مائنس ون فارمولا نا قابل قبول , جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم استعفا دیں گے نہ ہی اسمبلی توڑیں گے جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ کو جھوٹ پلندہ قرار دے کر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر اعظم نے اپنا دفاع کرنے کے لئے قانونی ماہرین پر مشتمل ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔نجی ٹی وی چینل اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کے اعلیٰ قائدین اور قانونی ماہرین کا ایک اہم اجلاس منعقدہ ہوا، اجلاس میں وزیر اعظم نے قانونی ٹیم کی تشکیل کی منظوری بھی دے دی ہے۔ خواجہ حارث اور دیگر قانونی ٹیم وزیراعظم اور ان کے خاندان کادفاع کرے گی۔ قانونی ٹیم جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرنے کاموقف17جولائی کوپیش کرے گی۔جب کہ قانونی ماہرین کی ٹیم آئندہ سماعت سے قبل ہی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردے گی۔ ذرائع کے مطابق غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزرائ، مشیروں، اٹارنی جنرل، قانونی اور آئینی ماہرین نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مختلف پہلوﺅں پر بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزراءنے کہا کہ جے آئی ٹی نے میڈیا رپورٹس اور الزامات پر انحصار کیا، یہ ایک سیاسی پارٹی کی رپورٹ معلوم ہوتی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق، شہباز شریف نے ملاقات میں وزیر اعظم کو جے آئی ٹی میں گلف سٹیل ملز کے حوالے سے بیان پر وضاحت پیش کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ حقائق کے منافی کوئی بیان نہیں دیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ مفروضوں پر مبنی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جے آئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے گلف سٹیل کے معاملات سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی کو بھی پاکستان کے سیاسی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، سول حکمرانوں کو 5سال مکمل کیوں نہیں کرنے دیئے جاتے، پہلے 58ٹو بی تھی،آج عدالتی 58ٹو بی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، سازشوں کے ذریعے ملکی ترقی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، پائیدار ملکی ترقی کے لئے پاکستان کو دائروں کے سفر سے نکالنا پڑے گا، اقتصادی اصلاحات کے بہتر نتائج کےلئے ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہوتا ہے، مارچ 2018ءتک ملکی نظام میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہو گی۔ منگل کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 1998ءمیں نیویارک میں وژن 2010ءپیش کیا تھا، صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں، کسی بھی کامیابی کے پیچھے ایک جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ءمیں پاکستان جاپان کے مقابلے میں ترقی کرتا ہوا ملک تھا، ملکی تاریخ میں پہلی بار 1998ءمیں اقتصادی اصلاحات پیش کی گئیں،90ءکی دہائی میں ہماری پیش کی گئی اصلاحات بھارت نے نافذ کیں اور ہم سے آگے نکل گیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ 21ویں صدی مقابلے اور اقتصادی ترقی کی صدی ہے، ملک جب بھی ترقی کرنے لگتا ہے سیاسی عدم استحکام پیدا کر دیا جاتا ہے، اقتصادی اصلاحات کے بہتر نتائج کےلئے ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ سٹاک ایکسچینج کو ایک دن میں اربوں کا نقصان ہوا،2013 ءمیں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی عروج پر تھی،2017ءکا پاکستان 2013ءکے مقابلے میں بہت بہتر ہے، پورے بلوچستان میں سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں،موثر حکومتی اقدامات سے ملکی زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر ہیں، مارچ 2018تک ملکی نظام میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہو گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے سیاحت کے شعبے کو فروغ ملا، سازشوں کے ذریعے ملکی ترقی کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، نوجوانوں نے ترقی کے عمل کو مستقل مزاجی میں جاری رکھنا ہے، سول حکمرانوں کو 5سال مکمل کیوں نہیں کرنے دیئے جاتے، پہلے 58ٹو بی تھی، آج عدالتی 58ٹوبی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستان کے سیاسی استحکام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، پائیدار ملکی ترقی کےلئے پاکستان کو دائروں کے سفر سے نکالنا پڑے گا۔ وفاقی وزراءکا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک سازش ہے جس کا ڈائریکٹر پاکستان سے باہر اور اداکار پاکستان میں ہیں جبکہ مرکزی کردار عمران خان ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کئی خامیاں ہیں، دستاویزات ناقابل فہم اور خود ساختہ ہیں.کسی بیرون ملک کمپنی میں وزیراعظم کا نام نہیں ہے ، جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت سی خامیاں ہیں،اثاثے آمدن سے مطابقت نہ رکھنے کا الزام بے بنیاد ہے،سپریم کورٹ میں چیلنج کر یں گے،وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفراللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو غلطیوں کا پلندہ قرار دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ میں رپورٹ کو چیلنج کریں گے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں پکوڑوں والے کاغذ بھی شامل ہیں اور یہ حتمی نہیں ہے اور اس میں متعدد خامیاں ہیں نیب والے 1999میں ہمارے گھر سے تمام ریکارڈ لے گئے تھے جے آئی ٹی والےجلدی میں تھے اس لیے سارا معاملہ پیدل ہے ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ جمہوری عمل کو چلنے دیا جائے جے آئی ٹی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے پروفیشنل لوگ اس کو دیکھ رہے ہیں رپورٹ میں خامیاں ہیں کافی کاغذات بنائے گئے ہیں فوٹو کاپی ہیں جو پڑھی بھی نہیں جارہی ہیں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو کہا ہے کہ وہ اس کے بارے میں خود فیصلہ کرے کہ اس کو ثبوت کے طور پر ماننے ہیں کہ نہیں۔یہ وہی پکوڑوں والے کاغذ ہیں جے آئی ٹی نے کہا کہ جلد نمبر دس کو منظر عام پر نہ لائیں ۔ عمران خان کی باری آتی ہے تو یہ غائب ہوجاتے ہیں دونوں کا ایشو ایک ہے جن کی چھ چھ پیشی ہوئی ہے اس سے وہ معلومات نہیں ملے ۔ ہمارے وکلاءجے آئی ٹی رپورٹ کو دیکھ رہے ہیں مگر ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے میرے بارے میں 245سے 248تک میرے بارے میں کاغذ ہیں ان میں کہتے ہیں کہ ڈار ٹیکس رٹز فائل نہیں کرتے ہیں پیشی کی وجہ سے چہرے پر جھریاں نظر آرہی تھیں اور مخالفین نے اس کو ہائی لائٹ کیا ۔جے آئی ٹی تو جواب دے کہ آپ نے جو سوال کیا ہے کہ ٹیکس رٹرنز نہیں دئے گئے ہیں یہ پہلی مرتبہ میرے علم میں آئے ہیں ۔ ٹیکس رٹرنز آپ کو نہیں ملی یہ میں آپ کو دے دوں گا۔ انہوںنے کہا کہ مشرف کے غیر آئینی دور میں ہمارے اکثر کاغذات نیب اٹھا کر لے کرچلے گئے تھے اور جے آئی ٹی نیب سے وہ لے کر دیکھ لے۔ 2003سے 2008تک ٹیکس رٹرنز کے بارے میں نے 7جولائی کو سارا ریکارڈ نیب کے دفتر سے نکلا ہے اور ایف بی آر نے یہ 8جولائی کو جے آئی ٹی میں پیش کیا ۔ جے آئی ٹی میں میرے حوالے سے غلط بیانی کی گئی ہے عدالت میں اس کا بھر پور جواب دوں گا۔ جو چیزیں مجھ سے معلوم کی گئیں ان کے بارے میں نہیں لکھا گیا ہے جو چیزیں ہم سے پوچھی ہی نہیں گئیں وہ الزامات بھی ہم پر جے آئی ٹی میں لگائے گئے جو کہ غیر قانونی ہے میں آخری پسیے تک حساب دوں گامیرے پاس پورا ریکارڈ ہے میں نے وہ خود ان کو دیا ہے میںنے عرب امارات میں نوکری جوائن کی ۔میںایک پروفیشنل چارٹرڈاکاﺅنٹ ہوں23مارچ 2008 میں تمام اداروں سے مستعفیٰ ہوا اور اس کے بعد زرداری حکومت کا حصہ بنا ۔ 2003میں بچوں کوشادی کے بعدان کو آزاد کردیا اور ان پر پاکستان میں کاروبار پر پابندی لگادی تاکہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے میں نے جو رقم بچوں کو دی وہ ریکارڈ پر ہے اور بچوں کو جو قرض حسنہ دیا وہ انہوںنے چار سال میں واپس کردیا یہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ میرے ٹیکس ریٹرن تصدیق شدہ ہیں اور ان پر باقاعدہ مہر لگی ہوئی ہے ۔ میرے جتنے بھی اثاثے ہیں ان کو میںنے ظاہر کیا اور بنکوں کے ذریعے یہ رقم پاکستان آئی ۔ اگر میرے اثاثوں میں اضافہ ہوا ہے تو اس کا بھی میرے پاس ثبوت ہے کہ یہ پیسے کہاں سے آئے جے آئی ٹی نے الزام لگایا کہ میں زکواة کھانے والا ہوں ان کو معلوم ہونا چاہیے میں کھانے والا نہیںدینے والا ہوں ۔ لگتا ہے کہ جے آئی ٹی والے جلدی میں تھے اس لیے انہوںنے اتنی غلطیاں کی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ میں علی ہجویری کا مرید ہوں اور اس کے حوالے سے میں نے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے اور علی ہجویری کو8کروڑ روپے دیا جس کے ذریعے ہم 92بچوں کی کفالت کررہے ہیں ۔ جن میں سے اب ایک لڑکا چارٹر ڈ اکاﺅٹنٹ اور دیگر اے او لیول کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ جب بھی بچوں کو قرض حسنہ دیتا ہوں تو ان کو واضح کردیتا ہوں کہ یہ 100یتیم بچوں کے ہیں ۔ میرے سارے پیسے میرے مرنے کے بعد ان یتیم بچوں کی کفالت پر خرچ ہوں گے، میری وراثت میں میرا آبائی گھر میرے بچوں کو دیا جائے گا۔ ہجویری فاﺅنڈیشن مختلف رفاعی کام کرتی ہے ۔ اور اس کا باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے ۔ میرے پاس اگر سوئی بھی ہے تو اس کا بھی ریکارڈ موجود ہے جے آئی ٹی نے الزام لگائے مگر یہ نہیں بتایا کہ ٹیکس کہاں پر چوری ہوا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ حدیبیہ پیپرز کا بار بار ذکر کیا جارہا ہے حالانکہ 13ججوں نے اس کیس کو سننے کے بعد حکم دیا تھا کہ اس کو دوبارہ نہیںکھولا جائے گایہ اس کو دوبارہ کھول کر عدالت کی توہین کررہے ہیں ۔ یہ صرف جے آئی ٹی ہے جبکہ حدیبیہ پیپرکے 13اداروں نے تصدیق کی اور کہا کہ کسی قسم کی ٹیکس چوری نہیںہوئی ۔ اپوزیشن والے پاکستان میں سیاسی تماشا لگا رہے ہیں یہ بتائیں کہ پاکستان کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف ایک بھی کرپشن کا کیس نہیں ہے جے آئی ٹی والے چیزوں کو الجھا رہے ہیں ۔ عمران خان عدالت میں تلاشی نہیں دے رہے اور جج بنے ہوئے ہیں مسلم لیگ ن کو نہ عمران خان نے نہ ان کے ووٹروں نے ووٹ دیئے ہیں ہم ان کے کہنے پر استعفی نہیں دے سکتے ہمیں اپنے ووٹروں نے حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان ترقی کررہا ہے عمران خان اپنی حرکتوں سے بعض آجائیں ان کی قسمت میں نہیں ہے کہ ان کو اقتدار ملے اور پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈالیں ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم نے کچھ باتیں یہاں جے آئی ٹی کے حوالے سے کی ہیں باقی سپریم کورٹ میں اس کا جواب دیں گے ۔ تفتیش کا اصول ہے جو مواد اس شخص کے خلاف ہو وہ اس کو بتایا جاتا ہے اور جواب دیا جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی نے جو جواب جمع کرایا ہے اس کے بارے میں جن سے تفتیش کی گئی ہے وہ جوابات اس میں نہیں ڈالے گئے ۔ جے آئی ٹی کو چاہیے تھا کہ وہ پیشہ وارانہ کام کرتے مگر انہوںنے پارٹی بازی اور غیر جانبداری کی بجائے جانب دار ہوکر کام کیا اور اپنی رپورٹ میں افسانوں اور رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کی ۔ سپریم کورٹ میں اپنا دفاع کریں گے اور بیانیہ بھی بدلیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ جے آئی ٹی میں جتنا بھی کام کیا وہ دو مہینے میں نہیں ہوسکتا تھا یہ پہلے سے ہی طے کیا گیا تھا ۔ پاناما کے معمار پاکستان کو ٹارگٹ کرنے کیلئے یہ لے کر آئے تھے اورجے آئی ٹی رپورٹ کی تیاری دو مہینے کا نہیں یہ ڈیڑھ سال کا کام ہے ۔ سعدرفیق نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں اور سپریم کورٹ میں دلائل سے اس کا جواب دیں گے ۔ پاناما ڈرامے کا ڈائریکٹر ملک سے باہر ہے اور یہاں پر ہر شام کو یکطرفہ ٹاک شو کئے جارہے ہیں ۔ مگر پاناما کے اداکار پاکستان کے اندر اور عمران خان مرکزی اداکار ہیں ، جے آئی ٹی فیصلے پر اخلاقی جواز کا رونا رویا جارہا ہے ۔ زردراری کی جماعت اور اخلاقی جواز کی بات ہوتو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کو اخلاقی جواز کی داستانیں ملک اور ملک سے باہر زبان زد عام ہیں ۔ عمران خان اخلاقی جواز کے بابے بنے ہوئے ہیں جبکہ ان کی ہر چیز بے نامی ہے جو چیزیں بے نامی نہیں ہونی چاہیے وہ بھی ان کی بے نامی ہیں ۔ نوازشریف اجازت دیں تاکہ ہم سیاسی رہنما عدالت کے باہر اور قانونی ماہرین عدالت کے اندر یہ جنگ لڑیں انہوںنے الزام لگایا کہ عمران خان ہم پر حملہ کرکے ہمارے اجر کو ضائع کررہے ہیں ۔ اس کا اجر تو ہمیں اللہ سے قیامت کے دن لینا تھا ہمیں اپنی قبر کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے پاکستان کیلئے کام کی بجائے ہم جے آئی ٹی کے حوالے سے صفائیاں دے رہے ہیں اور جے آئی ٹی نے ایک نئی کہانی بنادی ہے ثابت ہوا ہے کہ عمران خان نے غیر ملکی فنڈنگ لی ہے مگر اس کے باوجود بھی اس کو کوئی روکنے والا نہیں ۔ دوسری طرف پی ٹی آئی وکیل کی طرف سے نام لینے پر عدالت نے میری تقریر منگوائی ہے تقریر کرنے سے نہیں رکوں گااور آخری دم تک کرتا رہوں گااگر تقریر نہ کرنے دی گئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ ہم نے خود سیاست کی کسی نے ٹپ میں سیاست نہیں دی ۔ نوازشریف نے ماڈل ٹاﺅن سے عدلیہ کی آزادی کیلئے مارچ کیا اور عدلیہ بحال کرائی ۔ مگر عمران خان اسلام آباد میں چھپے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ سب جب گرفتار ہوجائیں تو اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے آئیں اور ہیرو بن جائیں میں نے اپنی تقریر میں عدالت کا احترام اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بات ہے اگر ہم عدالتوں کا احترام نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ عدالت عمران خان ، شیخ رشید اور اعتزاز احسن کی تقریر بھی منگوائیں جو خود سپریم کورٹ کے ترجمان بنے ہوئے ہیں ۔ جج کے ریمارکس اگر تلوار کی طرح ہماری گردنوں پر مخالفین چلائیں گے تو ہمیں جواب دینا پڑتا ہے عوام نے ہمیں ووٹ دیئے اور وہ ہم سے پوچھتے ہیں جواب کیوںنہیں دے رہے ۔ ہم سیاسی لوگ ہیں اگر مخالفین ہمارے خلاف ریمارکس استعمال کریں گے تو بھر پو ر جواب دیں گے ۔ عدالتوں کا احترام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ وزیر اعظم کے مشیر بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ رپورٹ اور فیصلے میں فرق ہوتا ہے نوازشریف کے 1962سے 2017تک تمام ریکارڈ جے آئی ٹی نے بنایا ہے تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہ کب سے کر رہی تھی کیوں کہ دو مہینے اس کیلئے ناکافی تھے ۔ گواہوں نے اپنے دفاع میں کچھ کہا ہے وہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ میں نہیں لکھا اور اپنی خواہشات کے مطابق رپورٹ لکھی ۔ جن ثبوتوں کے بارے میں کہا کہ یہ جعلی ہیں اور یہ لکھنے والا فونٹ 2007میں نہیں تھا یہ 2007میں نہیں تھا گوگل میں جا کر دیکھیں یہ 2004میں آگیا تھا ۔ یہ رپورٹ کسی اور نے لکھ کر جے آئی ٹی کو دی ہے ، بعد میں میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ میرا امریکہ کی شہریت لینا جھوٹ پر مبنی ہے اس میں بالکل کوئی صداقت نہیں ہے ۔ایک سوال پر بیرسٹر طفر اﷲ نے آئی سی جے کے دائرہ اختیارکے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدالت سے ٹکرانے کی کوئی پرانی روایت نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو قربان کرنے کی روایت ہے۔ ازرائے کرم گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے بعض سیاسی اداکار قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں احتساب کے ادارے موجود ہے اور وہ قانون کے مطابق آزاد ہیں پاکستان میں آزاد عدلیہ بھی موجود ہے جس کو جس پر اعتراض ہے وہ عدالت میں بھی جا سکتا ہے اور ادارے از خود کارروائی بھی کرسکتے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ نہ استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی اسمبلی توڑیں گے میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کا غیر رسمی اجلاس ہوا‘ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماءاور قانونی ماہرین شریک ہوئے‘ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعظم کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ ہی اسمبلیاں توڑیں گے حکومت اپنی مدت پورے کرے گی اجلاس میں شریک شرکاءنے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ مفروضوں اور تعصب پر مبنی ہے‘ مائنس نواز شریف فارمولہ کسی صورت قبول نہیں‘ سیاسی مخالفین کا ہر سطح پر بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خواجہ حارث اور دیگر قانونی ٹیم وزیراعظم اور ان کے خاندان کا دفاع کرے گی ۔ قانونی ٹیم جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کرنے کا موقف 17 جولائی کو پیش کرے گی۔

نواز شریف کی 10 ہزار درہم تنخواہ ، دوسری صاحبزادی بارے اہم خبر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اپریل 2014ءتک کیپٹل ایف زیڈ ای سے 10 ہزار درہم تنخواہ وصول کرتے رہے۔ نجی ٹی وی نے یو اے ای حکام کا خط حاصل کر لیا جس کے مطابق نواز شریف اپریل 2014ءتک امارات میں قائم کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای سے تنخواہ وصول کرتے رہے۔ نواز شریف کی دوسری صاحبزادی اسماءنواز کے اثاثے بھی آمدن سے زیادہ نکلے۔ سال 1991-92ءمیں ان کے اثاثوں کی مالیت 14 لاکھ تھی اگلے ہی سال اثاثوں میں 21.7 گنا اضافہ ہو گیا۔ 1992-93ءمیں اثاثوں کی مالیت 31.55 ملین ہو گئی۔ نواز شریف نے اسماءکو 30 ملین سے زائد کے اثاثے منتقل کیے۔ منتقلی کے ذرائع بتانے سے دونوں باپ بیٹی قاصر ہیں چودھری شوگر ملز نے اسماءکو 11 لاکھ 22 ہزار منافع ملا۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جائیداد کی تقسیم کے دستاویزات میں لندن فلیٹس کا ذکر نہیں تھا۔ شریف خاندان کی خواتین نے جائیداد سے اپنا حصہ نہیں لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ گلف سٹیل ملز قرضے لے کر قائم کی اور اس میں ان کا کوئی مالی فائدہ نہ تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلف سٹیل سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزیراعظم نے گلف سٹیل سے ملنے والے پیسے یہ بات کرنے سے انکار کیا۔ وزیراعظم نے کہا گلف سٹیل بارے میرے والد کو ہی پتہ تھا۔ گلف سٹیل کا پیسہ پاکستان سے باہر استعمال ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 1992-93ءمیں شریف خاندان کے اثاثے 31 فیصد بڑھ گئے۔ نواز شریف کو یہی معلوم الثانی خاندان کو گلف سٹیل کا پیسہ کب ملا۔ وزیراعظم نے جے آئی ٹی کو کہا کہ وہ جواب دینے کے پابند نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قوم سے خطاب میں سچ بولا۔ پارلیمنٹ سے خطاب میں سچ بولا۔ برطانوی اخبار کو انٹرویو پر وزیراعظم نے اہلیہ کو لاعلم قرار دیا۔ وزیراعظم کو مریم اور حسن نواز کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ کا علم نہیں۔ حسن نواز نے فلیٹ کی ملکیت بارے سوالات کے سیدھے جواب نہیں دیئے۔ نیکسول، نیلسن کے بینیفیشل اونر کا سیدھا جواب نہیں دیا۔

کرکٹ آمدن ، لندن فلیٹس خریداری کی تفصیل طلب

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے نااہلی کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کرکٹ میں کمائی گئی رقم کی تفصیل جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوریاں پکڑنے کا اصول عمران خان کےلئے بھی ہونا چاہیے جبکہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اگلی سماعت پر ان کی طرف سے وکیل پیش نہ ہوئے تو پھر عمران خان کو طلب کرنا پڑےگا جو عدالت میں آکر اپنی اور اپنی جماعت کے بارے میں سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے ¾ایک ایسا اکاﺅنٹ ہے پتہ نہیں لگ رہا کہ اس میں پیسے کہاں سے آئے؟۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی نا اہلی اور پاکستان تحریک انصاف کو ممنوعہ ذرائع سے ملنے والی غیر ملکی امداد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی توحنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ تحریک انصاف نے متفرق درخواست کا جواب نہیں دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کچھ خلاءموجود ہیں جنہیں پر کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن کے جواب میں جواب الجواب پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت نے کہا تھا عمران خان جواب دینا چاہیں تو دیں۔اکرم شیخ نے کہاکہ یہ سارا کیس فارن فنڈنگ کی بنیاد پر چل رہا ہے ¾ عمران خان کے وکیل کی جانب سے تاحال جواب نہیں آیا چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 14جون 2017ء کو عدالت نے جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا ¾وجہ یہی تھی کی عدالتی کارروائی میں خلل نہ آئے اب دیکھ رہے ہیں کہ 2 درخواستوں پر جوا ب نہیں آیا۔سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت سے معافی مانگی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ساری چیزیں معافی سے تو حل نہیں ہوتیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معذرت کے معاملے پر اشفاق احمد نے بہت کچھ لکھا ہے انور منصور کے رویے سے بہت مایوس ہیں اور انہوں نے معاملے کو بہت ہلکا لیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی چھٹیوں کے باوجود ججز چھٹیاں نہیں لے رہے ¾تعاون کی بات ہے تعاون پر ہی معاملات چلتے ہیں،عمران خان کے وکیل انورمنصور خود 21جولائی تک چھٹیوں پر چلے گئے اور انہوں نے درخواستوں پر جواب بھی جمع نہیں کرائے۔چیف جسٹس نے کہاکہ آرٹیکل 62 اور 63 پر قانونی معاونت درکار ہے ¾ہم فارغ نہیں کیس سے متعلق کتابیں پڑھتے ہیں لہذا عمران خان خود پیش ہو کر بتائیں عدالتی سوالات کے جواب کون دےگااس موقع پر تحریک انصاف کی قانونی ٹیم میں شامل فیصل چوہدری روسٹم پر آئے اور انھوں نے استدعا کی کہ عمران خان کو طلب نہ کیا جائے۔فیصل چوہدری نے کہا کہ انور منصور کی طبیعت خراب ہے ¾چیک اپ کےلئے امریکہ گئے ہیں ¾وہ ذمہ دار آدمی ہیں ¾ایسانہیں ہوسکتا کہ کیس لگے اور وہ نہ آئیں۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ آپ انور منصور سے رابطہ کرکے (آج) بدھ تک بتادیں۔جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس میں کہا کہ چاہتے ہیں وکلا ءعدالت کی مکمل معاونت کریں جبکہ اس کیس میں بہت سے لیگل ایشوز ہیں۔سماعت کے دوران وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت کہے تو انور منصور کی جگہ میں جواب جمع کروا دیتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف جواب جمع نہیں کرانا بلکہ دلائل بھی دینا ہیںاور دلائل صرف ایک روز کےلئے نہیں بلکہ اس وقت تک عدالت میں پیش ہونا پڑےگا جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں آجاتا۔

پیپلز پارٹی کا نواز شریف کی سیاسی مدد سے صاف انکار

اسلام آباد ( ملک منظور احمد) پانامہ کیس کی تحقیقات کےلئے قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقاتی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد پہلی مرتبہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے بیک وقت وزیر اعظم نواز شریف سے استعفی کو مطالبہ کرکے سےاسی درجہ حرارت میں اضافہ کردیا ہے یہ پہلا موقع ہے کہ اس مشکل سےاسی صورتحال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے وزیر اعظم نواز شریف کی سیاسی مدد کرنے سے صاف انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو خاصہ دھجکا لگا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے اب مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کا تعاون کرنے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ حکمران جماعت اپنی حلیف سےاسی جماعتوں کے ذریعے آصف زرداری سمیت دیگر قائدین سے رابطے کررہے ہیں لیکن وزیر اعظم نواز شریف پر خلاف توقع سےاسی دباﺅ بہت بڑھ گیا ہے اور وہ تمام تر دباﺅ کے باوجود اگر اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے تو عدالت عظمی اس رپورٹ کی روشنی میں ممکنہ طور پر انہیں نااہل قرار دے سکتی ہے ۔

پارلیمنٹ کو خطرہ ، نواز شریف استعفیٰ دیں

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی ‘ مانیٹرنگ ڈیسک‘ ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف نے خود کہا تھا کہ الزامات ثابت ہوگئے تو مستعفی ہوجاو¿ں گا ¾ پارلیمنٹ خطرے میں ہے وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔منگل کواپنے چیمبر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاکہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خود عہدہ چھوڑ کرعدالتی فیصلے پرعملدرآمد کیا تھا اور پھرملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرامن انتقال اقتدار ہوا تاہم آج پارلیمنٹ خطرے میں ہے نواز شریف نے کہا تھا کہ الزامات ثابت ہو جائیں تو استعفیٰ دے دوں گا میرا مطالبہ ہے وزیر اعظم اپنے کہے کی پاسداری کریں اور جمہوریت کے تسلسل کےلئے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت آج جس رویئے کا اظہار کر رہی ہے وہ باعث تشویش ہے ¾وزرا اداروں کو بدنام کر رہے ہیں جبکہ ریاست شخصیات سے نہیں بلکہ اداروں سے چلتی ہے اور اداروں کے کمزور ہونے سے دشمن مضبوط ہو رہے ہیں اگر حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ چلے تو وزیر اعظم اپنے عہدے سے علیحدہ ہوجائیں۔ تحرےک انصاف کے چیئرمےن عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کا سارا سارا ٹبر چوریاں کر رہا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے، نواز شریف نے پارلیمنٹ اور جے آئی ٹی میں جھوٹ بولا۔ صرف نواز شریف کا نہیں شہباز شریف کا بھی استعفیٰ مانگتے ہیں۔ اسحاق ڈار نواز شریف کے فرنٹ مین ہیں۔ اسحاق ڈار نے ظفر حجازی کو چیئرمین ایس ای سی پی لگایا تھا۔ حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان ٹرسٹ کا معاملہ بھی فراڈ ثابت ہو۔، سپریم کورٹ میں جعلی کاغذات جمع کرائے گئے جو جرم ہے۔جب ادارے انہیں بچانے کے لئے رکاوٹ ڈالتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ ان کے نزدیک چوری چھپانے والا ادارہ ہی ٹھیک ہے۔جے آئی ٹی ممبران کو شواہد لانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے منگل کو بنی گالہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔ عمران خان نے کہا کہ اسمبلی کا سپیکر ایک ادارہ ہوتا ہے۔ ایاز صادق کو اگر اپنی عزت کا خیال ہے تواستعفیٰ دیں۔عمران خان نے وزیر خزانہ اسحق ڈار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور سعید احمد منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ ظفر حجازی نے ڈاکیومنٹس میں ٹمپرینگ کی، آئی بی نے حسین نواز کو نکال کر ڈاکیومنٹس دیئے، آئی بی کا ادارہ مجرموں کی مدد کر رہا تھا۔ٹیکس کے پیسے سے تنخواہ لینے والے 4 وزیر مجرم کو بچانے میں لگے ہیں۔لیگی وزراءکل ٹی وی پر بیٹھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو نہیں مانتے، قوم ان کی شکلیں دیکھ لے یہ سب مجرم ہیں۔ جس جے آئی ٹی پر مٹھائی تقسیم کی گئی اب اس کی رپورٹ تسلیم نہیں کررہے۔ مجرم کی حمایت کرنے والا بھی مجرم ہوتا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ان لوگوں کو تو منہ نہیں دکھانا چاہئے۔ یہ کس منہ سے اب میڈیا میں جا رہے ہیں؟۔ان کا کہنا تھا کہ سارا ٹبر چوریاں کر رہا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے، نواز شریف نے پارلیمنٹ اور جے آئی ٹی میں جھوٹ بولا۔ یہ سارا خاندان پکڑا گیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کا بھی سیٹلمنٹ میں نام آ گیا ہے، شہباز شریف کیخلاف عدالت میں ریفرنس دائرکریں گے، اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پتہ چل چکا ہے کہ قطری شہزادے کا خط فراڈ ہے۔ پہلے ہی قطری خط کا سارا پاکستان مذاق اڑا رہا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ دبئی کے جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گلف سٹیل کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ قطری کے پاس تو پیسہ گیا ہی نہیں۔ حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان ٹرسٹ کا معاملہ بھی فراڈ ثابت ہو۔، سپریم کورٹ میں جعلی کاغذات جمع کرائے گئے جو جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما میں ہزاروں لوگوں کے نام آئے کسی ایک نے نہیں کہا کہ یہ غلط ہے۔ جبکہ حکمران خاندان کہتا رہا کہ مریم نواز بینی فیشل اونر نہیں۔اور اب تصدیق شدہ کاپی مل گئی ہے کہ مریم نواز بینی فیشل اونر ہیں۔جو چیزیں منظر عام پرآئیں ان لوگوں نے اس کوتسلیم ہی نہیں کیا، شریف خاندان نے صرف عدالت میں معاملات تسلیم کیے۔ جے آئی ٹی نے وہ کام نہیں کیا جو باقی اداروں نے ان کیلئے کیا۔جب ادارے انہیں بچانے کے لئے رکاوٹ ڈالتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ ان کے نزدیک چوری چھپانے والا ادارہ ہی ٹھیک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ممبران کو شواہد لانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ رپورٹ میں دوسرے ممالک کے اداروں کی رپورٹس ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جتنے بہانے بنائیں گے مزید ذلیل ہوں گے۔ ان کے استعفے کافی نہیں۔ ان کا گھر اڈیالہ جیل ہے۔ ان کے بچے اربوں پتی ہیں۔ 90 میں ان کے بچے طالبعلم تھے۔ اربوں پتی کیسے بن گئے؟ انہوں نے کہا کہ یہ باہر نکلیں ۔ پھر ہم بھی ان کو نکل کر دکھائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو ”عمران نامہ“ قرار دینا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پیر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پاک سرزمین پارٹی، عوامی تحریک اور عوامی مسلم لیگ کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ وزیراعظم چور ثابت ہو چکے فوری گھر جائیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ جو چیزیں جے آئی ٹی میں آئیں انہی کو سپریم کورٹ میں لیکر گئے، پانامہ انکشاف میں جن جن کا نام آیا سب نے سچ مانا، نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس طرح کے لوگ اہم عہدوں پر بیٹھ گئے، نواز، شہباز شریف اور اسحاق ڈار منی لانڈر ہیں، چھوٹے میاں صاحب بڑے میاں صاحب کو مٹھائی کھلا رہے تھے، انہوںنے سمجھا کہ جے آئی ٹی کو خرید لیں گے، انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبرز ہمارے ہیروز ہیں، عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی ارکان کا تحفظ کرنا ہے، سپریم کورٹ جانتی ہے کہ یہ ایک مافیا ہے، عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی بنائی تھی، جسے مرضی منتخب کرے، یہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے پتہ چلتا تھا کہ کیا سوالات کیے گئے، انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے شوکت خانم ہسپتال کو ڈونیشن دی تو کیا میں انکے خلاف نہ بولوں، نوازشریف کے خلاف پہلے بھی فیصلہ آنے لگا تو انہوں نے ڈنڈوں سے حملہ کیا،2 ججز نے فیصلہ دیا،3نے مزید تحقیقات کا کہا، انہوں نے سپریم کورٹ پرکچھ کرنے کی کوشش کی تو ریکارڈ عوام نکلیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کو ناہل کردیاتو یہ کس سے لڑیں گے، نواز شریف2007 میں واپس آئے تو کوئی ان کیلئے نہیں نکلا، انہوںنے کہا کہ اب استعفیٰ کا نہیں شریف برادران اور اسحاق ڈا ر کے اڈیالہ جیل جانے کا انتظار ہے، یہ اربوں ڈالر باہر بھیجیں تو قرضے لینے پڑتے ہیں، مہنگائی بڑھتی ہے، ہر سال جتنا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر جاتا ہے ملک میں رہے تو خوشحالی آئے گی۔

گردے میں پتھری

ڈاکٹر نوشین عمران
گردے میں پتھری بننے کی شرح عورتوں کی نسبت مردوں میں تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر دس میں سے ایک مرد کو گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ پتھری اتنی بڑی ہو کہ گردے کو تکلیف پہنچائے یا درد اور دوسری علامات پیدا کرے بلکہ بعض اوقات تو پتھری اتنی چھوٹی اور بے ضرر ہوتی ہے کہ اس کا علم ہی نہیں ہوتا صرف اتفاقی طور پر الٹراساﺅنڈ یا ایکسرے ہونے پر اس کی تشخیص ہوتی ہے۔ پتھری بننے کا زیادہ خطرہ 20 سے 50 سال کی عمر کے دوران ہوتا ہے بلکہ 30 سال کی عمر کے قریب اس کی شرح زیادہ ہے۔ ایسے مرد وخواتین جن کے خاندان میں (خونی رشتوں) میں گردے میں پتھری بننے کا امراض ہو ان میں پتھری بننے کا رسک زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسی پتھری میں موروثی عمل دخل بھی موجود ہے۔ کم پانی پینے والے، نمک زیادہ استعمال کرنے والے، مرغن غذائیں زیادہ لینے والے گوشت خور دوا کی صورت کیلشیم زیادہ لینے والوں میں رسک زیادہ ہے۔ پیشاب میں بار بار انفیکشن، ذیابیطس، امراض دل خاص کر شریانوں کی تکلیف، موٹاپا، گھنٹیا، یورک ایسڈ کی زیادتی، آنتوں میں سوزش کے باعث بھی گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔ پینے کے پانی میں نمکیات کی زیادتی سے بھی پتھری بن سکتی ہے۔
گردے میں پتھری بننے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب پیشاب میں کمی ہونے لگے یا پتھری کی وجہ بننے والے کیمیکل یا مادے گردے میں جمع ہونے لگیں۔ پانی کی کمی کا شکار رہنے والے یا کم پانی پینے والے افراد میں گردے کی پتھری بننے کی شکایت زیادہ ہوتی ہیں۔ کئی پتھریاں اتنی چھوٹی یا بے ضرر ہوتی ہیں کہ ان کی گردے میں موجودگی کسی علامت کا باعث نہیں بنتی اس لیے سالہا سال تک ان کی تشخیص بھی نہیں ہوتی۔ پتھری کے باعث درد کا اعضاءاس بات پر ہے کہ پتھری گردے یا پیشاب کی نالی میں کس مقام پر ہے اور آیا اس جگہ بندش پیدا کر رہی ہے یا نہیں۔ بعض دفعہ بہت چھوٹی پتھری پیشاب کے ساتھ خود ہی خارج ہو جاتی ہے۔
گردے میں بننے والی پتھری میں عام کیلشیم کی پتھری ہے۔ یہ بیس سے چالیس سال کی عمر کے افراد میں زیادہ بن سکتی ہے۔ اس میں کیلشیم آکزیلیٹ پتھری بہت عام ہے ایسے افراد جو مسلسل کیلشیم اور وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ لگاتار لیتے رہیں ان میں پتھری بننے کا عمل زیادہ ہوتا ہے جبکہ قدرتی غذاﺅں سے لی جانے والی کیلشیم اور وٹامن ڈی یا دوسرے منرل پتھری کی وجہ نہیں بنتے۔ خوراک میں بے تحاشہ پروٹین خاص کر گوشت کی پروٹیشن کھانے سے بھی ”سٹیسن پروٹین“ گردوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ گوشت کی زیادتی کے باعث ہی یورک ایسڈ بھی گردے میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے افراد پانی کی مقدار کم لیں یا انہیں پیشاب کم آئے تو یہ مادے گردے میں جمع ہو کر پتھری کی شکل بنا دیتے ہیں۔ وٹامن سی کی زیادتی کے باعث بھی گردے میں پتھری بنتی ہے۔
پتھری کے انفکشن پیدا کرنے یا گردے پیشاب کی نالی میں کسی جگہ پھنس کر بندش پیدا کرنے کے باعث گردے کا درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس درد کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ درد کمر کے پچھلے حصے سے شروع ہو کر آگے اور نیچے کی طرف پھیلتا ہے۔ بعض اوقات مریض محسوس کر سکتا ہے جیسے پیشاب بہت جل کر یا تکلیف سے آ رہا ہے یا پھر کوئی چیز کمر سے نیچے کی طرف جا رہی ہے۔ مریض کو پیشاب میں پیپ یا خون آ سکتا ہے۔ پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے۔ بخار، قے، متلی بے چینی اور زیادہ پسینہ بھی آ سکتا ہے۔
پتھری پیدا کرنے والے اکثر مادے چونکہ روز مرہ خوراک میں شامل ہوتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ البتہ روزانہ سادہ پانی کم از کم دو لیٹر یعنی آٹھ گلاس لیتے رہنے سے پیشاب اور گردوں میں صفائی کا عمل بآسانی چلتا رہتا ہے اور پیشاب میں تیزابیت بھی نہیں ہوتی اس طرح گردوں سے فاضل مادوں کی صفائی جارتی رہتی ہے۔
٭٭٭