لوڈ شیڈنگ کیساتھ کیساتھ مہنگائی کا جن بھی بے قابو

لاہور (آن لائن) دالوں کے دام ایک مرتبہ پھر آسمان سے باتین کرنے لگے،ماہ رمضان کی آمد سے قبل مختلف اقسام کی دالیں 30 روپے کلو تک مہنگی کردی گئیں۔ریٹیٹل گروسرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ہفتے کے دوران دال چنا 30 روپے مہنگی ہوکر 230 روپے کلو جبکہ دال ماش 10 روپے اضافے سے 210 روپے کلو کی سطح پر پہنچ گئی،اسکے علاوہ دال مونگ اور مصور 130 روپے کلو کے حساب سے بک رہی ہے۔ہول سیلرز کا موقف ہے کہ مقامی سطح پر دال چنا کی فصل خراب ہونے سے درآمدی دالوں پر انحصار بڑھ گیا جبکہ پورٹ پر کنجیشن اور پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درآمدی دالوں کی کنٹینرز کی تاخیر سے دالوں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ہول سیل مارکیٹ میں دالوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کے سبب دکاندار من مانے نرخوں پر اشیائ خوردنوش فروخت کر کے عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔

”پانامہ کا ہنگامہ “وزیراعظم نے وفاقی وزراء، سیکرٹریز کو اہم حکم دیدیا

اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم میاں محمد نواز \شریف نے انتباہ کیا ہے کہ کسی بھی وزیر اور سیکرٹری کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں کارروائی کے سلسلے میں کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا ‘ تمام وزراءاور سیکرٹریز پارلیمنٹ کے بزنس کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لئے اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم نے اس امر کا اظہار تمام وزراءاور سیکرٹریز کے نام اپنے خط میں کیا۔ یہ خط منگل کو چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے ایوان میں ارکان کو پڑھ کر سنا دیا ہے۔ چیئرمین سینٹ نے اراکین سینٹ کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم کی طرف سے 17 اپریل کو تمام وزراءاور سیکرٹریز کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں دلچسپی لینے اور پارلیمنٹ کو تمام متعلقہ امور و سوالات کا بروقت جواب دینے کے حوالے سے تحریری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کا تمام وزارتوں ‘ ڈویژنوں اور اداروں کو خط علیحدہ لکھا ہے۔ و زیر اعظم نے وزراءاور سیکرٹریز سے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے بزنس کو ترجیحات میں شامل کریں۔ سیکرٹریز کو اگر جانا ممکن نہ ہو تو جوائنٹ سیکرٹری سے کم عہدے کے افسر کو نمائندہ نامزد نہ کریں۔ پارلیمنٹ کے بزنس کے سلسلے میں وزراءاور سیکرٹریز کی کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اراکین سینٹ نے و زیر اعظم کے وزراءاور سیکرٹریز کے نام ہدایات پر مبنی اس خط کا بھرپور خیر مقدم کیاہے۔

حکمران خاندان پر پانامہ فیصلہ کی شکل میں 62/63ٹن غیر ایٹمی بم گر گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکمران خاندان پر پانامہ فیصلہ کی صورت میں 62, 63ٹن غیر جوہری بم گرے گا۔ قطری خط ردی کی ٹوکری میں جائے گا۔ وزیراعظم فیصلہ جاتی عمرا میں سنیں گے۔ لیگی ممبران اسمبلی کو حلقہ کی عوام کے ساتھ میٹنگز کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے ممبران اسمبلی کو لوگوں سے رابطے کرنے کی فوری ہدایت کردی گئی۔ فیصلہ پر ردعمل کیا دینا ہے اس بارے پی ایم ہاﺅس سے ہدایت جاری کی جائے گی۔ اسحاق ڈار کو فوری طور پر پیپلزپارٹی قیادت سے رابطے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے پیپلزپارٹی فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں ن لیگ کا بالکل ساتھ نہیں دے گی، ساری سیاسی جماعتیں فیصلہ کو ویلکم کرینگی۔

”قانون یا نون “جنازہ کس کا نکلے گا ؟

کراچی ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما کیس کے فیصلے کی تاریخ آگئی، شیخ رشید کہتے ہیں جمعرات کو قانون یا نون میں سے ایک کا جنازہ نکلے گا، سپریم کورٹ یں نواز شریف کا پوسٹ مارٹم ہوا۔سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ 22 اپریل کو سنانے کا اعلان کردیا، نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے سے کرپشن کا تابوت نکلے گا، عدالت عظمی کے فیصلے سے پاکستانی عوام کو خوشیاں ملیں گی۔ عدالت عظمی کے پانچوں جج عظیم ہیں، پاناما لیکس پر کمیشن بھی بنا تو پیش ہوں گا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ سیاست کی نئی تشریح ہوگی، آئین اور قانون کو آنکھیں دکھانے والے چھپتے پھریں گے، ہم عوام میں پانامہ کیس جیت چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام کی آنکھوں میں چمک ہے ،عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ شریف خاندان نے کیس کے حوالہ سے جھوٹ بولا، کیس جیتیں یا ہاریں میدان نہیں چھوڑیں گے، پانامہ سے کمیشن بھی بنائی تو اسکے سامنے پیش ہونگا، ”گو نواز گو“ کا نعرہ میں نے تخلیق کیا اور سب سے پہلے عمران خان کے جلسے میں لگایا، اب تو زرداری بھی گونواز گو کا نعرہ لگانے کو تیار ہیں، لیکن وہ خود یہ نعرہ لگانے کی بجائے بلاول سے لگوائیں تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ن لیگ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کوئی پنگا لینے کی کوشش کی تو بھگتے گی، فیصلہ سامنے آنے کے بعد حکمران خاندان کی مزید جائیدادیں سامنے آئیں گی، ن لیگ تتر بتر ہوجائے گی، نجی ٹی وی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ30 آدمی اور ان کے بچوں پر یہی قانون نافذ کردیا جائے تو ملک کا قرضہ اتر جائے گا،190 کے تحت تمام ادارے اور ایجنسیاں سپریم کورٹ کے تابع ہیں اور اس کا حکم ماننے کے پابند ہیں، ہتھی پنکھا جھلنے والے شہباز شریف اب کہاں غائب ہیں اب قوم کو لوڈشیڈنگ کا جواب کیوں نہیں دیتے۔

پانامہ کیس فیصلہ : طاہرا لقادری کی حیران کن پیشنگوئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سارا نظام ہی ملک اور عوام دشمن ہے، سارا سسٹم ایک کرپٹ مافیا کے بھلے کے لئے ہے۔ اس ظالمانہ نظام میں عوام یا ملک کی بھلائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چینل ۵ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پانامہ کیس میں حکمران خاندان جس طرح بے نقاب ہوا ہے اس کے بعد بھی اگر بچ گیا تو بڑی حیرت ہو گی۔ دو میں سے صرف ایک کام ہو سکتا ہے کہ یا تو سپریم کورٹ خود کو بطور ادارہ بچا لے یا پھر نوازشریف کو بچا لے۔ میرے جیسے لوگ اس نظام کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم تو سسٹم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں اور یہ سارے کردار تو اس سسٹم کی پیداوار ہیں۔ کرپٹ سسٹم میں آئین کا کوئی رول نہیں ہے عام عوام کا کیا رول ہو گا۔ موجودہ سسٹم کے تحت تو دس بار الیکشن ہو جائے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس سسٹم نے ان لوگوں کو ہی سامنے لانا ہے جو اس کے بنانے والے ہیں اور بچا کر رکھا ہے۔ سسٹم اور اس کے بنانے والے ایک دوسرے کے محافظ ہیں اس لئے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ سسٹم کو چلنا چاہئے کیونکہ اس میں سب کو حصہ ملتا ہے۔ کرپشن، لوٹ مار اور لاقانونیت کا نام سسٹم رکھا ہے جس میں عوام کا کوئی رول نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی شریف آدمی کی سیاست یا تجارت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پانامہ فیصلہ آئے گا تو ہی پتہ چلے گا کہ اسے کس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا۔ اگر کسی کی سمجھ میں ہی کچھ نہ آیا کہ ہوا کیا ہے تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا۔ ماضی میں بھی ایک فیصلہ ایسا آیا تھا کہ سارے ہی رو رہے تھے اور سارے ہی خوش تھے پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ کون ہارا اور کون جیتا۔ سپریم کورٹ اگر جرا¿تمندانہ اور حق پر مبنی فیصلہ کرتی ہے، اس میں طاقتور لوگوں کی جانب دیکھنے کے بجائے آئین قانون سچائی پر فیصلہ کرتی ہے تو اسے یاد رکھا جائے گا تاہم پاکستان کی تاریخ میں ایسے فیصلے آنا طویل مدت سے ختم ہو چکے ہیں۔ کئی دہائیوں سے کسی طاقتور کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ ایسا فیصلہ بھی آ سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی سپریم کورٹ کا رخ ہی نہ کرے، ادارے کی وفات ہو جائے تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا۔ اگر کسی کے بھی خلاف فیصلہ نہ ہو اور سارے ہی ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہوں جشن منا رہے ہوں تو یہ بھی یاد رکھا جائے گا یعنی اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ میرے ذہن میں اس فیصلہ کے حوالے سے کئی چیزیں سمجھ میں آتی ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا فیصلہ آتا ہے۔

پانامہ کیس فیصلہ : اعتزاز احسن نے عندیہ دیدیا

لاہور(آئی این پی)سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اورپیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ جسٹس عامر رضا خان کے متعلق وزیر داخلہ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں‘ ڈان لیکس کی متفقہ رپورٹ کی چوہدری نثار کی بات سمجھ نہیں آتی یہ لغو بات ہے‘ اس کا مطلب ہے کہ جسٹس رضا نے پہلے ہی کہہ دیا کہ اگر وہ رپورٹ سے متفق ہوئے تو دستخط کریں گے وگرنہ نہیں‘کوئی جج ایسے کہہ ہی نہیں سکتاکہ اسی کی بات مانی جائے‘ پانامہ لیکس سادہ ریاضی سوال تھا چار دن کارروائی پانچویں دن فیصلہ آ جانا چاہیے تھا ‘ فلیٹس مان لئے دستاویزات لے کر آمد جائز یا ناجائز کوئی دستاویزات نہیں پیش کیں ،فیصلہ نواز شریف خلاف آجانا چاہیے تھا، محفوظ کرلیا گیاہے۔ یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس رضا خان نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ہو گی رپورٹ وہ ہو گی جو میں لکھوں اور مانوں گا تو پھر باقی ممبر کس لئے ہوتے ہیںوزیر داخلہ جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اگرایسا ہوتو اس کا مطلب ہے کہ باقی ارکان کی رائے کی کوئی حیثیت نہی پھر باقی ممبر رکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟س کمیٹی میں اختلاف شدید ہے اور اختلاف پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘وزیر داخلہ جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔ پانامہ کے متعلق سوال کے جواب میں اعتز از احسن نے کہا کہ پانامہ کیس سادہ سا ریاضی کا سوال تھا چار دن کی کارروائی کرکے پانچویں دن فیصلہ آ جاناچاہیے تھا ‘نواز شریف اور ان کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ فلیٹس ہمارے ہیں ‘ نواز شریف خاندان کو ان فلیٹس کی خریداری کجائز ذرائع آمدن بتاناتھے وہ کوئی ثبوت نہیں دے سکے سوائے دو قطری خطوں کے یہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آجانا چاہیے تھا شاید لوگ سمجھتے ہیں کہ وہاں بھی اختلاف ہے۔

تخریب کاری یا حادثہ, ٹرین حادثے میں 35افراد زخمی

لاہور(خصوصی رپورٹ) چاروں صوبوں کے مابین اتحاد و یگانگت کی علامت جعفرایکسپریس کو نظر لگ گئیں۔ گوجرانوالہ اور ایمن آباد کے درمیان جعفر ایکسپریس کی8 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جس کے نتیجے میں 35مسافر زخمی ہو گئے ‘ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ۔ ترجمان وزارت ریلوے نے ٹرین حادثے میں تخریب کاری کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کا ٹیکنیکل جائزہ لیا جائے گا۔ ایمن آباد کے قریب ریل کی پٹڑی درست حالت میں تھی، 50 منٹ پہلے تیزگام اسی مقام سے گزر کر لاہور پہنچی تھی۔ خدشہ ہے کہ ٹریک کو ٹمپر کیا گیا۔ حقائق تحقیق اور تفتیش سے واضح ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی سے لاہور جانے والی جعفر ایکسپریس گوجرانوالہ میں چند ا قلعہ بائی پاس کے قریب الٹ گئی، جس کے باعث اسکی تین مسافر بوگیاں قریبی جوہڑ میں جا گریں ، واقعہ کی اطلاع ملنے پر ریسکیو ،پولیس اور مقامی تنظیموں کے نمائندوں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ، تاہم پاک فوج کے جوانوں نے بھی جائے حادثہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ، ریسکیو اہلکاروں کے مطابق تیس سے زائد افراد زخمی ہو ئے ہیں، حادثہ کے دوران شدید زخمی ہونیوالے تین مسافروں پنتالیس سالہ وقاص ، ڈیرہ غازی خان کے چالیس سالہ جاوید اور شہباز کو تشویشناک حالت کے پیش نظر فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ باقی مسافروں کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دیکر فارغ کر دیا گیا ۔ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع سے شوہد اکٹھے کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ شب رات گئے تک کچھ لوگ ریلوے ملازمین کے طور پر اس پٹڑی پر کام کرتے رہے ہیں ، اعلی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں ، اور جلد ہی تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے گوجرانوالہ کے علاقہ ایمن آباد کے قریب جعفرایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعہ میں زخمی ہونیوالے افراد کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلی نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کارلائے جائیں-

ایل ڈی اے نے شہریوں کو خبردار کردیا, دیکھئے بڑی خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو رہائشی مکانوں اور کمرشل عمارتوں کی ہاﺅس لائن سے باہر تعمیر کئے جانے والے ریمپ‘ تھڑے‘ شیڈ‘ باڑیں‘ کھوکھے اور دیگر تجاوزات ایک ہفتے کے اندر اندر از خود مسمار کرنے کا نوٹس دے دیا ہے ورنہ ایل ڈی اے ایکٹ 1975ءکی دفعہ 33کے تحت انہیں کوئی مزید نوٹس دیئے بغیر مسمار کر دیا جائے گا اور مسماری کا خرچہ تجاوزات قائم کرنے والوں سے وصول کیا جائے گا۔ ایل ڈی اے نے تجاوزات کے خاتمے شہریوں کے چلنے پھرنے اور گاڑیوں کی آمدورفت میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور سرکاری اراضی کو ناجائز قابضین سے واگزار کروانے کے لئے ایل ڈی اے اور پرائیوٹ سکیموں میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کلین اپ شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے جو تجاوزات کا مکمل خاتمہ کر کے سڑکوں کو اصلی حالت اور وسعت کے مطابق بحال کرنے تک مسلسل جاری رکھا جائے گا۔ اس آپریشن کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے خصوصی سکواڈ تشکیل دے دیا گیا ہے جس میں ایل ڈی اے کے تمام متعلقہ شعبوں کے ذمہ دار افسران اور ٹیکنیکل عملہ شامل ہے۔ تمام تجاوزکنندگان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ملکیتی حدود سے باہر ناجائز طور پر کی جانے والی تمام تعمیرات بمشول ریمپ، تھڑے، باڑیں‘ کھوکھے اور دیگر تجاوزات فوری طور پر ختم کردیں ورنہ ایل ڈی اے کسی مزید نوٹس کے بغیر یہ تجاوزات ہٹا دے گا۔ شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ لاہور شہر کو صاف اور کشادہ رکھنے کے لئے اپنا فرض نبھائیں‘ تجاوزات اور دیگر غیرقانونی تعمیرات رضاکارانہ طور پر ختم کردیں۔
تجاوزات

یونیورسٹی انتظامیہ کو ”مشال خان“ کیساتھ کیا مسئلہ تھا؟, انکشافات منظر عام پر آگئے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں ڈی آئی جی مردان عالم شنواری نے انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ مشال خان کے خلاف تھی اور نومبر 2016ءمیں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ پولیس افسر کے مطابق مشال خان کے خلاف توہین مذہب کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ طالبعلم کی موت چھاتی پر گولی لگنے سے ہوئی۔ 32نامزد ملزمان میں سے 22کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ قتل میں یونیورسٹی انتظامیہ‘ طلباءاور باہر کے لوگ ملوث نکلے ہیں۔ کمیٹی نے واقعہ کو انسانیت سوز اور دہشت گردی قرار دیا اور اس کے ویڈیو کلپس کو ہر قسم کے میڈیا پر نشر کرنے سے روک دیا۔ کمیٹی نے ٹوئٹر اور فیس بک پر اکاﺅنٹس کو شناختی کارڈز کے ساتھ مشروط کرنے کی سفارش کی ہے۔

بھائی کے جرم پر 11سالہ” بہن“ کیساتھ افسوسناک سلوک

خانیوال(خصوصی رپورٹ)خانیوال کے نواحی علاقے میں پنچایت نے 11سالہ لڑکی کو ونی کرنے کا فیصلہ سنا دیا ،ماں بیٹی کو لیکر تھانے جا پہنچی ۔اطلاعات کے مطابق خانیوال میں 11سالہ اقراکو پنچایت نے ونی کر دیا ، لڑکی کے بھائی پر زیادتی کرنے کا الزام تھا جس کے بعد پنچایت نے اسے ونی کرنے کا فیصلہ سنا دیا ۔پنچایت کے حکم کے بعد ماں اپنی بچی کو لیکر تھانے پہنچ گئی ۔پولیس کے مطابق لڑکی کی والدہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اقراکو اس کے چچا اور تایا نے ونی کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم خاتون کے شکایت کے بعد ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اورانہیں گرفتار کرنے کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ۔