مذہب کی توہین اور فحاشی پھیلانے والوں کیخلاف سخت کاروائی گستاخ بلاگرز کو پاکستان لا کر کاروائی کا حکم

اسلام آباد (کرائم رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے مقدمے میں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بیرون ملک چلے جانے والے پانچ بلاگرز کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں تو ان کو وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جائیں۔جمعہ کوجمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گستاخانہ مواد سے متعلق کیس نمٹاتے ہوئے 3 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مختصر فیصلے میں حکم دیا ہے کہ وزارت داخلہ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے جو سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کو مکمل طور پر ہٹانے کے سلسلے میں قدم اٹھائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی یعنی پی ٹی اے ایسا جامع اور حساس میکینزم تشکیل دے گا جس کے تحت گستاخانہ مواد یا صفحات کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی تاکہ ان کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔اس کے علاوہ چیئرمین پی ٹی اے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک سائنسی میکینزم وضع کریں تاکہ گستاخانہ اور فحش مواد کے بارے میں آگہی پھیلائی جائے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مختصر فیصلے میں وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وزارت کے سیکریٹری متعلقہ اداروں یا افراد کا ایک پینل یا کمیٹی تشکیل دیں جو ایک ایسی جامع مہم شروع کر کے سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد زائل کرے، متعلقہ لوگوں کی شناخت کرے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔وزارت داخلہ کو ہی حکم دیا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ ان غیرسرکاری اداروں(این جی اوز) کی نشان دہی کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی جن کا ایجنڈا ملکی یا غیر ملکی فنڈنگ سے پاکستان میں توہینِ مذہب اور فحاشی پھیلانا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مختصر میں حکم دیا ہے کہ چونکہ اٹارنی جنرل نے پہلے ہی سے گستاخانہ اور فحش مواد کا معاملہ اور غلط الزام دہی کو انسدادِ الیکٹرانک جرائم مجریہ 2016 میں شامل کر لیا ہے، توقع ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے معاملے کی حساسیت کا خیال رکھیں گے اور ایک مہینے کے اندر اندر مناسب کارروائی کریں گے۔عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ میں ایک ماہ کے دوران ترامیم کی جائیں جس میں گستاخانہ اور فحش مواد کو جرم قرار دیا جائے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ میرٹ پر اور قانون کے مطابق معاملے کی تحقیقات کی جائیں جب کہ پی ٹی اے کو متنازع پیجز کی نشاندہی کے بعد انہیں ہٹانے کا طریقہ کار وضع کرنے کا کہا گیا ہے، ساتھ ہی چیرمین پی ٹی اے کو گستاخانہ اور فحش مواد سے متعلق قانونی سزائیں دینے سے متعلق بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔قبل ازیں سماعت کے موقع پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ سماعت کے دوران طارق اسد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صرف متنازع پیجز کو بلاک کرنا مسئلے کا حل نہیں، جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ بلاگرز بیرون ملک جا چکے تو انہیں کس طرح واپس لایا جائے، عدالت اس سے زیادہ کیا کر سکتی ہے؟ ملزمان کی نشاندہی کر دیں تو خود پکڑ کر لے آتا ہوں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے مظہر کاکا خیل نے کہا کہ ہم رحمان بھولا کو لا سکتے ہیں تو بلاگرز کو بھی لا سکتے ہیں، ملزم نامزد ہوں توریڈ وارنٹ جاری کروا کے واپس لایا جاسکتا ہے۔

جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کا دھاوا, اہم رہنماﺅں سمیت درجنوں گرفتاریاں

کراچی (وقائع نگار+ مانیٹرنگ ڈیسک) احتجاج، دھرنا، ہنگامہ آرائی، شیلنگ، ہوائی فائرنگ، کراچی کی شارع فیصل، شاہراہ قائدین اور نیو ایم اے جناح روڈ میدان جنگ بن گئیں۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور پولیس آمنے سامنے آگئے، بجلی مہنگی کرنے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنے کے اعلان پر پولیس ایکشن میں آگئی۔ادارہ نور حق سے حافظ نعیم الرحمان سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ کارکنوں نے پولیس پر پتھراﺅ کیا،کامیاب مذاکرات کے بعد شارع فیصل پر ٹریفک بحال ہوگئی جبکہ حافظ نعیم الرحمان کو رہا کردیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی متعدد کارکنوں کے ساتھ گرفتاریوہ واقعہ تھا جس کے بعد کراچی میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، جلاﺅ گھیراﺅ، پتھراﺅ، شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا نہ ر±کنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس سے پہلے حافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نور حق میں میڈیا سے گفتگو کی اور الزام لگایا کہ کے الیکٹرک نے زائد بلنگ کے ذریعے کراچی کے شہریوں سے اربوں روپے لوٹے، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 62 ارب روپے وصول کئے،غریب عوام کی کمر بل بھربھر کے ٹوٹ چکی مگر اقتدار میں بیٹھے لوگ اس ناجائز آمدنی میں سے اپنا حصہ وصول کر کے خاموش ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ اس زیادتی کے خلاف شارع فیصل پرپرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے تاہم جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی، پولیس حرکت میں آگئی۔ شدید مزاحمت اور ہاتھا پائی کے باوجود پولیس حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرکے لے گئی، اس کے ساتھ ہی نیو ایم اے جناح روڈ سے شروع ہونے والا احتجاج، دیکھتے ہی دیکھتے شارع فیصل تک پھیل گیا۔ مظاہرین نے پیپلز سیکریٹریٹ چورنگی پر دھرنا دیا اور ٹائر جلا کر شاہراہ قائدین بلاک کردی، اس دوران پولیس شیلنگ کرتی رہی۔ شارع فیصل پر احتجاج کی شدت زیادہ شدید رہی، جہاں پولیس نے جماعت اسلامی کے احتجاجی کیمپ کو ا±کھاڑ پھینکا اور 3کارکنوں کو گرفتار کر لیا، تاہم شام کے وقت جماعت اسلامی کے کارکنوں کی بڑی تعداد شارع فیصل پہنچ گئی اور دھرنا دے کر دونوں ٹریک بند کر دیئے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کافی دیر تک آمنے سامنے رہے، ایک طرف سے پتھراﺅ کیا گیا تو دوسری طرف سے شیلنگ اور کبھی کبھی ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔دھرنے کے باعث شارع فیصل پر ٹریفک کئی گھنٹے معطل رہا اور کام سے گھر جانے والے ہزاروں شہری بدترین ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔رات 8بجے کے قریب پولیس سے مذاکرات کے بعد مظاہرین ایک طرف ہٹ گئے اور شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی، دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کے کارکنوں سے اپیل بھی کی کہ شارع فیصل اور دیگر سڑکوں پر ٹریفک میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کو رش سے نکلنے میں رہنمائی اور مدد کریں۔جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا دھرنا پر امن تھا لیکن حکومتی اقدامات سے حالات خراب ہوئے، تاہم شارع فیصل پر دھرنے کے دوران کسی گاڑی کو نقصان پہنچا اور نہ ہی شیشہ ٹوٹا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی میں سڑکیں ہم نے نہیں انتظامیہ نے بلاک کی تھیں۔ پرامن دھرنے کی کوشش پر ہمارے خلاف ایکشن لیا گیا، عوامی مسائل کے حل کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں اووربلنگ بہت بڑا مسئلہ ہے جس نے غریب عوام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ جماعت اسلامی نے احتجاج کرنے کا بہت پہلے بتا دیا تھا۔ دوسری طرف امیر جماعت اسلامی سندھ معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا ہے جماعت اسلامی کراچی کے رہنماﺅں اور کارکنان کی گرفتار قابل مذمت ہیں، احتجاجی کارکنوں کو فوری رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں وسیع کریں گے جماعت اسلامی کے کارکنان سندھ حکومت کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہوں گے۔ معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کو لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلوں کے ذریعے تنگ کر رہی ہے۔ گھی جب سیدھی انگلیوں سے نہ نکالا جائے تو ٹیڑھا پن دکھایا جاتا ہےمسلم لیگ نواز کے سینیٹر نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کی گرفتاری انتہائی جابرانہ اور ظالمانہ کارروائی ہے، مسلم لیگ ن جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے سندھ حکومت کرپٹ لوگوں کوسونے کے تاج پہنا رہی ہے، کارکنوں کی گرفتاری کی بجائے کراچی کا کچرا اٹھایا جائے۔عوامی معاملات اور کے الیکٹرک کے خلاف ن لیگ بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءعارف علوی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج جائز ہے اس معاملے کو ہینڈل کیا جائے،کے الیکٹرک نے بجلی کے کھمبوں کی تاریں تک بیچ دی ہیں،کراچی کے حقوق کے لئے جنگ میں تحریک انصاف بھی جماعت اسلامی کا ساتھ دے گی۔ کراچی الیکڑک کے خلاف شارع فیصل جماعت اسلامی اور پولیس کے درمیان میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے، پولیس جماعت اسلامی کے کارکنان پر اندھا دھند شیلنگ کر رہی ہے جبکہ جماعت کے کارکنوں کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراﺅ کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعلیٰ کی کور کمانڈر لاہور سے ملاقات, بڑا اعلان جاری

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلی نجاب محمد شہبازشریف سے سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولیشن (Devolution)کے وفدنے چیئرمین سینیٹر میر کبیر احمد شاہی کی قیادت میں ملاقات کی اور سینیٹر کے وفد نے پنجاب میںہونے والے شاندار ترقیاتی کام پر شہبازشریف کی تعریف کی اور ان کے اقدامات کوقابل تقلید قرار دیا-سینٹ کمیٹی کے وفد میں سینیٹر کرنل (ر) سید طاہرحسین مشہدی ، سینیٹر تاج حیدر، سینیٹر عثمان خان کاکڑ اور سینیٹر سردار اعظم خان موسی خیل شامل تھے-اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کبیر احمد شاہی نے کہاکہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے حوالے سے پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر انداز میں کام کیا ہے اور18ویں ترمیم کے بعد وزیراعلی شہبازشریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لئے نمایاں کام کیاہے-سینیٹر کرنل (ر) سید طاہرحسین مشہدی نے کہا کہ پنجاب میں ہونے والے شاندار کام کا کریڈ ٹ وزیراعلی شہبازشریف کی ولولہ انگیز قیادت کو جاتا ہے اور پنجاب میں جو غیر معمولی کام ہوئے ہیں اس کے پیچھے اصل قوت محرکہ شہبازشریف کی قیادت ہے – تعلیم اور صحت کے میدان میں شہبازشریف نے بے مثال اور انقلابی نوعیت کے اقدامات کئے ہیں-سینیٹر تاج حیدر نے کہاکہ تعلیم کے میدان میں پنجاب حکومت کی پیشرفت سے بہت متاثر ہو ں،جس طرح آپ نے آج داخلہ مہم کا آغاز کیاہے دیگر صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہےے- ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے حوالے سے آپ نے بہترین قانون سازی کی ہے -ہم یہ ماڈل سندھ میں لانا چاہتے ہیں-سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہاکہ پنجاب حکومت نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لئے حقیقی معنوں میں شاندار کام کیاہے اوروزیراعلی شہبازشریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے تعلیم اور صحت کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے جو دیگر صوبوں کے لئے قابل تقلید ہے-سینیٹر سردار اعظم خان موسی خیل نے کہاکہ وزیراعلی شہبازشریف نے 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے حوالے سے بڑے اچھے انداز میں پیشرفت کی ہے اورمیںان کے غیر معمولی کاموں کی تحسین کرتا ہوں -وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان ہم سب کا ہے ہمیں ایک دوسرے کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہےے- پاکستان اسی وقت ترقی کرے گا جب چاروں صوبے ایک ساتھ آگے بڑھیں گے -انہوں نے کہاکہ چاروں صوبوں میں اقتصادی ، معاشی اور دیگر شعبوں میں تعاون ہونا چاہےے-جب چاروں صوبوں میں خوشحالی نظر آئے گی تو پاکستان خوشحال ہوگا – انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کو حاصل کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے اپنے حصے کے سالانہ 11ارب روپے دئےے-انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر مشرف 10برس تک این ایف سی ایوارڈ حاصل نہ کر سکا- سیاسی شعور رکھنے والے لوگوں نے ایثار ، خلوص اور محبت کے ساتھ یہ ایوارڈحاصل کیا-آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا-انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے تعلیم اور صحت کے میدان میں بعض انقلابی نوعیت کی اصلاحات متعارف کرائی ہیں-کئی برسوں کے جمود کو توڑنے کے لئے انفرادیت اور جدت کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے-وزیراعلی نے کہاکہ مریضوں کو ہسپتالوں میں علاج اوردوائی چاہےے ، ہڑتال یا احتجا ج نہیںاوراس ضمن میں پنجاب حکومت نے کڈنی ہسپتال ملتان کی مینجمنٹ انڈس گروپ کے حوالے کی ہے- انہو ںنے کہا کہ پنجاب کے ہرتعلیمی پروگرام میں دیگر صوبوں کے طلبا وطالبات کوشامل کیا گیاہے -بلوچستان کے طلبا وطالبات کا کوٹہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بڑھایا گیاہے اور ہمارا یہ اقدام قومی یکجہتی او ربھائی چارے کو فروغ دے رہاہے -لسانی بنیادوں پر تفریق پیداکرنے کی کوشش کرنے والے ملک سے ناانصافی اور دشمنی کر رہے ہیں-انہوں نے کہاکہ پاکستان ہماراہے اور ہمیں سب کو ملکر اسے آگے لے کر جانا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے ملاقات کی جس میں پیشہ ورانہ امور، سکیورٹی معاملات اور آپریشن ردالفساد پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور کور کمانڈر لاہور نے دہشت گردوں اور ان کے معاونت کاروں کے خلاف آپریشن ردالفساد کے تحت جاری کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات میں دہشت گردی، انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور آپریشن ردالفساد کے تحت فسادیوں کے خلاف آپریشن مزید تیز کرنے پر اتفاق ہوا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے شہید پولیس افسروں ، اہلکاروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی لازوال قربانیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور قوم کے بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیوں کی بدولت پاکستان یہ جنگ جیت رہا ہے۔عظیم اور لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان میں امن بحال ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور فرقہ واریت کے مائنڈسیٹ کو بھی پوری قوت سے کچلنا ہے۔دہشت گردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے مذموم عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے محب وطن اور دلیر عوام کا عزم انتہائی مضبوط ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی و عسکری قیادت سمیت پوری قوم ایک صفحے پر ہے۔پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جرا¿ت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔پاک افواج اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں سمیٹی ہیں۔آپریشن ردالفساد سے وطن عزیز سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہوگا اور پائیدار امن قائم ہوگا۔انہو ںنے کہا کہ ہماری بقا دہشت گردی کے خاتمے میں ہی مضمر ہے اور پوری قوم اس مقصد کے حصول کیلئے یکجا ہے۔نیشنل ایکشن پلان پاکستان میں امن کی ضمانت ہے۔سیاسی و عسکری قیادت کے متفقہ فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںدنےا بھی پاکستان کی عظیم قربانیوں کی معترف ہے اور پاکستان کی عظیم قربانیوں کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل بند کراکے دم لیں گے اور اس کیلئے آخری حد تک جائیں گے کیونکہدہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت پاکستانی عوام کا مقدر نہیں۔آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اورمعصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عبرتناک انجام سے نہیں بچ پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جو ناپاک سازش کر رہا ہے، اسے اجتماعی کاوشوں سے ناکام بنائیں گے۔وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف سے سےنےٹر عطاءالرحمن نے ملاقات کی ۔وزےراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزےراعظم نوازشرےف کی قےادت مےں حکومتی پالےسےوں کے باعث معےشت مےں نماےاں بہتری آئی ہے اورملک مےں سرماےہ کاری کے فروغ اورمعاشی سرگرمےوں کے بڑھنے سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پےدا ہوئے ہےں ۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب مےں جدےد انفراسٹرکچر نے سرماےہ کاری کے مواقع بڑھائے ہےں۔انہوںنے کہا کہ پاکستان مسلم لےگ(ن) کی حکومت عوام سے کےے گئے وعدے پورے کر رہی ہے۔ ترقی کے مخالفےن کی رکاوٹوں کے باوجودملک کی ترقی کا سفر تےزی سے جاری ہے۔ انہوںنے کہا کہ کبھی دھرنے ،کبھی لاک ڈاو¿ن اورکبھی بے بنےاد الزامات کی سےاست کرنےوالوں کے عزائم کوباشعور عوام نے ہر بار ناکام بناےا،اس لئے قوم کے اربوں روپے بچانے والی قےادت پر بے بنیادالزامات لگانے والوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے جبکہ پاکستان کے باشعور عوام نے بے بنیاد الزامات لگانے والوں کو ہر موقع پر مسترد کےا ہے اورعوام جان چکے ہیں کہ یہ شکست خوردہ عناصر پاکستان کی تیز رفتار ترقی سے خائف ہیں – وزےراعلیٰ نے کہاکہ وسائل قوم کی امانت ہےں اوراسے عوام کو سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کرتے رہےں گے۔ مےٹروبس سسٹم اور اورنج لائن مےٹروٹرےن جےسے منصوبے وسائل عوام پر صرف کرنے کی اعلیٰ مثالےں ہےں۔ مےٹروبس سسٹم کی زبردست پذےرائی درحقےقت کامےاب منصوبے کےلئے عوام کی گواہی ہے ۔مےٹروبس سروس کے جدےد نظام کے ذرےعے روزانہ لاکھوں افراد بروقت اپنی منزل پر پہنچ رہے ہےں ۔جدےد مےٹروبس سسٹم نے عوام کےلئے آمد و رفت مےں آسانےاں پےدا کی ہےں۔مفاد عامہ کے منصوبوں پربلاجواز تنقےد کرنےوالے عوام کی ترقی اورخوشحالی کے دشمن ہےں اورعام آدمی کی فلاح و بہبود کے منصوبوں مےں رکاوٹےں کھڑی کرنےوالوں کو غرےب عوام کی محرومیوں کا خاتمہ برداشت نہےں۔انہوںنے کہا کہ مےٹروبس سروس کے نظام پرتنقےد کرنے والوں کی زبانےں منصوبے کی کامےابی پر بند ہوچکی ہےں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے پرنس آف وےلز،برطانےہ کے سےنئر مشےر محمد امرسی (Mohammad Amersi) نے ملاقات کی ۔پرنس آف وےلز کے سےنئر مشےرنے تعلےم ،صحت اوردےگر سماجی شعبوں کی بہتری کےلئے جامع اصلاحات پروزےراعلیٰ شہبازشرےف کی غےر معمولی کارکردگی کی تعرےف کی۔ سےنئر مشےر محمد امرسی نے وزےراعلیٰ شہبازشرےف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تعلےم ،صحت اوردےگر سماجی شعبوں کی بہتری کےلئے نماےاں کام کےا ہے اورپنجاب مےں ترقی اورخوشحالی دےکھ کر دلی خوشی ہوئی ہے ۔انہوں نے صوبہ پنجاب کی ترقی و خوشحالی کےلئے کےے جانےوالے مثالی اقدامات پروزےراعلیٰ شہبازشرےف کی کارکردگی کو خراج تحسےن پےش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی قےادت مےں پنجاب حکومت نے صوبے کے عوام کی فلاح وبہبود کےلئے بہترےن اقدامات کےے گئے ہےںاور آپ کی قےادت مےں پنجاب آگے کی جانب بڑھ رہا ہے ۔وزےراعلیٰ شہباز شرےف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلےم ترقی اورخوشحالی کا زےنہ ہے اورپنجاب حکومت نے تعلےم کو اپنی اولےن ترجےح بناےا ہے ۔انہوںنے کہا کہ برطانےہ اور پاکستان مےںبہترےن تارےخی تعلقات موجود ہےںاوردونوں ملک ترقی اورخوشحالی کے سفر مےں اہم شراکت دارہےںاور وزےراعظم نوازشرےف کے دور مےں پاکستان اوربرطانےہ کے درمےان تعلقات مےں اضافہ ہوا ہے۔United We Rechکی اےگزےکٹو ڈائرےکٹر صباحت رفےق بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے بحرین مےں پاکستان کے سفیر جاوید ملک نے ملاقات کی ،ملاقات مےںباہمی دلچسپی کے امور اور غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کےاگےا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کوبہترےن سہولتےں فراہم کی گئی ہےں۔سرماےہ کار دوست ماحول کے باعث پاکستان مےں سرماےہ کاری مےں اضافہ ہوا ہے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت کی ٹھوس پالیسیوں کے باعث غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ملک مےں بڑھتی ہوئی سرماےہ کاری غےر ملکی سرماےہ کاروں کا حکومتی پالےسےوں پر اظہار اعتماد ہے ۔انہوںنے کہا کہ سی پےک کے تحت اربوں ڈالر کی سرماےہ کاری نے پاکستان مےں غےر ملکی سرماےہ کاری کے دروازے کھول دےئے ہےں۔پنجاب مےں زراعت،لائےوسٹاک،توانائی اوردےگر شعبوں مےں سرماےہ کاری کی بے پناہ گنجائش موجود ہے ۔صوبے مےں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے آل پاکستان نیوز پیپرزسوسائٹی(اے پی این ایس) کے انتخابات میں نومنتخب صدر سرمدعلی ، سیکرٹری جنرل عمر مجیب شامی، سینئر نائب صدرقاضی اسد عابد ، نائب صدر مہتاب خان، جوائنٹ سیکرٹری ایس ایم منیر جیلانی اور فنانس سیکرٹری وسیم احمدکو مبارکباد دی ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے تہنیتی پیغام میںنومنتخب عہدیداران کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امیدہے کہ آل پاکستان نیوز پیپرزسوسائٹی کے نومنتخب عہدیداران میڈیا انڈسٹری کی بہتری کیلئے اپنا موثر کردار جاری رکھیں گے اور میڈیا انڈسٹری کے مسائل کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ٹی 20 میچ میں ویسٹ انڈیز کےخلاف مسلسل دوسری کامیابی پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔

نام نہاد سرائیکی سازشیں نہ کریں

میں گزشتہ کئی دنوں سے روزنامہ خبریں میں ”سرائیکستان“ پر بحث پڑھ رہا ہوں۔ میں نے سرائیکی کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے خیالات سے بھی آگاہی حاصل کی میں صرف سرائیکی رہنماﺅں سے اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ سرائیکی کا کیا وجود ہے۔ سرائیکی لکھاری لکھتے ہیں کہ یہ بہت قدیم زبان ہے21 مارچ1948ءکو قائداعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”میں چاہتا ہوں کہ آپ سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان اور بنگالی بن کر بات نہ کریں، قائداعظم کا یہ بات کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم پنجابی،سندھی یا بلوچی یاپٹھان نہیں ہم تو بس صرف مسلمان ہیں“۔ اس خطاب میں انہوں نے کہیں بھی سرائیکی کا لفظ استعمال نہیں کیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ 1948ءتک بھی سرائیکی کا کوئی وجود نہ تھا اگر تھا تو قائداعظم اس کا نام لینا ضروری نہیں سمجھا اس سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سرائیکی کتنی اہمیت کی حامل ہے سرائیکی ایک الگ زبان نہیں ہے یہ تو بس پنجابی زبان کا بولا جانے والا ایک لہجہ ہے جیسے ماجھی، پوٹھوہاری وغیرہ ہیں مگر یہاں تک کہ خود سرائیکی دانشوروں نے پنجابی کے اس لہجے کو سرائیکی زبان کی حیثیت سے منوانے کی تحریک کا آغاز 60ءاور 70ءکی دہائی کو قرار دیا ہے۔ ظہوردھریجہ اور دیگر سرائیکی رہنماﺅں کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہے کہ سرائیکی تحریک تو دور کی بات 1960ءتک سرائیکی زبان تو موجود تھی مگر اس کی پہچان پنجابی، ملتانی یا بہاولپوری زبانوں کے لہجے سے کچھ زیادہ نہ تھی۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ سرائیکی تحریک اس دور میں منظم ہوئی جب پاکستان کے دشمن پاکستان کو تقسیم کرنے کیلئے بنگالیوں میں لسانی تعصب کو ہوا دے رہے تھے۔ ظاہر ہے اس کا مقصد پاکستان کی یکجہتی کی بنیادوں کو کمزور کرنا تھا۔ لسانیت کے اس تعصب نے 1971ءمیں پاکستان کو دولخت کردیا اور اب یہ آگ باقی ماندہ پاکستان کے درپے ہے اور یہ اس وقت ہورہا ہے جب پاکستان کا دفاع دوست ملک چین کے تعاون سے ناقابل تسخیر ہورہا ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان دنیا کا معاشی حب بھی بننے جارہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں اقتصادی راہداری پر ہیں جسے پاکستانی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تو نام نہاد لسانیت پرستوں نے قوم کو تقسیم کرنے کی سازشیں تیز کردی ہیں۔نام نہاد سرائیکی لیڈر ظہور دھریجہ کے چہرے سے نذیر الحق دشتی نقشبندی نے اپنی کتاب سرائیکیون میں بھرپور انداز میں پردہ اٹھایا ہے وہ لکھتے ہیں ظہور دھریجہ نے جٹکی (سرائیکی) زبان میں ایک کتاب بنام ”اجرک“ تصنیف کی یہ تمام کی تمام کتاب اول سے آخر تک اکثر و بیشتر بدگوئیوں، بے ہودگیوں اور فضول باتوں سے بھری پڑی ہے۔ (کیا کہنے) ظہور صاحب اس کتاب کے صفحے 266 پر لکھتے : ”1947ءکے غدر میں یہاں سے جولوگ (سکھ اور ہندو بنیا) بھارت چلے گئے۔ وہ یہاں سے علم و عقل اور دانائی اپنے ساتھ لے گئے اور جو لوگ بھارت سے یہاں آئے۔ وہ علم و عقل و دانائی و حکمت اور شرافت و مروت وہاں چھوڑ آئے۔“
اب یہاں پر ہم اس بیان کے صرف پہلے حصے پر مختصر سی نظر ڈالتے ہیں اور اس کے دوسرے حصے پر کسی اور وقت مفصل نظر ڈالیں گے۔ جب اس جٹستان (جنوبی پنجاب) سے ظہور صاحب کے ہم قوم سرائیکی (سکھ اور ہندو بنیا) بھارت چلے گئے تو یہاں سے علم و عقل اوردانائی اپنے ساتھ لے گئے (واقعی) انہوں نے یہاں پر ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اس خطہ کے لوگوں کے پاس نہ علم رہا نہ عقل و دانائی رہی یہاں کے سب لوگ بے علم، جاہل اور پاگل رہ گئے اور یہ خطہ ”پاگلستان“ بن گیا۔ سوال اٹھتا ہے کہ پھر ظہور صاحب کے پاس علم و عقل اور دانائی کہاں سے آئی؟ ان کے دماغ میں بھی تو بھس بھرا ہوگا؟ نہیں! مگر وہ یہ چیزیں شاید بھارت سے لے آئے ہوں گے۔ آپ کہیں گے کہ وہ کیسے؟ صبر کیجئے! بھارت سے لاگئے گئے علم و عقل اور دانائی کی باتیں ان کی ہم بتاتے ہیں۔
نام نہاد دانشور فیق ساحل کی تعریف کرتے ہوئے اس کے شاعرانہ کتابچے ”گھر گھر وچ جنگ ہوسے“ کے صفحہ 5 پر لکھتے ہیں کہ رفیق ساحل کی طرح سرائیکی سوچ نہ رکھنے والے کسی شخص کو میں اپنا نہیں سمجھتا اور میں اپنے عزیزوں کو بھی اپنا عزیز نہیں سمجھتا۔ جب تک وہ سرائیکی کا کلمہ نہ پڑھیں۔مطلب یہ کہ کوئی شخص چاہے ان کے عزیز و اقربا بھی کیوں نہ ہوں جب تک سرائیکی کا کالمہ نہیں پڑھیں گے، دھریجہ صاحب ان کے دشمن رہیں گے۔ پھر اسی کتابچے کے صفحہ 6 پر لکھتے ہیں کہ حرام زادہ وہ نہیں ہوتا جو لاوالد (بغیر باپ) کے ہو، بلکہ حرام زادہ وہ ہے جو اپنی ذات (قومیت) بدل دے۔ ظہور دھریجہ 12نومبر 2016ءکے ”خبریں“ ملتان کے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ شریعت کا مسئلہ ہے کہ حرامی وہ نہیں ہوتا جو لاوالد(بغیر باپ)کے پیدا ہوا ہو۔ بلکہ حرامی وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات قوم یا قبیلہ تبدیل کرتا ہے۔
اور آج ان نام نہاد سرائیکیوں کی بے شرمی دیکھیں یہ اپنے ہی لوگوں کیخلاف سازشیں کررہے ہیں سرائیکی رہنماﺅں کا تحریک سرائیکستان کا مقصد صرف پاکستانی قوم کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے اگر ان لوگوں کا مقصد یہ نہ ہوتا تو وہ صوبے کا نام سرائیکستان کی بجائے کچھ اور نام تجویز کرتے تاکہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ جو دوسری زبانیں بولتے ہیں اپنے آپ کو اجنبی محسوس نہ کرسکتے اگر ان سرائیکی رہنماﺅں نے اس کا نام کوئی اور تجویز کیا ہوتا تو شاید اب تک یہ لوگ کامیاب بھی ہوگئے ہوتے سرائیکی رہنماﺅں کی ان تمام تر سازشوں کے باوجود یہ ایک مذہب ہی ہے جس کی وجہ سے آج بھی پاکستانی عوام متحد ہے پاکستان میں تقریباً 44.15% لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے اور سرائیکی صرف پنجاب کے کچھ علاقوں میں 1053% لوگوں میں بولا جانے والا ایک لہجہ ہے جس میں سے کچھ لوگ لسانی بنیاد پر پنجاب کو تقسیم کرنے کے حق میں ہیں جن کا مقصد صرف الگ صوبے پر اپنی حکومت قائم کرنا ہے۔ سرائیکی رہنماﺅں کو چاہیے کہ وہ سازش کرنا بند کریں اور پاکستانی عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں، ہماری طاقت صرف متحد رہنے میں ہے۔
”نہ کر بندیا میری میری
نہ تیری نہ میری
چاردناں دا میلہ
دنیا فیرمٹی دی ڈھیری“
٭….٭….٭