Monthly Archives: January 2017
ملک کے کئی شہروں میں بارش اور سردی بڑھ گئی
عمران خان نے مصباح کی کپتانی بارے اہم فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق کرکٹراور پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ کرکٹ کو بھی ایک ادارہ بنانا چاہیے۔ آسٹریلیا کی کرکٹ کا نظام بہت مضبوط ہے اس لیے وہ سب سے آگے ہے۔ مصباح الحق نے مشکل ترین حالات میں کرکٹ کو سنبھالا۔ مصباح الحق کو عزت وقار کے ساتھ کرکٹ کو الوداع کہنا چاہیے۔اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان نے حالیہ پاکستان آسٹریلیاٹیسٹ سیریز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی کرکٹ کا نظام بہت مضبوط ہے اس لیے وہ سب سے آگے ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ کرکٹ کو بھی ایک ادارہ بنانا چاہیے۔عمران خان نے مصباح الحق کی کپتانی پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ مصباح الحق نے مشکل ترین حالات میں کرکٹ کو سنبھالا ۔مصباح الحق کی پاکستان کرکٹ کے لیے بڑی خدمات ہیں۔مصباح الحق کی انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے سلیکشن کے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق کو بہت دیر سے انٹرنیشنل کرکٹ میں لایا گیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مصباح بہت پہلے سلیکٹ ہو کرانٹرنیشنل کرکٹ میں آتے ۔مصباح الحق کو عزت وقار کے ساتھ کرکٹ کو الوداع کہنا چاہیے۔مصباح الحق کو کرکٹ کو خیر باد کہنے کا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔
دوسرے ون ڈے میں نئے کپتان کا فیصلہ ہوگیا
میلبرن(ویب ڈیسک)آسٹریلیا کرکٹ ٹیم سے ٹیسٹ میچ میں بری شکست کے بعد پہلے ون ڈے میچ بھی ہارنے والی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہوگئے۔پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی)کے ڈائریکٹر میڈیا امجد حسن کے مطابق پہلے ون ڈے میں انجری کا شکار ہونے کے باعث اظہر علی 2 میچوں کے لیے ٹیم سے باہر ہوگئے۔امجد حسین کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف 2 میچوں میں محمد حفیظ ٹیم کی قیادت کریں گے۔ آج میلبورن میں ہونے والی میچ میں کپتان اظہر علی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے،امید کی جارہی ہے کہ علاج کے بعد اظہرعلی سڈنی اور ایڈیلیڈ میچوں میں دستیاب ہوں گے۔ امجد حسن کا کہنا تھا کہ شعیب ملک کی فائنل الیون میں شرکت سے متعلق فیصلہ کل ہوگا،شعیب ملک کی شرکت بھی فٹنس ٹیسٹ سے مشروط ہے۔خیال رہے کہ پہلے ون ڈے میں پاکستان کو آسٹریلیا نے 92 رنز سے شکست دی تھی۔پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کیلئے سازگار وکٹ پر خود بلے بازی کا فیصلہ کیا جو ابتدا میں غلط ثابت ہوا، تاہم بعد ازاں میزبان ٹیم بڑا اسکور کرنے میں کامیاب بھی ہوئی۔آسٹریلیا نے میتھیو ویڈ کی دلیرانہ سنچری کی بدولت پاکستان کو پہلے ایک روزہ میچ میں 92 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔اس سے پہلے آسٹریلیا نے ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان کے خلاف وائٹ واش کیا تھا۔
ٹرمپ کی خلف برداری تقریب میں کیا ہونے والا ہے؟
واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنا منصب سنبھالیں گے اور اس حوالے سے ہونے والی تقریب پر صرف سکیورٹی اقدامات کی مد میں 10 کروڑ ڈالر( 10 ارب روپے سے زائد) خرچ ہوں گے۔امریکی سکیورٹی اداروں کے اندازوں کے مطابق ملک کے 45 ویں صدر کے وہائٹ ہاو¿س میں داخلے کے موقع پر ہونے والی عظیم الشان تقریب میں 8 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔ اگرچہ ٹرمپ کی تقریب میں شرکائ کی متوقع تعداد موجودہ صدر براک اوباما کی تقریب میں شرکت کرنے والے افراد سے نصف سے بھی کم ہے لیکن اس کے باوجود اس تقریب کی سکیورٹی کے اخراجات سابقہ تقاریب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ ملک کے 12 سے زائد سکیورٹی ادارے تقریب کے مقام کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، اور اس وقت تک سکیورٹی انتظامات پر رقم 10 کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے جبکہ توقع ہے کہ یہ رقم آخری روز تک اس سے بھی کہیں زیادہ ہو جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سکیورٹی کے حوالے سے اتنے بڑے پیمانے پر اخراجات کی ایک وجہ یہ ہے کہ نو منتخب صدر کے وائٹ ہاو¿س میں داخلے کے موقع پر امریکا میں 26 احتجاجی مظاہرے بھی منعقد ہو رہے ہوں گے جن میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً 40 ہزار سے زائد لوگ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کی مخالفت میں سڑکوں پر ہوں گے۔امریکی اخبار نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریب کے موقع پر واشنگٹن میں 32 ہزار پولیس اہل کاروں کے ساتھ نیشنل گارڈز کے 8 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے، اس کے علاوہ 5 ہزار سکیورٹی اہل کار پوری تقریب کے دوران واشنگٹن کی نگرانی کے فرائض انجام دیں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کے لئے سب سے اہم مسئلہ تقریب کے دوران دہشت گرد کارروائی کی روک تھام اور ٹرمپ کے خلاف احتجاج کو پر تشدد کارروائیوں اور جھڑپوں میں تبدیل ہونے سے روکنا ہو گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے منصب صدارت سنبھالنے کی تقریب میں 18 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی جو امریکا کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔
بھارت کا جنگی جنون …. تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ
نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارت کی ایک ہوائی کمپنی نے دو سو پانچ بوئنگ طیارے خریدنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت کی شہری ہوا بازی کی تاریخ میں اس معاہدے کو ایک انتہائی بڑی تجارتی سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔بھارت کی پرائیویٹ ایئر لائن اسپائس جیٹ کی بوئنگ طیارے خریدنے کی ڈیل بائیس ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق اس فضائی کمپنی کے چیئرمین اجے سنگھ نے بتایاکہ اسپائس جیٹ نے اِس انتہائی اہم اور بڑی ڈیل کو حتمی شکل دے دی ہے۔ انہوں نے اسے بھارتی شہری ہوابازی کی تاریخ کا بھی ایک اہم ترین اور بڑا کاروباری سودا قرار دیا ہے۔ اجے سنگھ کے مطابق بھارت اور بوئنگ کمپنی کے درمیان بھی یہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ اسپائس جیٹ کے چیئرمین نے بتایا کہ اب ا±ن کی کمپنی بھارت کے اندر اور بیرون ملک اپنے آپریشن اور پروازوں کے سلسلے کو وسعت دینے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ بھارتی فضائی کاروبار کے مجموعی حجم میں اسپائس جیٹ کا حصہ تیرہ فیصد ہے۔ایسے اندازے بھی لگائے گئے ہیں کہ اسپائس جیٹ نے مستقبل کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت بوئنگ طیاروں کا سودا کیا ہے اور یہ کمپنی یقینی طور پر خلیج میں بھی اپنا جال بچھانے کی کوشش کرے گی۔ اگر وہ اپنی پلاننگ میں کامیاب ہو گئی تو اتنے بڑے فلیٹ کے ساتھ وہ بھارتی ایئر ٹریفک پر غلبہ خاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
کرپشن کیس …. پی پی کے اہم رہنما اشتہاری قرار
کراچی(ویب ڈیسک)احتساب عدالت نے محکمہ اطلاعات سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس میں سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیاجبکہ کیس میں ایک ملزمہ انیتا بلوچ کو پہلے ہی اشتہارہ قراردیاجاچکا ہے ۔ہفتہ کوکراچی کی احتساب عدالت میں شرجیل میمن اور دیگر ملزمان کے خلاف محکمہ اطلاعات سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن سے متعلق ریفرنس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران نیب کے تفتیشی افسر نے شرجیل میمن کی گرفتاری سے متعلق عدالتی حکم کی رپورت پیش کی، جس میں کہا گیا کہ شرجیل میمن گرفتاری سے بچنے کے لیے بیرون ملک چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے ملزم کی گرفتاری ممکن نہیں ہوسکی ہے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو شرجیل میمن کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دےدیا۔واضح رہے کہ شرجیل میمن اور دیگر ملزمان پر محکمہ اطلاعات میں اشتہارات کی مد میں 5 ارب 79 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کا الزام ہے، اس کیس میں ایک ملزمہ انیتا بلوچ کواشہاری قرار دیا جاچکا ہے۔
جنرل (ر)راحیل کی سربراہی کا راستہ کس نے روکا ؟
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں بننے والے اسلامی اتحاد بارے کئی ماہ سے خبریں شائع ہو رہی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کہیں تردید نہ کی گئی۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی خبریں آئیں پھر بھی تردید نہ کی گئی۔ وزیر دفاع نے بھی تصدیق کی اور دو دن بعد بیان بدل دیا۔ مشیر خارجہ تو ان سے بھی آگے نکل گئے اور ایسے کسی اتحاد میں شمولیت کا امکان بھی مسترد کر دیا۔ پوری قوم عذاب میں مبتلاہے کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ میرے نزدیک وزیر دفاع کے ایک دم بیان بدل دینے اور اسلامی فورس میں شمولیت کے حوالے سے انکار کی وجہ امریکہ اور روس کی جانب سے آنے والا دباﺅ ہے۔ ایران نے بھی کھل کر اس اتحادی فورس بارے تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایران، عراق، شام، لبنان جیسے اہم ملک اس اتحاد میں شامل نہیں ہیں اوباما انتظامیہ تو اس اتحادی فورس کے حق میں تھی چند ماہ قبل جب اس اسلامی اتحادی فورس کا اعلان کیا گیا تو امریکہ نے کوئی مخالفت نہیں کی تھی لیکن اب نئے امریکی صدر ٹرمپ اس کے حق میں نہیں ہیں اس باعث حکومت کو یکدم یو ٹرن لینا پڑا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں سعودی فرمانروا براہ راست وزیراعظم نوازشریف سے فون پر بات کریں گے اور مطالبہ دہرائیں گے۔ شام اور سعودی عرب میں جنگ چل رہی ہے اور شام کی پشت پناہی کرتے ہوئے روس بھی پورا دباﺅ ڈال رہا ہے کہ اسلامی اتحادی فورس نہ بنائی جائے۔ ایران کی نیوز ایجنسیاں بھی اس اتحاد کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جنرل (ر) راحیل شریف کے خلاف مہم چل رہی ہے۔ جنرل (ر) راحیل شریف شاید اب بھی اسلامی اتحادی فورس کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے لیکن ان کے کولیگ جنرلز اس حوالے سے بات کرتے رہیں گے۔ جنرل (ر) امجد شعیب نے تو مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ راحیل شریف کو جانے کی اجازت دے، اس بات کا یہی مطلب نکلتا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف تو جانا چاہتے ہیں لیکن دنیا کی بڑی طاقتوں اس اسلامی اتحادی فورس کے بنانے کے خلاف متفق ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں جنرل (ر) راحیل شریف کے خلاف جو یکدم ایک کمپئن شروع ہوتی ہے اس میں ہمارا ایک پڑوسی ملک بھی شامل ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ میں اس بے تکی اور بیہودہ دلیل سے بالکل اتفاق نہیں کرتا کہ راحیل شریف کو سعودی عرب میں اسلامی اتحادی فورس کی سربراہی کیلئے بھیج دیا گیا تو وہ کوئی ملکی راز بھی افشا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں کتنے ہی فوجی افسر، پولیس افسر اقوام متحدہ کے تحت مختلف ممالک میں فرائض انجام دے رہے ہیں کیا ان کے بارے میں بھی یہی سوچ اپنائی جائے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ آرٹیکل 62,63 اگر واقعی اتنا خطرناک قانون ہے، ن لیگ، پیپلزپارٹی اپنے اتحادیوں سے مل کر اسے آئین سے نکال سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی آرٹیکل 62,63 بارے جو ریمارکس دیئے ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ جن ججز صاحبان نے اسے ناقابل عمل قرار دیا ان سے ایک پاکستانی کی حیثیت سے عرض کرتا ہوں کہ آئین کے شروع میں تعارف میں قائداعظم کی تقاریر سے اقتسابات لے کر شامل کئے گئے، تمام علماءنے متحد ہو کر قرارداد مقاصد کی منظوری دی کہ شریعت کے خلاف کوئی قانون سازی نہ ہو گی آج تک کسی عدالت نے قرارداد مقاصد کی مخالفت نہیں کی ہے۔ میری درخواست ہے کہ آرٹیکل 62,63 پر سپریم کورٹ میں دوبارہ بحث کرائی جائے، عوامی ریفرنڈم کرا لیا جائے کہ یہ کہ آرٹیکل 62,63 منظور ہے یا نہیں۔ سینئر صحافی نے کہا کہ بی بی سی، وائس آف امریکہ یا دیگر غیر ملکی خبر رساں ادارے خبر دینے میں آزاد ہیں۔ پانامہ میں میں اب تک جو کچھ سامنے آیا ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابھی عدالت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا صرف ریمارکس دیئے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ سکول غیر جانبداری سے کیس سن رہی ہے۔ سینئرصحافی نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ خود کو لبرل اور سیکولر ظاہر کرنے کیلئے جو منہ میں آئے کہہ دے۔
مودی نے گاندھی کو بھی نہ بخشا …. بھارت میں واویلا
نئی دہلی( ویب ڈیسک ) انڈیا کی حکومتی صنعتوں میں کام کرنے والے افراد نے سرکاری کیلنڈر پر مہاتما گاندھی کی جگہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تصاویر لگانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔کھڈی اور ویلج انڈسٹریز کمیشن (کے وی آئی سی) کے سٹاف کا کہنا ہے کہ انھیں اس فیصلے سے ‘بہت تکلیف’ ہوئی ہے۔کے وی آئی سی کا کہنا ہے کہ انھوں نے مودی کی تصاویر کو اس لیے استعمال کیا کیونکہ انڈین وزیرِ اعظم ویلج انڈسٹریز کے بڑے حامی ہیں۔مہاتما گاندھی برصغیر میں برطانوی حکومت کے خلاف بطور احتجاج کاٹن کی بنی ہوئی کھڈی استعمال کیا کرتے تھے۔کے وی آئی سی کا کہنا ہے کہ وہ روایتی طور پر سرکاری کیلنڈروں اور سٹیشنری پر مہماتما گاندھی کی تصاویر استعمال کرتا ہے۔کیلنڈر میں گاندھی کو شامل نہ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے غصہ پیدا ہوا ہے، باوجود اس کے کہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی اور ان کی کبھی بھی جگہ نہیں لے سکتا ہے۔ممبئی میں واقع کے وی آئی سی ہیڈ کوارٹرز میں کچھ ورکرز نے جمعرات کو نئی سٹیشنری کو استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے خاموش احتجاج کیا۔ان کا مزید کہنا تھا ‘ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو کیلنڈروں اور ڈائریوں میں کیوں جگہ نہیں دے گئی؟ کیا گاندھی کھڈی کی صنعت کے لیے مزید اہمیت نہیں رکھتے۔؟’دوسری جانب کے وی آئی سی نے نئے کیلنڈر کا دفاع کیا ہے جس میں مودی کو گاندھی کی تقلید کرتے ہوئے پرانے زمانے کے پہیے میں روئی کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن نے مودی کی تصاویر کو تصاویر کو استعمال کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ‘کھڈی کے بنے کپڑوں کے سب سے بڑے برینڈ ایمبیسڈر ہیں۔
وزیراعظم کے سر پر نااہلی کے سائے منڈلانے لگے
اسلام آباد( ویب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہاہے کہ بی بی سی کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم کے پاسمنصب سے چمٹے رہنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جہانگیرترین نے کہا کہ برطانوی ادارے کی رپورٹ کے بعد اب ساری حقیقت عیاں ہوگئی ہے اور اب وزیراعظم نوازشریف کے پاس اقتدار سے چمٹے رہنے کا کوئی جوازباقی نہیں رہا اس لئے ان کو عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے،فریبی ٹولہ عظیم قوم کی قیادت کا حق نہیں رکھتا ہے۔جہانگیر ترین نے کہا کہ احتساب سے کم اب کوئی آپشن باقی نہیںرہ گیا ہے،عوامی رابطہ مہم میں مزید تیزی لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف ملک کو کرپشن کی دلدل سے نکالنے اور نئی نسل کو کرپشن سے پاک پاکستان دینے کے لئے جنگ لڑ رہی ہے اس جنگ میں نئی نسل ہمارے ساتھ ہے ۔واضح رہے رہنما پی ٹی آئی کا بیان بی بی سی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد آیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لندن فلیٹس 90 کی دہائی سے شریف خاندان کی ملکیت ہیں۔

















