پاناما کیس کا فیصلہ:تحریک انصاف نے بڑا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) تحریک انصاف نے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد یوم تشکرمنانے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا محفوظ فیصلہ کل سنانے کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے جمعے کو یوم تشکرمنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یوم تشکر کے لیے ملک بھر سے کارکنوں کو دعوت دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق آج پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوگا جس میں یوم تشکرکے منانے کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یوم تشکرپر اسلام آباد کے پریڈ گراو¿نڈ میں جلسے کی تجویز پربھی غورکیا جائے گا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا محفوظ فیصلہ کل 20 اپریل کو دوپہر2 بجے سنایا جائے گا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کا فیصلہ سُنا دیا ….مودی کے ہوش اُڑ گئے

نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ نے اِلہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے بابری مسجد کیس میں سابق وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی کے رہنماﺅں کیخلاف سازش کرنے کے الزامات پر مقدمہ چلانے کا حکم دیدیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے لال کرشن ایڈوانی،مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے خلاف مسجد گرانے کی سازش کرنے کے الزامات ختم کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے لال کرشن ایڈوانی،مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے خلاف مسجد گرانے کی سازش کرنے کے الزامات ختم کر دیئے تھے،ہائی کورٹ کے فیصلے کو تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈوانی، جوشی اور اوما بھارتی کے خلاف مسجد گرانے کی سازش کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی دو برس میں مکمل کی جائے،مقدمے کی کارروائی کے دوران التوا کی اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی مقدمے کی سماعت کرنے والے کسی جج کو ٹرانسفر کیا جا سکے گا۔مقدمے کا سامنا کرنے والوں میں وفاقی وزیر اوما بھارتی بھی شامل ہوں گی لیکن کلیان سنگھ، جو بابری مسجد کی مسماری کے وقت اتر پردیش کے وزیر اعلی تھے، اس فیصلے کے دائرے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اب راجستھان کے گورنر ہیں اور انھیں عدالتی کارروائی سے استثنی حاصل ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مقدمے کی سماعت دو سال کے اندر مکمل ہو اور کیس کی کارروائی روزانہ جاری رہے اور کسی بھی بنیاد پر ملتوی نہ کی جائے۔مسماری سے متعلق دونوں مقدمات کی سماعت اب لکھن میں ہی ہوگی۔بابری مسجد چھ دسمبر 1992 کو مسمار کی گئی تھی اور اس دن ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی ایودھیا میں ہی موجود تھے۔ انھیں وہاں جمع ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہے۔بی جے پی کے رہنماں کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے اور عدالتی حکم سے بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا یہ پرانا تنازع پھر سرخیوں میں آ جائے گا۔اگرچہ بابری مسجد کی مسماری کو 25 سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی اس کیس میں کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔سپریم کورٹ نے کلیان سنگھ کو بابری مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا کا وعدہ پورا نہ کرنے پر ایک دن کی علامتی جیل کی سزا دی تھی۔ہندوں کا ایک حلقے کے خیال میں جس جگہ بابری مسحد تعمیر تھی، وہاں ہزاروں سال پہلے ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے اس لیے وہاں ایک عالی شان رام مندر تعمیر کیا جانا چاہیے۔زمین کی ملکیت کا کیس فی الحال سپریم کورٹ میں ہے اور چیف جسٹس نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ فریقین کو آپس میں مل کر اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خواتین پر تشدد کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں سے تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شفٹ انچارج کو معطل کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی انکوائری میں تاخیر پر ایف آئی اے اہلکاروں کی سرزنش کی اور ایئرپورٹ پر تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے وقوعہ پر موجود شفٹ انچارج کو معطل کردیا۔ شفٹ انچارج کی معطلی کا فیصلہ وزارت داخلہ کو موصول شواہد کی روشنی میں کیا گیا جب کہ وزیر داخلہ نے جلد از جلد انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔دوسری جانب بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ناروے جانے والی 2 خواتین مسافروں پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈی جی ایف آئی اے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے دونوں فریقین کو طلب کیا جب کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون نے تشدد کے الزام میں خاتون کانسٹیبل غزالہ شاہین کو کو معطل کر دیا۔ ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ واقعہ کی مکمل اور شفاف انکوائری کی جائے گی اور اگر تشدد میں ایف آئی اے کی خاتون اہلکار ملوث نکلیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


channel 5 exclusive video by channel5tv

مشال قتل کیس :سپریم کو رٹ نے ایکشن لے لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے مشال قتل کیس میں پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے روکتے ہوئے خود معاملے کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ میں مشال قتل کیس از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہوئی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا وقار بلور نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ میں 28 ملزمان نامزد ہیں جن میں سے 24 کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ دیگر 4 کی گرفتاری کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے اور معاملے کی ایمانداری سے تحقیقات جاری ہیں۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ تحقیقات میں آئی ایس آئی کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، جس پر بتایا گیا کہ آئی ایس آئی کے لوگوں کو تو شامل نہیں کیا گیا لیکن آئی بی کے لوگوں کو تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اس واقعہ میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس قتل کے پیچھے طالبعلموں کے علاوہ کون سے لوگ ملوث ہیں اور یہ واقعہ کیوں پیش آیا، اس لئے اس میں حکومت کو انٹیلی جنس کی ضرورت ہو گی لہذا اس سے متعلق لوگوں کو شامل کیا جائے۔

ملک میں بجلی بحران ۔۔بڑا فیصلہ کر لیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) بجلی کا بحران شدید ہونے کے بعد حکومت نے نئی حکمت عملی کے تحت دیہی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تمام تر حکومتی دعوو¿ں کے باوجود شدید گرمی میں عوام طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہنے پر مجبور ہیں۔ گرمی کی شدت بڑھ جانے سے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا سسٹم اوورہیٹ ہورہا ہے۔ بجلی کا شارٹ فال بدستور 6 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے اوروقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔حکومت نے بجلی بحران سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے جس کے تحت بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ کم جب کہ دیہی علاقوں میں بڑھانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ملنے والی ہدایات پر دیہی علاقوں میں تو لوڈ شیڈنگ مزید بڑھا دی گئی ہے لیکن شہروں میں بجلی کی بندش میں کمی نہیں آئی۔ شہری علاقوں میں 8 گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن وزیراعظم کے واضح احکامات کے باوجود شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ 12 گھنٹے سے کم نہ ہوسکی اورلوگ ہرایک گھنٹہ کے بعد ایک گھنٹہ کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہہ رہے ہیں جب کہ بعض علاقوں میں تو فنی خرابی کے نام پر 18، 18 گھنٹے بجلی غائب ہے۔

لوڈ شیڈنگ سے تنگ عوام کیلئے اہم خبر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”آج پاکستان میں“ گفتگو کرتے ہوئے سی ای او لیسکو واجد علی کاظمی نے کہا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت بجلی کی اڑھائی ہزار میگاواٹ ڈیمانڈ بڑھی ہے جسکی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہوا۔ اپریل کے مہنے میں ایسا 35برس بعد ہوا ہے لیکن یہ صورتحال عارضی ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے آخری مراحل میں ہیں جن کے مکمل ہونے پر لوڈشیڈنگ میں واضح کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تربیلا 7 سے 8 سو میگاواٹ جبکہ منگلا سے 9 سو میگاواٹ بجلی آ رہی ہے۔ (ن) لیگ کے رہنما وحید گل نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اچانک اضافے سے آنکھیں نہیں چرا سکتے بحران عارضی ہے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ پی پی نے 5 سالوں میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ سندھ میں 8 برسوں سے حکومت میں ہونے کے باوجود صوبے میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں کر سکی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اورنگزیب برکی نے کہا ہے کہ حکومت نے چار سالوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ پی پی کے شروع کیے گئے منصوبوں کو بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ فیصلے کے بعد یہ سب بھاگ جائیں گے۔ حکومت ایسے پراجیکٹ میں دلچسپی نہیں لیتی رہے جس میں اسے کمیشن ملے۔ حکمران لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی بات کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید نے کہا ہے کہ حکومت اپنا پانچواں سال مکمل کر رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ شارٹ فال کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ گرمی ابھی ٹھیک طرح سے آئی بھی نہیں۔ لوڈشیڈنگ سے عوام بلبلا رہے ہیں۔ حکومت کی ترجیحات بجلی نہیں اورنج ٹرین جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جن میں دونوں کے کمیشن کھا لیے جاتے ہیں۔ حکمران بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے نام پر اربوں روپیہ ہضم کر چکی ہے، قوم کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

پانامہ فیصلہ : کروڑوں کا جوا …. فیورٹ کون ؟ دیکھئے خبر

لاہور (نیٹ نیوز) سپریم کورٹ سے پانامہ کیس کے متوقع فیصلے پر ملک بھر میں شرطیں لگ گئیں، نوازشریف کی حکومت برقرار رہنے کا ریٹ 70پیسے لگادیا گیا جبکہ حکومت کے خاتمے کا ریٹ 30پیسے لگا ہے۔

” فیس بک “ کا مشال خان کیلئے بڑا اعزاز

نیویارک (نیٹ نیوز) محض الزام کی بنیاد پر بے دردی سے کیے گئے قتل پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔فیس نے پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کے فیس بک اکاو¿نٹ کو ان کی یاد سے منسوب کر دیا ہے جس کا مقصد ان کے دوست احباب اور لوگوں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ اس اکاو¿نٹ پر جا کر مشال خان کو خراج عقیدت پیش کر سکیں۔مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو گزشتہ جمعرات کو یونیورسٹی کے مشتعل طلبا کے ہجوم نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔محض الزام کی بنیاد پر بے دردی سے کیے گئے قتل پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔پولیس کے مطابق ایسے شواہد نہیں ملے جس سے ثابت ہو سکے کہ مشال خان توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔فیس بک کی طرف سے کسی صارف کے اکاو¿نٹ کو اس کی یاد سے منسوب کرتے ہوئے اس پر “ریمیمبرنگ” کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص اس اکاو¿نٹ میں ‘لاگ ان’ ہو سکے۔مشال خان کی ہلاکت کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ان کے پیغامات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے شیئر کیا۔

ان دو اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی وزیر مملکت پانی وبجلی نے اعلان کر دیا

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھنے کی وجہ سے درآمدات میں اضافہ ہوا ہے ‘ ان شعبوں میں وسیع پیمانے پرمشینری درآمد کی گئی ہے ‘ پاکستان 2018ء میں مجموعی قومی پیداوار کا 5.7 فیصد کا ہدف حاصل کر لے گا۔ وہ گزشتہ روز کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر شیری رحمن کے جولائی مارچ 2016-17ءمیں بڑھنے والے خسارے سے متعلق خبریں آ جانے کے توجہ دلاﺅ نوٹس پرجو اب دے رہے تھے ۔ انجینئر خرم دستگیر نے سینٹ میں مہنگائی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک پربحث کو سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کنٹرول میں ہے اور کنٹرول میں رہے گی، قیمتوں میں استحکام کا براہ راست غریبوں کو فائدہ ہو رہا ہے ‘ 53 سے صرف 6 کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا،فوڈ آئیٹمز کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لئے پیداواری لاگت کو کم کیا ہے،وزراءکو قیمتوں کاپتہ ہے‘ غریبوں کو سبسڈی نہیں بلکہ روزگار چاہیے۔ حکومت معاشرے دہشت گردی اور غربت دونوں دونوں زنجیروں کو توڑ چکی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں پانی وبجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے ایوان کو بتایا کہ رمضان المبارک کے دوران صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سحر اور افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔انہوں نے کہا ان میں پانی ، کوئلے ، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس کی تنصیب شامل ہے جبکہ توقع ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے اس سال جون تک اور اگلے سال مکمل ہو جائیں گے۔ سینیٹر اعظم خان موسیٰ خیل کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے وزارت ہاﺅسنگ کی طرف سے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں سرکاری رہائش گاہوں کے لئے 22 ہزار 932 وفاقی سرکاری ملازمین جنرل ویٹنگ لسٹ پر رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں استحقاق نہ رکھنے والے 1056 افراد کو سرکاری رہائش گاہیں الاٹ کی گئی ہیں۔ کسی بھی نجی شخص کو رہائش گاہ الاٹ نہیں کی گئی۔ ایوان میں سینیٹر اعظم سواتی اور سینیٹر سراج الحق کی پیش کردہ تحریک کے تحت اشیائے خوراک کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور اس کی وجہ سے غریبوں کے مالی حالات مزید ابتر ہونے پر بحث کروائی گئی۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ مہنگائی کے طوفان کی بنیادی وجہ مرکزی پالیسیاں ہیں،غریب مزید غریب ہورہا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ درد بھری کہانی ہے جو ملکی عوام کی کہانی ہے،انتخابات میں بڑے برے دعوے کیے گئے عوام اس لئے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں اسے سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں مگر تمام بلز وہی ادا کرتے ہیں وسائل کا رخ خاص جیبوں کی طرف ہے،کم از کم تنخواہ 16 ہزار روپے کا قانون ہے مگر کارخانوں میں جائیں غیرسرکاری اداروں میں جائیں اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا،پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانا ہوگا۔سراج الحق نے ایوان بالا میں دودھ دہی لسی زندہ باد کا نعرہ لگایا اور فانٹا پیپسی کوک مردہ بادہ کا نعرہ لگادیا،بحث میں حصہ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ عام آدمی کو دودھ دہی لسی بھی نہیں ملتی پتھر اور گھاس کھانے کو رہ گئے ہیں،گھاس بھی ناپید ہوجائے گی،فلاحی ریاست کیلئے ضروری ہے کہ رائے ونڈ جاتی امرپر جو فنڈ زاستعمال ہوتے ہیں اسی طرح دوسرے علاقوں میںبھی اس قسم کے اخراجات کیوں نہیں ہوتے۔سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ویلفیئر ریاست بنانے کیلئے وسائل کا رخ غریبوں کی طرف کرنا ہوگا اس حوالے سے پالیسیوں اور ترجیحات کو تبدیل کرنا ہوگا،اسی طریقے سے عام آدمی کے مسائل کم ہوسکتے ہیں،اب تو عام آدمی کے نام پر سیاست کی جاتی ہے اور خوش کن نعرے لگائے جاتے ہیں مگر مشکلات میںکمی کی بجائے اضافہ ہورہا ہے۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ اضلاع میں ٹماٹر سبزیوںکی قیمتیں الگ الگ ہیں،دو پاکستان ہیں ایک امراءاستحصالی طبقات اور دوسرا پاکستان غریبوں کیلئے ہیں،غریبوں کو اپنی طاقت کو سمجھنا چاہیے،وہ جاگیردار نوابوں،سیٹھ،سرمایہ داروں،کارخارنہ داروں،امیروں کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں ملک میں فوج بیوروکریسی ،صدروزیراعظم گورنز وزرائے اعلیٰ کیلئے بجٹ زیادہ ہیں،پیداواری عمل کیلئے بجٹ نہیں ہے،آٹے دالوں،گندم پر سبسڈی دی جائے، عام آدمی پیسے بھی دے رہے ہیں اور زہر بھی کھارہے ہیں،امیر باہر کی اشیاءاستعمال کرتے ہیں غریبوں کیلئے ملاوٹ شدہ اشیاءہیں۔سینیٹر کامل آغا نے کہا کہ مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے نطام سے عام آدمی کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے،لاہور،کراچی،اسلام آباد میں گوشت کے نرخ الگ الگ ہیں،حکومت کہاں ہیں،وزراءمیں احساس نہیں ہے یا اس حد تک ان کی سوچ نہیں جاتی اقتدارکوشان و شوکت اور پروٹوکول کا ذریعہ بنایا گیا ہے،اسی طرزعمل کی وجہ سے بے چینی بڑھتی ہے۔ ایوان بالا میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں پیش کی گئیں۔ ایوان بالا کے اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ و تعمیرات اور قائمہ کمیٹی قواعد و ضابطہ کار و استحقاقات کی طرف سے الگ الگ معاملات پر قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں ایوان میں پیش کی گئیں۔ چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد بل 2017ءکے حوالے سے اپنی رولنگ دے دی ہے۔ چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے اس حوالے سے اپنی رولنگ ایوان میں پڑھ کر سنائی۔ کئی صفحات پر مشتمل رولنگ میں چیئرمین سینیٹ نے مختلف ممالک میں اختیار کئے گئے طریقہ کار اور پارلیمانی روایات کے حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر انچارج 28 مارچ 2017ءکے نوٹس پر اصرار کر سکتے ہیں یا اس نوٹس کو واپس لے سکتے ہیں اور ایک تازہ نوٹس دے سکتے ہیں تاکہ کمیٹی کی طرف سے بل پر نظرثانی کی جائے اور بل کی سیکنڈ ریڈنگ کے دوران ترامیم پیش کر سکتے ہیں یا پھر تیسری صورت یہ ہے کہ وہ 28 مارچ 2017ءکو دیا گیا نوٹس واپس لے لیں اور بل کو دوبارہ متعلقہ قائمہ کمیٹی میں نظرثانی کے لئے بھجوائے جانے کی درخواست کریں۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایوان میں اپنی تقریر کر کے چلے جانے کی بجائے دوسرے ارکان کی تقاریر سننے کے لئے موجود رہا کریں۔ ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ یہ پارلیمانی روایات کے خلاف ہے کہ کوئی رکن اپنی تقریر کر کے ایوان سے چلا جائے۔ پارلیمانی روایت یہ ہے کہ تقریر کرنے والے ارکان دوسروں کی تقریر بھی سنیں، اس لئے میں ارکان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی تقریر کرنے کے بعد ایوان میں موجود رہیں اور دوسرے ارکان کی تقاریر سنیں۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو نیشنل سیکیورٹی کی ریاست سے نکالیں گے تو یہ فلاحی مملکت بننے گی‘ یہ آبزرویشن چیئرمین سینٹ نے اشیائے خوراک کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور اس کی وجہ سے غریب عوام کی مالی صورتحال مزید ابتر ہونے سے متعلق تحریک کے دوران دی۔ ایوان میں امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے اقدامات کا مطالبہ کیا تھا جس پر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ملک کو نیشنل سیکیورٹی کی ریاست سے کون نکالے گا ‘ کیسے فلاحی ریاست بنیں گے ‘ نیشنل سیکیورٹی کی ریاست سے نکلیں گے تو ویلفیئر ریاست بنیں گے۔

شدید گرمی ….گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

لاہور (ویب ڈیسک )ملک میں گرمی کی شدید لہر کے پیش نظر پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں موسم گرم کی تعطیلات دینے کا اعلان کر دیا ہے ۔محکمہ تعلیم پنجاب کے مطابق صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں 23مئی سے 13اگست تک موسم گرما کی تعطیلات ہوں گی ۔خیال رہے کہ یہ اعلان ملک بھر میں شدید گرمی کے باعث کیا گیا ہے ۔