لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام ”آج پاکستان میں“ گفتگو کرتے ہوئے سی ای او لیسکو واجد علی کاظمی نے کہا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت بجلی کی اڑھائی ہزار میگاواٹ ڈیمانڈ بڑھی ہے جسکی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہوا۔ اپریل کے مہنے میں ایسا 35برس بعد ہوا ہے لیکن یہ صورتحال عارضی ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے آخری مراحل میں ہیں جن کے مکمل ہونے پر لوڈشیڈنگ میں واضح کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تربیلا 7 سے 8 سو میگاواٹ جبکہ منگلا سے 9 سو میگاواٹ بجلی آ رہی ہے۔ (ن) لیگ کے رہنما وحید گل نے کہا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اچانک اضافے سے آنکھیں نہیں چرا سکتے بحران عارضی ہے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ پی پی نے 5 سالوں میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ سندھ میں 8 برسوں سے حکومت میں ہونے کے باوجود صوبے میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں کر سکی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اورنگزیب برکی نے کہا ہے کہ حکومت نے چار سالوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ پی پی کے شروع کیے گئے منصوبوں کو بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ فیصلے کے بعد یہ سب بھاگ جائیں گے۔ حکومت ایسے پراجیکٹ میں دلچسپی نہیں لیتی رہے جس میں اسے کمیشن ملے۔ حکمران لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی بات کر کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید نے کہا ہے کہ حکومت اپنا پانچواں سال مکمل کر رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ شارٹ فال کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ گرمی ابھی ٹھیک طرح سے آئی بھی نہیں۔ لوڈشیڈنگ سے عوام بلبلا رہے ہیں۔ حکومت کی ترجیحات بجلی نہیں اورنج ٹرین جیسے میگا پراجیکٹ ہیں جن میں دونوں کے کمیشن کھا لیے جاتے ہیں۔ حکمران بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے نام پر اربوں روپیہ ہضم کر چکی ہے، قوم کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔





































