ ایماندار اور نہ ہی سچ بولنے والے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بیان حلفی اور معاہدے کے دستخط میں تضاد ہے ¾ یہ نہیں کہنا چاہتا کہ طارق شفیع کے دستخط شہباز شریف نے کئے۔ جسٹس کھوسہ نے استفسار کیا کہ 12 ملین درہم کی رقم طارق شفیع نے قطر کیسے منتقل کی؟ رقم انہیں ملنے کی دستاویزات موجود نہیںجس پر وکیل اکرم شیخ نے جواب دیا کہ وہ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل ہیں۔ طارق شفیع کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پانامہ لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جمع کرائے گئے ضمنی جواب اور تقاریرمیں تضاد ہے جب کہ 2006سے پہلے آف شورکمپنیوں کی ملکیت ثابت ہوگئی تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہو گا۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ حامد خان نے قانون پر کتابیں لکھی ہیں اور وہ ایک سینئر وکیل ہیں ان پر ایسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میڈیا کو ان کے حوالے سے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس کیس کی پانچ سے زائد سماعتیں ہوچکی ہیں اور اس میں مزید ٹائم ضائع کرنے کی بجائے کوئی رزلٹ نکالا جائے اور کمیشن مقرر کیا جائے عوام اس کیس کے حوالے سے جلد کوئی رزلٹ دیکھنا چاہتی ہے۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بنچ پر مکمل اعتماد ہے۔ گزشتہ سماعت پر جو الفاظ کا تبادلہ ہوا اس پر جسٹس عظمت سعید سے معافی مانگتا ہوں اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بخاری صاحب آپ اپنے کیس پر توجہ دیں خوشامد نہ کریں ۔ نعیم بخاری کا اپنے دلائل میںکہا کہ ریکارڈ سے ثابت کروں گا کہ وزیراعظم نے غلط بیانی کی اورٹیکس چوری کے مرتکب ہوئے، وزیراعظم نے 13 اپریل 2016 کو قوم سے خطاب کیا اور قوم سے جھوٹ بولا، دوسرے خطاب میں بھی وزیراعظم نے سچ نہیں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بیٹے سے پیسے لئے جب کہ وزیراعظم کے صاحبزادے کا این ٹی این نمبرہی نہیں ہے، مریم نواز وزیراعظم کی زیرکفالت ہیں اورلندن فلیٹس کی بینیفیشل آنر ہیں، وزیراعظم کو یہ بات گوشواروں میں ظاہرکرنا چاہیے تھی جبکہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے بالکل مختلف ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہے، نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگا رہا جس پر نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیا، جس پر جسٹس عظمیت سعید شیخ نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آ چکا ہے۔ نعیم بخاری نے مو¿قف اختیار کیا کہ وزیراعظم نے اپریل 1980 میں 33 ملین درہم میں فیکٹری فروخت کرنے کا بتایا، دبئی میں فیکٹری کب بنائی گئی وزیراعظم نے اپنے بیان میں نہیں بتایا جب کہ دبئی حکومت کے خط پرکوئی دستخط بھی نہیں ہیں، شیئرز کی فروخت کا معاملہ وزیراعظم کی ذہنی اختراع ہے۔