سٹیج ڈرامہ “حسن حاضر ہوں “ نے کامیابی کا ریکارڈ توڑدیا

لاہور(شوبز ڈیسک) کامیڈ ین کنگ نسیم وکی اور فلم نر گس کے ڈرامہ “حسن حاضر ہوں “ نے کامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ‘ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہی تمام ٹکٹیں فروخت ہوگئیں جبکہ انتظامیہ نے اگلے دن کےلئے300سے زائد ایڈونس ٹکٹیں بھی فروخت کردی ۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے تماثیل تھیٹر میں چیئر مین قیصر ثناءاللہ خان کی نگرانی مےں شروع ہونےوالے نسےم وکی اور نر گس کے ڈرامے کی دےگر کاسٹ مےں قےصر پےا ‘طاہر انجم ‘نگار چوہدری ‘ثوبےہ خان ‘نشاءبھٹی اور مہک نور سمےت دےگر فنکار بھی کام کر رہے ہےں اور شائقےن کی جانب سے ڈرامے کو بے حد پسند کےا جارہا ہے جسکی وجہ سے تمام ٹکٹےں ڈرامہ شروع ہونے سے آدھ گھنٹہ پہلے ہی فروخت ہوگئےں جبکہ اس حوالے نسےم وکی نے کہا کہ ہم نے اسٹےج کو فحاشی اور عرےانی سے نکال کر فےملی ڈرامہ بنا دےا ہے جسکی وجہ سے لوگ ڈرامہ دےکھنے کےلئے آرہے ہےں ےہی ہماری کامےابی ہے ۔

متنازعہ کمرشل، متیراکو ایک بار پھر تنقیدکا سامنا

لاہور(کلچرل رپورٹر)متنازعہ کمرشل کے بعد اداکارہ وماڈل متیراکو ایک بار پھر تنقیدکا سامنا ہے ۔تفصیلات کے مطابق متیرانے کچھ عرصہ ایک کمرشل میں کام کیا ہے جس پر انہیں سوشل میڈیا پر زبردست تنقیدکا سامنا ہے ، اس بار ے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ کمرشل آن ایئر کرنے سے پہلے کئی چیزیں سنسر کردی گئیں لیکن اس کے باوجود بھی لوگ تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومتی اداروں کو اس سلسلے میں اپنا کرداراداکرنا چاہیئے کیونکہ جس پراڈکٹ کا کمرشل بنایا گیا ہے اس سے نوجوان نسل منفی اثرلے سکتی حالانکہ اس کا مقصد لوگوں میں آبادی کنٹرول کرنے بارے شعور بیدارکرنا ہے۔اس بارے میں متیراکا موقف سامنے نہیں آیا۔

پرینیتی چوپڑا کزن پریانکا کے نقش قدم پر چلنے کی خواہشمند

ممبئی (شوبز ڈیسک ) پرینیتی چوپڑا اپنی کزن پریانکا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اداکاری کے بعد اب پروڈیوسر بننے کا ارادہ رکھتی ہیں۔بالی ووڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑا نے کزن پریانکا چوپڑا کے نقش قدم پر چلنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اس کام کے لیے پرینیتی اب پروڈیوسر بننے کا ارادہ رکھتی ہیں، پرینیتی سے قبل انوشکا شرما اور پریانکا چوپڑا نے پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھا ہے۔پرینیتی چوپڑا کا کہنا ہے کہ میں اب پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہوں کیونکہ میرا کاروباری دماغ ہے اور میں یقینی طور پر اس کام کو انجام دینا چاہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں فلم بنانے کا ارادہ ضرور رکھتی ہوں لیکن ابھی اس میں وقت درکار ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں ایک دم سے نہیں ہوسکتیں۔پرینیتی کا کہنا تھا کہ فی الحال میں ابھی تجربہ حاصل کررہی ہوں کیونکہ فلم بنانے کے لیے تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن میں مستقبل میں فلم ضرور بناو¿ں گی جب کہ میں بزنس کی طالب علم ہوں اور حقیقی زندگی میں بینکر ہوں لہذا میں دو چیزوں کو یقینی طور پر ایک ساتھ ملانا چاہوں گی۔

اردو عربی میں ماسٹر ڈگری ہولڈر عظیم قوال

…عزیز  میاں قوال
پرائیڈ ا آف پرفارمنس عزیز میاں قوال کا 75 واں یوم پیدائش منایا گیاعزیز میاں قوال کا شمارپاکستان کے چند مقبول ترین قوالوں میںہوتا ہے۔سترہ اپریل 1942 کو بھارتی شہر دہلی میں پیدا ہونے والے عزیز میاں قوال کو بچپن سے ہی قوالی شوق تھا۔
ان کا اصل نام عبدا لعزیز تھا۔ “میاں” ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے اپنے فنی دور کا آغاز “عزیز میاں میرٹھی” کی حیثیت سے کیا۔ میرٹھی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد عزیز میاں نے بھارت کے شہر میرٹھ سے اپنے وطن کی طرف ہجرت کی تھی۔
عزیز میاں قوال نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے عربی ، فارسی ادب اور اردو ادب میں ماسٹرز ڈگریاں حاصل کیں۔انھوں نے استاد عبدالوحید سے فن قوالی سیکھا اور مختصر عرصہ میں دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے
قوالی کو عزیز میاں قوال نے ایک نئی جدت سے روشناس کروایا۔عزیز میاں قوال اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے اور ان کی موسیقی بھی ترتیب دیتے تھے۔جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔انہیں اپنے ابتدائی دور میں “فوجی قوال”
کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کےلئے تھیں۔ شاید اسی وجہ سے ان کی قوالیوں میں ایک فوجی رنگ بھی نظر آتا ہے۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے، جو اکثر اپنے لیے شاعری خود کرتے تھے۔ عزیز میاں نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے اردو اور عربی میں ایم اے کیااوراستاد عبدالوحید سے فنِ قوالی سیکھی۔ان کی پرفارمنس کے دوران سامعین ان کے کلام کے جادو میں اسے مسحور ہو جاتے تھے کہ انہیںوقت کے گزرنے کا معلوم نہیں ہوتا تھا۔ انکی قوالیوں میں فلسفے کا ایک الگ رنگ ڈھنگ تھا جو ان کی قوالی ایک بار سن لیتا تھا وہ ان کا دلدادہ ہو جاتاتھا۔ جس کے باعث نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی ان کے مداحوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہیں۔ مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار
کیا گیا لیکن بعدازاں بری کر دیا گیا۔عزیز میاں کی قوالیوں میں زیادہ توجہ کورس گائیکی پر دی جاتی تھی جس کا مقصد قوالی کے بنیادی نکتہ پر زور دینا تھا۔ عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیاں “میں شرابی میں شرابی” (یا “تیری صورت”) اور “اللہ ہی
جانے کون بشر ہے” شامل ہیں۔
عزیز میاں کو اپنی قوالیوں میں دینی اور صوفی مسائل پر بحث کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ وہ براہ راست خدا سے ہم کلام ہوتے اور اشرف المخلوقات کی قابل رحم حالت کی شکایت کرتے۔ خدا سے ہم کلام ہونے والی قوالیوں میں وہ زیادہ تر علامہ اقبال کی شاعری استعمال کرتے۔ مثلا عزیز میاں کے مندرجہ ذیل پسندیدہ اشعار پڑھئے:
باغِ بہشت سے مجھے اذنِ سفر دیاتھا کیوں
کارِجہاںدرازہے اب میراانتظارکر
مجھے تواس جہاںمیںبس اک تجھی سے عشق ہے
یامیراامتحان لے یامیرااعتبار کر
صابری برادران نے عزیز میاں کی قوالی “میں شرابی میں شرابی” کو اپنی ایک قوالی “پینا وینا چھوڑ شرابی” میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ عزیز میاں نے اس کا ترکی بہ ترکی جواب اپنی ایک اور قوالی “ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں” میں دیا۔ عزیز کے صابری برادران کو جواب کے بعد سے “میں شرابی میں شرابی” اور “ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں” کو ایک ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔1966میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ان کی ابتدائی پرفارمنس فوجی بیرکس میں فوجی جوانوں کے لئے ہونے کے باعث بعض افراد نے ان کو فوجی قوال کا نام بھی دیا۔ 6 دسمبر 2000 کو بیماری کے باعث جہان فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی قوالیاں آج بھی ان کی یاد تازہ کر دیتی ہیں۔
٭٭٭

افغانستان سے دہشتگرد گروپس پاکستان میں داخل, سکیورٹی اداروں نے خبردار کردیا

ملتان(خصوصی رپورٹ) بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مدد سے دہشت گرد تنظیم لاہور، نوشہرہ سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کی بڑی سیاسی شخصیات کی ہائی آفیشلز اور حساس ادارے کے آفیسرز کو اغواءکرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سپیشل برانچ ہیڈ کوارٹر لاہور اور ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ تھریٹس الرٹ لیٹرز میں بتایاگیا ہے کہ دہشت گردوں نے افغانستان کے صوبے کنہار میں ٹریننگ بھی مکمل کرلی ہے جن کو پاکستان میں مختلف روٹس کے ذریعے داخل کیا جارہا ہے جبکہ ایک اطلاع کے مطابق داعش کے دہشت گرد جنوبی پنجاب میں بڑی سیاسی شخصیات، ہائی لیول گورنمنٹ آفیشلز اور انٹیلی جنس آفیسرز کو اغواءکرنے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کا ٹاسک داعش کے دہشت گرد گروپ جس کو رضوان نامی دہشت گرد لیڈ کر رہا ہے، دے دیا گیا ہے۔ صورت حال کے مطابق سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی جائے۔ ادھر ہیک کرنے کے لئے افراد کو ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگوں کے فیس بک آئی ڈی کو ہیک کرکے یا جعلی بنا کر مذہبی توہین آمیز چیزیں لکھنا شروع کر دی ہیں۔ ہیکرز بھارت کے چندی گڑھ، امرتسر، افغانستان اور دبئی سے بیٹھ کر یہ کام کر رہے ہیں۔ مختلف پاکستانی شہروں میں ان کے پے رول پر کام کرنے والے ہیکرز موجود ہیں۔ انہوں نے مختلف مذہبی رہنماﺅں کے جعلی فیس بک اکاﺅنٹس بھی بنا رکھے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایسے علماءکے بھی اکاﺅنٹس بنا رکھے ہیں جن کی طرف سے فوری فتویٰ بھی جاری کر دیا جاتا ہے۔ کئی سعودی علماءکے اکاﺅنٹس بھی اس میں شامل ہوتے ہیں، پہلے کسی اکاﺅنٹ سے توہین آمیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے پھر ایک اکاﺅنٹ سے فتویٰ جاری اور پھر لوگوں کو کرایے پر لے کر جلوس بھی نکلوائے جاتے ہیں۔ حساس اداروں کی آئی ٹی ٹیم نے ایسے لوگوں کے خلاف کام شروع کر دیا ہے۔ غیر ملکی ایجنسیز کے آلہ کار پاکستانی ہیکرز کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ بیرون ملک بیٹھے ہیکرز کو بھی کاﺅنٹر کیا جا رہا ہے۔
راہیکرزاغوائ

افغان سفیر کی یقین دہانی, بڑی کاروائی کا فیصلہ کرلیاگیا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستا ن میں تعینا ت افغان سفیر ڈاکٹرعمر زاخیل وال نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ٹی ٹی پی سربراہ کے خلاف مشترکہ آپریشن کرسکتے ہیں۔ نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیل وال نے کہا کہ افغانستان ایک خود مختار ریاست ہے اور وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت بھارت کو کبھی نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک افغان کشیدگی دونوں کے حق میں بہتر نہیں، رواں سال تعلقات بہتر ہونے کی امید ہے۔ افغان سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان نے پاکستان کے مطالبے پر قاری یاسین اوردیگردہشت گردوں کاخاتمہ کیا۔ عمر زاخیل وال نے کہا ہے کہ آئی ایس کے لیڈر حافظ سعید کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا گیا، ملا فضل اللہ کوئی بیٹھی ہوئی بطخ نہیں ہے، ہم ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ کارروائی کر سکتے ہیں لیکن وہ عناصر جو پاکستان میں گھوم پھر رہے ہیں اور افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں بھی افغانستان کے حوالے کیا جانا چاہئے۔ یہ الزام کہ افغانستان بھارت کے زیر اثر پاکستان مخالف پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے یہ افغان قوم کی توہین ہے۔ افغانستان اپنی خارجہ‘ امور سلامتی اور معیشت کے حوالے سے پالیسیاں اپنے قومی مفاد میں بناتا ہے۔ افغانستان کبھی بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے چند ہفتوں بعد پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ وہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات چاہتے تھے۔ بعض افغان حلقوں نے صدر غنی کو مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کا دورہ نہ کریں آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ لیکن صدر اشرف غنی نے اپنی سیاسی ساکھ داو¿ پر لگاتے ہوئے پاکستان کا دورہ کیا۔ افغان سفیر نے بتایا کہ افغان صدر نے میری تجویز پر جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا لیکن اس دورے کے جواب میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ افغان سفیر سے استفسار کیا گیا کہ پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی پاکستان میں میزبانی کی تھی یہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں امن اور استحکام کی طرف ایک اہم پیش رفت تھی جس پر افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے جو افغانستان کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں بتایا کہ پاکستان جن طالبان لیڈروں کو مذاکرات کی میز پر لایا وہ درمیانے درجے کے لیڈر تھے۔ وہ صف اول کے لیڈر نہیں تھے۔افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہو رہی ہے جس پر افغان سفیر نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے مطالبہ پر قاری یٰسین کو ہلاک کیا۔ عمر نارے بھی پاکستان کو مطلوب تھے جسے مارا گیا۔ آئی ایس کے لیڈر حافظ سعید کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان عرصہ سے ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس پر افغان سفیر نے کہا کہ ملا فضل اللہ کوئی بیٹھی ہوئی بطخ نہیں ہے۔ ہم ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ کارروائی کر سکتے ہیں لیکن وہ عناصر جو پاکستان میں گھوم پھر رہے ہیں اور افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں بھی افغانستان کے حوالے کیا جانا چاہئے۔ افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ کیا پاک افغان سرحد پر کشیدگی ختم ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ دونوں ملکوں کے صدیوں پرانے رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ تجارت متاثر ہوتی ہے۔افغان سفیر نے دعویٰ کیا کہ پانچ سال پہلے پاکستان کی افغانستان کو برآمدات سالانہ پانچ ارب ڈالر تھیں جو تعلقات کی خرابی اور سرحدی کشیدگی کی وجہ سے اب ڈیڑھ ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ پاکستان کی جگہ اب ایران نے افغان مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایران افغانستان کو پانچ سال سے دو سو ملین ڈالر کی اشیائ برآمد کرتا تھا اب وہ 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی اشیاء افغانستان کو برآمد کرتا ہے۔ افغان سفیر نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان فضائی سفر چالیس منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ ہمارے درمیان ہفتہ وار نہیں تو سالانہ بنیادوں پر سیاسی‘ تجارتی اور پارلیمانی وفود کا تبادلہ ہونا چاہئے۔ افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیوں کا موجودہ دور کب ختم ہو گا تو افغان سفیر نے کہا کہ 2017 ئ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے اچھی خبروں کا سال ہے۔ ہمارے تعلقات میں سرد مہری ختم ہونے والی ہے۔ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔

پنجاب میں دفعہ 144نافذ, 2ماہ کیلئے بڑی پابندی لگادی گئی

لاہور (خصوصی رپورٹ) محکمہ داخلہ حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں جلسے، جلوسوں، ی ریلیز دھرنوں، مظاہروں وغیرہ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کا یہ حکم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ یہ پابندی ان اجتماعات پر جن کی منظوری متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سے حاصل کی گئی ہو اور وہ چار دیواری کے اندر منعقد ہوں پر لاگو نہیں ہو گی۔ پابندی کا حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو کر ساٹھ دن تک موثر رہے گا۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہےں۔

سرکاری سکولز کے 10ہزار طلبہ کو مفت سائیکلیں دینے کا فیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ) بچوں کی انرولمنٹ میں اضافہ کرنے اور سکول چھوڑکر جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی کرنے کیلئے نیا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم 10 ہزار بچوں کو سکول آنے اور جانے کیلئے دس ہزار مفت سائیکلیں تقسیم کی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کے سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کو سائیکلیں دی جائیں گی۔ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم غریب عوام کے بچوں کو سائیکلیں ملنے سے نہ صرف انہیں سکول آنے جانے میں آسانی ہوگی بلکہ انہیں بسوں اور ویگنوں کا کرایہ بھی نہیں دینا پڑے گا، اس سے پہلے حکومت مانیٹرنگ ایلیویشن آفیسر کو سکولوں کی مانیٹرنگ کیلئے موٹرسائیکلز بھی دے چکی ہے جس سے سکولوں کی مانیٹرنگ بہتر ہوئی ہے۔ صوبائی وزیرتعلیم رانامشہود خان نے کہا ہے کہ منصوبہ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ کامیاب تجربہ کے بعد پنجاب کے دیگر اضلاع میں بچوں کو سائیکلز دی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق بچوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں لانا ہے۔

اورنج ٹرین کیس کا فیصلہ, سپریم کورٹ کا بڑا اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے لاہور اورنج لائین ٹرین منصوبہ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے لاہورہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف دائرکی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی کامل خان رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت ایک ہفتے میں کم از کم دو ماہرین کی رائے پر مشتمل جواب جمع کروائے جبکہ فریقین اگر مزید دلائل دینا چاہیں تو وہ تحریری صورت میں عدالت میں جمع کراسکتے ہیں۔سوموار کو اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سر براہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس مقبول باقر، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے کی، اس موقع پر دلائل جاری رکھتے ہوئے درخواست گذار کامل خان نے موقف اپنایا کہ تاریخی عمارتوں کی بنیادوں اور مٹیریل سے متعلق کوئی سٹڈی نہیں کروائی گئی جبکہ نیسپاک کی رپورٹ اندازوں پر بنائی گئی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کافی تعمیرات ہو چکی ہیں ، کیا تعمیرات سے اب تک کسی عمارت کو نقصان پہنچا کامل خان نے جواب دیا کہ دہلی میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے زیر زمین میٹرو ٹریک بنایا گیا ، یہ ٹریک جامعہ مسجد اور دہلی قلعے کے نیچے سے گزرتا ہے ۔ اس دوران مداخلت پر عدالت نے ایڈوکیٹ اظہر صدیق کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل دے چکے ہیں اس لئے خاموش رہیں جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ مقدمے میں کوئی سنجیدگی آتی ہے تو آپ اس کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔اس موقع پر وکیل نیسپاک شاہد حامد کا کہنا تھا کہ درخواست گزار براہ راست ڈاکٹر کو نینگم سے خط و کتابت کرتے رہے ، دوسروں پر تعصب کا الزام لگانے والے اپنا گریبان میں بھی جھانکیں۔اس موقع پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کا ٹنل ٹیکنالوجی سے دستبردار ہونا بدنیتی ہے جبکہ ٹھیکہ نہ تجربا کار کمپینیوں کو دیا گیا ، اس دوران وکیل نیسپاک نے کہاکہ اورنج لائن کا منصوبہ جائزے کے لیے یونیسکو کو بھیجنے کی ضرورت نہیں جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ ڈی جی آرکیولوجی کی تقرری سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے تاہم معاملہ جائزے کے لیے یونیسکو کو بھیجنے کی قانونی ضرورت نہیں شی اور ڈاکٹر کونینگم کی رپورٹ پر درخواست گزاروں نے ایک لفظ نہیں کہا جب درخواست گزاروں کو رپورٹ میں دلچسپی نہیں تو ہمیں دلچسپی کیوں ہو گی ۔جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ کیاموج دریامزار کی بنیادوں کی سٹڈی کروائی گئی ۔تو نیسپاک کے وکیل نے کہاکہ موج دریامزار کی بنیادوں کی سٹڈی کی ضرورت نہیں ،درخواست گزار کہیں توان کو وہاں ڈرلنگ کرکے دکھادیتے ہیں و، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ورنج لائن منصوبہ نہیں بناناتوآپ کی مرضی ہے ،یہاں تواورنج لائن منصوبہ بنتاہوانظرنہیں آرہا ،چاہیں تورائیونڈ میں جاکراورنج لائن ٹرین بنالیں جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاکہ ایشو صرف موج دریامزار کانہیں ہے جی پی او،سپریم کورٹ رجسٹری اور ہائیکورٹ کی عمارتیں بھی راستے میں آتی ہیں،سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور جی پی اوعمارتوں کے نقشے موجود ہوں گے جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ معلوم یہ کرناہے ان عمارتوں کی بنیادیں کہاں تک ہیں ،ہماری تشویش یہ ہے کہ ڈرلنگ سے عمارتوں کی بنیادیں تومتاثر نہیں ہوں گی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ دوسرا فریق چاہتا ہے تاریخی مقامات کے قریب ٹرین زیر زمین گزرے، زیر زمین گزارنے سے لاگت میں کتنا اضافہ ہوگا، جس پر نیسپاک کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاگت چار سے پانچ گنا بڑھ جائے گی،۔ شاہد حامدنے کہا کہ زیر زمین سیکورٹی اور وینٹیلیشن کا مسئلہ بھی ہوگا، ایسا نہ ہو زیر کہ مسافر فرائی ہو جائیں ، اورنج لائن دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے سستی ہے۔پیرس میں ایفل ٹاور کے سامنے سے ٹرین گزرتی ہے اورکبھی کسی نے ایفل ٹاور نظر نہ آنے کی شکایت نہیں کی ، انہوں نے کہاکہ دہلی میں میٹرو ٹرین 52 کلومیٹر زمین سے اوپر اور صرف 13 کلومیٹر زیر زمین ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ دوسرے فریق کے بقول تاریخی عمارات کے قریب دہلی میٹرو بھی زیر زمین ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاک کہا جاتا ہے تعمیراتی کام سے موج دریا مزار اور سینٹ اینڈریو چرچ کی بنیادیں متاثر ہونگی، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ بنیادیں متاثر ہوئیں تو عمارت گر بھی سکتی ہے۔اس موقع پر وکیل نیسپاک کا کہنا تھا کہ عدالت کو اورنج لائن ٹرین منصوبہ کے ارتعاش کاجومعیاربتایاجارہاہے اس سے بھی کم ہوگا کیونکہ تعمیرات اور ٹرین کی تھرتھراہٹ میں فرق ہے انہوں نے کہاکہ 5تاریخی عمارتوں کے لیے 60کروڑ کافنڈ مختص کیاگیاہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ عمارتوںکے لیے 60کروڑ کافنڈ کچھ بھی نہیں ۔ اس موقع پر عدالت نے رخواست گزار کامل خان کی رپورٹ پر نیسپاک کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہاکہ فریقین کے وکلا اپنے مزید دلائل تحریری طور پر جمع کرائیں۔اس موقع پر وکیل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی مخدوم علی خان نے بتایا کہ منصوبے کے حوالے سے عدالت کے پاس 9رپورٹس پیش کی جاچکی ہیں اور رپورٹ کے نتائج پر کوئی اعتراضات نہیں کیے گئے انہوں نے کہاکہ رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین پر تعصب کاالزام لگایاگیا و جس پر جسٹس عجاز افضل خان نے کہا کہ نیسپاک کامنصوبے سے مفاد وابستہ ہے اس لئے کیانیسپاک کی رپورٹ کوغیرجانبدارکہاجاسکتاہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ تعمیرات کے حوالے سے نیسپاک نے متعدد سائٹس کاجائزہ نہیں لیا اورجن سائٹس ہر تعمیرات کاجایزہ نہیں لیاگیاکیاوہاں عمارتوں کونقصان نہیں ہوگا مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ تاریخی عمارتوں کے سامنے تعمیرات کے کام کی مانیٹرنگ ہوگی،ٹرین کے چلنے کے بعد بھی اس کے آپریشن کو مانیٹر کیاجائے گا۔عدالت نے اورنج لائین ٹرین منصوبہ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف دائرکی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی کامل خان رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت ایک ہفتے میں کم از کم دو ماہرین کی رائے پر مشتمل جواب جمع کروائے۔ واضح رہے کہ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے مسلسل دو ہفتے سماعت کی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

سٹیو جانسن یو ایس کلے کورٹ ٹینس چمپئن بن گئے

ہوسٹن (اے پی پی) امریکا کے نامور ٹینس سٹارسٹیو جانسن نے یو ایس کلے کورٹ ٹینس چیمپئن شپ جیت لی۔ سٹیو جانسن نے فائنل میں سخت مقابلے کے بعد برازیل کے تھامز بیلوسی کو شکست دیکر ایونٹ اپنے نام کیا۔ تفصیلات کے مطابق ہوسٹن میں کھیلے گئے مینز سنگلز ایونٹ کے فائنل میچ میں امریکا کے سٹیو جانسن نے سخت مقابلے کے بعد برازیل کے تھامز بیلوسی کو 6-4، 6-4 اور 7-6(7-5) سے ہرا کر ٹورنامنٹ جیت لیا۔ اس سے قبل پہلے سیمی فائنل میں برازیل کے تھامز بیلوسی نے امریکا کے ارنیسٹو سکوبیڈو کو اور ایونٹ کے دوسرے سیمی فائنل میں امریکا کے سٹیو جانسن نے ہم وطن حریف جیک سوک کو ہرا کر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔