”آذان“ بارے بیان, پریانکاچوپڑا کا سونونگھم کو بڑا جواب

ممبئی (خصوصی رپورٹ)بھارتی گلو کار سونو نگھم کے اذان کے بارے میں ناز یبا بیان کے بعد سوشل میڈ یا پر ہنگامہ بر پا ہو گیا ہے ،گلو کار کو متنازعہ بیان دینے کے بعد بھارت میں بھی تنقید کا نشانہ بنا یا گیا اور اب بالی ووڈ سے بھی فلمی ستاروں کے اذان کے حق میں بیان آرہے ہیں ۔پہلے سلمان خان نے بگ باس 8کے پروموشن کے دوران اذان کی آواز سنی تو میزبان کو بات کرنے سے روک دیا اور اب پریانکا چوپڑا کی ویڈ یو سامنے آئی ہے جس میں وہ اذان کے بارے میں اپنے خیا لات کا اظہار کر رہی ہیں۔سونو نگھم نامی ہیش ٹیگ میں بھارتیشہری محمد انس خان نے پریانکا چوپڑا کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اذان کے حوالے سے اپنے خوبصورت تجربے کا تذکر ہ کر رہی ہیں،معروف اداکارہ نے کہا کہ بھوپال میں سب سے دلچسپ چیز جو میں نے دیکھی ہے اور جس کا میں انتظار کرتی ہوں ،وہ شام کو اذان کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں فلم سے پیک اپ کر کے ٹیرس پر بیٹھتی ہوں ،جب اذان کا وقت آتا ہے تو پورے بھوپال میں اذان کی آواز آتی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ جس ٹیرس پر میں بیٹھتی ہوں وہاں چھ مساجد سے آواز آتی ہے ،وہ پانچ منٹ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سورج غروب ہو رہا ہوتا ہے ،اذان کی آواز آرہی ہوتی ہے تو یہ سب بہت ہی پر امن لگتا ہے،یہ میرے دن کا سب سے اچھا وقت ہوتا ہے۔

حیدرآباد، نورین لغاری کے بعد قریبی رشتہ دار بھی غائب

حیدرآباد(بیورورپورٹ)حیدرآباد سے نورین لغاری کے واقعے کے بعد زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر کا بیٹا بھی کزن سمیت پراسرار طور پر غائب ہوگیا ، ورثاء کی جانب سے اغواءکا شبہ ۔ تفصیلات کے مطابق حیدرآباد ابھی لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے پرافیسر عبدالجبار لغاری کی بیٹی نورین لغاری کی گمشدگی کا معا،لہ دبا نہیں تھا کہ حسین آباد کے علاقے سے سندھ زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالستار آریجو کے بیٹے شایان آریجو اور ان کے کزن خادم حسین آریجو کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ سامنا آگیا ہے ، بتایا جاتا ہے کہ وہ دو دنوں سے لاپتہ ہیں ، سندھ زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالستار آریجو نے بتایا کہ ان کا بیٹا شایان کل شام اپنے کزن خادم حسین آریجو کو چھوڑنے شہباز بلڈنگ گیا تھا ، جس کے بعد سے ان دونوں کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ، اس لئے ابھی اس واقعے کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے ، اس سلسلے میں ڈی آئی جی خادم حسین رند کو اطلاع دی گئی ہے جو اس سلسلے میں تحقیقات کررہے ہیں ۔

اسلام آباد کی 3یونیورسٹیوں میں ”داعش“ نیٹ ورک کی موجودگی کا انکشاف

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پنجاب میں جاری آپریشن کی گونج اسلام آباد میں سنائی دینے لگی۔ وفاقی دارالحکومت میں داعش کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے اس حوالے سے حساس اداروں نے نورین لغاری کی گرفتاری کے بعد اسلام آباد میں مبینہ طور پر نیٹ ورک سے رابطوں کی اطلاعات پر یاک لڑکی کی تلاشی کے ساتھ ساتھ اس کے غیر ملکی شوہر کی اسلام آباد میں حرکات و سکنات بھی نوٹ کانا شروع کر دی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ٹاپ رینکنگ میں موجود اسلام آباد کی تین اہم یونیورسٹیوں میں داعش کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، غیر ملکی طلبہ یونیورسٹیوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور رہائشی علاقوں میں بنائے گئے ہاسٹلز میں رہائش پذیر ہیں۔ مبینہ طور پر داعش کے نیٹ ورک سے منسلک لڑکی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا سروادہ نامی یوگنڈا کا رہائشی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں گزشتہ 13 سال سے زیر تعلیم ہے۔ ویزہ ختم ہونے کے خوف سے اس نے گزشتہ سال ایک پاکستانی لڑکی سے شادی کر لی۔ ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ موصوف نائیجرین سفارت کار کے گھر میں غیر قانونی طور پر رہائش پزیر ہے۔
لاہور(خصوصی رپورٹ) حساس اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی لڑکی نورین لغاری کے سنسنی خیز انکشافات کے بعد تحقیقاتی اداروں نے گرفتارلڑکی کے قریبی رشتے داروں ، فیس بک ، واٹس ایپ اور ٹیلی فون پر رابطہ کرنے والے عزیزوں، کلاس فیلو اور دوست لڑکیوں سمیت متعدد خاندانوں کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے حیدرآباد سے بھی متعد د خاندانوں کو تفتیش کے لیے طلب کیا ہے۔ دوسری جانب خاتون ڈاکٹر نورین لغاری کے والد اور بھائی کے بیانات کی روشنی میں بھی تحقیقاتی ٹیموں کو آگے بڑھایا ہے اور خاتون ڈاکٹر نورین لغاری سے اب تک کی ہونیوالی تفتیش کا ان بیانات کو بھی حصہ بنالیا ہے ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے خاتون ڈاکٹر نورین لغاری سے تھانہ بیدیاں روڈ اور چیئرنگ کراس میں ہونے والے واقعات کی بھی الگ الگ تفتیش کی جارہی ہے۔

بھارت کے سر پر بربریت کا بھوت سوار ، 3 طلباءکی حالت تشویشناک

سرینگر(نیوزایجنسیاں)مقبوضہ کشمیرمیں پیلٹ گن ،آنسو گیس اور پاواشیل جیسے مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے کشمیریوںکے جذبہ حریت کو کمزور کرنے میں ناکامی کے بعد وادی میں جاری احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے اب پلاسٹنگ گولیوں کا استعمال کیا جائے گا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ پلاسٹک کی ہزاروںگولیاں پہلے سے تیار کی جا چکی ہیں اور اوروادی میں تعینات بھارتی فورسزکو استعمال کرنے کیلئے بھجوادی گئیں ہیں۔ان گولیوں کو انساس رائفلوں سے فائر کیا جا سکتا ہے۔یہ اقدام سپریم کورٹ کی طرف سے بھارتی حکومت کو پیلٹ گن کا استعمال محدود کرنے کی ہدایت کے سامنے آیا ہے ۔ بھارتی فورسز اس سے پہلے مقبوضہ علاقے میں احتجاجی مظاہروں شرکاءکو منتشر کرنے پیلٹ گن اور پاوا شیلوں جیسے مہلک ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جن کی وجہ سے گزشتہ سال کے انتفادہ کے دوران ایک سو بیس کے قریب نہتے کشمیریوںکو شہید، ہزاروںکوزخمی اور سینکڑوں کو بینائی سے محروم کردیاگیا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میںبھارتی فوج کے ہاتھوں پیلٹ گن کے شکار 3طلبا کی حالت تشویشناک،پلوامہ میں فورسز کی طرف سے ڈگری کالج پر یلغار کے خلاف کالجوں میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی طرف سے کی گئی شلنگ اور لاٹھی چارج سے متعدد زخمی طالب علموں میں سے 10کو سرینگر کے مختلف اسپتالوں میں علاج و معالجے کیلئے داخل کیا گیا جن میں 3طالب علم پیلٹ لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔مقبوضہ کشمیر میں طلبا کے احتجاج کے خوف سے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے،پرتشددصورتحال کے پیش نظرریاستی حکومت نے تمام یونیورسٹیاں ،کالج اورہائراسکینڈری اسکول بندرکھنے کاحکمنامہ جاری کردیا گیا ہے۔کشمیریونیورسٹی نے 18اپریل کولئے جانے والے سبھی امتحانات کوملتوی کردیا۔ وادی میں طلبہ کی احتجاجی لہرکادائرہ وسیع ہونے کے اندیشے کوملحوظ نظررکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے تمام کالج اورہائراسکینڈری اسکول بندرکھنے کی ہدایت دی ہے ۔ صوبائی کمشنرکشمیرکے دفترسے باضابطہ طورپرایک آرڈرجاری کیاگیا،جس میں یہ واضح کیاگیاپوری کشمیروادی میں سبھی کالج اورہائراسیکنڈری اسکول بندرہیں گے ۔صوبائی انتظامیہ کے مطابق وادی کشمیر میں تمام یونیو رسٹیاں بھی بند رہیں گی ۔مقبوضہ کشمیر میں طلبا کے احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھنے کے بعد وادی بھر میں ایک بار پھر موبائل انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی ہے۔ انتظامیہ نے اس ضمن میںتمام مواصلاتی کمپنیوں کو تھری جی اور فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات بند رکھنے کی ہدایات جاری کیں ۔تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بنیادی طور پر گذشتہ چند روز کے دوران سوشل میڈیا پر آئے حالیہ ویڈیوز کے بعد لیا گیا جس میں بھارتی فوج ،سی آر پی ایف اور اور دیگر نیم فوجیوںکی جانب سے کی گئی زیادتیاں کو منظر عام پر لایا گیا تھا ۔ ادھرگذشتہ 9دنوں کے دوران تیسری مرتبہ انٹرنیٹ سروس منقطع کر دی گئی۔ تاہم براڈ بینڈ اور ٹو جی انٹرنیٹ خدمات کو بحال رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب سینئرحریت لیڈر اور مسلم لیگ کے محبوس چیئرمین مسرت عالم کی عدالتی تحویل میں توسیع کرتے ہوئے عدالت نے انہیں 27اپریل تک جیل بھیجنے کے احکامات صادر کئے ۔تفصیلات کے مطابق محبوس مزاحمتی لیڈرمسرت عالم بٹ کی پولیس ریمانڈمیں بارہمولہ کی ایک عدالت نے27اپریل 2017تک توسیع کردی ،جسکے بعدانہیںعدالت سے واپس سب جیل بارہمولہ منتقل کیاگیا۔مسلم لیگ کے لیگل سیکرٹری شاہ ریاض نے مزیدبتایاکہ لیگ کے چیف آرگنائزرعبدالاحدپرہ کوجموں سے واپس کشمیرلانے کے بعدپولیس اسٹیشن نوگام ہندوارہ میں مقیدرکھاگیاہے ،اورموصوف کے اہل خانہ کوملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔مقبوضہ کشمےر مےں کل جماعتی حرےت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے طلباءپر ظالمانہ تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ریاستی دہشت گردی کے سلسلے کو فوری طور بندنہ کےاگیا تو اس کے خلاف ایک ہمہ گیر احتجاجی تحرےک چلائی جائے گی اور عوام سڑکوں پر آکر اپنے لخت ہائے جگر کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ سےد علی گےلانی نے سرےنگر سے جاری اےک بےان مےں کہا یہ ہماری نئی نسل کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے اور اس کو کسی صورت میں برادشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوںنے پلوامہ ڈگری کالج میں پیش آنے والے واقعے کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے کالج کے سامنے ناکہ لگاکر اور کالج کے احاطے میں داخل ہوکر طلبہ کو اشتعال دلایا اور پھر کلاس روموں پر یلغار کرکے 60سے زائد طالب علموں کو زخمی کردیا۔ انہوں نے ریاستی دہشت گردی کے اس واقعے کے خلاف آج مختلف تعلےمی اداروں میں ہونے والے مظاہروں پر اطمینان کا اظہار کےا۔کل جماعتی حریت کانفرنس (ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے جموںوکشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی خطہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کے منصفانہ حل کیلئے آگے آئیں۔ہارورڈیونیورسٹی امریکہ میں ہارورڈ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے ویڈیو لنک کے ذریعہ ایک خطاب میں میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں سات لاکھ کے قریب فوج تعینات کی گئی ہے اور اس طرح کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی علاقہ بن گیا ہے اور یہ فوجی افسپا ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور ڈسٹربٹ ایریا ایکٹ جیسے کالے قوانین کے ہتھیاروں سے لیس ہر قسم کے احتساب سے مستثنیٰ ہےں۔انہوں نے کہا کم ووٹنگ کی شرح سے لوگوں نے ان انتخابات کو مکمل طور مسترد کردیا حالانکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے1951اور1959میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ کشمیر میں کسی بھی طرح کے انتخابات کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو کسی بھی طور متاثر نہیں کرسکتے اور اس مسئلہ کا حل صرف کشمیری عوام کے استصواب رائے سے ہی ہوسکتا ہے لیکن حکومت ہندوستان نے بار بار اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کی نفی کی ۔

بیٹے نے ماں کی زندگی بچالی

بیونس آئرس (خصوصی رپورٹ) دنیا میں کئی ایسے انہوکے واقعات اور معجزات رونما ہو چکے ہیں جس سے ”ماںاور بچے “کی فطری لازوال محبت اور بے مثل رشتے پر سائنس کو نہ چاہتے ہوئے بھی یقین کرنا پڑا ہے ، ایسا ہی ایک انوکھا اور انمول واقعہ ارجنٹائن میں سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون پولیس اہلکار جو کئی ماہ سے کوما میں تھی اور حالت کوما میں ہی اس کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی، ڈاکٹرز اس خاتون کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز اس خاتون کے کوما سے باہر آنے کی امید کھو چکے اور بالکل مایوس ہو چکے تھے لیکن ماں بچے کی فطری محبت خاتون پولیس اہلکار کو نہ صرف کوما سے باہر لے آئی بلکہ اب وہ بتدریج پہلے سے روز بروز بہتر ہو رہی ہے، اس واقعہ نے ایک مرتبہ پھر ڈاکٹرز کی رائے اور میڈیکل سائنس کو غلط ثابت کر دی اہے جبکہ ڈاکٹرز بھی خاتون کے کوما سے باہر آنے پر حیران اور اسے صرف اور صرف ماں بیٹے کی محبت قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز نے مکمل اپ اور ٹیسٹ کئے تو انکشاف ہوا کہ امیلیا بیٹن 5 ماہ کے حمل سے ہیں، اس دوران ڈاکٹرز اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوششیں کرتے رہے، جبکہ حادثے کے 54 دن بعد خاتون پولیس اہلکار کے ہاں کومے کی حالت میں ہی ایک صحت مند بچے کی پیدائش ہوئی لیکن اس کے باوجود ڈاکٹرز میلیا بیٹن کی زندگی کے حوالے سے سخت مایوس ہو چکے تھے اور انہوں نے بیٹن کے گھر والوں کو جواب دے دیا تھا کہ اب بیٹن کبھی کوما سے باہر نہیں آسکتی جس پر بیٹن کا پورا خاندان ہی انتہائی صدمے کی کیفیت میں تھا۔

400ڈالر ٹپ …. قرض بھی ادا کر دیا

ہوائی (نیٹ نیوز) آسٹریلیا کے ایک رحمدل جوڑے نے ریسٹورنٹ پر کام کرنیوالی امریکی طالبہ کو نہ صرف 400 ڈالر ٹپ دی بلکہ اس پر چڑھا ہوا 10 ہزار ڈالر کا قرض بھی ادا کردیا۔22 سالہ طالبہ ہوائی کے ایک ریسٹورنٹ میں اپنے تعلیمی اخراجات ادا کرنے کیلئے ہفتہ وار 80 گھنٹے کام کررہی ہے تاہم اس کا قرض بہت زیادہ یعنی پاکستانی 10 لاکھ روپے کے برابر تھا۔ سائیلا شینڈرا ہوائی کے ایک ہوٹل نوئی تھائی کوزین میں ویٹریس کے طور پر کام کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک آسٹریلوی جوڑا اس کی میز پر آیا‘ اس جوڑے نے طالبہ سے سوال کئے تو سائیلا نے بتایا کہ وہ تعلیمی قرض کی وجہ سے یونیورسٹی نہیں جا پارہی کیونکہ یہاں رہائش بہت مہنگی ہے۔ اس جوڑے نے کھانا ختم کرنے کے بعد بل کے ساتھ 400 ڈالر ٹپ بھی دی اور وہاں سے چلا گیا لیکن انہوں نے اسے اپنی رہائش کے بارے میں بتادیا تھا جو ایک اور قریبی ہوٹل میں تھی۔ اس کے بعد سائیلا نے ایک گلدستہ اور شکریہ کا کارڈ لیا اور ان کے ہوٹل تک گئی لیکن وہاں ایک اور سرپرائز اس کا منتظر تھا۔ رحم دل جوڑے نے کہا کہ وہ اس پر واجب 10 لاکھ روپے قرض ادا کرسکتے ہیں۔ اس پر سائیلا نے کہا کہ وہ تو صرف ان کا شکریہ ادا کرنے آئی تھی کیونکہ انہوں نے اتنی ٹپ دی تھی بعدازاں اس رحمدل آسٹریلوی جوڑنے نے سائیلا کا قرض بھی ادا کیا اور اس سے یہ وعدہ بھی کیا کہ جب تک وہ گریجوایٹ نہیں ہوجاتی اس وقت تک وہ اس کے تمام تر تعلیمی اخراجات اٹھائیں گے۔

جیکولین کا مشروب بنانےوالے کمپنی میں انویسٹمنٹ کرنے کا فیصلہ

ممبئی (نیٹ نیوز) بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ جیکولین فرنینڈس جو کہ دنیا بھر میں ایٹم گرل کے نام سے مشہور بھی ہیں‘ نے اب کاروباری شخصیت کی لسٹ میں اپنے آپ کو شامل کر لیا ہے۔ اداکارہ نے اس بار کسی فلم میں انویسٹمنٹ کرنے کا نہیں سوچا بلکہ وہ ایک مشروب بنانے الی کمپنی میں ساڑھے تین کروڑ روپے انویسٹ کریں گی۔ اداکارہ کا کہنا ہے مجھے اس کمپنی کا حصہ بننے پر خوشی ہے۔

پاکستان سے اربوں روپے غیر قانونی طور پر دبئی منتقل

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں تحریک انصاف کے رُکن اسمبلی اسد عمر سٹیٹ بینک کے بعد نیب اور ایس ای سی پی پر برس پڑے۔ کہتے ہیں کہ ایف آئی اے نے دُبئی میں جائیدادیں خریدنے والے 100 افراد کا سراغ لگالیا۔ ایس ای سی سفید جھوٹ بول رہا ہے۔ اجلاس چیئرمین قیصر شیخ کی زیرصدارت ہوا۔ اسد عمر نے دُبئی میں جائیدادیں خریدنے والے پاکستانیوں کا معاملہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ چار سال میں پاکستانیوں نے دُبئی میں 800 ارب روپے کی جائیدادیں خریدیں۔ غیرقانونی طور پر 800 ارب روپے دُبئی منتقل کیے گئے۔ اتنا بڑا ڈاکہ ہے اور کوئی ادارہ جواب دینے کے لیے تیار نہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے صرف 100 افراد کا سراغ لگایا، ان افراد کو جیل میں ڈال دیا جائے تو بڑا ریونیو ملے گا۔ ایس ای سی پی کے جواب میں کہا گیا کہ عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں جو سفید جھوٹ ہے۔ پیپلزپارٹی کے مصطفی محمود نے تجویز دی کہ ایس ای سی پی کیخلاف کارروائی کی جائے، کمیٹی نے دُبئی میں پاکستانیوں کی جانب سے جائیدادیں خریدنے کے معاملہ پر جواب نہ ملنے پر آئندہ اجلاس میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور ایس ای سی پی حکام کو طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی دانیال عزیز، پرویز ملک، شیزا فاطمہ اور ڈاکٹر شذرا منصب علی خان کے علاوہ متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
800 ارب

رینجرز اختیارات کیلئے وزیرداخلہ کا اہم فیصلہ, دیکھئے اہم خبر

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں) سندھ کی صوبائی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت رینجرز کو سندھ میں وہی اختیارات دینے پر غور کر رہی ہے جو اسے پنجاب میں حاصل ہیں۔پنجاب میں پاکستان رینجرز کو آئین اور سندھ میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت اختیارات حاصل رہے ہیں۔سندھ میں رینجرز کو انسداد دہشتگردی کے قانون کی شق 3 کے تحت پولیس کے اختیارات حاصل تھے جن کی مدت 3 روز قبل ختم ہوچکی ہے۔ ان اختیارات کے مطابق رینجرز بغیر وارنٹ کے گرفتاری کا اختیار رکھتے تھے اور کسی کو شک کی بنیاد پر 90 دن تک حراست میں بھی رکھنے کا اختیار حاصل تھا۔اس کے علاوہ رینجرز دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان سمیت کسی جرم کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار رکھتے تھے۔کراچی میں جاری آپریشن کے بھی یہی نکات تھے۔ان ہی اختیارات کے تحت رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا، اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین، عبدالقادر پٹیل، نثار مورائی سمیت ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کو حراست میں لیا۔کراچی میں رینجرز کسی بھی مشکوک مقام پر وارنٹ یا مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر داخل ہوکر تلاشی لے سکتے تھے۔سندھ کے برعکس پنجاب میں رینجرز کو آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت اختیارات دیے گئے ہیں۔ پنجاب میں رینجرز نہ تو مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر کسی کو گرفتار سکتے ہیں اور نہ ہی کسی مشکوک جگہ پر چھاپہ مار سکتے ہیں۔ کسی بھی آپریشن سے قبل رینجرز حکام کو محکمہ داخلہ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔اسی طرح رینجرز کو کسی کو صرف شک کی بنیاد پر 90 روز تحویل میں رکھنے کا بھی اخِتیار نہیں اور نہ ہی وہ ناکہ بندی کرسکتے ہیں۔ پنجاب میں رینجرز کو ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں ہے اور وہ بوقت ضرورت پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کو معاونت فراہم کرسکتے ہیں۔سندھ کے وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ رینجرز کو پنجاب کی طرز پر اختیارات دینے کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاہم رینجرز کو اختیارات دینا وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا نوٹی فکیشن جاری نہ ہونے کے باعث تین دن سے رینجرز نے نہ ہی کوئی چھاپہ مارا ہے، نہ کوئی گرفتاری کی ہے اور اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اختیارات کے بغیر رینجرز کو کراچی کی سڑکوں اور چوراہوں پر نہیں کھڑا کر سکتے،رینجرز اختیارات کے حوالے سے ہرمرتبہ لیت ولعل سے کراچی کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،کراچی کے امن و امان کے سلسلے میں رینجرز کی کوشیں اور قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام آباد میں گورنرسندھ محمد زبیرنےوزیرداخلہ چوہدری نثار سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران صوبہ سندھ کی مجموعی اور بالخصوص کراچی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ کراچی کے موجودہ حالات اور امن و امان کی بہتر صورتحال تمام سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جس میں رینجرز کا کردار سر فہرست ہے۔انہوں نےکہاکہ وفاقی حکومت کراچی کےاسٹیک ہولڈرزبشمول تمام سیاسی جماعتوں کے واضح مطالبے، ملکی مفاد اور بالخصوص کراچی کے عوام کی فلاح و بہبود کی غرض سے شروع کیے گئے آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے۔

”ججز کہہ چکے فیصلہ صدیوں یاد رکھا جائیگا مطلب یہ کے فیصلے سے کوئی بڑی تبدیلی آسکتی ہے“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس سے متعلق جج صاحبان متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ فیصلہ تاریخی نوعیت کا ہوگا اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یقیناً فیصلے میں یہ طے پائے گا کہ آئین کی تاریخ میں کون دیانتدار ہے اور کون نہیں اس کو واضح کر دیا جائے گا۔ آئین کے آرٹیکل 63,62 کے حوالے سے بڑی تبدیلی سامنے آنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور فوج بھی یہ کہہ چکی ہے کہ جو بھی فیصلہ آئے گا قبول کرینگے۔ فیصلہ نون لیگ کے خلاف آئے یا حق میں وہ فوری انتخابات کی طرف جاتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اگر فیصلہ خلاف آتا ہے تو نواز لیگ کوئی نیا پارلیمانی لیڈر منتخب کر کے اپنی حکومت کو 2018 تک طول دے گی کیونکہ مجھے خود کیبنٹ کے ارکان سے ہونے والی ملاقاتوں میں بتایا جاتا رہا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ کا ہے، تخمینے میں یہی ہے کہ بجلی پیدا کرنے کےلئے شریف خاندان کے یا سرکاری سطح پر جتنے بھی پروجیکٹس بنائے جا رہے ہیں وہ 2018ءکے انتخابات سے 3 ماہ قبل بجلی پیدا کرنا شروع کر دینگے۔ اس لئے حکومتی پارٹی کی کوشش ہو گی کہ انتخابات ایسے وقت میں کرائے جائیں جب لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں آصف زرداری پر نواز شریف کو سپورٹ کرنے کے الزامات لگتے رہے، وہ جوڑ توڑ کے ماہر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پی پی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں کوشش کریں گی کہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہونے سے پہلے ہی انتخابات ہو جائیں کیونکہ ایسے وقت میں انتخابی نتائج حکومت کے حق میں نہیں آئیں گے۔ اس سے پہلے ق لیگ 2008ءاور پی پی 2013ءمیں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے الیکشن ہار چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ٹیکنیکل حضرات نے بتایا ہے کہ آج بھی 22, 21 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ طلب 18,17 ہزار میگا واٹ ہے۔ اس پر کہا جاتا ہے کہ پیسے نہیں ہیں۔ امپورٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے قومی آمدن میں کمی ہو گئی ہے۔ آئی پی پیز کو دینے کےلئے پیسے نہیں ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں، صنعتوں نے بھی اپنی ڈیمانڈ بڑھا دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات بڑھ گئے ہیں لیکن حکومت بھرپور کوشش کرے گی کہ آنے والے رمضان میں کسی طرح آئی پی پیز کو پیسے دیکر عوام کو بجلی فراہم کرے۔ مردان یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل سے دنیا بھر میں پاکستان کا سافٹ امیج متاثر ہوا علماءکو چاہیے کہ وہ اس واقعہ کے خلاف احتجاج کریں۔