پانامہ کیس کا فیصلہ ….تاریخ کا اعلان ہو گیا

پانامہ کا ہنگامہ اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت ملکی تاریخ کا بڑا فیصلہ 20 اپریل کو دوپہر 2 بجے سنائے گی۔وزیر اعظم اپنے منصب پر رہنے کے اہل ہیں یا نہیں؟ فیصلہ جسٹس ا?صف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ عدالت نمبر 1 میں سنائے گا۔ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی اہلیت کا فیصلہ بھی اسی روز سنایا جائے گا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا تھا۔
بڑی عدالت کے بڑے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی، 57 روز بعد 20 اپریل کو دوپہر 2 بجے پانامہ کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا جائے گا، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کی اہلیت کا فیصلہ بھی ہو گا، قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگ گئیں۔
پانامہ کیس کا فیصلہ 20اپریل کو سنا یا جا ئے گا ،پانامہ کیس کا فیصلہ 23مار چ کو محفوظ کیا گیا تھا ۔پانامہ کیس کا فیصلہ 20اپریل کو دوپہر 2بجے سنایا جائے گا ،ترجمان تحریک انصاف کا کہنا کہ لوگ بڑی شدت سے اس فیصلے کا انتظار کر رہے تھے ۔فیصلہ پاکستان کے عوام کی جذبات کی عکاسی کرے گا ۔

بڑھتی لوڈشیڈنگ پر وزیر اعظم کا اہم حکمنامہ جاری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم نوازشریف نے ملک میں بڑھتی لوڈشیڈنگ پر وزارت پانی بجلی کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے متعلقہ محکموں کی غفلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں نے موسم کی شدت اور ڈیموں میں پانی کی کمی کے تناظر میں احتیاطی اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جس پر وزارت پانی وبجلی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت بڑھنے اور ڈیموں میں پانی کم ہونے کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اچانک اضافہ ہوا۔وزیراعظم نوازشریف نے پانی وبجلی کی وزارت کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے وزارت کے اعلیٰ حکام پر برہمی کا بھی اظہار کیا جب کہ بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی کے ذریعے صارفین کو ریلیف دیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں وزارت پانی وبجلی کے حکام نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ مستقبل قریب میں ڈیموں میں پانی کی سطح میں اضافے سے پن بجلی کی پیداوار بڑھے گی۔

مشال کے قاتلوں کے نام نہ بتانے کیلئے حلف لینے کی وڈیو منظر عام پر آگئی

خان عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے بعد کی ایک وڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں ملزمان مشال کو مارنے والوں کا نام نہ بتانے کا حلف لے رہے ہیں.13 اپریل کومردان یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی ایک اوروڈیومنظرعام پرآئی ہے، جومشال خان کے بیہمانہ قتل کے بعد کی ہے۔ وڈیو میں کئی افراد موجود ہیں جووقفے وقفے سے نعرے بلند کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہیں۔وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص پشتو میں مبینہ طور پر حلف لے رہا ہے کہ پولیس کو کوئی بھی شخص اس واقعے میں ملوث افراد کے بارے میں تفصیل نہیں بتائے گا۔ گولی مارنے کا نام کسی کو بھی نہیں بتایا جائے گا اوراگرکسی نے نام بتایا تویہ غداری ہوگی۔حلف لینے والے شخص کا نام عارف ہے اوروہ تحریک انصاف کی طلبہ تنظیم کا عہدیدارہے، وڈیو میں عارف ببانگ دہل یہ کہتا ہے کہ اگرکسی کو اس واقعے کا مقدمہ درج کرانا ہے تو شوق سے کرے اور اسے نامزد کرے۔واضح رہے کہ مشال خان کے قتل میں ملوث اب تک 22 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں 6 یونیورسٹی کے ملازمین بھی شام

مندر سے گائے کے بچھڑے کا سربرآمد ۔۔۔ حالات کشیدہ

الہ آباد (آن لائن) بھارتی ریاست اترپردیش میں واقعہ ایک مندر سے گائے کے بچھڑے کا سر ملنے کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی۔جبکہ ہندو انتہا پسندوں نے اس واقعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے بھی شروع کر دیئے ہیں ۔ صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری بھیج دی گئی ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بچھڑے کا سر الہ آباد کے علاقے شیوکنی میں میں واقعہ کے مندر ابھکشور ماہدیو نے فوراً پولیس کو اطلاع دی ۔ واقعہ کے بعد ہندو تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے اور واقعہ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ پولیس حکام نے واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی جبکہ چار مختلف پولیس اسٹیشنز کے اہلکار بھی مندر پہنچ گئے ۔اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے مندر کے قریب ایک نجی تعلیمی ادارے کو بند کروا دیا گیا۔

مشال خان کا فیس بک پیج …. رحمن ملک کا حیران کن انکشاف

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ مشال خان کی وفات کے بعد ان کا فیس بک ابھی بھی استعمال ہو رہا ہے اس حوالے سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ، مردان یونیورسٹی میں مشال خان پر حملے کے دوران لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں تھیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لوگ باہر سے آئے ہوں ۔ وہ گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگ اگر سزائیں خود دینا شروع کر دیں تو سمجھ لیں کہ ریاست کی رٹ ختم ہو گئی۔ مشال خان کو جب کمرے میں بند کیا گیا تو اس وقت یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کو کیوں نہیں بلایا ۔ اس سے ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے مشال خان کے قتل کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ جب بھی مشال خان کے قتل کی ویڈیو دیکھتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں ۔ مشال خان کی وفات کے بعد ان کا فیس بک ابھی بھی استعمال ہو رہا ہے اس حوالے سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ، مردان یونیورسٹی میں مشال خان پر حملے کے دوران لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں تھیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ لوگ باہر سے آئے ہوں۔

بھارت کو سبق سکھانے کیلئے کلبھوشن کو پھانسی دی جائے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) خالصہ تحریک کے بانی اور ورلڈ مسلم سکھ فاونڈیشن کے چیئرمین منموہن سنگھ نے مودی کو دوسرا ہٹلر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے اسے سبق سکھانے کیلیے کلبھوشن کوپھانسی دی جائے۔نجی ٹی وی سے گفتگومیں کہا کہ ذات پات نے برصغیر کا بیڑا غرق کیا جبکہ وہاں مسلمانوں، سکھوں اورمسیحیوں کو مارا جارہا ہے۔ بی جے پی، کانگرس، شیو سینا، مہادل اور راشٹریہ سیوک کا ایجنڈا ہندی، ہندو اور ہندوستان ہے۔ امیتابھ بچن اورجیابچن پارلیمنٹ میں ڈرامہ بازی کرتے ہیں، یہ اقلیتوں کومعاف نہیں کرتے، انھوں نے سکھوں کے قتل عام کومعمولی قراردیا۔منموہن سنگھ نے کہا کہ پاکستانی میڈیا بھارت کوننگا کرے، وہ کشمیرکی بات ضرور کرتا ہے مگر ناگا لینڈ، منی پور، آسام اور تامل ناڈو وغیرہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں، ان پر مظالم کی خبر باہر نہیں نکلتی۔ میں 35برس سے جلاوطن ہوں، میرے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے گئے، 82 میں زندہ یامردہ میرے سرکی قیمت رکھی گئی، میری بیوی کو8برس گھرمیں نظر بند رکھا گیا، جہاں وہ بیماری سے مرگئی، میرے 3 بھائی جان بچانے کیلیے امریکا چلے گئے۔ انھوں نے کہا کہ مودی کادائیں ہاتھ اجیت دوول یہاں5 سال جاسوسی کرکے نکل گیا مگرکلبھوشن پکڑا گیا۔۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس بھارت نے کرایا، انھیں سبق سکھانے کیلیے کلبھوشن کوپھانسی دی جائے۔ میرے آباو اجداد پاکستان سے ہیں۔ علاوہ ازیں انٹرویو کے اختتام پر منموہن سنگھ نے پاکستان اورخالصتان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

برڈ فلو واوئرس سر اٹھانے لگا

شائی جیا جوانگ (آئی این پی) شمالی چین کے صوبہ ہیبی میں برڈ فلو ایچ 7این 9کے ایک اور کیس کا پتہ چلا ہے ، اس کی اطلاع مقامی صحت حکام نے دی ہے، عرفی نام لایو والا 69سالہ مرد مریض لانگ فانگ شہر کے موضع ڈا چینگ کے ایک دیہات میں رہتا ہے ، بیمار ہونے سے پہلے اس کا زندہ مرغیوں کے ساتھ واسطہ رہا۔ یہ بات موضع کے محکمہ صحت کے حکام نے بتائی ہے۔ لایو علاج کیلئے ہسپتا ل میں داخل ہے اور اس کے ساتھ قریبی رابطے والے افراد میں سے کسی قسم کی علامات نہیں پائی گئی ہیں ،علاقے میں یہ رواں ہفتے برڈ فلو کا دوسرا کیس ہے ،ٹیان جن نے گذشتہ روز تصدیق کی کہ ایک اٹھاون سالہ خاتون مریضہ یہ وائرس لاحق ہوا ہے۔

ملک میں پانی کا شدید بحران

اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی)چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ سینیٹ کے وقار اور اس کے تقدس کی بحالی کیلئے حکومت اور اراکین سینیٹرز کو اپنے استعفیٰ کی پیشکش کی تھی، وزیراعظم نواز شریف نے اسحاق ڈار اور راجہ ظفر الحق کے ذریعے یقین دہانی کرادی ہے کہ وہ ایوان کے تقدس کی بحالی کیلئے کردار ادا کریں گے اور اس سلسلہ مےں تحریری مراسلہ جاری کریں گے۔ان خےالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سینیٹ اجلاس میں اپنے ریمارکس میں کےا۔ قبل ازیں سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ میں آپ کو اس نشست پر دوبارہ براجمان ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں جس پر ایوان مین اراکین نے ڈائس بجا کر استقبال کیا ۔ رضاربادنی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے وزیر اسحاق ڈار نے یقین دہانی کروائی کہ وزراءکو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایوان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے تحریری طور پر مراسلہ جاری کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے مجھے کہا گیا ہے کہ ایوان کو بلانے کیلئے ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری ‘ عمران خان ‘ مولانا فضل الرحمن‘ اسفندیاروالی ‘ سپیکر نیشنل اسمبلی ایاز صادق ‘ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق سینیٹ کے ملازمین کا شکریہ اداکیا۔ جنہوں نے اس مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیا۔ چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان میں پانی کا شدید بحران ہے۔ مستقبل میں اس کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تمام صوبوں اور وفاق کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ گزشتہ روز سینیٹر سلیم مانڈوی والا کریم اللہ ، محسن عزیز، فرحت اللہ بابر، سعید الحسن، مندر خیل اور محمد راو خان اچکزئی کی طرف سے پیش کی گئی تحریک پر ریماکرس دے رہے تھے۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ پاکستان خطرناک دور سے گزر رہا ہے ۔ 25 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے۔ یہ کسی ایک صوبے کا نہیں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بے دریغ پانی کا استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستانیوں کو احساس ذمہ داری کرنا ہو گی۔ صوبے پانیوں کے مسئلے پر جنگ کریں گے۔ سول وار جنگ ہو گی۔ 1960,70کے بعد ہم ڈیم نہیں بنا سکے۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ہمارے پاس ڈیم نہیں ہے۔ پانی کو زخیرہ کرنے کے لئے ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے۔ پانی کا شدید بحران ہے۔ خدانخواستہ ہم جنگ میں نہ چلے جائیں۔ مرکز اور صوبوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے زمین ایکوائر کرلی گئی ہے 90فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ یہ صوبوں کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے۔ چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ فاضل وزیر نے اگست میں کہا ہے کہ صوبوں سے مشاورت کی جائے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ پر مشتمل ہول (hole)کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ پاکستان2025 میں پانی کے حوالے سے بحران کا شکار ہو جائے گا۔ ہمارا موازنہ ایتھوپیا سے کیا جا رہا ہے۔ نیلم جہلم ڈیم کے تاخیر کی وجہ سے بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنایا۔ دہشتگردی سے بڑا بحران پانی کا پیدا ہو جائے گا۔ وفاق اور صوبے مل کر کام کر یں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ گندے پانی کے باعث پاکستان میں ہیپاٹائٹس بڑھ رہا ہے اس معاملے پر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پانی کے معاملہ پر ممالک میں جنگ شروع ہو جائے گی۔ نیشنل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس مسئلے پر تجویز آنی چاہیئے۔ چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ وزارت خارجہ کی کمیٹی کو اس معاملہ پر کام کرنا چاہیئے۔ محسن لغاری نے کہا کہ پانی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کام نہیں ہو رہاہے۔ جدید ٹیکنالوجی پر کسانوں کو تربیت دینا ہو گی۔ جدید کام کرنا ہو گا۔ انڈیا کے ساتھ انٹر سٹی واٹر ٹریٹی کا معاہدہ ہوا۔ نیشنل کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ چیئر مین سینٹ نے کہا کہ ان کے حوالے سے سابق چیئر مین سینٹ نیئر بخاری نے کمیٹی بنائی تھی۔ مگر اس پر کمیٹی کی ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ اس معاملہ کو سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ عثمان خان نے کہا کہ دنیا میں تیسری جنگ پانی پر ہو گی حکومتوں نے پانی پر مجرمانہ غفلت کی ۔ بلوچستان اور کے پی کے میں نہری نظام نہیں بن سکا۔ اس صوبے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ صاف پانی 70فیصد لوگوں کو میسر نہیں ہے۔ بلوچستان میں پیسوں کی کمی کے باعث ڈیم نہیں بنا رہے ہیں۔ 30سے40فیصد لوگ بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کے امراض میں مبتلا ہیں چھوٹے ڈیم بنائے جائیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ امور انجینئر بلیغ الرحمان نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سانحہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے حوالے سے 8 ملازمین سمیت 22 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ‘ اعلیٰ قیادت نے مشعال خان کے خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے جبکہ تمام جماعتوں کے اراکین نے مردان یونیورسٹی میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں طالب علم مشعال خان کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعہ کو درندگی قرار دیدیا ہے، ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مشعال خان قتل کیس کو فوجی عدالت کے سپرد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے‘ عوامی اہمیت کے معاملات پر نکتہ اعتراض پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر الیاس احمد بلور نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لیا گیا ۔ یہ واقعہ درسگاہ میں کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پانچ جامعات کے وائس چانسلرز نہیں ہیں اگر جامعات کے سربراہان ہی نہیں ہوں گے تو ان میں نظم و ضبط کیسے قائم کریں گے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ اس بربریت کے موقع پر لوگوں اور پولیس والے بھی موجود تھے مشعال کو بچانے کے لئے موجود لوگ سیلفیان بناتے رہے۔ بدقسمتی سے قانون کی عملداری کو چیلنج کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم خان نے کہاکہ یہ دہشت گردی نہیں ہے بلکہ درندگی ہے۔ ہم سب کو اکٹھا ہو کر ملک کو ایسے واقعات سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عائشہ رضا ربانی نے کہا کہ دن دیہاڑے خون بہایا گا ہے۔ معاشرے میں کوئی بھی اس قسم کی بربریت کی حمایت نہیں کر سکتا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے پس پردہ معاملات کو بھی دیکھا جائے۔ سینیٹر سراج الحق نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے سے برداشت ‘ اعتدال ختم ہوتا جا رہا ہے۔ انتہائی المناک صورتحال ہے ۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سارے معاشرے پر اس واقعہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جنگل کے قانون کا سماں تھا۔ طاقت کے استعمال کی سوچ دی گئی ہے۔ اکثر جامعات میں وائس چانسلرز نہیں ہیں ۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ واقعہ بربادی کی نشانی ہے ‘ بے گناہ کا قتل کیا گیاہے۔ ایسے واقعات کا تدارک نہ کیا گیا تو مستقبل خوفناک ہے۔ سینیٹر محسن عزیز نے مطالبہ کیا کہ جنہوں نے نماز جنازہ سے روکا ان کو بھی سزا دی جانی چاہیے۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہاکہ انتہائی دکھ اور افسوس کا مقام ہے۔ ولی خان یونیورسٹی میں طالب علم کے ساتھ بربریت اور ظلم ہوا ہے۔اراکین پارلیمنٹ جامعات میں کانووکیشن میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ کوئی این جی اوز اور امدادی ادارے کسی فائیو سٹار میں کوئی فکشن کرے تو ہم محفوظ رہتے ہیں۔ اس لئے تعلیمی معیار کے بارے میں سوال اٹھ رہے ہیں اگر اصلاح احوال نہ کی گئی تو مطلب ہے کہ مزید واقعات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ کراچی میںڈھائی سو لوگوں کو جلایا گیا اگر ان خاندانوں کو انصاف مل جاتا تو کسی کو اس قسم کے واقعہ کو دہرانے کی ہمت نہ ہوتی۔ ملوث افراد اور خاموش تماشائی تفتیش کر کے اور جنہوں نے جھوٹا الزام لگایا سب کو سزا دی جائے۔ مقدمہ فوجی عدالت میں بھجوایا جائے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے بھی واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ جھوٹا الزام لگانے اور عوام و طلبہ کو مشتعل کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔ سینیٹر شاہی سید نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے غم زدہ خاندان کو سرخ سلام پیش کیا اور کہا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارہ میں یہ واقعہ ہوا ہے یہ کسی مسجد ‘ مدرسہ یا بازار میں نہیں ہوا۔ ڈی ایس پی پولیس کے ساتھ موجود تھا جرات نہ ہوئی۔ اسلام آباد میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کے سامنے ایک ایس پی پر ہجوم نے تشدد کیا اس قسم کے واقعات پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں اس قسم کے واقعات پر عوام سے بات کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ہماری تعلیم اقدار ‘ مذہبی تعلیمات کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ اراکین سینٹ کو جامعات کے دوروں کا پابند بنایا جائے۔ سینیٹر سلیم ضیاءنے بھی واقعہ کی مذمت کی۔ نہ عدالت لگی نہ الزام تھا اور ہجوم بربریت کا مظاہرہ کیا گیا لوگ خاموش تماشائی بنے رہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے بتایا کہ آئی جی خیبر پختونخوا سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ عبدالولی خان یونیورسٹی میں کشیدگی کی اطلاع پر ڈی ایس پی سوا ایک بجے پولیس کے ہمراہ جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے سامنے پہنچ گئے تھے۔ مشتعل ہجوم ہاسٹل نمبر ایک میں فائرتگ کی اطلاع ملی نعش سڑک پر پڑی تھی۔ پولیس نے فوری طو رپر نعش کو تحویل میں لیا۔ 70 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کی تھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے کوشش کے بعد 20 میں سے 16 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے مزید 6 گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں کچھ ملازمین بھی شامل ہیں۔ کل 22 گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ساری اعلیٰ قیادت نے اس واقعہ کی مذمت کی کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ نصاب تعلیم میں بہتری کیلئے کام ہو رہا ہے۔

لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کا ٹرانسفارمر سے اُلٹا لٹک کر احتجاج

لاہور (نیوز ایجنسیاں) بجلی لوڈ شیدنگ کا مسئلہ بدستور جاری ہے۔ ملک بھر میں غیر اعلانیہ اور جبری لوڈ شیڈنگ بھی ہونے لگی ، بڑے شہروں میں چھ سے آٹھ اور چھوٹے شہروں و دیہی علاقوں میں بارہ گھنٹے سے بھی زیادہ بجلی بندش ہونے لگی۔ این ٹی ڈی سی ذرائع کے مطابق بجلی کی طلب 16 ہزار 300 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے ، بجلی کی پیداوار صرف 10 ہزار ایک سو میگاواٹ ہے جس سے بجلی کا شارٹ فال چھ ہزار دو سو میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے جبکہ بڑے ڈیمز میں پانی کی سطح انتہائی کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ کی بجائے صرف ایک ہزار 400 میگاواٹ تک ہے اور بجلی کی پیداوار کا تمام بوجھ آئی پی پیز اور تھرمل پاور پلانٹس پر آ چکا ہے۔ بجلی کا شارٹ فال زیادہ ہونے سے بجلی کی تقسیم کا کمپنیوں کے لوڈ شیڈنگ کے جاری کردہ شیڈول کاغذوں تک ہی دھرے رہ گئے۔ سسٹم اوور لوڈ ہونے سے نیشنل پاور کنٹرول سنٹر سے تقسیم کار کمپنیوں کو بتائے بغیر ہی بجلی کی بندش ہونے لگی جس سے شہری علاقوں میں چار سے چھ اور دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے شیڈول سے زیادہ بجلی کی بندش ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بڑے ڈیمز سے پن بجلی کی پیداوار میں اضافے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں کمی نہیں ہو سکے گی اور مزید چند روز طویل دورانیہ کی بجلی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سکھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سول سوسائٹی کا جسم پر سوئچ بورڈ باندھ کر اور ٹرانسفارمر سے الٹا لٹک کر احتجاج اور نعرے بازی،ایک طرف گرمی تو دوسری طرف بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ذہنی مریض بنادیا ہے،مظاہرین کی دہائی تفصیلات کے مطابق سکھر اور گردونواح میں سیپکو کی جانب سے کی جانے والی بارہ سے چودہ گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف سول سوسائٹی نے گھنٹہ گھر پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی اس موقع پر مظاہرین نے اپنے جسم پر بجلی کےسوئچ بورڈ باندھ کر اور وہاں پر لگے ٹرانسفارمر پر الٹا لٹک کر نعرے بازی کی اس موقع پر رہنماو¿ں کا کہناتھا کہ سکھر اور گردونواح میں گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی سیپکو نے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کردیا ہے بارہ سے چودہ گھنٹے بجلی بلاجواز بند رکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کررہ گیا ایک طرف گرمی تو دوسری طرف بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو ذہنی مریض بنادیا ہے سیپکو حکام کچھ بھی سننے کو تیار نہیں فیکٹریوں میں کام شدید متاثر ہوگیا ہے جس سے مزدوری پیشہ طبقہ سخت پریشانی کا شکار ہے سیپکو حکام ہیں کہ کچھ سننے کوتیار نہیں ہیں ان کے کانوں پر لوگوں کی آہ وبکا پر بھی جوں تک نہیں رینگ رہی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکھر اور گردونواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے بصورت دیگر عوام سڑکوں پر ہونگے اور سیپکوو حکام کے دفاتر کا گھیراو¿ کریں گے۔

سعودی عرب کیخلاف خوفناک منصوبے کی سازش …. ترجمان فوجی اتحاد کے تہلکہ خیز انکشافات

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ ایران نے یمن سے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔انھوں نے اس بات کا انکشاف عرب ٹی وی سے بات چیت میں کیا،انھوں نے کہا کہ اس سازش کا آغاز یمنی سرحد سے کیا گیا تھا اور اس کے جواب میں سعودی عرب اور عرب ممالک پر مشتمل اتحاد کی فورسز نے مملکت کے دفاع کے لیے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاع کے لیے مداخلت کی تھی۔ وہ مارچ 2015ءسے جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان کا حوالہ دے رہے تھے۔احمد العسیری نے انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مقامی ملیشیاو¿ں کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ تہران نے حوثی ملیشیا کی مالی اور اسلحہ کی مدد کا آغاز سنہ 2004ءسے کیا تھا اور تب حوثیوں نے معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کی تھی۔یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں حوثی باغی ایران کے مہیا کردہ اسلحے کو استعمال کررہے ہیں اور اس حوالے سے آئے دن خبروں اور رپورٹس کی شکل میں انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔امریکا اور خلیجی ممالک بھی ایران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتے ہیں جبکہ ایران سرکاری سطح پر ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کو ایرانی ذرائع کی جانب سے حوثی جنگجوو¿ں کو ایک سو ڈالرز روزانہ دینے کا پتا چلا ہے۔اس کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی یمن میں حوثیوں کی تربیت کے لیے موجودگی کی انٹیلی جنس اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔انھیں سعودی عرب کے اندر خودکش کارروائیوں کی بھی تربیت دی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ سعودی فورسز کو یمن کو ایک ایسا میزائل اڈا بننے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی جہاں سے سعودی مملکت کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے جبکہ ایرانیوں نے ایسی ہی سازش کی تھی اور وہ یمن کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرکے وہاں سے سعودی مملکت پر حملے کرسکتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یمن کا سرحدی علاقہ اس سازش کے نتیجے میں غیر مستحکم بن جاتا اور پھر وہاں سے ایجنٹوں کو سعودی عرب میں دراندازی کا موقع مل جاتا۔انھوں نے مزید بتایا کہ یمن میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کی جانب 48 بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں اور حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی مملکت کی حدود میں یا یمن کے اندر سعودی فورسز پر 138 راکٹ فائر کیے گئے ہیں ۔بریگیڈیئر عسیری کے بہ قول یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ میزائل چین ،شمالی کوریا اور سابق سوویت یونین کی ریاستوں میں تیار کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ ایران ان میزائلوں کی تیاری اور مرمت کا ذمے دار رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سب خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار ملیشیاو¿ں کے کنٹرول میں ہیں اور وہ غیر ریاستی عناصر ہیں۔اگر کسی ملک میں کوئی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی حکومت کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن غیر ریاستی عناصر کو کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے۔اس لیے ان کے قبضے میں آنے والے جدید ہتھیار بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ اگر ایران یمن میں حکمرانی کی کوشش کرتا تو سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو دو محاذوں مشرقی اور جنوبی محاذ پر لگا دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔