بگ تھری معاملے پرپی سی بی کی الجھن میں اضافہ

لاہور (آئی این پی)پاکستان کرکٹ بورڈ کا اعلیٰ سطح وفد آئندہ ہفتے دبئی میں آئی سی سی میٹنگ میں شرکت کریگا،آئی سی سی اجلاس میں بگ تھری کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائیگا،بھارتی کرکٹ بورڈ نے چھوٹے ممالک کو ایک بار پھر بگ تھری کے حق میں ووٹ دینے کیلئے راضی کرلیا۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کا اجلاس آئندہ ہفتے دبئی میں ہوگا جس میںپاکستان اور اس کے حامیوں کا بھارت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان زور آزمائی ہوگی۔امکان ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس حمایتیوں کو بگ تھری پر شکست ہوجائے گی، جس کے بعد بگ تھری کی تلوار پاکستان کے سر پر پھر لٹکتی رہے گی۔آئی سی سی بورڈ میٹنگ سے قبل چیئرمین شہریار خان، چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی نجم سیٹھی اور چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد سائیڈ لائنز پر کئی ملاقاتیں کریں گے۔اب بھارتی کوششیں رنگ لاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بگ تھری کے مسئلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی قرارداد کو اس بار سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے200 ملین ڈالرز بچانے کے لئے سری لنکا کے علاوہ زمبابوے اور بنگلہ دیش کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔شہریار خان کی کوششوں سے گذشتہ بورڈ میٹنگ میں بگ تھری کے خاتمے کے لئے قرار داد کی مخالفت میں آٹھ ووٹ آئے تھے۔ زمبابوے نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا جبکہ بنگلہ دیش نے بگ تھری کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا لیکن بھارت کی جانب سے سیریز اور پیسوں کے لالچ کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت کی حمایت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

محمدوسیم باکسنگ رنگ میں ملک کو مزید کامیابیاں دلوانے کےلئے پرعزم

کوئٹہ (نیوزایجنسیاں) باکسر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو باکسنگ میں مزید کامیابیاں دلوانے کے لئے پر عزم ہوں لیکن فیڈریشن کے لوگ نہیں چاہتے کہ میں آگے بڑھوں۔محمد وسیم کا کہنا تھا کہ فیڈریشن کی جانب سے مجھے سپورٹ نہیں کیا جاتا۔،پروموٹرز ہی پیسے لگاتے ہیں۔کمانڈر سدرن کمانڈاور مریم نواز کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،انہوں نے میری بہت مدد کی ,چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ابھی تک ملاقات کا موقع نہیں مل سکا۔

پاکستان ٹیم کی آسٹریلین ٹور میں پہلی فتح

ہوبارٹ (اے پی پی) پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم نے دورہ آسٹریلیا میں جاندار انٹری کی ہے، پاکستانی کلب نے آسٹریلوی کلب رینڈوک کو پریکٹس میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 6-0 گولز سے شکست فاش سے دوچار کیا۔ نوید عالم اور خیراللہ نے دو، دو گولز کر کے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔ منگل کو کھیلے گئے پریکٹس میچ میں پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے آسٹریلوی ہاکی کلب رینڈوک کو با آسانی 6-0 گولز سے ہرا کر دورہ آسٹریلیا کا جاندار انداز سے آغاز کیا، نوید عالم اور خیراللہ نے دو، دو جبکہ عبداللہ بابر اور غضنفر علی نے ایک، ایک گول کر کے ٹیم کو کامیابی دلائی ۔ قومی جونیئر ہاکی ٹیم آسٹریلیا میں نیشنل جونیئر ہاکی چیمپئن شپ کھیلنے کیلیے موجود ہے، گرین شرٹس نے منگل کو رینڈوک ہاکی کلب کے خلاف پہلا پریکٹس میچ کھیلا اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 0-6 سے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی جانب سے نوید عالم اور خیر اللہ نے 2,2 مرتبہ گیند کو جال میں پہنچایا جب کہ عبداللہ بابر اور غضنفر علی نے ایک ایک گول کیا۔قومی ٹیم 19 سے 29 اپریل تک آسٹریلیا کی نیشنل انڈر 28 چیمپئن شپ میں شرکت کرے گی۔ اور آسٹریلیا میں چار ماہ قیام کے دوران کھلاڑی مختلف کلبز کی جانب سے ٹریننگ پروگرامز اور میچز میں حصہ لیں گے۔

میکسویل لیگ سپنرز کو نہ کھیل پانے کے سوال پر غصے میں آگئے

نئی دہلی (آن لائن) کنگز الیون پنجاب کے کپتان میکسویل لیگ اسپنرزکو نہ کھیل پانے کے سوال پر غصے میں آگئے۔میڈیا کانفرنس میں جب ایک رپورٹر نے ان سے لیگ اسپنرز کے خلاف اپروچ سے متعلق سوال کیا تو وہ برہم ہوگئے۔، انھوں نے کہا کہ یہ ایک فضول سوال ہے، کیا آپ نہیں جانتے کہ میں گزشتہ 3میچز میں لیگ اسپنرز کو لگاتار چھکے جڑچکا ہوں، اس کیساتھ ہی انھوں نے پریس کانفرنس ختم کردی۔واضح رہے کہ ان کی قیادت میں پنجاب کو اتوار کی شب دہلی ڈیر ڈیولز کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس میں وہ امیت مشرا کی گیند پر بغیر کھاتہ کھولے آﺅٹ ہوگئے تھے۔

حسن علی ان فٹ،سہیل کوتیاررہنے کی ہدایت

گیانا (نیوزایجنسیاں) دورہ ویسٹ انڈیز کے دوران ٹیسٹ سیریز سے قبل ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی ان فٹ ہوگئے جس کے بعد سلیکشن کمیٹی نے سہیل خان کو تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔نجی چینل کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ حسن علی کی فٹنس کا جائزہ لیا جارہا ہے اور وہ ری ہیبلی ٹیشن مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ پی سی بی کے مطابق حسن علی سہ روزہ میچ کے دوران گروئن انجری کا شکار ہوئے۔دائیں ہاتھ سے بولنگ کرنےوالے حسن علی کو پہلی بار پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں جمیکا میں ٹیسٹ کیپ ملنے کا امکان تھا، تاہم پریکٹس میچ میں فیلڈنگ کرتے ہوئے انجرڈ ہوئے ہیں۔ٹیم انتظامیہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ حسن علی ٹیسٹ میچ سے قبل فٹ ہوجائیں گے۔ پاکستانی ٹیم کے فزیو شین ہیز ان کاعلاج کررہے ہیں۔حسن علی کے ساتھ ٹیسٹ ٹیم میں وہاب ریاض، محمد عامر اور محمد عباس شامل ہیں۔

مشال خان قتل کیس, عمران خان کا ملزموں بارے بڑا اعلان

صوابی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مشال خان کے والد سے ان کے گھر پراظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مشال خان قتل کیس کو پاکستان میں مثال بنائیں گے،ذمہ دار کسی بھی جماعت کا ہو اسے سزا دلوائیں گے۔تفصیلات کے مطابق مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا کے تشدد سے جاں بحق ہونیوالے طالبعلم مشال خان کے گھر پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پہنچے اور انہوں نے مشال کے والد سے تعزیت کا اظہارکیا اور اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشال خان قتل کسی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،مشال کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا اور ثابت ہوگیا کہ اس کا قتل توہین مذہب نہیں تھا۔عمران خان نے مزید کہا کہ اس قتل میں ملوث لوگ خواہ وہ کسی بھی جماعت،خواہ وہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ہوں ان کو سزا دلوائی جائے گی۔ایسا سلوک کسی جانور کے ساتھ بھی نہیں ہوتا ہے جو کہ ایک انسان کے ساتھ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ چاہے ذمہ دار پی ٹی آئی کا کیوں نہ ہوں ہم پور ا زور لگائیں گے کہ سزا دلوائیں،توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا راستہ بند کردیں گے۔ اس سے قبل عمران خان نے مشال کے والد اور والدہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ ذمہ داروں کو چھوڑیں گے نہیں۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی معاملے پراز خود نوٹس لیا ہے، تمام قوم متفق ہے کہ واقعہ میں ملوث افراد کو سزا دی جائے، خیبرپختونخوا کی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں کیں اور ملزمان سے تفتیش کی، عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مشال کے اہل خانہ نے مردان یونیورسٹی مشال کے نام پر رکھنے اور واقعہ میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی درخواست کی ہے جس کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرونگا۔

کالی آندھی سے سیریز، پرفارمنس نے جیت کے بڑے دعوﺅں پر سوالیہ نشان لگا دیا

گیانا (آئی این پی) پریکٹس میچ میں ہی پاکستانی کر کٹ ٹیم کھیل کے تینوں شعبوں میںکارکردگی کاپول کھل گیا۔سائیڈمیچ میں بھی پلیئرزکی پرفارمنس انتہائی ناقص رہی،بلے بازوں نے شدیدمایوس کیا۔سینئرزکھلاڑیوں نے توسب کے ہوش ہی اڑادئیے۔ٹیسٹ سیریزکے آغازسے قبل پریکٹس میچ میں ناقص کارکردگی نے کیمپ میں ہلچل مچادی۔سکواڈکو ٹیسٹ سیریزکے لئے بہترپلان ترتیب دیناہوگا،دوسری جانب ٹیم کوانجریزکابھی سامنا کرناپڑرہاہے۔حسن علی بھی گروئن انجری کاشکارہو گئے ۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون کے مابین سہ روزہ پریکٹس میچ بغیر کسی نتیجے ختم ہو گیا،ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون کے419رنز کے جواب میں قومی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں192رنز پر ڈھیر ہو گئی ، احمد شہزاد 55اور سرفراز احمد50رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے،کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون نے اپنی دوسری اننگز میں 2وکٹوں کے نقصان پر 152رنز بنالئے تھے ۔ ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون کےخلاف پاکستانیز کا واحد ٹورمیچ وقت کی کمی کے سبب بے نتیجہ ختم ضرور ہوامگر اس میں پاکستانی کرکٹرزکی کارکردگی کا معیار انتہائی بدتررہا۔پہلی اننگزمیں پاکستانی بولرزکی ناکامی کے سبب ویسٹ انڈیز پریذیڈنٹ الیون 419رنزبنانے میں کامیاب رہی جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 192رنزپرڈھیر ہوگئی جس میں صرف احمد شہزاد اور سرفرازاحمد ہی ففٹیاں اسکورکرسکے۔دیگر ٹاپ بلے بازمیں شان مسعود 14، اظہرعلی4،یونس خان7،مصباح الحق8جبکہ اسد شفیق 23رنزبناسکے۔پاکستانی ٹیم کی اس تباہی کے ذمہ دار جمیکا کے ’اَن -کیپ‘ لیگ اسپنر ڈیمین جیکبس تھے جس نے 45رنز دیکر چار وکٹیں حاصل کیں۔اس طرح تاحال انٹرنیشنل کرکٹ کے تجربے سے محروم میڈیم پیسر ریمن ریفر بھی پاکستانی بلے بازوں کیلئے وبال جان بنے رہے جس نے 13میں سے چھ اوورزمیڈن پھینکتے ہوئے 1.61رنز فی اوورکے شاندار اکانومی ریٹ سے 21رنز دیکر یونس خان اور شان مسعود کی قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔جواباً اپنی دوسری اننگزمیں ویسٹ انڈیزپریذیڈنٹ الیون کے بلے بازوں نے پاکستانی بولروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 42اوورزکے ممکن ہوپانے والے کھیل میں محض دو وکٹیں گنواکر 152رنزبناڈالے۔اوپنر کیران پاول*84رنز بناکر ناٹ آﺅٹ رہے۔پاکستانی بولرزمیں کوئی بھی ایک سے زائدوکٹ حاصل نہ کرسکے۔لیگ اسپنر یاسرشاہ کو 16اوورز میں60رنزکی دھنائی کا بھی سامناکرنا پڑاجس کے بدلے ا±سے صرف ایک وکٹ مل سکی۔

وزیراعظم اہل یا نااہل, سپریم کورٹ کی کاز لسٹ جاری

اسلام آباد( آئی این پی ) پانامہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیے جانے کے 57 دن بعد(کل) 20 اپریل بروز جمعرات دن 2 بجے سنایا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں کاز لسٹ جاری کر دی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 23 فروری 2017 کو تمام دلائل اور جواب الجواب مکمل ہونے کے بعد محفوظ کر لیا تھا ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہ میں سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پرمشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی ۔ پانامہ کیس کے درخواست گزاروں میں پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ شامل ہے ۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں بیانات کے تضاد کے بنا پر وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کی درخواست کی گئی تھی ۔ پی ٹی آئی کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کی ہے ۔ ان کے لندن میں فلیٹس منی لانڈرنگ کرکے خریدے گئے ۔ اس حوالے سے 25 ہزار کے قریب دستاویزات بھی جمع کروائی گئی تھی جس حوالے سے فاضل بنچ کے ارکان کا کہنا تھا کہ ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا ۔اسی طرح ان دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جج صاحبان نے یہ فیصلہ خود لکھا اس لئے بھی اس میں تاخیر ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے داماد و رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اہلیت کا فیصلہ بھی جمعرات کو ہو گا ۔ دوسری جانب حکومت اور درخواستگزارجماعتوں نے فیصلے کی تاریخ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا ۔ ادھر سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپریل کا قصہ اپریل میں ختم ہو رہا ہے ۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے کاز لسٹ جاری کردی ہے جس کے تحت یہ فیصلہ 20 اپریل بروز جمعرات دن دو بجے عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں سنایا جائے گا جو لارجر بنچ سنائیگا ۔ دوسری جانب اس موقع پر سپریم کورٹ کے ارد گرد سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جائیں گے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو سپریم کورٹ جانے نہیں دیا جائے گا ۔ سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے فیصلے کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کو ریڈالرٹ کیا جائے گا، ریڈزون کی طرف آنے والے راستوں پر پولیس رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروںکے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی جائے گی جبکہ سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر اور باہر انتہائی سخت سکیورٹی ہو گی، پاسز کے بغیر کسی کو سپریم کورٹ میں جانے کی اجازت نہیں ہو گی،کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں فوری طور پر کارروائی کیلئے ،اینٹی ٹیررسٹ سکوارڈ کے دستے تعینات کیے جائیں گے،،۔ (آج)بدھ کو اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے ساتھ مل کر سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیں گے۔ ذرائع کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس کے فیصلے کے موقع پر سکیورٹی امور کا جائزہ لینے کیلئے کل وزارت داخلہ میں اہم اجلاس ہو گا۔ اجلاس میں اسلام آباد پولیس انتظامیہ سمیت وزارت داخلہ کے افسران شریک ہوں گے جبکہ آئی جی اور کمشنر سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے رابطہ کر کے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیں گے۔ ذرائع کے مطابق ریڈزون کی سکیورٹی کوریڈ الرٹ کیا جائے گا۔ ریڈزون کی طرف جانے والے راستوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی، پولیس کی معاونت رینجرز کے دستے ڈیوٹیاں دیں گے جبکہ کمرہ عدالت سمیت سپریم کورٹ کی عمارت میں پولیس کی سپیشل برانچ کے اہلکاروںکی بڑی تعداد تعینات ہو گی جو کسی بھی ممکنہ ردعمل کے موقع پر فوری کارروائی کرے گی۔ ترجمان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت نے پانامہ کیس کے فیصلے کے وقت سپریم کورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ کیس کا فیصلہ سننے والوں کو خصوصی پاسز جاری کئے جائیں گے۔.تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے20اپریل کو دوپہر 2بجے پانامہ کیس کا فیصلہ سنانے کا اعلان کردیا ہے۔ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق فیصلے کے وقت سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے۔ عدالت کے اندر کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم فیصلے کے وقت سپریم کورٹ آنے کے خواہش مند حضرات کو خصوصی پاسز جاری کئے جائیں گے۔ جبکہ پانامہ کیس کے فریقین کو عدالت میں آنے کے لئے پاسز کی ضرورت نہیں ہوگی وہ نوٹس کی کاپی دکھا کر عدالت میں آسکتے ہیں۔

عوام کیلئے جدید سہولتیں, وزیراعلیٰ کا بڑا حکمنامہ جاری

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا ، جس میں صوبے کے 36اضلاع میں خدمت مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا گیاجہاں ایک چھت تلے عوام کو 17مختلف خدمات مہیا کی جائیں گی- وزیراعلی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو بہتر خدمات اور سہولیات کی فراہمی ہمارا مشن ہے اورخدمت مراکز کا قیام اس جانب اہم اقدام ہے-انہوں نے کہاکہ 6اضلاع میں خدمت مراکز قائم کردئےے گئے ہیں اور صوبے کے 36اضلاع میں ایسے سٹیٹ آف دی آرٹ خدمت مراکز بنائے جائیں گے اور رواں سال کے آخر تک تمام اضلاع میں خدمت مراکز کو فنکشنل کردیا جائے گا اور ان خدمت مراکز پر عوام کو ایک ہی چھت تلے 17مختلف خدمات فراہم کی جارہی ہیں- خدمت مراکز کا قیام حکومت پنجاب کا شاندار اقدام ہے- خدمت مراکز میں عوام کے مسائل ایک چھت تلے حل ہوں گے اور انہیں دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے-خدمت مراکز کے قیام کا تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور فنانشل آڈٹ بھی ہوگا- انہوں نے کہاکہ فیصل آباد میں انتہائی شاندارخدمت مرکز قائم کیا گیاہے ،جس پر میں صوبائی وزیر ، چیف سیکرٹری ، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ او رپوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں- انہوں نے کہاکہ فیصل آبادکے خدمت مرکز کے ماڈل کو دیگر تمام اضلاع میں لاگو کرنا ہے-فیصل آباد کے علاوہ ،راولپنڈی، لاہور ، سرگودھا، ساہیوال او رگوجرانوالہ میں خدمت مراکز فنکشنل ہوچکے ہیں- خدمت مراکز کا قیام عوام کی بہت بڑی خدمت ہے اوران مراکز کی افادیت اور اہمیت مسلمہ ہے- انہوں نے کہاکہ عوام کو خدمت مراکز سے آگاہی دینے کے لئے بھرپو رمہم چلائی جائے-خدمت مراکز کی کارکردگی جانچنے کے لئے مانیٹرنگ کاموثر نظام بنایا جائے-وزیراعلی نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی، کمیٹی خدمات کی فراہمی کے نئے نظام ، عوام کو خدمات کی فراہمی، مانیٹرنگ سسٹم اوردیگر امور کے بارے میں سفارشات ایک ہفتے کے اندر پیش کرے گی-انہوں نے کہاکہ صوبے کے باقی ماندہ اضلاع میں اراضی کی نشاندہی کا کام جلد مکمل کیا جائے -کسی بھی نظام کی کامیابی کے لئے جزا اور سزا کا نظام ضروری ہے- چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی اس حوالے سے بھی پلان مرتب کرے-انہوں نے کہاکہ پروگرام پر عملدرآمد کے لئے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ بھی جلد بنایا جائے-پروگرام پر عملدرآمد کے لئے ضروری قانون سازی بھی کی جا رہی ہے-رائٹ ٹو سروسز ایکٹ 2017ءکا مسودہ تیار کرلیاگیا -مشیر ڈاکٹر عمر سیف نے خدمت مراکز کے پروگرام پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خدمت مراکز میں سائل کو اپنی درخواست کے سٹیٹس کے بارے میں آگاہی کے لئے موثر نظام اپنایا گیاہے-صوبے بھر میں10 خدمت مراکز قائم کئے جا چکے ہیں جن میں سے 6آپریشنل ہو چکے ہیں اوران خدمت مراکز پر بعض خدمات شہریوں کو موقع پر ہی فراہم کردی جاتی ہیں- اجلاس میں پنجاب کے بڑے شہرو ں میں سپیڈو بسیں چلانے کے حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ بھی لیا گیا-وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیاری ، با کفایت اور ائیر کنڈیشنڈ ٹرانسپورٹ عام آدمی کا حق ہے اورپنجاب حکومت نے میٹروبس سروس کے ذریعے یہ حق عام آدمی تک پہنچایا ہے -انہوںنے کہا کہ اب سپیڈو بسوں کے ذریعے بھی روزانہ ہزاروں لوگ منزل مقصود تک پہنچ رہے ہیںاور سپیڈو بسوں کو دیگر بڑے شہروں میں بھی چلایا جائے گا-ان سپیڈو بسوں کا دائرہ کار دیگر بڑے شہروں میں بڑھانے سے شہریوں کو جدید سفری سہولتیں میسر آئیں گی-وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کمپنیاں بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں-عوام کو اچھی ٹرانسپورٹ دے کر انہیں مزید سہولتیں فراہم کریں گے اوراس تمام نظام کو آﺅٹ سورس کیا جائے گا-صوبائی وزراءمیاں مجبتی شجاع الرحمن، ملک ندیم کامران، شیخ علاﺅالدین ، چیف سیکرٹری ، مینجنگ ڈائریکٹر پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہچیئرمین منصوبہ بندی وترقیات ،کمشنر بہاولپور ڈویژن او رکمشنر ملتان ڈویژن ویڈیو لنک کے ذرےعے اجلاس میں شریک ہوئے-وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زےر صدارت اجلاس مےںپےنے کے صاف پانی کے پروگرام کے امور پر ہونے والی پےش رفت کابھی جائزہ لےاگےا۔وزےراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صاف پانی صحت مندزندگی کی علامت ہے ۔پنجاب حکومت نے عوام کو پےنے کے صاف پانی کی فراہمی کا اےک بڑا منصوبہ ترتےب دےا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ماضی مےں بعض افسران کی نااہلی ،غفلت اور غےر پےشہ وارانہ انداز کے باعث پروگرام مےں بے پناہ تاخےر ہوئی اوراب ہم نے ماضی کی غلطےوں کا ازالہ کرکے آگے بڑھنا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پےنے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کا آغاز جنوبی پنجاب کی تحصےلوں سے کےا جائے گا۔اس پروگرام پر رفتار اور معےار کو اےک ساتھ لےکر آگے بڑھنا ہے ۔پنجاب حکومت نے منصوبے پر عملدر آمد کےلئے پنجاب صاف پانی کمپنی نارتھ اور ساو¿تھ تشکےل دی ہےں۔انہوںنے کہا کہ ان کمپنےوں کی استعداد کار مےں اضافہ بہت ضروری ہے ۔وزیراعلی نے ہدایت کی کہ کمپنےوں کے لئے بہترےن افرادی قوت کا انتخاب کےا جائے اوراس ضمن مےںپےشہ وارانہ افراد کا انتخاب مےرٹ پرہر صورت ےقےنی بناےا جائے ۔وزےراعلیٰ نے پنجاب صاف پانی کمپنی ساو¿تھ کا علاقائی دفتر جنوبی پنجاب مےں فوری طورپر کھولنے کی ہداےت کی اور کہا کہ چےف اےگزےکٹو آفےسرزکم از کم تےن روز فےلڈ مےں موجود رہےں گے اورسےکرٹری ہاو¿سنگ ہفتے مےں کم از کم دو روزفےلڈ مےں گزارےں گے۔انہوںنے کہا کہ مےں خود بھی علاقائی دفتر آکر وہاں اجلاس کی صدارت کروں گا۔وزےراعلیٰ نے پےنے کے صاف پانی کے امور پر ہونے والی پےش رفت پر اطمےنا ن کا اظہارکےااورمتعلقہ حکام کو مزےد محنت سے کام کرنے کی ہداےت کی۔ اجلاس میںپنجاب سیف سٹی پراجیکٹ کے مختلف امور کا جائزہ بھی لیا گیا-وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے اور لاہو رکےساتھ پنجاب کے6بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز کیا جا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ امن عامہ کو بہتر بنانے کےلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی ضرورت ہے اورعوام کاجان ومال کا تحفظ ہماری حکومت کی ترجیح ہے-انہوں نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ سے شہروں کو محفوظ بنایا جائے گااور جرائم پیشہ افراد او ر دہشت گردوں کے قلع قمع کےلئے یہ منصوبہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے اوراربوں روپے کے اس اہم ترین منصوبے پر پیشہ وارانہ انداز میں کام کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے-وزےراعلیٰ نے ہداےت کی کہ لاہور مےں پنجاب سےف سٹی پراجےکٹ کی تکمےل کے دوران اعلی معےارکو ہر قےمت پر ےقےنی بناےا جائے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھکر کے قریب ٹریفک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کےا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بےدےاں روڈ دھماکے مےں شہےدلانس نائےک شمشادکی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پےش کےا ۔وزیر اعلیٰ نے شہیدلانس نائےک شمشاد کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کےا اورکہا کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں جانیں قربان کرنے والے شہداءپوری قوم کے ہیرو ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے گوجرانوالہ کے علاقہ ایمن آباد کے قریب جعفرایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعہ میں زخمی ہونےوالے افراد کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی -وزیر اعلی نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کارلائے جائیں۔

رینجرز نہ ہوئے تو کراچی کا امن پھر خطرے میں پڑ جائے گا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کہتے ہیں کہ خصوصی اختیارات کے بغیر رینجرز کو سڑکوں اور بازاروں میں کھڑا نہیں کر سکتے، بار بار مسئلہ پیدا کرنے سے کراچی کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔شہر اقتدار میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے بار بار مسئلہ پیدا کیا گیا تو کراچی کا امن پھر خطرے میں پڑ جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ رینجرز کو خصوصی اختیارات کے بغیر سڑکوں اور بازاروں میں کھڑا نہیں کر سکتے۔ اجلاس میں لینڈنگ پرمٹ منسوخ ہونے کے بعد بغیر ویزہ پاکستان آنے والے غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔