تازہ تر ین

مردم شماری فارم میں اہم تبدیلی بارے بڑا فیصلہ سُنادیا گیا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سپریم کورٹ میں مردم شماری فارم میں سکھ برادری کا خانہ شامل کرنے کے حوالے سے ادارہ شماریات کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ¾ ہائی کورٹ نے مردم شماری فارم میں سکھ برادری کا خانہ شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پیر کو کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔چیف جسٹس نے ریماکس دئیے کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، ملک کے 63 اضلاع میں مردم شماری مکمل ہو چکی ہے، نئے فارم کی چھپائی ممکن نہیں۔چیف شماریات نے کہا کہ مردم شماری اسٹاف کو مشین ریڈایبل فارم کے حوالے سے ٹریننگ دی گئی ہے ¾ شماریات فارم کے اندر خانہ نمبر 6 مذہب کے حوالے سے ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ مشین ریڈ ایبل فارم میں ہاتھ سے خانہ شامل کرنے پر پڑھ نہیں سکے گی ¾نادراکے پاس تمام اقلیتوں اور کمیونٹی سے متعلق ڈیٹا موجود ہے،عملی طور پر جہاں مردم شماری ہو چکی ہے وہاں دوبارہ ممکن نہیں، عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ نے ناکافی شواہد کی بناءپر سزائے موت کے ملزم کو 14 سال بعد رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔پیر کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،ملزم مامون الرشید کے خلاف جڑانوالہ والا میں اشتیاق کے قتل کا الزام تھا۔ملزم کے خلاف 14 مارچ 2002 کو قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا ، ٹرائل کورٹ نےملزم کوسزائے موت کا حکم دیا تھا ¾ ہائیکورٹ نے ملزم کی سزائے موت کو برقراررکھا ۔ ملزم کے وکیل نے مو¿قف اختیارکیا کہ ایف آئی آرمیں وقوعہ رات 12بجے جبکہ بیانات میں صبح 10بجے ظاہرکیا گیا ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایف آئی آراورگواہان کے بیانات میں تضاد ہے، استغاثہ ملزم کیخلاف ٹھوس شواہد پیش نہ کرسکا ۔ عدالت عظمیٰ نے ناکافی شواہد پرملزم کوبری کرنے کا حکم دے دیا ۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain