اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں ڈی آئی جی مردان عالم شنواری نے انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ مشال خان کے خلاف تھی اور نومبر 2016ءمیں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ پولیس افسر کے مطابق مشال خان کے خلاف توہین مذہب کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ طالبعلم کی موت چھاتی پر گولی لگنے سے ہوئی۔ 32نامزد ملزمان میں سے 22کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ قتل میں یونیورسٹی انتظامیہ‘ طلباءاور باہر کے لوگ ملوث نکلے ہیں۔ کمیٹی نے واقعہ کو انسانیت سوز اور دہشت گردی قرار دیا اور اس کے ویڈیو کلپس کو ہر قسم کے میڈیا پر نشر کرنے سے روک دیا۔ کمیٹی نے ٹوئٹر اور فیس بک پر اکاﺅنٹس کو شناختی کارڈز کے ساتھ مشروط کرنے کی سفارش کی ہے۔





































