لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب حکومت کمزور مالیاتی پالیسیوں اور میزانیہ کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے جس کی وجہ سے حکومت کے جاری کردہ 40کروڑ مالیت کے چیک کیش نہ ہوسکے۔ ترقیاتی کاموں کی تکمیل میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین وپنشنرز کو عید کی وجہ سے جون کی تنخواہ قبل ازوقت ادا کرتے ہوئے اخراجات و آمدن کاباریک بینی سے جائزہ نہ لیا اور جلد بازی میں کیش بیلنس جانے بغیر فیصلہ کیا۔ کیونکہ جون میں مالی سال 2016-17ءکا اختتام ہونا تھا جس کی وجہ سے بڑی مالیت میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی فنڈز کا اجراءکیا جانا تھا تاکہ فنڈز لیپس(Lapse) نہ ہوں۔ پنجاب حکومت نے 22 جون سے 30جون کے دوران اربوں روپے کے پری آڈٹ چیک ، بی ڈبلیو ڈی چیک ، پی ایل اے چیک، ایس ڈی اے چیک اور رسیٹ فارم جاری کئے جن کو 30جون تک کیش ہونا تھا لیکن خزانے میں مطلوبہ مالیت کا کیش نہ ہونے کی وجہ سے یہ چیک کیش نہ ہوسکے جس پر محکمہ خزانہ پنجاب نے ایک نوٹیفکیشن ایف ڈی 2/89(P)جاری کیا جس میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب حکومت کی طرف سے جون میں جاری چیکوں کی ادائیگی کی مدت 30جون سے بڑھا کر 7جولائی کردی ہے۔ یہ اس لئے کی گئی کہ شدید وفاقی حکومت کی طرف سے این ایف سی ایوارڈ کے بقایا جات موصول ہوجائیں جو 50ارب کے لگ بھگ ہیں اور یہ ادائیگیاں ہوجائیں لیکن یہ بقایاجات وصول نہ ہوسکے اور تمام چیک ڈس آنر ہوگئے۔ محکمہ خزانہ نے چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات ،صوبائی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز کو ایک اور خط 13-3/2016(II-B&E)So لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام چیک جو 7جولائی تک بھی کیش نہ ہو سکے‘ ان پر نئی حکمت عملی پرعمل کیا جائے۔ نئی ہدایات میں کہا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس آفسز اور ٹریژری آفس جون میں جاری تمام چیک فائل کریں اور ادائیگیاں نہ ہونے والے چیکوں کی لسٹ بنائیں اور ضمنی بجٹ کے اجراءکیلئے محکمہ خزانہ کو 25جولائی تک ارسال کر دیں۔ پنجاب حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ پنجاب حکومت نے 8لاکھ ملازمین کو ایڈوانس سیلری دینے کیلئے خزانہ سے 29ارب ادا کئے جبکہ 4لاکھ 45ہزار پنشنرز کو پنشن ادا کرنے کیلئے الگ سے 20ارب جاری کئے تھے۔ سیلری اور پنشن کی ادائیگی کیلئے پنجاب حکومت نے سٹیٹ بینک سے اوورڈرافٹ کی حد 35ارب کی سہولت بھی حاصل کی تھی۔ پنجاب حکومت کو ساتویں فنانس کمیشن ایوارڈ کے تحت ماہانہ 70ارب حاصل ہوتے ہیں۔ اگر حکومت ترقیاتی و غیرترقیاتی اخراجات کے جاری چیک کی ادائیگی کر دے تو اس کو ملازمین و پنشنرز کو جولائی کی تنخواہ اور پنشن دینے میں سخت مشکلات کا سامنا ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوچیک کیش نہ ہو سکے ان میں لاہور میں ترقیاتی کاموں کے 14ارب کے چیک بھی شامل ہیں۔ یہ حکومت کے فنانشل منیجرز کی کمزور حکمت عملی اور ناقص منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پنجاب حکومت کنگال ، اندرونی کہانی نے سب کے ہوش اڑا دئیے

