لاہور(خصوصی رپورٹ) چاروں صوبوں کے مابین اتحاد و یگانگت کی علامت جعفرایکسپریس کو نظر لگ گئیں۔ گوجرانوالہ اور ایمن آباد کے درمیان جعفر ایکسپریس کی8 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جس کے نتیجے میں 35مسافر زخمی ہو گئے ‘ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ۔ ترجمان وزارت ریلوے نے ٹرین حادثے میں تخریب کاری کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کا ٹیکنیکل جائزہ لیا جائے گا۔ ایمن آباد کے قریب ریل کی پٹڑی درست حالت میں تھی، 50 منٹ پہلے تیزگام اسی مقام سے گزر کر لاہور پہنچی تھی۔ خدشہ ہے کہ ٹریک کو ٹمپر کیا گیا۔ حقائق تحقیق اور تفتیش سے واضح ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی سے لاہور جانے والی جعفر ایکسپریس گوجرانوالہ میں چند ا قلعہ بائی پاس کے قریب الٹ گئی، جس کے باعث اسکی تین مسافر بوگیاں قریبی جوہڑ میں جا گریں ، واقعہ کی اطلاع ملنے پر ریسکیو ،پولیس اور مقامی تنظیموں کے نمائندوں نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ، تاہم پاک فوج کے جوانوں نے بھی جائے حادثہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا ، ریسکیو اہلکاروں کے مطابق تیس سے زائد افراد زخمی ہو ئے ہیں، حادثہ کے دوران شدید زخمی ہونیوالے تین مسافروں پنتالیس سالہ وقاص ، ڈیرہ غازی خان کے چالیس سالہ جاوید اور شہباز کو تشویشناک حالت کے پیش نظر فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ باقی مسافروں کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دیکر فارغ کر دیا گیا ۔ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موقع سے شوہد اکٹھے کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ شب رات گئے تک کچھ لوگ ریلوے ملازمین کے طور پر اس پٹڑی پر کام کرتے رہے ہیں ، اعلی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں ، اور جلد ہی تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے گوجرانوالہ کے علاقہ ایمن آباد کے قریب جعفرایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعہ میں زخمی ہونیوالے افراد کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلی نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امدادی سرگرمیاں مزید تیز کی جائیں اور اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کارلائے جائیں-





































