تازہ تر ین

بدترین لوڈشیڈنگ،صارفین بلبلا اُٹھے, اہم جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کردیا

اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی ) وزیراعظم محمد نواز شریف نے وزارت پانی وبجلی کو بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے اوربروقت منصوبہ بندی نہ کرنے والے اہلکاروں پر ذمہ داری عائد کی جائے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔ انہوںنے یہ بات بجلی کی کمی کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔وزیر اعظم کی طرف سے طلب کئے گئے اجلاس میں بجلی کی پیداوار میں کمی کے عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کی طرف سے کوتاہی برتنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیاکہ انہوں نے موسم کی شدت اور ڈیموں میں پانی کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے قبل از وقت منصوبہ بندی کیوں نہیں کی۔ وزیراعظم نے فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں جس قدر ممکن ہو لوڈ شیڈنگ میں کمی کرکے ریلیف دیا جائے۔ وزارت پانی وبجلی کی طرف سے واضح کیا گیا کہ گرمی کی شدت میں غیر متوقع اضافہ ہوجانے سے بجلی کی طلب ایک دم بڑھ گئی جو 2500میگا واٹ سے بھی زیادہ ہے جبکہ ڈیموں میں پانی کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں۔ ا±مید ہے کہ گرمی بڑھنے سے پانی کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجائے گا تو ڈیمز سے بجلی کی پیداوار بہتر ہوجائے گی۔ وزیراعظم نے وزارت پانی وبجلی کی وضاحت پربرہمی کا اظہار کیااور ہدایت دی کہ بروقت منصوبہ بندی نہ کرنے والے اہلکاروں پر ذمہ داری عائد کی جائے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ کمی کو پورا کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور عوام کو بجلی فراہم کریں۔ وزارت پانی و بجلی کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارت پانی و بجلی نے 4 سال کی محنت ضائع کر دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گرمی میں اضافے کا بہانہ لوڈ شیڈنگ کے لئے مناسب نہیں، کوئی کوتاہی اور بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں مشاورت کی گئی کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کو کس طرح کم کیا جائے اور لائن لاسز کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔
راولپنڈی، لاہور، جھنگ، ملتان، بھکر، بہاولپور (نمائندگان خبریں) قیامت خیز گرمی میں بجلی کی ”آنیاں
جانیاں“ ملک کے بیشتر علاقوں میں 12سے 16گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کے پسینے نکال دیئے ، ایک گھنٹہ بجلی آئے تو اگلے 5 گھنٹے غائب ہوتی جاتی ہے ، وزارت پانی و بجلی سمیت متعلقہ محکموں نے آنکھیں بند کرلیں ، واپڈا آفسز میں شکایات کے باوجود کوئی حل نظر نہ آنے پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے اور بجلی کی پیداواراور طلب کے درمیان فرق 7 ہزار میگا واٹ تک جاپہنچا ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوزکرگیا ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس موسم گرما میں عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کم رہے گا لیکن اس کے برعکس موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی ریکارڈ توڑ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بجلی کی پیداوار13 ہزارمیگاواٹ جب کہ طلب 19ہزار600 میگاواٹ ہے۔ تربیلا اورمنگلا ڈیم میں پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے بجلی کے کئی پیداواری یونٹ بند پڑے ہیں اوراسی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال بڑھ رہا ہے۔سندھ اورجنوبی پنجاب اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور اس سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ بھی ان ہی علاقوں میں کی جارہی ہے۔ شہروں میں 14 جب کہ دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے تک بجلی نہ ہونے سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ لاہور سمیت وسطی پنجاب کے شہری علاقوں میں 10 جب کہ دیہی علاقوں میں 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں بھی دس سے چودہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، بلوچستان میں بھی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بڑھ گئی ہے۔حکومت کے بلند و بانگ دعوو¿ں کے برعکس بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ پرعوام شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں اور کئی شہروں میں لوگ بجلی کے سڑکوں پر آئے ہیں۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں پڑنے والی شدید گرمی کے باعث بجلی غائب ہو گئی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، بچے اور بوڑھے بالخصوص گرمی سے نڈال اور بے ہوش ہونے لگے ہیں ، جھنگ ، بھکر ، ملتان ، بہاولپور ، حافظ آباد ، شاہ جیونہ ، لالیاں ، چند بھروانہ ،چنیوٹ سمیت مختلف علاقوں میں مچھر کے کاٹنے سے ملیریا بخار عوام میں عام ہو گیا ہے اورعلاقے میں ڈینگی کی وباءپھیلنے کا بھی خدشہ ہے اور بیماریاں پھیلنے کی وجہ سے لوگ شدید خوف و ہراس میں پائے جاتے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کوذہنی مریض بنا ڈالا ۔جبکہ کاروبار زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور لوگ ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں ۔سکولوں میں جانیوالے بچے بھی شدید گرمی میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور اس دوران متعدد بچوں کے بے ہوش ہونے کی خبریں بھی مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ واپڈا کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ روز بجلی کی مجموعی طلب 19000 میگاواٹ تھی جبکہ اس کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار 11700 میگا واٹ رہی جس کے باعث بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھ کر 7000 میگاواٹ پر پہنچ گیا۔ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واپڈا حکام پن بجلی سے 1100 میگاواٹ بجلی حاصل کررہے ہیں جبکہ آئی پی پیز سے 7000 میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ اس صورتحال میں جہاں لیسکو نے لوڈشیڈنگ کے اعلانیہ شیڈول میں 2 گھنٹے کا اضافہ کردیا ہے وہاں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں شدت پکڑتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں لیسکو نے تمام انڈسٹریل ایریاز میں چارگھنٹے کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کردی ہے۔ اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے لیسکو ذرائع کا کہناہے کہ لاہور میں ہر پندرہ منٹ کے بعد بجلی غائب ہو جاتی ہے جس کے باعث پانی بھی نلکوں سے غائب رہتا ہے۔ واسا حکام نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے شہر کے مختلف علاقوں میں مساجد کے ذریعے باقاعدہ اعلانات کروائے کہ شہری بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے پانی کا ذخیرہ کرلیں۔ اس سلسلے میں واسا حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث متعدد ٹیوب ویل بند ہو چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کےخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ،پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عوام کی کثیر تعداد نے فتح گڑھ کینال روڈ کو بلاک کر کے حکومت کےخلاف شدید نعرے بازی کی ۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما جمشید اقبال چیمہ اور لاہور کی نائب صدر مسرت جمشید چیمہ کی قیادت میں بد ترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف حلقہ فتح گڑھ کینال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی جو سینہ کوبی کرتے رہے ۔اس موقع پر مظاہرین بجلی دو ، بجلی دو ، اپنے وعدے پورے کرو، گو نواز گو ،گو شہباز گو کے نعرے لگاتے رہے ۔ مظاہرین کی طرف سے مرکزی شاہراہ کو بلاک کرنے کے باعث گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہری اپنی گاڑیوں سے باہر نکل کر احتجاج میں شریک ہو گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث سر کلر ڈیٹ ایک مرتبہ پھر 500ارب روپے سے تجاویز کر گیا ہے اور حکمرانوں نے اسے اتارنے کےلئے ایک مرتبہ پھر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا پروگرام ترتیب دیدیا ہے جسے کسی صورت پورا نہیں ہونے دیں گے۔ انصاف پروفیشنل فورم کی چےئر پرسن ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ 20اپرےل بروز جمعرات کوبجلی کی غےر اعلانےہ لوڈشےڈنگ کے خلاف پنجاب کے تمام پرےس کلبوں کے باہر 4بجے پرامن احتجاج کرےں گے۔ ملک بھر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے احتجاج اور مظاہروں کی منظوری دیدی۔ 22اپریل کو مظفر آباد،23 کو گلگت بلتستان، 24 کوئٹہ، 25 اپریل کو ملتان، 26 اپریل کو کراچی اور 27 اپریل کو لاہور میں احتجاج کیا جائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ ق نے ملک بھر میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شکر گڑھ میں بغیر شیڈول اور جاں بہ لب لوڈشیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے گھروں میں کام کاج کیلئے اور مساجد میں وضو کیلئے پانی دستیاب نہیں۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف کے شہر سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال و گردونواح میں غیر اعلانیہ اور طویل ترین لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16سے 18گھنٹے تک پہنچ چکا ہے۔ ضلع خوشاب کے طول و عرض میں لوڈشیڈنگ 16گھنٹوں تک محیط ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی معطل ہوگیا ہے۔ جکھڑ میں بجلی کی طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری پاورلومز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے مزدور شدید مشکلات کا شکار۔ علاقہ تھل میں آج کل گرمی زوروں پر ہے اور درجہ حرارت 47درجہ پر پہنچ گیا ہے ایسی صورت حال میں لوڈشیڈنگ مسلسل پانچ پانچ گھنٹے نے غریب عوام کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔ گوجرہ میں غیر اعلانیہ طویل دورانیہ لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی۔ سیالکوٹ کے علاقہ فتح گڑھ اور میانہ پورہ میں 20,20گھنٹے کی مسلسل لوڈشیڈنگ سے شہری سراپا احتجاج۔ شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18گھنٹے تک پہنچ گیا۔ شہریوں نے لاہور رود کو بلاک کرکے شدید احتجاج کیا۔ شورکوٹ میں سورج سارا دن آگ برساتا رہا بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ بورے والا میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری شہری پینے کے پانی کو ترس گئے۔ ہارون آباد میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے تسلسل نے شدید گرمی میں عوامی معمولات زندگی کو مفلوج کرکے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی۔ بہاولنگر شہر میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شہر رات کے اندھیروں میں ڈوب گیا ہے واپڈا کی جانب سے تین تین گھنٹے وقفے وقفے سے طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain