اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) صدر ممنون حسین کا سادگی کے فروغ اور ریلوے کی تشہیر کے لئے لاہور سے رالوپنڈی کا سفر قوم کو دو کروڑ روپے سے زائد میں پڑا۔صدر کو لانے والی ٹرین میں احتیاطی تقاضوں کیلئے آٹھ انجن استعمال کئے گئے۔ پنجاب پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ہزاروں اہلکاروں نے بھی فرائض سرانجام دیئے۔ اس طرح سابق صدر جنرل ضیاءالحق کی سادگی کے فروغ کیلئے مہنگی سائیکل سواری کی یاد تازہ کردی۔ ریلوے پولیس کے پانچ ڈویژنز سے 400 پولیس اہلکاروں نے لاہور سے راولپنڈی تک تین دن ڈیوٹی سرانجام دی۔ صدر ممنون نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جمعرات کو لاہور سے بذریعہ ٹرین راولپنڈی پہنچنے پر سٹیشن پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا کہ ٹرین پر سفر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ریلوے پر زیادہ سے زیادہ سفر کریں ، ریلوے کے وزیر کی کوششوں سے حالات بہتر ہو ئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا ریلوے کے سفر پر اعتماد بڑھتا جا رہا ہے ، میرا ریلوے کے ذریعے سفر کرنے کا مقصد ضرور پورا ہوگا مگر یہ صدارتی سفر پاکستانی ٹیکس دہندگان کو کتنے میں پڑا اور اس سے فائدہ کتنا ہوا بہت ہی اہم سوال بن کر سامنے آگیا ہے۔ اگر ریلوے پر صدارتی سفر کے اخراجات کا اندازہ لگایا جائے تو پتہ چلے گا کہ صدر کی اس سادگی مہم کیلئے ریلوے کے پانچ ڈویژنز سے چار سو ریلوے پولیس اہلکاروں کو صدر کی حفاظت کیلئے بلایا گیا تھا۔ تین دن کی ڈیوٹی کا الاﺅنس آٹھ سو روپے فی دن فی سپاہی دیا جاتا ہے۔ اس طرح چار سو اہلکاروں کو تین دن کے حساب سے چھیانوے لاکھ روپے ٹی اے ڈی اے دیا جائے گا۔ صدارتی ٹرین کے آگے دو انجن پائلٹ کے طور پر چل رہے تھے جبکہ دو ٹرین کے پیچھے چل رہے تھے دو پھر پیچھے پائلٹ ورکنگ کررہے تھے۔ا ن انجنوں کے تیل کے اخراجات بھی سوالیہ نشان ہیں۔
”تیری سادگی پہ مر نہ جاﺅں “، ٹرین کا سفر ، خرچہ صرف 2 کروڑ

