پانامہ کیس کا فیصلہ, پیپلز پارٹی نے نئی حکمت عملی تیار کرلی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے پاناما کیس کے فیصلے پر حکمت عملی طے کرنے کیلئے بدھ کو پارٹی قیادت کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے بھی پاناما کیس کے فیصلے کے بعد کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے 20 اپریل کی رات اسلام آباد میں سینئر قیادت کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ کے اعلان کے بعد ملک بھر میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بدھ کو پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں پاناما کیس کے فیصلے کے بعد کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد سابق صدر کی زیر صدارت اجلاس ہو گا جس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری پہلے سے اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ پی پی کے دیگر سینئر رہنماو¿ں کو بھی اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

وینا ملک پروڈکشن ہاﺅس فعال کرنے میں مصروف

لاہور(کلچرل رپورٹر)اداکارہ وینا ملک اپنا پروڈکشن ہاﺅس دوبارہ فعال کرنے میں مصروف ہیں جس کے بعد وہ جلد ہی ڈرامہ سیریل اور ایک شوشروع کریں گی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ویناملک نے دوبارہ پروڈکشن کا فیصلہ کرتے ہوئے کیمرے اور دیگر تکنیکی سامان خریدلیا ہے جبکہ ان دنوں وہ ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو ان کا پروڈکشن ہاﺅس فعال کرسکے۔یہ امرقابل ذکرہے کہ وینا ملک نے لاہورمیں سات سال قبل بھی اپنا پروڈکشن ہاﺅس شروع کرتے ہوئے ڈرامہ سیریل”کچے دھاگے“بنائی تھی لیکن جو بعض وجوہات کی بنا پر آن ایئرنہیں ہوسکی تھی جس کے کچھ ہی عرصہ بعد ویناملک نے پروڈکشن بندکرتے ہوئے تمام کیمرے اور تکنیکی سامان بھی فروخت کردیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اب وینا ملک ایک نجی ٹی وی کے لئے ڈرامہ سیریل اور شوبنائیں گی جس کی تیاری ان دنوں جاری ہے۔

سارہ خان اور نورخان پہلی بار اکٹھے کام کریں گی

لاہور(کلچرل رپورٹر) اداکارہ سارہ خان اور نورخان پہلی بار کسی پراجیکٹ میں اکٹھے کام کریں گی ۔ سارہ خان اور نورخان حقیقی بہنیں بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے بھی دوڈراموں میں اکٹھے کاسٹ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بعض وجوہات کی بناایسا ممکن نہ ہوسکا البتہ کچھ عرصہ قبل دونوں نے ایک فیشن ڈیزائنر کے لئے شوٹ کیا جبکہ اب وہ ایک سیریل میں بھی کام کریں گی۔ سارہ خان اور نورخان کئی سپرہٹ ڈراموں میں کام کرچکی ہیں جبکہ سارہ خان کا ایک ڈرامہ”نظربد“ان دنوں بھی نجی ٹی وی پر ناظرین کی توجہ کا مرکزبناہوا ہے۔

یہ شرمناک کام کیا لیکن پھر بھی کام نہیں ملا …. دیکھئے یہ کون سی پاکستانی اداکارہ ہے

لاہور(کلچرل رپورٹر)بولڈشوٹ کرانے کے باوجودبھی اداکارہ حیاسہگل کو فلم میں کام نہ مل سکا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے ایک پروڈیوسر نے اداکارہ حیاسہگل کو فلم میں کام کے لئے رابطہ کیا جس کے لئے انہیں فوٹوشوٹ کی ضرروت تھی جس پر حیاسہگل نے فوری پر ایک معروف فوٹوگرافر سے بولڈ شوٹ کرانے کے بعد مذکورہ پروڈیوسر کو بھیج دیا لیکن اس کے باوجود بھی انہیں فلم میں کاسٹ نہیں کیا گیا۔اس بارے میں مزیدمعلوم ہوا ہے کہ مذکورہ پروڈیوسر نے کئی اور اداکاراﺅں کو بھی اپنی فلم میں کاسٹ کرانے کا جھانسہ دے کر بولڈ شوٹ کرائے۔لیکن ابھی تک کسی کو بھی کاسٹ نہیں کرایا گیا۔ اس بارے میں حیاسہگل کاموقف معلوم نہیں ہوسکا۔

ایشوریہ رائے بچن فلم فیئر میگزین کے سرورق کی زینت

ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی وڈ اداکارہ ایشوریہ رائے بچن فلم فیئر میگزین کے تازہ شمارے کے سرورق کی زینت بن گئیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایشوریہ رائے بچن نے فلم فیئر میگزین کے تازہ شمارے کے سرورق کے لئے فوٹو شوٹ کرایا جس میں انہوں نے نیوی بلیو جیکٹ پہنی ہے ۔جس میں وہ بہت خوبصورت اور پر اعتماد دکھائی دے رہی ہیں۔جس کے بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ سرمائے کی عدم دستیابی کے باعث فلم پر کام روک دیا گیا تھا۔ اس بارے میں ناصر چنیوٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اورجیسے ہی ان کے پاس سرمایہ ہوگاوہ فلم ضرور مکمل کریں گے کیونکہ فلم بنانا ان کا دیرینہ خواب ہے۔

فنکار اپنی محنت سے کامیابی حاصل کرتے ہیں

لاہور(کلچرل رپورٹر)ماڈل واداکارہ حناچودھری نے کہاہے کہ فنکارہمیشہ اپنی محنت اورصلاحیتوں سے کامیابی حاصل کرتے ہیں،معیاری کرداروںکے ذ ریعے اپنے فن کواجاگرکرناچاہتی ہوں ۔ایک بیان میںحناچودھری کاکہناتھاکہ شوقیہ فنکار وں کاکوئی مستقبل نہیں ہوتالیکن باصلاحیت فنکاروں کی ترقی کاراستہ کوئی نہیںروک سکتا،یہی وجہ ہے کہ پاکستانی باصلاحیت آرٹسٹوں نے بیرون ملک بھی اپنے فن کاسکہ جمایا۔انکاکہناتھاکہ میںنے کیرئیرکاآغاز ماڈلنگ سے کررہی ہوں اورٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کومنواناچاہتی ہوں تاہم میںصرف معیاری کرداروں میں جلوہ گرہونگی ۔مجھے مختلف ہدایتکاروں کی طرف سے ڈراموں کےلئے پیشکش ہورہی ہیں۔لیکن جب مجھے من پسندکردارملاتوحامی بھرلوں گی۔حناچودھری کاکہناتھاکہ میرافلمو ں میںکام کرنے کوئی ارادہ نہیںصرف ماڈلنگ اورٹی وی ڈراموں کے ذریعے اپنے فن کواجاگرکروںگی۔

صنم بلوچ اداکاری میں سب سے آگے ، ٹائٹل رول مل گیا

لاہور(کلچرل رپورٹر)گلوکارہ نازیہ حسن کی زندگی پر ڈرامہ سیریل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا ٹائٹل رول اداکارہ صنم بلوچ کریں گی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک نجی ٹی وی نازیہ حسن کی زندگی پر سیریل بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں جس کے ٹائٹل رول کے لئے صنم بلوچ کا انتخاب کیا گیا ہے جو کافی عرصے بعد ایکٹنگ کریں گی کیونکہ مارننگ شوکی وجہ سے وہ کافی عرصے سے ڈراموں میںکام نہیں کررہی تھیں۔ اس بارے میں مزید معلوم ہوا ہے کہ سیریل کے دیگر کرداروں کے لئے کئی سینئرفنکاروں سے بھی رابطے کئے جارہے البتہ اس سیریل کی تمام تفصیلات پوشیدہ رکھی جارہی ہیں۔

بدترین لوڈشیڈنگ،صارفین بلبلا اُٹھے, اہم جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کردیا

اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی ) وزیراعظم محمد نواز شریف نے وزارت پانی وبجلی کو بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے اوربروقت منصوبہ بندی نہ کرنے والے اہلکاروں پر ذمہ داری عائد کی جائے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔ انہوںنے یہ بات بجلی کی کمی کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔وزیر اعظم کی طرف سے طلب کئے گئے اجلاس میں بجلی کی پیداوار میں کمی کے عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کی طرف سے کوتاہی برتنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیاکہ انہوں نے موسم کی شدت اور ڈیموں میں پانی کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے قبل از وقت منصوبہ بندی کیوں نہیں کی۔ وزیراعظم نے فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں جس قدر ممکن ہو لوڈ شیڈنگ میں کمی کرکے ریلیف دیا جائے۔ وزارت پانی وبجلی کی طرف سے واضح کیا گیا کہ گرمی کی شدت میں غیر متوقع اضافہ ہوجانے سے بجلی کی طلب ایک دم بڑھ گئی جو 2500میگا واٹ سے بھی زیادہ ہے جبکہ ڈیموں میں پانی کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں۔ ا±مید ہے کہ گرمی بڑھنے سے پانی کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجائے گا تو ڈیمز سے بجلی کی پیداوار بہتر ہوجائے گی۔ وزیراعظم نے وزارت پانی وبجلی کی وضاحت پربرہمی کا اظہار کیااور ہدایت دی کہ بروقت منصوبہ بندی نہ کرنے والے اہلکاروں پر ذمہ داری عائد کی جائے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ کمی کو پورا کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور عوام کو بجلی فراہم کریں۔ وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارت پانی و بجلی نے 4 سال کی محنت ضائع کر دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گرمی میں اضافے کا بہانہ لوڈ شیڈنگ کے لئے مناسب نہیں، کوئی کوتاہی اور بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں مشاورت کی گئی کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کو کس طرح کم کیا جائے اور لائن لاسز کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔
راولپنڈی، لاہور، جھنگ، ملتان، بھکر، بہاولپور (نمائندگان خبریں) قیامت خیز گرمی میں بجلی کی ”آنیاں
جانیاں“ ملک کے بیشتر علاقوں میں 12سے 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کے پسینے نکال دیئے ، ایک گھنٹہ بجلی آئے تو اگلے 5 گھنٹے غائب ہوتی جاتی ہے ، وزارت پانی و بجلی سمیت متعلقہ محکموں نے آنکھیں بند کرلیں ، واپڈا آفسز میں شکایات کے باوجود کوئی حل نظر نہ آنے پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے اور بجلی کی پیداواراور طلب کے درمیان فرق 7 ہزار میگا واٹ تک جاپہنچا ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوزکرگیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس موسم گرما میں عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کم رہے گا لیکن اس کے برعکس موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ریکارڈ توڑ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بجلی کی پیداوار13 ہزارمیگاواٹ جب کہ طلب 19ہزار600 میگاواٹ ہے۔ تربیلا اورمنگلا ڈیم میں پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے بجلی کے کئی پیداواری یونٹ بند پڑے ہیں اوراسی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہا ہے۔سندھ اورجنوبی پنجاب اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور اس سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ بھی ان ہی علاقوں میں کی جارہی ہے۔ شہروں میں 14 جب کہ دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی نہ ہونے سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ لاہور سمیت وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں 10 جب کہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بھی دس سے چودہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، بلوچستان میں بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بڑھ گئی ہے۔حکومت کے بلند و بانگ دعوو¿ں کے برعکس بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ پرعوام شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں اور کئی شہروں میں لوگ بجلی کے سڑکوں پر آئے ہیں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں پڑنے والی شدید گرمی کے باعث بجلی غائب ہو گئی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، بچے اور بوڑھے بالخصوص گرمی سے نڈال اور بے ہوش ہونے لگے ہیں ، جھنگ ، بھکر ، ملتان ، بہاولپور ، حافظ آباد ، شاہ جیونہ ، لالیاں ، چند بھروانہ ،چنیوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مچھر کے کاٹنے سے ملیریا بخار عوام میں عام ہو گیا ہے اورعلاقے میں ڈینگی کی وباءپھیلنے کا بھی خدشہ ہے اور بیماریاں پھیلنے کی وجہ سے لوگ شدید خوف و ہراس میں پائے جاتے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کوذہنی مریض بنا ڈالا ۔جبکہ کاروبار زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور لوگ ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں ۔سکولوں میں جانیوالے بچے بھی شدید گرمی میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور اس دوران متعدد بچوں کے بے ہوش ہونے کی خبریں بھی مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ واپڈا کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ روز بجلی کی مجموعی طلب 19000 میگاواٹ تھی جبکہ اس کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار 11700 میگا واٹ رہی جس کے باعث بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھ کر 7000 میگاواٹ پر پہنچ گیا۔ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واپڈا حکام پن بجلی سے 1100 میگاواٹ بجلی حاصل کررہے ہیں جبکہ آئی پی پیز سے 7000 میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ اس صورتحال میں جہاں لیسکو نے لوڈشیڈنگ کے اعلانیہ شیڈول میں 2 گھنٹے کا اضافہ کردیا ہے وہاں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں شدت پکڑتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں لیسکو نے تمام انڈسٹریل ایریاز میں چارگھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کردی ہے۔ اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے لیسکو ذرائع کا کہناہے کہ لاہور میں ہر پندرہ منٹ کے بعد بجلی غائب ہو جاتی ہے جس کے باعث پانی بھی نلکوں سے غائب رہتا ہے۔ واسا حکام نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں مساجد کے ذریعے باقاعدہ اعلانات کروائے کہ شہری بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے پانی کا ذخیرہ کرلیں۔ اس سلسلے میں واسا حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث متعدد ٹیوب ویل بند ہو چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کےخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ،پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عوام کی کثیر تعداد نے فتح گڑھ کینال روڈ کو بلاک کر کے حکومت کےخلاف شدید نعرے بازی کی ۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما جمشید اقبال چیمہ اور لاہور کی نائب صدر مسرت جمشید چیمہ کی قیادت میں بد ترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف حلقہ فتح گڑھ کینال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی جو سینہ کوبی کرتے رہے ۔اس موقع پر مظاہرین بجلی دو ، بجلی دو ، اپنے وعدے پورے کرو، گو نواز گو ،گو شہباز گو کے نعرے لگاتے رہے ۔ مظاہرین کی طرف سے مرکزی شاہراہ کو بلاک کرنے کے باعث گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہری اپنی گاڑیوں سے باہر نکل کر احتجاج میں شریک ہو گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث سر کلر ڈیٹ ایک مرتبہ پھر 500ارب روپے سے تجاویز کر گیا ہے اور حکمرانوں نے اسے اتارنے کےلئے ایک مرتبہ پھر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا پروگرام ترتیب دیدیا ہے جسے کسی صورت پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انصاف پروفیشنل فورم کی چےئر پرسن ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ 20اپرےل بروز جمعرات کوبجلی کی غےر اعلانےہ لوڈشےڈنگ کے خلاف پنجاب کے تمام پرےس کلبوں کے باہر 4بجے پرامن احتجاج کرےں گے۔ ملک بھر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے احتجاج اور مظاہروں کی منظوری دیدی۔ 22اپریل کو مظفر آباد،23 کو گلگت بلتستان، 24 کوئٹہ، 25 اپریل کو ملتان، 26 اپریل کو کراچی اور 27 اپریل کو لاہور میں احتجاج کیا جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ ق نے ملک بھر میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شکر گڑھ میں بغیر شیڈول اور جاں بہ لب لوڈشیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے گھروں میں کام کاج کیلئے اور مساجد میں وضو کیلئے پانی دستیاب نہیں۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کے شہر سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال و گردونواح میں غیر اعلانیہ اور طویل ترین لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16سے 18گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ ضلع خوشاب کے طول و عرض میں لوڈشیڈنگ 16گھنٹوں تک محیط ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی معطل ہوگیا ہے۔ جکھڑ میں بجلی کی طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری پاورلومز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے مزدور شدید مشکلات کا شکار۔ علاقہ تھل میں آج کل گرمی زوروں پر ہے اور درجہ حرارت 47درجہ پر پہنچ گیا ہے ایسی صورت حال میں لوڈشیڈنگ مسلسل پانچ پانچ گھنٹے نے غریب عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ گوجرہ میں غیر اعلانیہ طویل دورانیہ لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی۔ سیالکوٹ کے علاقہ فتح گڑھ اور میانہ پورہ میں 20,20گھنٹے کی مسلسل لوڈشیڈنگ سے شہری سراپا احتجاج۔ شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے تک پہنچ گیا۔ شہریوں نے لاہور رود کو بلاک کرکے شدید احتجاج کیا۔ شورکوٹ میں سورج سارا دن آگ برساتا رہا بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ بورے والا میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری شہری پینے کے پانی کو ترس گئے۔ ہارون آباد میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے تسلسل نے شدید گرمی میں عوامی معمولات زندگی کو مفلوج کرکے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی۔ بہاولنگر شہر میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شہر رات کے اندھیروں میں ڈوب گیا ہے واپڈا کی جانب سے تین تین گھنٹے وقفے وقفے سے طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

نہ کلیم کا تصور نہ خیال طورسینا …. پاکستانی فلم میں پہلی نعت جو بہت مشہور ہوئی

شاعرشکیل بدیوانی
شکیل بدیوانی کے نام سے ادبی اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والا شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو واقف نہ ہو۔ یہی حال اس کی دھن بنانے والے موسیقارکا ہے۔نوشاد جو موسیقار اعظم کہلاتے ہیں، کی شہرت بھی اس قدر ہے کہ ان کے بارے میں کچھ لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ رہی گانے والی ہستی جس کو لوگ لتا کے نام سے جانتے ہیں۔ تو اس نے بھی اس نعت کو گا کر حق گائیکی ادا کر دیا اور شاید اسی نعت کا صدقہ ہے کہ شکیل اور نوشاد کے علاوہ لتا ءکو بھی جو ہندو مذہب کی پیروکارہے، قدرت نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔ فلموں میں نعتوں کا استعمال سب سے پہلے شکیل بدیوانی ہی نے کیا تھا۔ انیوں نے اپنی فلم سب سے پہلی فلم ”درد“ میں بھی بڑی خوبصورت نعت تھی۔جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔اس کے بول تھے ” بیچ بھنورمیں آج پھنسا ہے دل کا سفینہ شاہ مدینہ“ یہ نعت ثریا نے نوشاد کی موسیقی میں گائی تھی۔ان کی ایک اور نعت فلموں سے ہٹ کر بھی بڑی مقبول ہوئی تھی، جس کے بول یہ تھے۔
نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا
میری آرزومحمدمیری جستجو مدینہ
شکیل بدایونی کے دل میں عشق رسول اس قدر موجزن تھاکہ اس کی کوئی تھاہ نہیں تھی۔جب ہی تو ایسی نعتیں ان کی دل کی گہرائیوں سے نکلیں۔ ان کا ایک نعتیہ مجمو عہ کلام 1950ءمیں ”نغمہ فردوس“ کے نام سے شائع ہوکر مقبولیت پاچکا ہے۔ شکیل بدایونی کا اصل نام شکیل احمد قادری تھا۔ یہ 3اگست 1916ءکو یوپی کے مشہور شہر بدایوں میں پیدا ہوئے یہ اسم بامسمی تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں قائم مکتب میں ہوئی اس کے بعد ان کو اسلامیہ ہائی سکول بدایوں میں داخل کرا دیا گیا۔ انہوں نے 1936ءمیں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ چلے آئے اور 1942ءمیں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ بعدمیں یہ دہلی میں ڈائریکٹریٹ جنرل سپلائی اینڈڈیولپمنٹ میں ملازم ہوگئے اورع یہ ملازمت 1946ءتک قائم رہی۔پھر وہ ممبئی جا کر بطور نغمہ نگار فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے اوعرر مرتے دم تک اسی سے وابستگی قائم رکھی۔
شکیل بدایونی نے ایک علمی ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ ان کے والد بمبئی میں ایک مسجد میں پیش امام تھے۔ چنا نچہ بدایوں میں ان کے سرپرست ان کے تایا مولانا ضیاءالقادری تھے جو مشہور نعت گو شاعر بھی تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری کا آغاز 16سال کی عمر میں کردیا تھا، جب یہ علی گڑھ پہنچے تو راز مراد آبادی کے توسط سے جگر مراد آبادی تک رسائی حاصل کی اورع اس طرح یہ جگر صاحب کے حلقہ احباب میں شامل ہوگئے۔ جگر مراد آبادی ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ اور وہ اپنے ساتھ انہیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں منعقد کئے جانے والے مشاعروں میں لے جانے لگے۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا اور پھرپڑھنے کا انداز بھی بہت خوبصورت تھا جس کی وجہ سے یہ مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ مشاعروں کے بھی بڑے کامیاب شاعر مانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا کوئی ایسا شہر نہ ہوگا جہاں انہیں مشاعرہ پڑھنے کے لیے نہ بلوایا گیا ہو۔ یہ پاکستان میں بھی مشاعرہ پڑھنے چار بار آچکے تھے اور مشاعرہ لوٹ کر لے گئے تھے۔ انہوں نے یہاں پر بھی اپنے مخصوص ترنم سے خوب رنگ جمایا تھا جو لوگوں کو ابھی تک یاد ہے اسی دور کی ان کی ایک مقبول عام غزل کے دو اشعار ملا حظہ فرمائیں۔
لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے
محبت آئینہ بن چکی تھی وجود بزم جہاںسے پہلے
اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تاب ضبط باقی
ہر ایک مے کش پکاراٹھایہاں سے پہلے یہاں سے پہلے
1946ءمیں شکیل بدایونی ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی تشریف لے گئے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پورا بمبئی امڈ آیااسی مشاعرے میں مشہور فلمساز و ہدایتکار اے آر کاردار بھی تھے۔ انہوں نے ان کو سنا تو بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے ان کو اپنی فلموں کے لئے گیت لکھنے کی پیشکش کی جو انہوں نے فوراََ قبول کر لی ۔ شکیل بدایونی نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اوع مستقل طور پر فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ نوشاد جیسا موسیقار انہیں ملا جو نہ صرف یہ کہ بہتریں موسیقار تھا بلکہ بہترین انسان بھی تھا۔ ان کو بمبئی میں نیا نیا ماحول ملا تو کچھ گھبراہت ہوئی مگر ان کو نوشاد جیسا غمخوار اور مونس مل گیا۔ جس نے ہر قدم پر ان کی مدد کی اور ان دونوں کی دوستی مرتے دم تک قائم رہی۔ شکیل بدایونی نے سب سے پہلے فلمساز و ہدایت کار کاردار کے گیت تحریر کئے۔ ان کی پہلی ہی کاوش بے حد کامیاب رہی۔ اس فلم کا ہر گیت مقبول ہوا۔ نوشاد نے ان گیتوں کی دھنیں مرتب کی تھیںجو اپنے فن میں یکتا اور بڑے تجربہ کار تھے۔ اس فلم کے یہ گیت بے حد پسند کئے گئے۔
ہم درد کا فسانہ دنیا کو سنا دیں گے۔ (شمشاد بیگم اور ساتھی)
افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا ۔ (اومادیوی)
بے تاب ہے دل درد محبت کے اثر سے۔(ثریا ،روما دیوی )

مصباح کے پاس کیرئیرکوتاریخ سازبنانے کاموقع

اسلام آباد (اے پی پی ) پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان اب تک کھیلی گئیں سیریز میں دونوں ٹیمیں 5-5 سے برابر ہیں، دونوں ممالک کے درمیان 16ٹیسٹ سیریز میں سے5 پاکستان اور 5 ہی ویسٹ انڈیز ٹیم نے جیتیں جبکہ 6 سیریز ہار جیت کے فیصلے بغیر ہی ختم ہوگئیں لیکن ویسٹ انڈیز ٹیم کے لئے پلس پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم اس کی سر زمین پر اب تک کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی، اس اعتبار سے دونوں ٹیموں کے درمیان ویسٹ انڈیز میں 7 سیریز کھیلی گئیں جن میں 4 سیریز ویسٹ انڈیز نے جیتیں اور 3 ڈرا ہوئیں جبکہ پاکستان کوئی بھی سیریز اپنے نام کرنے میں ناکام رہا۔ مصباح الحق ویسٹ انڈیز کو اس کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز ہرا نے میں کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کے پہلے کپتان بن جائینگے۔ ایک اور خاص بات ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان اپنے ٹیسٹ کیریئر کی آخری ٹیسٹ سیریز کھیل رہے ہیں۔ یونس خان جو اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے سے صرف 23 رنز کی دوری پر ہیں۔ نوجوان کھلاڑی بابر اعظم ، حسن علی ، شاداب خان کی ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں غیر معمولی کارکردگی شائقین کرکٹ کو جیت کی امید دلاتی ہے۔ یونس خان اور مصباح الحق ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوجائیں گے اور اس لئے وہ اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کےلئے پر امید ہیں۔