جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد عمران خان کو بھی بڑ ا جھٹکا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے خلاف نا اہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت میں وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے متفرق درخواستوں کے جواب نہیں دئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اسمبلی تقاریر سمیت متعدد درخواستوں کا جواب بھی نہیں دیا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ عمران خان جب جواب دینا چاہیں وہ دے سکتے ہیں۔کچھ خلا موجود ہے جنہیں پ±ر کرنا ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کسی خلا کی وجہ سے سماعت میں رکاوٹ پڑے۔الیکشن کمیشن کے جواب پر جواب الجواب میں تاخیر پر بھی چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا جس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ہم تاخیر پر معذرت خواہ ہیں۔ وکیل پی ٹی آئی کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ صرف معذرت سے کچھ نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے عمران خان آ کر بتائیں کہ کیس کو کیسے چلانا ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کو کل طلب کر لیا۔

دنیا کی امیر ترین مائکرو سافٹ کمپنی کے مالک کی بیٹی مسلم نوجوان سے شادی بارے خبر نے سوشل میڈیا پر کھلبلی مچا دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانسیسی اخبار Le Parisien میں دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کی بیٹی جنیفر گیٹس اور ایک مصری نوجوان نائل نصّار کے درمیان تعلقات کی خبر شائع ہونے کے بعد سے مصری حلقے اس نوجوان کے بارے میں تفصیلات تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔اخبار کے مطابق بل گیٹس کی 21 سالہ بیٹی جو ان دنوں پیرس میں ہارس جمپنگ کے ایک مقابلے میں شریک ہے.. 26 سالہ مصری نوجوان پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق نائل نصّار کے والدین کا تعلق مصر سے ہے اورنائل نے اپنا بچپن کویت میں گزارا جہاں اس کے والد کام کرتے تھے۔ اس مصری نوجوان کو دیوانگی کی حد تک گ±ھڑ سواری سے محبّت ہے۔ وہ کئی عالمی مقابلوں میں بھی حصّہ لے چکا ہے۔ بالخصوص 2009 کے بعد جب اس کا خاندان کیلیفورنیا منتقل ہو گیا۔ نائل نصار کیلیفورنیا کی اسٹیمفورڈ یونی ورسٹی میں ایڈمنسٹریشن اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پیشہ ورانہ سطح پر گ±ھڑ سواری بھی کرتا ہے۔ نائل اپنی مادری زبان عربی کے علاوہ کئی دیگر زبانوں پر بھی دسترس رکھتا ہے جن میں انگریزی اور فرانسیسی شامل ہیں۔ گزشتہ فروری میں نائل نصار نے ہارس جمپنگ کی عالمی چیمپیئن شپ کے سلسلے میں ویلنگٹن میں ہونے والا راو?نڈ اپنے نام کیا تھا۔ اس نے چیمپین شپ کا مرکزی راو?نڈ بنا کسی غلطی کے مکمل کیا۔ چفرانسیسی اخبار کے مطابق گ±ھڑ سواری کے عشق نے مصری نوجوان اور بل گیٹس کی بیٹی کو اکٹھا کر دیا اور غالبا دونوں چاہنے والے جلد ہی ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ رشتے میں منسلک ہونے کا اعلان بھی کر دیں۔

سندھ کی سیاست میں نیا موڑ آگیا۔۔مصطفی کمال اور فاروق ستار بارے اہم ترین خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاک سر زمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کیس میں وزیر اعظم کو دفاع کا حق حاصل ہے لیکن جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔کراچی میں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ سیاسی جماعتیں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھیں ،اب جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم کو حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون کو ترجیح دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو ملک ،اداروں اور عوام کے لیے استعفا دینا چاہیے ،اگر استعفے میں مزید تاخیر کی گئی توجمہوریت کو نقصان ہو گا۔الطاف حسین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان آکر سب سے پہلے الطاف حسین کے خلاف باتیں کی اس کے بعد فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے بھی وہ ہی باتیں دہرائیں جو ہم پہلے کر چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ فاروق ستار اور ایم کیو ایم کے دیگر ر ہنما الطاف حسین سے متعلق اپنی ہی باتوں کو جھٹلاتے رہے۔مصطفی کمال نے مزید کہا کہ آج پر ایم کیو ایم کا منڈیٹ بانی ایم کیو ایم کا ہی ہے اور رہے گا۔مرکزی رہنماءمصطفی کمال نے کہا ہے کہ میں فاروق ستار کیطرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھا تا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اس ملک کی بہتری کیلئے کام کریں ۔

چوہدری نثار کا وزیر اعظم سے حیران کن مطالبہ، ن لیگی حلقوں میں ہلچل

ملتان، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد ملک میں سیاسی بھونچال کی سی صورتحال ہے اور ایسے میں سٹے باز بھی میدان میں آگئے۔ نوازشریف استعفیٰ دیں گے یا قانونی جنگ لڑیں گے۔ اس حوالے سے پاکستان بھر میں کروڑوں روپے کی شرطیں لگائی جارہی ہیں جبکہ سٹاک ایکس چینج میں بھی غیریقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کار تشویش میں مبتلا ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کیلئے مشورے شروع کردیئے ہیں جبکہ احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف نے ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعدمیاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے اپنی کابینہ کے اہم وزراءاور قانونی ماہرین سے صلاح مشورے شروع کردیئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز کابینہ کے اہم وزراءخواجہ ، آصف، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت بیشتر وزراءنے میاں محمد نواز شریف کو ڈٹ جانے اور مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارخان او رپیر صدر الدین شاہ نے فوری طور پرعہدہ چھوڑنے اور عوام سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر نواز شریف نے استعفیٰ دیا تو شہباز شریف اور سردار ایاز صادق میں سے کسی ایک کو مسلم لیگ ن کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کیلئے متبادل کے طور پر لانے کا امکان ہے جبکہ قانونی ماہرین نے جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن سندھ کی قیادت نے میاں نواز شریف کے حق میں سڑکوں پر آنے کے بجائے قانونی جنگ لڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ پانامہ سکینڈل میں وزیراعظم محمد نوازشریف اور ان کے صاحبزادوں کو ملوث قرار دینے کے معاملے پر آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کےلئے بڑی اپوزیشن جماعتوں میں رابطے تیز ہو گئے ، مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کےلئے آج(منگل کو) اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے درمیان ملاقات ہوگی۔ اس ملاقات کے نتیجے میں وسیع تر مشاورت کےلئے دیگر جماعتوں سے رابطوں کا بھی امکان ہے ۔دونوں قائدین کے درمیان ملاقات میں جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ق) اور دیگر جماعتوں سے رابطوں اور متحدہ حزب اختلاف کا وسیع ترمشترکہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ متوقع ہے ۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماءشاہ محمود قریشی کا بھی قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ وزےر اعظم نواز شرےف کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کےلئے سےاسی دباﺅ پہلے سے کئی زےادہ بڑھ گےا ہے تمام تر دباﺅ کے باوجود وزےر اعظم نے اپنے قرےبی رفقاءکے مشاورت کرنے کے بعد مستعفی نہ ہونے کا فےصلہ کےا ہے ۔ حکومتی حلقوں کو پہلے سے اس متوقع تحقےقاتی رپورٹ کے بارے مےں جو تحفظات اور خدشات تھے وہ درست ثابت ہوئے ہےں ۔ جے آئی ٹی کی تحقےقاتی رپورٹ نے حکومتی سےاسی مشکلات مےں کئی گنا اضافہ کردےا ہے اب پوری قوم کی نظرےں سپرےم کورٹ پر مزکور ہےں کہ اس تحقےقاتی رپورٹ پر سپرےم کورٹ کےا فےصلہ کرتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنی ایک حالیہ ٹوئٹ میں لکھا کہ اگر آپ نے اسے ایک سیاسی جنگ بنا دیا ہے تو مسلم لیگ (ن) سے بہتر اسے کوئی نہیں لڑسکتا۔ پاکستان کی بحرانوں سے اٹی تاریخ میں اس پر کسی کو حیرت نہیں کہ اس قانونی اور انتظامی معاملے کو بشکریہ میڈیا ملک کا سب سے بڑا سیاسی مقدمہ بنا دیا گیا، اس کی وجہ قانونی اور ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت کے اندر بات کرنے کے بجائے اسے سیاسی نعروں اور بیانات کی بنیاد پر عوامی سطح پر لڑنا شاید زیادہ آسان ہونا ہے۔ ان حالات میں حکمران جماعت کے اندر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے 60 روز مسلسل مشاورتوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی سطحوں پر جاری ہے، ہر قسم کے میڈیا پر کڑی نظر بھی رکھی جارہی ہے۔ جماعت کے اندر مختلف رہنما اور دھڑے مختلف مشورے اور تجاویز دے رہے ہیں لیکن کلیدی فیصلے پارٹی قائدنوازشریف چند قریبی ساتھیوں کی مدد سے ہی کررہے ہیں۔ جماعت کے رہنماو¿ں کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ دو اہم نکات پر طویل مشاورت ہوئی ہے لیکن کوئی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ ایک دھڑا جماعت کو کسی اچھی ساکھ کے وکیل کے ذریعے جے آئی ٹی کے اب تک کے ان قابل اعتراض اور بقول ان کے قابل گرفت اقدامات کو چیلنج کرنے کی تجویز دے رہا ہے لیکن اس پر جماعت کے اندر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کسی کی بھی جانب سے پاناما کی جاری تحقیقات کے خلاف عوامی مفاد میں ایک بھی پٹیشن کا سامنے نہ آنا ہے۔ فی الحال پٹیشن کی تجویز کو نظرانداز کرتے ہوئے جماعت نے جے آئی ٹی پر زبانی حملے جاری رکھنے پر اکتفا کیا ہے۔ دوسری قابل غور بات یہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں عام انتخابات کے بارے میں کیا حکمت عملی ہوگی؟ جماعت کے اندر ابھی بعض حلقے اسے قبل از وقت بحث قرار دے رہے ہیں لیکن عدالتی فیصلہ جو بھی سامنے آئے، مسلم لیگ کو ایک بڑا فیصلہ کرنا ہوگا جس پر اس کے انتخابی مستقبل کا دارومدار ہوگا۔ جماعت کے اندر یہ بحث چل رہی ہے کہ عدالتی فیصلہ نوازشریف کے حق میں یا مخالفت میں ہونے کی صورت میں کیا فوری عام انتخابات جماعت کے حق میں ہوں گے یا نہیں؟ بعض لوگوں کے خیال میں یہ جماعت کے فائدے میں ہوگا کہ اگر وہ دونوں صورتوں میں جلد انتخابات کا بندوبست کرلے۔ ایک پارٹی رہنما کا خیال تھا کہ اس طرح چلنے سے بہتر ہے عوام سے نیا مینڈیٹ لے لیا جائے کیونکہ ایک سال بعد کیا حالات ہوں گے کسے معلوم، موجودہ حالات میں تو ہم ترقیاتی کاموں پر توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔
سٹہ

وزیراعظم ،حسین نواز، حسن نواز کے ساتھ ساتھ مریم نواز کیخلاف کیا ہونے جارہا ہے؟, اہم ترین خبر

اسلام آباد ( رپورٹنگ ٹیم‘مانیٹرنگ ڈیسک‘ ایجنسیاں) پاناما جے آئی ٹی نے وزیرا عظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز اور بیٹی مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کردی۔لی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے مطابق مدعا علیہان تحقیقاتی ٹیم کے سامنے رقوم کی ترسیلات کی وجوہات نہیں بتا سکے، جبکہ ان کی ظاہرکردہ دولت اور ذرائع آمدن میں واضح فرق موجود ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچے آمدنی کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے اور منی ٹریل ثابت نہیں کر سکے۔رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے برٹش ورڑن آئی لینڈ سے مصدقہ دستاویزات حاصل کرلی ہیں، آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی مالک مریم نواز ہیں اور ان دونوں کمپنیوں کے حوالے سے جمع کرائی گئی دستاویزات جعلی ہیں، جبکہ ’ایف زیڈ ای کیپیٹل‘ کمپنی کے چیئرمین نواز شریف ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بےقاعدہ ترسیلات سعودی عرب کی ’ہل میٹلز‘ اور متحدہ عرب امارات کی ’ کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ کمپنیوں سے کی گئیں، جبکہ بےقاعدہ ترسیلات اور قرض نواز شریف، حسن نواز اور حسین نواز کو ملے۔برطانیہ کی کمپنیاں نقصان میں تھیں مگر بھاری رقوم کی ہیر پھیر میں مصروف تھیں، جبکہ یہ بات کہ لندن کی جائیدادیں اس کاروبار کی وجہ سے تھیں آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔رپورٹ کے مطابق انہی آف شور کمپنیوں کو برطانیہ میں فنڈز کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا، ان فنڈز سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئیں۔پاکستان میں موجود کمپنیوں کا مالیاتی ڈھانچہ مدعا علیہان کی دولت سے مطابقت نہیں رکھتا، بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بےقاعدگی سے ترسیل کی گئی، یہ رقوم سعودی عرب میں ’ہل میٹلز‘ کمپنی کی طرف سے ترسیل کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 اے وی کے تحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا جے آئی ٹی مجبور ہے کہ معاملے کو نیب آرڈیننس کے تحت ریفر کردے۔ جبکہ وزیراعظم نوازشریف کے نام سے بھی ایک آف شور کمپنی کا انکشاف ہوا ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ایف زیڈ ای کیپٹل کمپنی کے چیئرمین نوازشریف ہیں، وزیراعظم اور ان کے بچے منی ٹریل ثابت نہیں کر سکے۔ الانا سروسز، لینکن ایس اے اور ہلٹن انٹرنیشنل سروسز بھی شریف خاندان کی ہیں، اس سے قبل نیلسن، نیسکول اور کومبر گروپ نامی کمپنیاں منظر عام پر آئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق شریف خاندان نے کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کرائیں، جے آئی ٹی نے نیلسن اور نیسکول سے متعلق دستاویزات جعلی قرار دے دیں۔ رپورٹ کے مطابق حسن نواز کی لندن میں جو فلیگ شپ اونر کمپنی اور جائیدادیں ہیں اس میں بھی تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ برطانیہ کی کمپنیاں نقصان میں تھیں مگر بھاری رقوم کی ریوالونگ میں مصروف تھیں۔ آف شور کمپنیز برطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبار سے منسلک ہیں، آف شور کمپنیاں برطانیہ میں موجود کمپنیوں کو رقم فراہمی کے لئے استعمال ہوتی ہیں پیسہ برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان کی کمپنیو ںکو بھی ملتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوازشریف اور حسین نواز یہ فنڈز بطور تحفہ اور قرض وصول کرتے رہے، تحفے اور قرض کی وجوہات سے جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کیا جا سکا، متحدہ عرب امارات نے بارہ ملین درہم کی کوئی ٹرانزیکشن نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 14 اپریل 1980ءکو گلف اسٹیل مل کی فروخت کا کوئی ریکارڈ نہیں مل سکا، 2002,2001ءمیں دبئی سے جدہ کسی قسم کا کوئی اسکریپ نہیں بھیجا گیا، طارق شفیع بی سی سی آئی کے 9 ملین درہم کے ڈیفالٹر تھے۔ واضح رہے کہ پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعتکے دوران جے آئی ٹی نے حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ سربمہر رپورٹ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے 13 سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ حتمی رپورٹ میں قطرے شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تفصیلات کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے مہیا کردہ ریکارڈ بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئی رپورٹ کی جلد نمبر 3میں متحدہ عرب امارت کی وزارت انصاف کا خط شامل کیا گیا ہے جس میں وزارت نے وزیر اعظم پاکستان کے کزن طارق شفیع کے 6میں سے5دعوے مسترد کردئیے ہیں۔پانامہ کیس کی تحقیقات کے دوران شریف خاندان کی جانب سے دی گئی منی ٹریل کو متحدہ عرب امارات کی وزرات انصاف نے مسترد کردیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے کزن طارق شفیع کی جانب سے گلف سٹیل مل کی فروخت کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ 14اپریل 1980ءگلف سٹیل مل کی فروخت کی گئی لیکن جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ دوبئی سے اس فروخت کا کسی بھی قسم کا ریکارڈ نہیں ملا۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ 80اور 90کی دہائی میں کمپنیاں بنائی گئیں تو اس وقت نوازشریف سرکاری عہدہ رکھتے تھے ،مریم نواز کی نیسکول اورنیلسن کمپنی کی ملکیت بھی ثابت ہو گئی ہے جبکہ طارق شفیع کی جانب سے کیے جانے والے چھ دعوں میں دبئی کی حکومت نے 5مسترد کر دیئے ہیں۔جے آئی ٹی کی جانب سے اس سے متعلق یو اے ای حکومت کا خط بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیاہے۔ جے آئی ٹی نے قطری خط کو افسانہ قرار دیدیا ہے،قطری شہزادے کے خطوط حقیقت نہیں یہ محض ایک فسانہ ہیں،غیرملکی حکومتوں کے خطوط کے بعد قطری خط کی حیثیت بے معنی ہوگئی ہے۔جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطری خاندان سے بیریئر سرٹیفیکیٹس کی شریف خاندان کو منتقلی جھوٹی اور من گھڑت کہانی ہے جبکہ قطری شہزادے کا خط حقیقت نہیں محض ایک فسانہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق قطری کاروبار سے متعلق تمام مالیاتی دستاویزات غلط ہیں۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ انہوں نے تحقیقات میں معاونت کیلئے 6ممالک سے رابطہ کیا۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ انہوں نے سعودی عرب سمیت چھ ممالک کو خطوط لکھے جن میں سوئٹزر لینڈ ،لکسمبرگ ،آئس لینڈ ،متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔جے آئی ٹی کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ یو اے ای کی وزارت انصاف نے سات میں سے چار خطوط کا جواب نہیں دیا جبکہ برطانیہ کے ہوم آفس سے 7مختلف درخواستیں کی گئیں اور آئس لینڈ کے اٹارنی جنرل نے تین خطوط میں سے ایک کا جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں کہا ہے کہ شریف خاندان کی جانب سے جاوید کیانی کی معاونت کے لئے قرضے حاصل کرنے کے لئے 1991ئ تا 1998 ء فرضی غیرملکی کرنسی اکاونٹس فراڈسے کھولے گئے۔ انہی فرضی اکاونٹس پر قرضے لیے گئے، ڈپازٹس کو حدیبیہ پیپرز،حدیبیہ انجینئرنگ کے فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔شریف خاندان کی جانب سے ، 712 ملین روپے مالیت کے شیئرزکے عوض قرضہ لیاگیا۔ 642ملین روپے قرضہ حدیبیہ پیپرملز کے نام پرلیاگیا جبکہ 70ملین روپے قرضہ حدیبیہ انجینیرنگ کے نام پر بھی لئے گئے۔ اس قرضے کو1998میں مکمل کیاگیا،یہ سیٹ اپ اسحاق ڈارنے تیارکیاتھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 9اے وی کے تحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کے سرکاری جواب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ یو اے ای کی مرکزی بینک کے ذریعے طارق شفیع کی طرف سے فہد بن جاسم بن جبار بن الثانی کو ایک کروڑ 20لاکھ درہم منتقل کرنے کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلف سٹیل مل کے حوالے سے سوال پوچھنے پر وزیر اعظم نواز شریف نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ حسین نوازاورہل میٹل نے نوازشریف کے اکاونٹس میں تحفوں کے نام پربڑی رقوم منتقل کیں، شریف خاندان کے برطانیہ،دبئی میں اثاثوں سے 88 کروڑ روپے تحفوں کے نام پرمنتقل کیے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق نوازشریف نےاپنی اہلیہ،بیٹوں اوربیٹیوں کے نام پرشیئر رکھے۔ نوازشریف کامقصدخاندانی کاروبارپر کنٹرول رکھتے ہوئے بھی کنٹرول ظاہرنہ کرناتھا۔ تاہم یہ کمپنیاں فنڈز کو مسلسل اپنے درمیان گھما پھرا رہی تھیں۔تحقیقات کے دوران جب وزیر اعظم سے گلف سٹیل مل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا جواب دینے کی بجائے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ جے آئی ٹی نے پاناماکیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جعلی دستاویزات جمع کروائیں۔تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ مریم نواز اور حسین نواز کے درمیان لکھی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے ،بچوں کی طرف سے فراہم کردہ دستاویزات خود ساختہ ہیں ،ان جعلی دستاویزات پر حسین نواز ،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بھی دستخط ہیں ،یہ جعلی دستاویزات حقائق کو توڑنے مڑونے کیلئے ہیں ،جعلی دستاویزات دینا جرم ہے۔جے آئی ٹی کا کہناتھا کہ حسن نواز نے بھی سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ جے آئی ٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ پانامہ کیس کے الزامات اسی کے گرد گھومتے ہیں اگر اس کیس کی پروفیشنل انداز میں تحقیقات کی جاتی تو پانامہ لیکس کا معاملہ کئی سال پہلے ہی حل ہوجاتا مگر نیب انتظامیہ کے تاخیری حربوں کی وجہ سے یہ غیر معمولی طور پر تاخیر کا شکار ہے ، اگر چہ 27دسمبر 1999کواس کیس کی تحقیقات شروع کرنے کی اجازت دی گئی مگر اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود نیب لندن میں جائیداد کے حوالے سے کوئی ثبوت اکھٹے نہیں کر سکا ،اب سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی میں اس حوالے سے کافی شواہد سامنے آئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نیب کی انوسٹی گیشن کا اس کے ساتھ گہرہ تعلق ہے ،اسی طرح رائیونڈ کے گرد و نواح میں خریدی گئی زمین کا کیس فروری 2000سے،رائیونڈ سٹیٹ میں سڑک کی تعمیرمیں اختیارات کا ناجائز استعمال کا کیس اپریل 2016سے،شریف ٹرسٹ کے حوالے سے جاری تحقیقات کا کیس مارچ 2000سے حدیبیہ انجینئر کمپنی میں بے نامی سرمایہ کاری کے حوالے سے کیس فروری 2000سے،ایف آئی میں غیر قانونی بھرتیوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے کیس 1999سے ،لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کیس 2000زیر التواءہیں ،جے آئی ٹی نے وزیراعظم کیخلاف خارج ہونے والے متعدد مقدمات کو دوبارہ ری اوپن کرنے کی سفارش کی ہے ،مقدمات میں نواز شریف ،سیف الرحمان کیخلاف ہیلی کاپٹر کی خریداری کا کیس ، حدیبیہ پیپر مل کیس ،رائیونڈ میں غیر قانونی تعمیر ات سے متعلق کیس شامل ہیں جبکہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کیخلاف ایف اے کے حدیبیہ انجینئرنگ پرائیوئٹ لمیڈڈ ،اور حدیبیہ پیپر مل لمیٹڈ کے منسوخ مقدمات کو دوبارہ ری اوپن کرنے کی سفارش کی ہے اسی طرح جے آئی ٹی کی جانب سے ایس ای سی پی کی جانب سے چوہدری شوگر مل چوہدری شوگر مل کے سالانہ آڈٹ اکاﺅنٹس میں پر اسراربے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے کیس کو بھی دوبارہ کھولنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نوازشریف کا اپنے خاندانی کاروبار سے گہرا تعلق تھا، رپورٹ سے یہ بھی ظاہرہوتاہے نوازشریف خاندانی کاروبارسے مالی فائدہ لے رہے تھے۔ نوازشریف اثاثے بناکر بچوں کے نام پر ظاہر کرتے رہے۔ اس حقیقت کوانکم ٹیکس گوشواروں اورالیکشن کمیشن میں بھی ظاہرنہیں کیاگیا۔ یہ معاملہ دولت کو ظاہر نہ کرنے کے زمر ے میں آتا ہے اس لئے سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے آئی ٹی کی رپورٹ نے مریم نواز کی کمپنیوں کا انکشاف کیا ہےکہ دختر اول مریم نواز نیلسن اور نیسکول سمیت مزید دس کمپنیوں کی مالک ہیں جبکہ نیلسن اور نیسکول کا کوئی ٹرسٹی نہیں مریم نواز ہی اصل مالک اور بینفیشر ہیں۔جے ا?ئی ٹی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دختر اول مریم نواز نیلسن اور نیسکول سمیت مزید دس کمپنیوں کی مالک ہیں جبکہ وہ کئی ملوں میں بھی حصہ دارہیں۔ حالی سٹیل کی فروخت کا معاہدہ جعلی ہے، 1980ئ میں ال ا?حالی سٹیل کے 25 فیصد شیئرز کی فروخت کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، ڈیکلریشن ا?ف ٹرسٹ سے متعلق خود ساختہ رپورٹس جمع کرائی گئیں۔جے ا?ئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کے حکم پر پبلک کر دی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کا والیم 10 جو کہ دیگر ممالک سے متعلق ہے، اسے جے ا?ئی ٹی کی درخواست کے مطابق، پبلک نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کو جے ا?ئی ٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل اور دیگر ماہرین قانون نے جے ا?ئی ٹی کی رپورٹ پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔

اور اب تک کی سب سے بڑی خبر, استعفے کیلئے مشاورت شروع

کراچی (غلام عباس ڈاہری سے) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کیلئے مشورے شروع کردیئے ہیں جبکہ احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف نے ڈٹ جانے کا مشورا دیا ہے انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعدمیاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے اپنی کابینہ کے اہم وزراءاور قانونی ماہرین سے صلاح مشورے شروع کردیئے ہیں‘ ذرائع نے بتایا ہے کہ نواز کابینہ کے اہم وزراءخواجہ ، آصف، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت بیشتر وزراءنے میاں محمد نواز شریف کا ڈٹ جانے اور مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارخان او رپیر صدر الدین شاہ نے فوری طور پرعہدہ چھوڑنے اور عوام سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے ذرائع نے بتایا کہ اگر نواز شریف نے استعفیٰ دیا تو شہباز شریف اور سردار ایاز صادق میں سے کسی ایک کو مسلم لیگ ن کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کیلئے متبادل کے طور پر لانے کا امکان ہے جبکہ قانونی ماہرین نے جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چئلینج کرنے کی تجویز دی ہے دوسری جانب مسلم لیگ ن سندھ کی قیادت نے میاں نواز شریف کے حق میں سڑکوں پر آنے کے بجائے قانونی جنگ لڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

فیصلے میں چند ہفتے باقی ، کون استعفیٰ دیگا ، اعتزاز احسن نے حقائق واضح کر دئیے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد تو نواز شریف کیلئے استعفےٰ دینا پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے، پیپلز پارٹی تو پہلے سے مطالبہ کررہی تھی کہ نواز شریف مستعفی ہوں پانامہ کیس کو ابھی چندہفتے مزید لگ جائینگے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ وزراءکو عدلیہ پر تنقید نہیں کرنا چاہئے، عدلیہ اور افواج پاکستان پر حکومتی لوگ تنقید کررہے ہیں، وزیراعظم نے اگر ضد کرلی ہے تو کرلیں، ہم چھوٹے صوبے والے لوگ اس کو گہرائیوں سے دیکھ رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حکمران تحریک بناسکتے تھے لیکن ان کے نصیب میں تحریک بنانا نہیں ہے، جو بویا ہے وہ کاٹنا ہی پڑے گا۔ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان کے کیسسز کے جلد فیصلے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور کراچی کے ضمنی انتخابات کے نتائج ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو کہتے تھے کہ پیپلزپارٹی ختم ہوگئی۔سیکرٹری اطلاعات پیپلزپارٹی چوہدری منظورنے پیپلزپارٹی پنجاب کے سےکرٹرےٹ ماڈل ٹاﺅن میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے اب دیر نہیں ہونی چاہیے ،عدلیہ عمران خان اور نواز شریف پر کیسسز کے فیصلے جلد کرے ہم آئین و قانون کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں کسی کی خواہشات کے مطابق نہیں۔

اپنی ہی زندگی بارے بننے والی فلم ناپسند ، وجہ کیا بنی ؟

ممبئی (خصوصی رپورٹ)سال 2016میں ریلیز کی گئی سنی لیونی کی زندگی پر بننے والی فلم” موسٹلی سنی” نے روٹن ٹوماٹو پر 33فیصد ریٹنگز حاصل کی ہے اور دیگر تنقیدی سائٹس پر بھی کم ریٹنگز رہی ہیں۔شروع شروع اس فلم کو بولی وڈ اداکارہ کی آپ بیتی قرار دیا گیا تھا۔ یہ فلم شہ سرخیوں کی زینت تب بنی جب سنی لیونی نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ یہ فلم بھارت میں ریلیز کی جائے۔سنی لیونی کا ماننا ہے کہ یہ ڈاکیومنٹری فلم ان کی زندگی کے بجائے ان کی زندگی پر کسی کی رائے ہے۔ایک گھنٹہ 23منٹ طویل یہ فلم درحقیقت ویسی نہیں ہے جس کی امید سنی نے کی تھی جب وہ فلم سائن کر رہیں تھی۔ لیکن پھر بھی ناظرین، اداکارہ کی زندگی وہ پہلو جو انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ، دیکھنے کیلئے بیتاب ہیں۔

بھارتی سورماﺅں کی جنگی مشقیں یاحملے کی تیاری ، تہلکہ خیز خبر

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ چینی اخبار کے مطابق بھارتی فوج بھوٹان کی مدد کے نام پر جیسے چینی علاقے میں داخل ہوئی، ایسے ہی پاکستان کی درخواست پر چین مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج داخل کر سکتا ہے۔ چینی اخبار کے مطابق بھارتی فوج بھوٹان کی مدد کا بہانہ بناتے ہوئے ڈوکلام میں داخل ہوئی، لیکن حقیقت میں بھارت نے چین پر حملے کے لیے بھوٹان کا راستہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی منطق کے مطابق اگر پاکستانی حکومت درخواست کرے تو ایک تیسرے ملک کی فوج مقبوضہ کشمیر میں گھس سکتی ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا نے ڈولام تکرار پر بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کئی مضمون شائع کئے ہیں۔ اس مسئلے میں پہلی بار پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ بھارت نے بھوٹان کی سرحد پر چینی فوج کو گزشتہ ہفتے ڈوکلام ڈونگلینگ میں سڑک کی تعمیر سے روک دیا تھا۔ دریں اثنا چینی حملے سے خوفزدہ بھارت، امریکہ اور جاپان نے بحیرہ ہند میں ”مالا بار2017“ کے عنوان سے مشترکہ بحری مشقیں شروع کر دیں جو 17جولائی تک جاری رہیں گی۔ مشقوں میں تینوں ممالک کے16بحری جہاز‘ 95لڑاکا طیارے اور 2آبدوزیں حصہ لے رہی ہیں۔ واضح رہے کہ سکم اور بحر ہند میں چین کے بڑھتے اثر و نفوذ سری لنکا اور پاکستان میں بندرگاہوں کی تعمیر‘ نیپال اور بنگلہ دیش میں تعمیر و ترقی کے چینی منصوبوں سے بھارت جبکہ بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر امریکہ جاپان سمیت کئی ممالک پریشان ہیں۔مالا بار کے عنوان سے یہ بحرہند میں ہونیوالی 21ویں مشقیں ہیں۔ بھارتی بحریہ کے فلیگ آفیسر کمانڈنگ انچیف مشرقی بحری کمان ایچ سی ایس بشت نے مشقوں کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ مالا بار بحری مشقوں کا مقصد عام خطرات اور چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنا ہے جبکہ امریکی سٹرائیک گروپ الیون کے کمانڈر ریئر ایڈمرل ولیم بائرن نے چینی خطرات کے حوالے سے کہا ہم تینوں ممالک کی بحری افواج کے یہاں جمع ہو کر مشقیں کرنے کا مقصد خطے کے تمام ممالک کو پیغام دینا ہے کہ ہم غلط فہمیوں کا خاتمہ کرنے کیلئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔

افرا تفری پھیلانے والوں کیلئے خاص پیغام

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی معاشی پالیسیوں سے ملک میںترقی کا عمل تیز ہوا ہے اوروزےراعظم محمد نوازشرےف کی قےادت مےںمسلم لےگ(ن) کی حکومت ملک کی ترقی اورعوام کی خوشحالی کے اےجنڈے کو مشن سمجھ کرآگے بڑھارہی ہے لےکن بعض سےاسی عناصر ملک مےں افراتفری پھےلانے کی سازش کررہے ہےںاوراےسے عناصرکی منفی سےاست کو باشعور عوام ہرموقع پر مسترد کرچکے ہےں ۔انہوںنے کہا کہ دھرنا گروپ کی عوام دشمن پالےسےاںپوری قوم کے سامنے آشکار ہوچکی ہےںاورعوام کی ترقی کے مخالفین کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے – انہوںنے کہا کہ پاکستان مےں انتشار ےا منفی سیاست کی کوئی گنجائش نہےںاور پاکستان کے عوام اپنے مسائل کا حل اور خوشحالی چاہتے ہےں۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ ترقی و خوشحالی کی راہ مےں رخنہ ڈالنے والوں کا محاسبہ عوام کرےںگے اورپاکستان مسلم لےگ(ن) کی حکومت ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کے سفرکو کامیابی سے آگے بڑھاتی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں اربوں روپے کے وسائل منصوبوں میں بچائے گئے ہیںجبکہ ماضی مےں قومی وسائل پر ڈاکے ڈالے گئے اوراس کے مقابلے مےںہمارے دور مےں منصوبے شفاف انداز مےں ریکارڈ مدت میں مکمل ہوئے ہےںجس کی مثال پاکستان کی تارےخ مےں نہےں ملتی۔انہوںنے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر کے حواریوں نے پنجاب بےنک پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈالاجبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں توانائی منصوبوں کے نام پر قوم سے گھناﺅنا کھیل کھیلا اورمجرمانہ غفلت اور کرپشن کرکے ملک و قوم کو اندھےروں مےں ڈبوےاگےا،اسی طرح دھرنوں اورلاک ڈاﺅن کے ذرےعے ملک کی ترقی اور خوشحالی کےخلاف ساز ش کی گئی اور دھرنوں اورلاک ڈاﺅن کے باعث قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاےاگےا۔ وزےراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا، جس میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام خصوصا دیہی واٹر سپلائی سکیموں پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کے امور کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا گیا-وزیراعلی محمدشہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پینے کا صاف پانی ایک نعمت ہے اور پنجاب حکومت نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کا پروگرام ترتیب دیاہے-مفاد عامہ کے اس بڑے پروگرام کا آغاز جنوبی پنجاب سے کیا جا رہا ہے-انہوںنے کہاکہ دیہاتوں میں واٹر سپلائی سکیموں کوبحال کیا جائے گا اور ان سکیموں کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے- دیہی آبادی کو ان سکیموں سے صاف پانی میسر آئے گا-انہوںنے کہاکہ دیہات میں واٹر سپلائی سکیموں کو پائےدار بنیادوں پر بحال کرنا ہے اوراس ضمن میں انتہائی پیشہ وارانہ انداز سے کام کرنا ہوگا-غیر فعال دیہی واٹر سپلائی سکیموں کو بھی مرحلہ وار بحال کیا جائے گا- وزیر اعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے معروف کالم نگار اوردانشورمنو بھائی کی جلد صحت ےابی کیلئے دعاکی ہے اوران کےلئے نےک خواہشات کا اظہار کےا ہے ۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت ہسپتال مےں زےر علاج منو بھائی کے علاج معالجہ کے تمام اخراجات برداشت کرےگی۔وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے منو بھائی کےلئے10لاکھ روپے مالی امداد کابھی اعلان کےاہے وزےراعلیٰ نے سینئر صحافی اور اے پی پی کے سابق بیوروچیف شیخ حفیظ الرحمن کے انتقال پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا ہے -وزیراعلی نے اپنے تعزیتی پیغام میں سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور اظہار تعزیت کیا ہے اوردعا کی ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کی روح کو ا پنی جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے-دریں اثناءآبادی کے عالم دن پر پیغام میں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباشریف نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک وقوم کی بہتر معاشرتی و اقتصادی صورتحال کےلئے آبادی کی شرح اضافہ کا مناسب ہونا ضروری ا مر ہے۔ آبادی میں تیزی سے اضافے کے مسائل میں سب سے اہم بنیادی ضرورتوں سے محرومیت ہے۔انہوں نے یہ کہا یہ دن منانے کا مقصدوسائل کی عدم موجودگی میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے بڑھتے ہوئے مسائل کے بارے آگہی پیدا کرنا ہے۔انہوںنے کہا کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے معاشی و معاشرتی مسائل کا احاطہ کرنا ضروری ہے۔بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی میں ترقی اور خوشحالی کی تمام کوششےں بے اثر ہو جاتی ہیں۔بہتر معیار زندگی کےلئے آبادی میں تیزی سے اضافے کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے بہتر صحت اور خوشحال زندگی کے تصور سے آگاہ کرنے کےلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ہمیںتیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے خطرات کے حوالے عوام میں شعور اجاگر کرنے کےلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔