”ریکارڈ ٹیمپرنگ “ہائیکورٹ نے چیئرمین ایس ای سی پی بارے اہم حکم نامہ جاری کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہائی کورٹ نے چیئرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 17جولائی تک ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ظفر حجازی کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری کی سماعت کی۔ ساعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آپ کو متعلقہ فورم پر جانے میں کیا مسئلہ ہے جس پر ظفر حجازی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، متعلقہ فورم پر جانے کےلیے راہداری ضمانت دے دیں۔عدالت نے ظفر حجازی کی راہداری ضمانت 10 ہزار کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو گوفتاری سے روک دیا جب کہ چیرمین ایس ای سی پی کو 17 جولائی تک ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

جاوید کیانی اور سعید احمد بارے خاص خبر ای سی ایل میں شمولیت بارے کیا فیصلہ ہوا؟, دیکھئے خبر

اسلام آباد(آئی این پی)جے آئی ٹی کی جانب سے وزارت داخلہ کوکی گئی سفارش پر عمل کرتے ہوئے جاوید کیانی اور صدر نیشنل بینک سعید احمد کا نام ای سی ایل میں شامل کردیاگیا، گذشتہ روز نجی ٹی وی کے مطابق معروف کاروباری شخصیت جاوید کیانی اور صدر نیشنل بینک سعید احمد کانام ای سی ایل میں ڈال دیاگیاہے، جے آئی ٹی کی جانب سے وزارت داخلہ کو سفارش کی گئی، واضح رہے کہ صدر نیشنل بینک سعید احمد کو جے آئی ٹی میں بلا کر ان سے 13گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

پاکستانی عوام کی عادات ،کن باتوں میں سر فہرست،دیکھئے دلچسپ رپورٹ

ملتان(رپورٹ: مرزا ندیم) پُرتشدد مظاہرے‘ شادیوں اور تقریبات میں فائرنگ‘ گلی محلوں میں تقریبات‘ نوپارکنگ میں پارکنگ ملتان سمیت پاکستان دنیا بھر میں اپنا امیج تباہ کرچکا ہے۔پاکستان اس عادات کے حوالے سے سرفہرست آگیا ہے جس کی وجہ سے بدنامی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔بااثر لوگوں نے اپنے لئے نئے قوانین بناکر قانون کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے۔ پُرتشدد مظاہروں میں کھربوں کی املاک تباہ ہوچکی ہیں۔سب سے خوفناک احتجاجی مظاہرے 27دسمبر 2007ءکو بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر کئے گئے جس میں اربوں روپے کی املاک نذرآتش کردی گئیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اپنے مطالبات کو لکھ کر قطاروں میں سڑک کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں جہاں سے گزرنے والے لوگ انہیں دیکھ کر گزرتے ہیں اور پھر حکومتی کمیٹی مظاہرین سے مذاکرات کرکے مظاہرہ ختم کرادیتی ہے مگر ہمارے ہاں احتجاج پُرتشدد ہوجاتا ہے۔ سڑکوں اور چوک بلاک کرکے گاڑیوں کو آگ لگادی جاتی ہے۔ جب چاہیں گلی محلوں میں قناتیں لگاکر تقریبات سجائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے روڈ بلاک ہوجاتے ہیں اور لوگ اپنے ہی گھروں میں جانے کےلئے راستے تلاش کررہے ہوتے ہیں۔ اندرون شہر کے علاقے خاص طور پر ایسی تقریبات کا مرکز بنے ہوئے ہیں جہاں جہیز کا سامان دکھانے کےلئے تمام گلیوں کو بند کردیا جاتا ہے۔ ٹریفک اشاروں کی خلاف ورزی‘ دیواروں پر نعرے اور شکلیں بنانا‘ پیک تھوکنا‘ صفائی کا خیال رکھنے کے بجائے گندگی پھیلانا‘ سڑکیں توڑنا‘ نوپارکنگ میں پارکنگ کرنا ہماری عادات کا حصہ بن چکی ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستانیوں میں بری عادات 95فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ کچھ تو لوگوں کی عادات پہلے سے ہی بگڑی ہوئی ہیں۔ رہی سہی کسر معاشرتی حالات‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ گھریلو حالات اور لوڈشیڈنگ نے پوری کردی ہے۔ بجلی نہ ملنے پر لوگ واپڈا دفاتر پر حملے کردیتے ہیں۔ ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ املاک کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان میں لوگ بری عادات کو فخر سے بتاتے ہیں۔ بااثر لوگ قانون توڑکر اپنے ”بڑے“ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں جبکہ قانون پر عملدرآمد کےلئے موجود فورس بھی ان لوگوں کے سامنے بے بس ہیں۔ ملتان میں بااثر لوگ اور چھوٹے افسران سرعام اپنی گاڑیوں پر نیلی بتی اور سبز نمبرپلیٹ کا استعمال کررہے ہیں مگر پولیس اہلکار کارروائی کے بجائے سلیوٹ مارکر گاڑی کو روانہ کردیتے ہیں۔ سکولوں اور کالجز میں شادی کی تقریبات سجانا حکومتی اور بااثر افراد نے اپنی عزت میں اضافہ سمجھ لیا ہے۔ تقریب کے اگلے روز طالب علم صفائی میں مصروف ہوتے ہیں۔ پُرتشدد مظاہروں اور بری عادات کے خاتمہ کےلئے حکمرانوں اور مقامی انتظامیہ کسی قسم کی کارروائی سے انکاری ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکمران پُرامن احتجاجی مظاہروں پر کان نہیں دھرتے جب معاملہ بگڑ جاتا ہے تو ہرطرف سے نوٹس لے لیا جاتا ہے۔

عوامی تحریک کیلئے بڑی خوشخبری ،ڈاکٹر طاہر القادری بارے اہم خبر

راولپنڈی(صباح نیوز)عدالت نے جہلم انٹرچینج ہنگامہ آرائی کیس میں پاکستان عوامی تحریک کے ایک سو دس کارکنوں کو بری کردیا ڈاکٹرطاہرالقادری کو بدستور اشتہاری قراردیاگیا ہے جہلم انٹرچینج ہنگامہ آرائی کیس میں پاکستان عوامی تحریک کے مارچ کے دوران کارکنوں سے تصادم میں ایک پولیس اہلکارجاں بحق جبکہ چوبیس زخمی ہوئے تھے واقعہ میں ملوث کسی کارکن کی شناخت نہ ہوسکی۔کارکنوں کی جانب سے بریت کی درخواست عدالت نے منظور کرلی کیس کی سماعت راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے کی۔کیس میں ڈاکٹر طاہرالقادری کو بدستور اشتہاری برقرار رکھا گیا ہے۔عدالت نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے دائمی وارنٹ بھی برقرار رکھے۔

پنجاب اسمبلی میں وزیر اعظم کیخلاف کیا ہونے جارہا ہے ؟

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) پنجاب اسمبلی میں وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی قرارداد جمع کرا دی گئی قرارداد اپوزیشن لیڈیر میاں محمودالرشید کی جانب سے جمع کرائی گئی،قرار داد کے مطابق نوازشریف کیخلاف منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں، لہٰذا وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ متن کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی پانامہ کی تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی جے آئی ٹی پر بلاجواز تنقید کے بعد وفاقی وزیر خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، شاہد حاقان عباسی اور احسن اقبال نے اپنی پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی پر انتہائی گھٹیا الزامات اور زبان استعمال کی۔ وزیراعظم اور وزراءنے عدالت عظمیٰ کے آئینی کردار کی نہ صرف نفی بلکہ اس سے انتہائی معتبر ادارے کی توہین کے ساتھ ساتھ بلاواسطہ دھمکیاں بھی دی گئی لہٰذا یہ ایوان عدلیہ اور جے آئی ٹی کو دھمکانے پر ازخود نوٹس نوٹس لے اور وزیراعظم اور وزراءکیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

سی پی این ای کا ”رائٹ ٹو انفارمیشن سہولت ڈیسک“کے قیام کا اعلان

کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے وفاقی اور صوبائی سطح پر رائٹ ٹو انفارمیشن کے قوانین اور معلومات سے متعلق ایڈیٹروں، صحافیوں اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر سی پی این ای کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ”رائٹ ٹو انفارمیشن سہولت ڈیسک“ کے قیام کا اعلان کیاہے تاکہ ایڈیٹروں، صحافیوں اور عام شہریوں کو معلومات کے حصول میں رکاوٹ کی صورت میں رہنمائی اور معاونت فراہم کی جاسکے ۔ سہولت ڈیسک کے قیام کا یہ فیصلہ سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد کی صدارت میں منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس نے وفاقی سطح پر سرکاری اشتہارات کی تقسیم کو غیر منصفانہ اور سیاسی بنیادوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے خلاف ایک دباو¿ قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں وفاقی حکومت کے اشتہارات کی تقسیم کی معلومات کو مخفی رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے رائٹ ٹو انفارمیشن کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، حالانکہ تین چار ماہ قبل اشتہارات کی تقسیم کی تفصیلات کو پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر آویزاں کیا جارہا تھا۔ سی پی این ای نے اشتہاری ایجنسیوں کی جانب سے اخبارات کے اشتہارات کے لئے ادائیگی کی منظوری کو متعلقہ اخبارات کی انوائسز کے ساتھ مشروط کرنے کے فیصلے پر بھی وفاقی پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے کے عمل کو بد عہدی اور بدعنوانی پر مبنی قرار دیا ہے اس طرح اخبارات اور حکومت کو شدید مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ اجلاس میں وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کے مجوزہ خودکار نظام پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اے بی سی کے نئے نظام کے تحت اخبارات و جرائد کے لئے تو خودکار سافٹ ویئر نظام بنایا گیا ہے لیکن سرکولیشن کی تعداد کے تعین کے لئے خودکار نظام کے بجائے شخصی بنیادوں پر پرانا صوابدیدی نظام برقرار رکھا گیا ہے جس کی بنا پر سرکاری مداخلت، ناانصافیوں اور بدعنوانیوں کو فروغ دینے کا عمل نہ صرف بدستور رائج رہے گا بلکہ مزید تیز ہوگا۔ مزید برآں آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کایہ مجوزہ نظام آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کی بجائے ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سینٹر کے تحت چلایا جا رہا ہے جس سے معلومات اور ریکارڈ میں ردوبدل کے خدشات بھی ہیں، لہٰذا غلطیوں، خامیوں اور صوابدیدی اختیارات سے پاک آٹومیشن سافٹ ویئر نظام کی تشکیل تک اسے مو¿خر کیا جائے۔ اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں اور میڈیا ہاو¿سز کی سیکورٹی کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔اجلاس میں سی پی این ای ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کے لئے صدر اور سیکریٹری جنرل کو اختیار دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ذیلی کمیٹی کے تین ماہ تک کوئی بھی اجلاس طلب نہ کرنے کی صورت میں کمیٹی غیر فعال تصور ہوگی۔صدر ضیا شاہد نے صوبائی صدور کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے علاقے کے مدیران، صحافیوں اور ان کے اداروں کو درپیش مسائل اجاگر کریں۔ قبل ازیں ممتاز صحافی، روزنامہ جہاد اور اتحاد کے چیف ایڈیٹر شریف فاروق کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اجلاس میں سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد، سینئر نائب صدر شاہین قریشی، سیکریٹری جنرل اعجازالحق، نائب صدور عامر محمود، رحمت علی رازی، طاہر فاروق، انور ساجدی، سینئر رکن وامق زبیری، قاضی اسد عابد، اکرام سہگل، غلام نبی چانڈیو، کاظم خان، ڈاکٹر جبار خٹک، امین یوسف، عارف بلوچ، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی، نصیر ہاشمی، حامد حسین عابدی، عبدالرحمن منگریو، خلیل الرحمن، تنویر شوکت، اسلم خان، محمد یونس مہر، بشیر احمد میمن، سید کامران ممتاز، مبشر میر، ابرار بختیار، عرفان عزیز، شیر محمد کھاوڑ، احمد اقبال بلوچ اور زاہدہ عباسی نے شرکت کی۔سی پی این ای کا ”رائٹ ٹو انفارمیشن سہولت ڈیسک“کے قیام کا اعلان

وفاقی وزراء نے جے آئی ٹی رپورٹ بارے کھل کر واضح کردیا, سیاسی کشیدگی میں اضافہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیوز ایجنسیاں) پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ پر آئینی اور قانونی ماہرین وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کرپشن کی نہ ہی کبھی اس کی حوصلہ افزائی کی۔ سپریم کورٹ میں پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت کے حوالے سے وزیراعظم ہاﺅس میں اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم نوازشریف نے کی، اجلاس میں حسین نواز، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیردفاع خواجہ آصف، وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزراءاور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث اور بیرسٹر ظفر اللہ نے وزیراعظم نوازشریف اور شرکاءکو سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت سے متعلق بریفنگ دی اور جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوﺅں سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پانامہ لیکس اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے قانونی پہلوﺅں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کرپشن کی نہ ہی کبھی اس کی حوصلہ افزائی کی۔ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے مزید تحقیقات کے لیے قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی عدالت عظمیٰ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو حکمراں جماعت مسلم لیگ(ن) نے چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔حکمراں جماعت کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ جے آئی ٹی نے سوالات کچھ پوچھے جب کہ جوابات کچھ اور دیے گئے لہٰذا جے آئی ٹی کے رپورٹ متنازع ہے اور اسے آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔حکمراں جماعت کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے پر بدستو ر موجود رہیں گے اور ان کی جانب سے استعفیٰ دینے کا کوئی امکان نہیں۔ وزیراعظم نے قانونی اور آئینی ماہرین کو جواب تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔حکومت نے جے آئی رپورٹ کو ردی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ وفاقی وزر اءنے جے آئی ٹی کو دھرنا تھری ¾ عمران نامہ ¾رام کہانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پی ٹی آئی کی رپورٹ ہے اسے مستردکرتے ہیں ¾ وکلاءرپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں ¾ اپنے تمام قانونی اور آئینی اعتراضات سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے ¾ امید ہے سپریم کورٹ رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی ¾دھرنا ون اور دھرنا ٹو کی طرح دھرنا تھری بھی ناکام ہوگا ¾ حکومت تمام مخالفین کے حملوں کا مقابلہ کریگی ¾ ترقی کے سفر جاری رکھیں گے ¾ مخالفین کی تمام حسرتیں ناکام ہونگی ¾ اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھتے ہیں ¾ پھر کہتے ہیں جے آئی ٹی کی کارروائی کی ویڈیو عوام کے سامنے پیش کر دی جائے ¾ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا ¾ وزیر اعظم کے خلاف الزامات میں چستیاں اور عمران خان کے ٹرائل میں سستیاں ہیں ¾ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں تلاشی دینے سے کیوں گھبرا رہی ہے ¾کیا عمران خان کے بیانات جے آئی ٹی کو دباﺅ ڈالنے کے زمرے میں نہیں آتے ¾معاملہ پارلیمنٹ میں آئےگا اور ہم سروخروہونگے ۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراءاحسن اقبال ¾ خواجہ آصف ¾ شاہد خاقان عباسی اور بیرسٹر ظفر اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احسن اقبال نے کہاکہ ہمارے اوپر لگائے گئے الزام ہمارے لئے نئے نہیں اور نہ آپ کےلئے نئے ہیں نہ ہی قوم کےلئے نئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ دراصل ان الزامات پر مشتمل ہے جنہیں عمران خان کئی سال سے لگاتے آئے ہیں اور یہ ہمارے سیاسی مخالفین کے الزامات کا ایک کلام ہے جو رپورٹ کی شکل دیکر عدالت میں پیش کیا گیاہے اور اگر آپ پوری رپورٹ کاجائزہ لیں تو اس کے اندر کوئی دلیل ¾ کوئی ٹھوس ثبوت کی بجائے ایسی چیزوں کا سہارا لیا گیا ہے جن کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے اس لئے اس رپورٹ کو ردی قرار دیکر مسترد کرتے ہیں انہوںنے کہاکہ چند روز اسی جگہ پر پاکستانی قوم کو ان تحفظات سے آگاہ کیا تھا جے آئی ٹی کوتشکیل سے لیکر اب تک جس اندا ز میں چلایا گیا وہ سب کے سامنے ہے انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی سے انتقامی کارروائیاں جاری رہیں ¾ گواہان پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ¾ قانون کے تقاضوں کے برخلاف سیاسی ایجنڈوں پر چلایا جارہا تھا ¾چن چن کر ہمارے مخالفین کو جے آئی ٹی میں ڈالا گیا اور اب جے آئی ٹی کی رپورٹ ہمارے تمام تحفظات پر تصدیق کی مہر لگاتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ ہمارے تحفظات درست ہیں رپورٹ کو عمران نامہ قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ یہ مکمل طورپر سیاسی جماعت کے اس موقف کا مجموعہ ہے جس کو کبھی رد ی کی ٹوکری میں پھینکنے جانے والے کاغذ کہاگیا ¾ کبھی ان کو پکوڑوں کے لفافوں کی مثال دی گئی انہوںنے کہاکہ وہ الزامات جو سیاسی بنیادوں پر لگائے جاتے تھے رپورٹ کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہیں ۔ احسن اقبال نے کہاکہ اچھا ہوتا اگر رپورٹ میں حکومت کےخلاف ¾ وزیر اعظم کےخلاف کوئی مالی بد عنوانی کاکیس نکالا جاتا ¾ کوئی سرکاری وسائل کو ناجائز استعال کر نے کاالزام لگایا جاتا ¾ کوئی ٹیکس کی رقم میں خوردبرد کا الزام لگایا جاتا ¾ کوئی اتھارٹی کے غلط استعمال کا الزام لگایا جاتا تاہم تمام الزامات فیملی کے نجی کاروبار کے حوالے سے لگائے گئے ہیں جن سے وزیر اعظم لا تعلق ہو چکے ہیں ¾کسی جگہ یا کسی اثاثے سے وزیر اعظم کا کوئی تعلق نہیں ¾پانا ما لیکس میں وزیر اعظم کانام شامل نہیںتھا لیکن نہایت محنت کر کے جھوٹ کے ملاپ کر کے کوشش کی گئی ہے کہ ایک ایسی کہانی کھڑی کی جاسکے جس سے ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچایا جائے جس کی ہم نہ صرف مذمت کر تے ہیں بلکہ انشا ءاللہ سپریم کورٹ کے سامنے اس رپورٹ کے جھوٹ کو مکمل طورپر نہ صرف بے نقاب کرینگے بلکہ اس کے پرخرچے اڑا دینگے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ تیرہ متعین کر دہ سوالات کے جواب دے لیکن اس نے تیرہ سوالوں کے جواب کے بجائے خود ٹرائل کورٹ بننے کافیصلہ کیا اور یہ کس بنیاد پر کیا یہ ہم سمجھنے سے قاصر ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم سب سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک پولیٹکل ایجنڈا ہے ¾ہمارے وکلاءتفصیل کا جائزہ لے رہے ہیں رپورٹ میں جو تعصب ہے اس خلاصہ کو قوم کے سامنے پیش کیا جائیگا انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ایک کھیل کھیلا جارہا ہے 2013میں ایک منتخب حکومت آئی ہے پاکستان کو اقتصادی ترقی پر ڈالا ہے ¾تباہ شدہ معیشت کو سنبھالا ہے ¾ لاقانونیت بد امنی زورں پرتھی اس کو نکیل ڈالی ¾ کراچی کو امن بحال کیا گیا ¾ بلوچستان کو پرویز مشرف کاٹ کر گئے تھے جہاں یوم آزادی مناتے ہوئے لوگ شرماتے تھے اس بلوچستان کو ترقی کے ذریعے دوبارہ قومی ھارے میں شامل کیا ¾ کشمیر ¾ کو قومی دھارے میں شامل کیا ¾سی پیک کو حقیقت میں ڈالا ¾ترقی کے ایجنڈے سے ہمارے مخالفین مسلسل کوشش میں رہے کہ پاکستان میں سیاسی انتشار کے ذریعے ترقی کے سفر کو روکا جائے لیکن یہ بات واضح کر ناچاہتا ہوں ¾یہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اسی طرح ناکام ہوگی جیسے دھرنا ون اور دھرنا ٹو ناکام ہوا ¾جے آئی ٹی رپورٹ کو دھرنا نمبر تین کہاﺅنگا یہ بھی اسی طرح ناکام ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ حکومت انشاءاللہ ان تمام مخالفین کے حملوں کا مقابلہ کریگی احسن اقبال نے کہاکہ حکومت سرکاری وسائل کو امانت سمجھ کر استعال کرتی ہے ¾دنیا میں پاکستان کی ٹرانسپیسرنسی کے حوالے سے حیثیت میں اضافہ ہوا ہے ¾ ہماری حکومت میں کوئی سکینڈلز سامنے نہیں آئے ¾ہم ترقی کے سفر کو جاری رکھیں گے اور ہماری مخالفین کی تمام حسرتیں ناکام ہو نگی جس طرح ماضی میں بھی ناکام ہوتی رہیں گی ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ محترمہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم میں بنی تھا ¾ ہمارا خیال تھا کہ یہ شفاف اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق رپورٹ دےگی یہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں پی ٹی آئی کی رپورٹ ہے ¾انوسٹی گیشن کر نا ¾ شہادت اکٹھی کر نا شعبہ سے وابستہ ماہرین کا کام ہے بعض معاملات میں وکیلوں کو بھی بال سفید کرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی میں شامل چار آدمیوں کا قانون سے زیرو تعلق تھا ¾انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی نے زیادہ وقت لائرز ¾ ٹیچرز اور سیاسی لوگوں کی میڈیا مانیٹرنگ کر نے میں گزارا ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ تحقیق کر نے والا متعصب نہ ہو ¾ بلال رسول میاں اظہر صاحب کے بھانجے ہیں انہوںنے کہاکہ جب نواز شریف کی منتخب حکومت کو غیر قانونی طورپر ہٹایا گیا ¾جمہوریت پر شب خون مارا گیا تو میاں اظہر کنگز پارٹی کے سربراہ بن گئے ہیں مسلم لیگ (ق)مسلم لیگ (ن)کو توڑ کر بنائی گئی اور میاں اظہر اس کے سربراہ تھے اور وہ مسلم لیگ (ق)کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے ہیں انہوںنے کہاکہ عامر عزیز نے پر ویز مشرف کے زمانے میں جھوٹے ریفرنسز بنائے گئے لاہور ہائی کورٹ کے دس اور تین اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے حدییبہ کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ جے آئی ٹی نے طارق شفیع کےساتھ کیا سلوک کیا ¾ جاوید کیانی کے ساتھ کیا سلوک کیا ان کے منہ میں اپنے الفاظ ڈالنے کی کوشش کی گئی تاہم رہنما اپنے ضمیر کی آواز پر قائم رہے ¾کیا ان کو محمودمسعود چاہئیں ¾اب محمود مسعود سے کام نہیں چلے گا ۔انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر حسین نواز کی تصویر لیک کی گئی ¾نہیں بتایاگیا کہ لیک کر نےوالا کون تھا ؟ سپریم کورٹ کو بھی نہیں بتایا گیا ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کا آئین اور قانون فون ٹیپ کر نے کی اجاز ت نہیں دیتا عدالت عالیہ سے پیشگی اجازت لینا ہوتی ہے ¾ا س حوالے سے سپریم کورٹ بھی اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ فون ٹیپ کر نا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ ہمارے سب سے اہم گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا انویسٹی گیشن ٹیم کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے پاس جا کر بیان ریکارڈ کرے ¾ انہوںنے کہاکہ واجد ضیاءصاحب پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں خط لکھ کر پوچھتے تھے کہ کب تشریف لائیں۔آگے سے پرویز مشرف کا سیکرٹری بتاتا تھا کہ جنرل صاحب اس وقت مصروف ہیں اب پتہ نہیں ان کے پاﺅں میں کیا مہندی لگ گئی ہے اب بیان ریکارڈ نہیں کر سکتے ۔انہوںنے رپورٹ کو رام کہانی ¾ طوطا مینا کی کہانی قرار دیتے ہوئے کہاکہ تمام قانونی اورآئینی اعتراضا ت سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے ہمیں امید ہے کہ وہ اس کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دےگی ۔وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے جتنی بھی رپورٹ پڑھی ہے اس میں کوئی بات حتمی نہیں ہے ¾ انہوںنے کہا ہے کہ یو اے ای سے سورس رپورٹ آئی ہے ¾ یو کے سے بھی سورس رپورٹ آئی ہے ۔خواجہ آصف نے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں رحمن ملک کی باتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے ان کا نام لیکر کہہ دینا کافی ہے ¾زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں ۔ خواجہ آصف نے کہاکہ میرا خیال تھا کہ پڑھے لکھے لوگ ہیں ¾ کوئی ایف آئی اے اور کوئی نیب سے تعلق رکھتا ہے ¾کم از کم ان کا انحصار بڑی مضبوط شہادتوں پر ہوگا حسن نواز سے متعلق دو کمپنیوں کا ذکرکیا گیا ہے سرے یہ کمپنیاں ان کی ملکیت نہیں ہیں اگر حسین نواز نے اپنے والد نواز شریف کو سعودی عرب میں کمپنی سے پیسہ بھیجا ہے تو بیکنگ چینلز کے ذریعے بھیجا ہے اگر کوئی غلط بات ہوتی تو بیکنگ چینلز سے پیسہ نہ بھیجا جاتا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ پوچھا گیا کہ تحفے کہاں سے آئے ہیں ¾ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے قوانین بھی ہیں ¾ وہاںپر منی لانڈنگ کے قوانین زیادہ سخت ہیں وہاں کا ادارہ ہمارے ایف بی آر سے زیادہ سخت ہے جہاں سے یہ پیسہ آرہا ہے وہاں تو کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا ¾یہاں ہر چیز حرکت میں آئی ہے ¾جہاں سے پیسہ کمایا گیا اور پاکستان میں بھیجا گیا وہاں کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا ۔خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی جنگ ہے ہم قانون جنگ عدالت میں بھرپور طریقے سے لڑینگے ¾ہر الزام کو جھوٹا ثابت کرینگے تمام دستیاب قانونی آپشنز استعمال کرینگے ہمیں عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے انہوںنے کہاکہ اس عدلیہ بحالی میں ہمارا خون شامل ہے ¾ہماری جدوجہد شامل ہے آج عدلیہ آزاد ہے تو اس میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ¾ہمیں پوری امید ہے ہمارے ساتھ قانون اور آئین کے مطابق برتاﺅ کیا جائیگا ۔ انہوںنے کہاکہ آف شور کمپنیوں کے متعلق بار بار ذکر کیا جاتا ہے یہ قانون سے آزاد کمپنیاں نہیں ہیں ¾یہ ساری کسی نہ کسی ملک کے قانون کی پابند ہیں ¾صرف پاکستان میں قانون نہیں ہے دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی قوانین ہیں جو ہم سے زیادہ سخت ہیں ¾ ہمارے وکلاءجے آئی ٹی کی رپورٹ کاجائزہ لینگے ہم نے جو جائزہ لیا ہے اس میں رحمن ملک کی بات چیت پر بڑا انحصار کیاگیا ¾سورس رپورٹ پر انجضار کیا گیا ¾دستخط شدہ دستاویزات پر نہیں ¾ڈرافٹ پر انحصار کیاگیا ہے انہوںنے کہاکہ پوری رپورٹ پڑھ کر میز چیزیں اجاگر کرینگے انہوںنے کہاکہ یہ انصاف نہیں ہے آئندہ پیر کو عدالت میں بھرپور موقف پیش کرینگے جنگ تمام محاذوں پر لڑی جائیگی ۔وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جے آئی ٹی کے رویئے پر پہلے دن سے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں آج وہ تحفظات رپورٹ کی صورت میں سامنے ہیں ¾ہم نے رپورٹ دیکھی ہے مجھے جنرل مشرف کے وہ ریفرنس یاد آرہے ہیں جو ہمارے خلاف بنائے جاتے تھے جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی تھی چند حقائق کو جھوٹ میں شامل کر کے یہ تاثر دیا جاتا کہ کوئی وار دات ہوئی ہے اور آخر میں کہہ دیا جاتا تھا کہ اثاثے انکم سے زیادہ ہیں ¾آج بھی وہی الفاظ دہرائے گئے ہیں حسین نواز ¾ حسن نواز ملک میں نہیں رہتے ہیں ¾ وہ اوور سیزپاکستانی ہیں ¾ پاکستان میں کاروبار نہیں کرتے ¾ان کے بارے میں کہاگیا ان کے اثاثے انکم سے زیادہ ہیں ¾ اگر انہوںنے اپنے والد کو بیکنگ چینلز کے ذریعے رقم بھیجی ہے تو کونسے قانون کے تحت جرم ہے ؟ایسی ایسی باتیں رپورٹ میں ہیں جو مضحکمہ خیز اور ناقابل یقین ہیں انہوںنے کہاکہ جو رپورٹ آئی ہے غیر متوقع نہیں ہے ¾ہمیں جے آئی ٹی سے یہی توقع تھی رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسحاق ڈار کے بارے میں کیا گیا کہ خیرات بہت کی ہے یعنی خیرات کر نا بھی جرم ہے ¾ ان کے بارے میں کہاگیا کہ اثاثے بہت بڑھ گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ رپورٹ کے اندر بہت تضاد موجود ہے اگر سمجھ ہے تو عمران خان بھی رپورٹ پڑھ لے اور سمجھ آجائےگی رپورٹ میں کیا ہے ¾حقائق بڑے واضح ہیں قانون ماہرین دیکھ رہے ہیں حقائق سب عوام کے سامنے آجائینگے ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھناچاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں تمام ویڈیو زعوام کے سامنے رکھ دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے ہم نے عدالت اور جمہوریت کےلئے جنگ لڑی ہے یہ چیزیں اگلے چند روز میں واضح ہو جائیں گی ¾مقدمہ ہمارا پاکستان کے عوام کے سامنے ہے ۔انہوںنے کسی مائنس ون فارمولا کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مائنس ون فارمولا لگانے کی کوشش کی گئی تووہ طاقت کا ذریعہ بنے گا ان ہتھکنڈوں سے عوام کے مینڈیٹ کو نفی نہیں کرسکتے ¾ آج ہر پاکستانی کے دل میں تمنا ہے کہ چین ¾ کوریا ¾ ملائیشیا آگے نکل گیا ہے ¾ مخالفین کنٹینر پر چڑھ کر بتاتے ہیں کہ پاکستان پیچھے رہ گیا ہے ¾کبھی کسی نے یہ سوال پوچھا کہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے پاکستان چین اور کوریا نہیں بن سکا تیسری بار ہماری حکومت منتخب ہوئی ہے اور اس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں مسلم لیگ (ن)کا ووٹر اپنی قیادت اور وزیر اعظم پر فخر کرتا ہے کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ¾ مائنس ون ¾ مائنس ٹو ¾ مائنس تھری یا مائنس فور کرینگے تو وہ زیادہ طاقتور بنے گا ایک سوال پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ رپورٹ کی کاپیاں دی جائیں انہوںنے کہاکہ ہم نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا تھاکہ ان کے دونوں بچے غیر ملک میں رہتے ہیں وہاں کاروبار کرتے ہیں ¾ ایف بی آر کو جوابدہ نہیں ہیں نواز شریف نے بہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے بچے آئیں گے اور جواب دینگے تاہم بچوں پر کوئی ریفرنس نہیں ہوسکتا ۔احسن اقبال نے کہاکہ پانا ما لیکس میں وزیر اعظم کا نام نہیں ہے پانا ما پیپرز کا معاملہ آیا تو بہت ہی معصومیت کے بعد پتا چلا کہ عمران خان کی آف شور کمپنی ہے جو 2014تک قائم رہی انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات میں کیا چستیاں ہیں عمران خان کے خلاف ٹرائل میں کس قسم کی سستیا ں ہیں ¾جو لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف بادشاہ ہے انہیں کہنا چاہتا ہوں بادشاہ وہ ہوتا ہے جو عدالت سے بھاگتا ہے ¾ شہنشاہ بنی گالا میں بیٹھا ہے جو سپریم کورٹ سے بھاگتا ہے وزیر اعظم نے شفافیت اور قانون پر یقین رکھتے ہوئے پوری فیملی کو فلٹر سے گزارا ہے پی ٹی آئی کا پارٹی فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی تلاشی سے کیوں گھبرا رہی ہے ¾عمران خان صاحب اپنے گھر کی فروخت کی تلاشی دینے کےلئے تیار نہیں ہے ۔ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہاکہ الزام لگایا جاتا ہے کہ طلال چوہدری ¾ دانیال عزیز نے جے آئی ٹی کو دھمکایا ہے انہوںنے کہاکہ عمران خان نے کہاہے کہ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو سزا نہ دی تو محاسبہ کرینگے ¾ جلسے کرونگا ¾ جلوس نکالونگا یہ جے آئی ٹی کو دباﺅ میں ڈالنے کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔خواجہ آصف نے کہاکہ 2012میں میں نے عمران خان پر الزام لگایا کہ اس نے زکواہ ¾ خیرات کا پیسہ ملک سے باہر انویسٹ کیا ہے ¾دبئی اور مسقط میں آف شور کمپنی بنائی۔سازش کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہاکہ ترقی کا سفر روکنا سازش ہے ¾ہم کسی اور طرف اشارہ نہیں کررہے ہیں ہم اپنا دفاع عدالت عظمیٰ میں کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ عدالت میں کچھ چیزیں پہلے لے گئے ہیں اب مزید تفصیلات پیش کرینگے اور لیگل اعتراضات کورٹ میں رکھیں گے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے وہ بیس کروڑ عوام کی خواہشوں کا مظہر ہے ہم عوام کے ووٹوں سے آئے ہوئے ہیں یہ معاملہ بالکل اسمبلی میں آئےگا اور ڈسکس ہوگا ¾پیپلز پارٹی کی ہم نے بھی سپورٹ کی تھی ہمیں امید ہے تمام پارٹیاں جمہوریت کےلئے ہماری حمایت کرینگی اور ہم پارلیمنٹ کے فلور پر سرخروہونگے انہوںنے کہاکہ پہلے دن سے اپنے تحفظات ظاہر کررہے ہیں اس کے باوجود ہم نے جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون کیا ہم پیش نہ ہوتے تو کہا جاتا آپ بھاگ رہے ہیں وزیر اعظم تاریخ میں پہلے بار کسی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ¾ جس جس کو کہا گیا وہ سب جے آئی ٹی میں پیش ہوئے ہیں معاملے پر جے آئی ٹی کے سامنے تعاون کو سراہنا چاہیے انصاف نہ صرف ہو نا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے انہوںنے کہاکہ ہمارے مخالفی چاہتے ہیں آئین اور قانون کی جنگ سوشل میڈیا پر لڑنی چاہیے ¾ پاکستان کے اندر عدالت کارول آئین اور قانون کا ہے سوشل میڈیا میں ہمارے مخالفین دھونس کے ذریعے فیصلے لینا چاہتے ہیں ایسے پاکستان نہیں چل سکتا احسن اقبال نے کہاکہ ہمارے سیاسی مخالفین کو کشمیر ¾ گلگت ¾پنجاب اور پشار میں شکست ہوئی کراچی میں بھی پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے جسٹس وجہہ الدین نے کہاکہ پی ٹی آئی میں کرپشن کے مگر مچھوں نے قبضہ کرلیا ہے تو آپ نے وجہہ الدین کو ہٹا دیا عمران خان چور دروازے میں آکر وزیراعظم بننے کاخواب دیکھ رہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا ۔ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہاکہ حسن نواز پراپرٹی ڈویلپمنٹ کا کام کرتا ہے اور یہ پندرہ بیس سال سے کام کرتے ہیں حسین نواز کی سٹیل مل ہے انہوںنے دو لون لئے تھے ان کے ریکارڈ موجود ہیں انہوںنے کہاکہ بینک ٹرانزیکشن بڑا ٹیکینکل کام ہے ¾ اسی وجہ سے کہتے ہیں ساری کارروائی عوام کے سامنے لائی جائے ان کے سوالا ت میں کتنا وزن تھا اور آگے سے کیا جوابات ملے ہیں یہ سورس رپورٹ نہیں چلے گی منظر عام پر لایا جائے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ جب جب ہماری حکومت ختم کی گئی ہم دوبارہ زیادہ مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے اب بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ووٹر سے کوئی خطرہ نہیں ہے ہمارے ووٹرز میں اضافہ ہوگا ۔احسن اقبال نے کہاکہ مسلم لیگ (ت)پاکستان کی سیاست میں دیوار چین ہے ¾ہمارے خلاف بہت سازشیں ہوئی ہیں ہمارا ووٹر ز اپنی جماعت اور وزیر اعظم پر فخر کرتا ہے خواجہ آصف نے کہاکہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر کسی ادارے نہیں بٹھایا عوام نے نواز شریف کو منتخب کیا ہے۔

پاکستان کا ہر 14واں شخص کس خوفناک مرض کا شکار, سنسنی خیز انکشاف

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)ہیپاٹائٹس کے مہلک مرض نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے مجموعی طور پر 82 کروڑ 85 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس کا شکار جبکہ ہر سال 17 لاکھ 50 ہزار نئے مریض سامنے آ رہے ہیں جبکہ پاکستان کا ہر 14 واں شخص اس مرض سے متاثر ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کی گلوبل ہیپاٹائٹس رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ہیپاٹائٹس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اس وقت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس (بی)کے مریضوں کی تعداد 25 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو کہ دنیا کی آبادی کا 3.5 فیصد ہے جبکہ ہیپاٹائٹس (سی)سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 7 کروڑ 10 لاکھ ہے ۔

پولیس کی وردی پھر تبدیل،رنگ کیا ہوگا؟, دیکھئے خبر

لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے ہی رہ گئے لیکن وردی کو تبدیلی کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر اقدامات شروع کر دئیے گئے ۔افسروں کی آپسی چپقلش یا سیاسی مداخلت، وجہ جو بھی ہو آئی جی آفس میں ہلکے سبز رنگ کی نئی وردی کو چھوڑنے کے لیے اجلاس منعقد ہونا شروع ہو گئے ۔تفصیل کے مطابق رواں سال یکم اپریل کو اس وقت کے آئی جی مشتاق احمد سکھیرا نے پنجاب پولیس کا یونیفارم تبدیل کر دیا اور شروعات لاہور سے کیں ، جس کے بعدمرحلہ وار تمام صوبے میں وردی تبدیل ہونا تھی ۔ یونیفارم تبدیلی کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وردی تبدیل ہونے کے چھ ماہ میں اس بارے میں بہتری کے لیے نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے ۔مشتاق سکھیرا کے ریٹائر ہوتے ہی پنجاب پولیس نے یونیفارم تبدیل کرنے کے بارے میں اقدامات شروع کر دئیے ہیں ،اس ضمن میں آئی جی آفس میں متعدد اجلاس منعقد ہوئے جن میں نئے یونیفارم کے بارے میں افسروں کی رائے لی گئی۔ ذرائع کے مطابق بیشتر پولیس افسروں کی رائے ہے کہ موجودہ ہلکے سبز رنگ کی یونیفارم میں ہی تبدیلی کر لی جائے اور اس کو مزید بہتر بنا لیا جائے جبکہ بعض کا ماننا ہے کہ اس یونیفارم سے پولیس کا رعب جرائم پیشہ افراد پر ختم ہو گیا ہے لہذا پرانی کالی یونیفارم کو ہی دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ دوسری جانب حکومتی اراکین کو پنجاب پولیس کی وردی میں خاصی دلچسپی ہے ، ذرائع کے مطابق متعدد ایم پی ایز اور ایم این ایز نے وزیر اعلی کو یونیفارم کو مکمل تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے جس پر وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے بھی پولیس وردی کی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے لیکن تاحال آئی جی پنجاب اور پولیس افسراس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ۔ سنٹرل پولیس آفس کے ذرائع نے بتایا کہ سی سی پی او لاہور امین وینس بھی اس بارے میں لاہور پولیس سے رائے لے چکے ہیں کہ یونیفارم کیسا ہے اور کیا اسے تبدیل کیا جانا چاہیے یا نہیں ؟۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ایک دو ہفتوں میں اس بات کا فیصلہ کرکے وزیر اعلی کو رپورٹ ارسال کردی جائے گی۔

شریفوں کا پول کھُل گیا

اسلام آباد (صباح نیوز) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) ججوں اور جنرلوں سے ٹکر لینا چاہتی ہے تاکہ ان کی حکومت غیرآئینی طور پر ختم کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار سے استدعا کرتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما عدالت کے وقار اور مقام کے خلاف غیرپارلیمانی زبان استعمال کر کے عدالت کے وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کا نوٹس لیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) ججوں اور جنرلوں سے ٹکر لینا چاہتے ہیں کیونکہ اب ان سے چوری کا مال برآمد ہو گا اور جس طرح یہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے عدالت جلد اس کا فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کے چیئرمین نے ریکارڈ میں تبدیلی کی ہے اور ثابت بھی ہو چکا ہے اور مریم نواز پاناما کی کمپنی کی ملکہ ثابت ہو چکی ہیں۔ اب ان کی کوشش ہے کہ ان کو قانونی اور آئینی طریقے سے نہ نکالا جائے اور ان کو غیرآئینی طریقہ سے حکومت سے نکالا جائے۔ پاناما کیس شریف خاندان کے خلاف ہے جو رقم انہوں نے چوری کی ہے وہ واپس لی جائے جبکہ قطری شہزادہ نوازشریف کا نہیں حسین نواز کا گواہ ہے۔ پاناما کا فیصلہ جلد کیا جائے تاکہ پاکستان کو نقصان نہ ہو۔ قطری نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں کو اختیار نہیں ہے کہ ان کے سامنے پیش ہوں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ نے شریف خاندان کا سارا پول کھول دیا ہے۔ اب نوازشریف کس منہ سے وزیراعظم رہیں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تابوت بھی نکل گیا، ثبوت بھی آ گیا ہے۔ ضروری نہیں کہ چیئرمین نیب قمرزمان کے پاس ریفرنس جائے سپریم کورٹ کسی اور کو بھی ریفرنس بھیج سکتی ہے۔