نرسنگ ہاسٹل میو ہسپتال بارے شرمناک انکشاف ، ذمہ دار کون ؟

لاہور (خصوصی رپورٹ)میوہسپتال کی انتظامیہ نے نرسنگ ہاسٹلز کو کاکمائی کا ذریعہ بنالیا جبکہ دونوں نرسنگ ہاسٹلز کی عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں اور تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ہاسٹلز مرغیوں کے ڈوبے بن گئے، ہاسٹلز کے بیشتر کمرے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن بوسیدہ ہوتے جارہے ہیں جبکہ بجلی کی وائرنگ بھی بہت پرانی ہے جو کسی بھی حادثہ کی وجہ بن سکتی ہے اور ہاسٹلز کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں، ہاسٹلز میں مقیم سینکڑوں نرسوں کے لیے صرف کینٹین میں ایک کولر ہے جس کے فلٹر بھی کئی ماہ گزرنے کے باوجود تبدیل نہیں کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق میو ہسپتال میں نرسوں کے لیے 2ہاسٹل ہیں جن میں ایک اولڈ اور دوسرا نیوٹن ہال ہاسٹل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اولڈ ہاسٹل کی عمارت میں 45کمرے ہیں جن میں 7سو کے قریب نرسوں کو رکھا ہوا ہے اور ہر نرس سے کنوینس الاﺅنس و ہاﺅس رینٹ الاﺅنس کی مد میں 6ہزار رولے لیے جارہے ہیں جو کہ ماہانہ لاکھوں روپے بنتے ہیں جبکہ سہولیات بہت ہی کم ہیں اور ایک کمرے میں جس میں 2سے تین لوگوں کی جگہ ہوتی ہے اس میں 6 سے 7نرسیں مقیم ہیں جبکہ نماز کے لیے مختص کئے گئے کمروں میں بھی 10سے بارہ نرسوں کو رکھا ہوا ہے۔ نیوٹن ہال ہاسٹل میں 30کمرے ہیں جن میں300 کے قریب نرسیں رہائش پذیر ہیں اور اس کی عمارت کی حالت انتہائی خراب ہے جس کی مئی میں مرمت شروع کی گئی تھی لیکن چند ہی دنوں بعد اس کو روک دیاگیا اور آج تک مرمت کا کام دوبارہ شروع نہیں ہوسکا۔اس حوالے سے ایم ایس میو ہسپتال کا کہنا تھا کہ نرسنگ ہاسٹلز کی مرمت بہت جلد شروع کردی جائے گی، فنڈز کی منظوری کیلئے محکمہ کو پی سی ون بھیج چکے ہیں، نرسوں کی تمام شکایات کا ازالہ کیا جارہا ہے ، کوئی نرس بھی ہسپتال میں ایسی نہیں جس کو ہاسٹل میں جگہ نہ دی گئی ہولاہور (خصوصی رپورٹ)صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے مفت سہولت کے طور پر وہیل چیئرز اور سٹریچرز کرائے پر دینے کا انکشاف ہوا ہے جس پر حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک خفیہ رپورٹ ارسال کی گئی ہے۔ جس میں بتایاگیاہے کہ حکومت کی ہدایت پر تمام ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں مریضوں کی سہولت کیلئے درجنوں وہیل چیئرز ورسٹریچرز فراہم کئے گئے ہیں اور مریضوں کو یہ سہولت ہسپتال کے ملازمین سمیت مفت فراہم کی گئی جو مریض کی خوش اخلاقی سے متعلقہ وارڈز میں پہنچائیں گے۔ تاہم ان وہیل چیئرز اور سٹریچرز پر مامور ملازمین مریضوں سے 500روپے سے ایک ہزار روپے فی کس تک وصول کرتے ہیں اور مریض دینے سے انکار کریں ان کو اس سہولت سے بھی محروم کردیاجاتاہے۔ بالخصوص گائنی کے مریضوں کو اس ضمن میں شدید پرشانی کا سامنا ہے جن میں سے بعض مریض فرش پر لیٹ جاتے ہیں اور ملازمین تماشا دیکھتے رہتے ہیں اس رپورٹ کے تناظر میں حکومت نے سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان سے فوری تفصیلات طلب کرلی ہیں اور فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام ملازمین کر برطرف کیاجائے

کور کمانڈر کانفرنس ، آپریشن اور اندرونی سکیورٹی بارے اہم خبر

راولپنڈی (بیورو رپورٹ) جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کورکمانڈر کانفرنس ہوئی ،اجلاس میں ملک کی اندرونی سکیورٹی صورتحال ،افغانستان سے عسکری روابط اور بہتر سرحدی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت خطے کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کورکمانڈر کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔اجلاس میں افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پاکستان پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاءنے کہا کہ قومی مفادات کیلئے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کریں گے۔آرمی چیف کی زیر صدارت جاری کور کمانڈر کانفرنس میں فلڈ ریلیف آپریشن کی تیاریوں اور فورسز کی تعیناتی اور ملکی اندرونی سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر

پانامہ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش ,جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک‘ نیوز ایجنسیاں) پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو پیش کر دی گئی ہے۔ رپورٹ پر آئینی اور قانونی ماہرین وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کرپشن کی نہ ہی کبھی اس کی حوصلہ افزائی کی۔ سپریم کورٹ میں پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت کے حوالے سے وزیراعظم ہاﺅس میں اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت وزیراعظم نوازشریف نے کی، اجلاس میں حسین نواز، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیردفاع خواجہ آصف، وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزراءاور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث اور بیرسٹر ظفر اللہ نے وزیراعظم نوازشریف اور شرکاءکو سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت سے متعلق بریفنگ دی اور جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوﺅں سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پانامہ لیکس اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے قانونی پہلوﺅں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کرپشن کی نہ ہی کبھی اس کی حوصلہ افزائی کی۔ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے مزید تحقیقات کے لیے قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی عدالت عظمیٰ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو حکمراں جماعت مسلم لیگ(ن) نے چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔حکمراں جماعت کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ جے آئی ٹی نے سوالات کچھ پوچھے جب کہ جوابات کچھ اور دیے گئے لہٰذا جے آئی ٹی کے رپورٹ متنازع ہے اور اسے آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔حکمراں جماعت کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے پر بدستو ر موجود رہیں گے اور ان کی جانب سے استعفیٰ دینے کا کوئی امکان نہیں۔ وزیراعظم نے قانونی اور آئینی ماہرین کو جواب تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔حکومت نے جے آئی رپورٹ کو ردی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ وفاقی وزر اءنے جے آئی ٹی کو دھرنا تھری ¾ عمران نامہ ¾رام کہانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پی ٹی آئی کی رپورٹ ہے اسے مستردکرتے ہیں ¾ وکلاءرپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں ¾ اپنے تمام قانونی اور آئینی اعتراضات سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے ¾ امید ہے سپریم کورٹ رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی ¾دھرنا ون اور دھرنا ٹو کی طرح دھرنا تھری بھی ناکام ہوگا ¾ حکومت تمام مخالفین کے حملوں کا مقابلہ کریگی ¾ ترقی کے سفر جاری رکھیں گے ¾ مخالفین کی تمام حسرتیں ناکام ہونگی ¾ اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھتے ہیں ¾ پھر کہتے ہیں جے آئی ٹی کی کارروائی کی ویڈیو عوام کے سامنے پیش کر دی جائے ¾ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا ¾ وزیر اعظم کے خلاف الزامات میں چستیاں اور عمران خان کے ٹرائل میں سستیاں ہیں ¾ پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں تلاشی دینے سے کیوں گھبرا رہی ہے ¾کیا عمران خان کے بیانات جے آئی ٹی کو دباﺅ ڈالنے کے زمرے میں نہیں آتے ¾معاملہ پارلیمنٹ میں آئےگا اور ہم سروخروہونگے ۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراءاحسن اقبال ¾ خواجہ آصف ¾ شاہد خاقان عباسی اور بیرسٹر ظفر اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احسن اقبال نے کہاکہ ہمارے اوپر لگائے گئے الزام ہمارے لئے نئے نہیں اور نہ آپ کےلئے نئے ہیں نہ ہی قوم کےلئے نئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ دراصل ان الزامات پر مشتمل ہے جنہیں عمران خان کئی سال سے لگاتے آئے ہیں اور یہ ہمارے سیاسی مخالفین کے الزامات کا ایک کلام ہے جو رپورٹ کی شکل دیکر عدالت میں پیش کیا گیاہے اور اگر آپ پوری رپورٹ کاجائزہ لیں تو اس کے اندر کوئی دلیل ¾ کوئی ٹھوس ثبوت کی بجائے ایسی چیزوں کا سہارا لیا گیا ہے جن کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے اس لئے اس رپورٹ کو ردی قرار دیکر مسترد کرتے ہیں انہوںنے کہاکہ چند روز اسی جگہ پر پاکستانی قوم کو ان تحفظات سے آگاہ کیا تھا جے آئی ٹی کوتشکیل سے لیکر اب تک جس اندا ز میں چلایا گیا وہ سب کے سامنے ہے انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی سے انتقامی کارروائیاں جاری رہیں ¾ گواہان پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ¾ قانون کے تقاضوں کے برخلاف سیاسی ایجنڈوں پر چلایا جارہا تھا ¾چن چن کر ہمارے مخالفین کو جے آئی ٹی میں ڈالا گیا اور اب جے آئی ٹی کی رپورٹ ہمارے تمام تحفظات پر تصدیق کی مہر لگاتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ ہمارے تحفظات درست ہیں رپورٹ کو عمران نامہ قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ یہ مکمل طورپر سیاسی جماعت کے اس موقف کا مجموعہ ہے جس کو کبھی رد ی کی ٹوکری میں پھینکنے جانے والے کاغذ کہاگیا ¾ کبھی ان کو پکوڑوں کے لفافوں کی مثال دی گئی انہوںنے کہاکہ وہ الزامات جو سیاسی بنیادوں پر لگائے جاتے تھے رپورٹ کی صورت میں ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہیں ۔ احسن اقبال نے کہاکہ اچھا ہوتا اگر رپورٹ میں حکومت کےخلاف ¾ وزیر اعظم کےخلاف کوئی مالی بد عنوانی کاکیس نکالا جاتا ¾ کوئی سرکاری وسائل کو ناجائز استعال کر نے کاالزام لگایا جاتا ¾ کوئی ٹیکس کی رقم میں خوردبرد کا الزام لگایا جاتا ¾ کوئی اتھارٹی کے غلط استعمال کا الزام لگایا جاتا تاہم تمام الزامات فیملی کے نجی کاروبار کے حوالے سے لگائے گئے ہیں جن سے وزیر اعظم لا تعلق ہو چکے ہیں ¾کسی جگہ یا کسی اثاثے سے وزیر اعظم کا کوئی تعلق نہیں ¾پانا ما لیکس میں وزیر اعظم کانام شامل نہیںتھا لیکن نہایت محنت کر کے جھوٹ کے ملاپ کر کے کوشش کی گئی ہے کہ ایک ایسی کہانی کھڑی کی جاسکے جس سے ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچایا جائے جس کی ہم نہ صرف مذمت کر تے ہیں بلکہ انشا ءاللہ سپریم کورٹ کے سامنے اس رپورٹ کے جھوٹ کو مکمل طورپر نہ صرف بے نقاب کرینگے بلکہ اس کے پرخرچے اڑا دینگے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ تیرہ متعین کر دہ سوالات کے جواب دے لیکن اس نے تیرہ سوالوں کے جواب کے بجائے خود ٹرائل کورٹ بننے کافیصلہ کیا اور یہ کس بنیاد پر کیا یہ ہم سمجھنے سے قاصر ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہم سب سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک پولیٹکل ایجنڈا ہے ¾ہمارے وکلاءتفصیل کا جائزہ لے رہے ہیں رپورٹ میں جو تعصب ہے اس خلاصہ کو قوم کے سامنے پیش کیا جائیگا انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ایک کھیل کھیلا جارہا ہے 2013میں ایک منتخب حکومت آئی ہے پاکستان کو اقتصادی ترقی پر ڈالا ہے ¾تباہ شدہ معیشت کو سنبھالا ہے ¾ لاقانونیت بد امنی زورں پرتھی اس کو نکیل ڈالی ¾ کراچی کو امن بحال کیا گیا ¾ بلوچستان کو پرویز مشرف کاٹ کر گئے تھے جہاں یوم آزادی مناتے ہوئے لوگ شرماتے تھے اس بلوچستان کو ترقی کے ذریعے دوبارہ قومی ھارے میں شامل کیا ¾ کشمیر ¾ کو قومی دھارے میں شامل کیا ¾سی پیک کو حقیقت میں ڈالا ¾ترقی کے ایجنڈے سے ہمارے مخالفین مسلسل کوشش میں رہے کہ پاکستان میں سیاسی انتشار کے ذریعے ترقی کے سفر کو روکا جائے لیکن یہ بات واضح کر ناچاہتا ہوں ¾یہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اسی طرح ناکام ہوگی جیسے دھرنا ون اور دھرنا ٹو ناکام ہوا ¾جے آئی ٹی رپورٹ کو دھرنا نمبر تین کہاﺅنگا یہ بھی اسی طرح ناکام ہوگی ۔انہوںنے کہاکہ حکومت انشاءاللہ ان تمام مخالفین کے حملوں کا مقابلہ کریگی احسن اقبال نے کہاکہ حکومت سرکاری وسائل کو امانت سمجھ کر استعال کرتی ہے ¾دنیا میں پاکستان کی ٹرانسپیسرنسی کے حوالے سے حیثیت میں اضافہ ہوا ہے ¾ ہماری حکومت میں کوئی سکینڈلز سامنے نہیں آئے ¾ہم ترقی کے سفر کو جاری رکھیں گے اور ہماری مخالفین کی تمام حسرتیں ناکام ہو نگی جس طرح ماضی میں بھی ناکام ہوتی رہیں گی ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ محترمہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے حکم میں بنی تھا ¾ ہمارا خیال تھا کہ یہ شفاف اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق رپورٹ دےگی یہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں پی ٹی آئی کی رپورٹ ہے ¾انوسٹی گیشن کر نا ¾ شہادت اکٹھی کر نا شعبہ سے وابستہ ماہرین کا کام ہے بعض معاملات میں وکیلوں کو بھی بال سفید کرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی میں شامل چار آدمیوں کا قانون سے زیرو تعلق تھا ¾انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی نے زیادہ وقت لائرز ¾ ٹیچرز اور سیاسی لوگوں کی میڈیا مانیٹرنگ کر نے میں گزارا ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ تحقیق کر نے والا متعصب نہ ہو ¾ بلال رسول میاں اظہر صاحب کے بھانجے ہیں انہوںنے کہاکہ جب نواز شریف کی منتخب حکومت کو غیر قانونی طورپر ہٹایا گیا ¾جمہوریت پر شب خون مارا گیا تو میاں اظہر کنگز پارٹی کے سربراہ بن گئے ہیں مسلم لیگ (ق)مسلم لیگ (ن)کو توڑ کر بنائی گئی اور میاں اظہر اس کے سربراہ تھے اور وہ مسلم لیگ (ق)کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے ہیں انہوںنے کہاکہ عامر عزیز نے پر ویز مشرف کے زمانے میں جھوٹے ریفرنسز بنائے گئے لاہور ہائی کورٹ کے دس اور تین اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے حدییبہ کیسز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ جے آئی ٹی نے طارق شفیع کےساتھ کیا سلوک کیا ¾ جاوید کیانی کے ساتھ کیا سلوک کیا ان کے منہ میں اپنے الفاظ ڈالنے کی کوشش کی گئی تاہم رہنما اپنے ضمیر کی آواز پر قائم رہے ¾کیا ان کو محمودمسعود چاہئیں ¾اب محمود مسعود سے کام نہیں چلے گا ۔انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر حسین نواز کی تصویر لیک کی گئی ¾نہیں بتایاگیا کہ لیک کر نےوالا کون تھا ؟ سپریم کورٹ کو بھی نہیں بتایا گیا ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کا آئین اور قانون فون ٹیپ کر نے کی اجاز ت نہیں دیتا عدالت عالیہ سے پیشگی اجازت لینا ہوتی ہے ¾ا س حوالے سے سپریم کورٹ بھی اپنے فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ فون ٹیپ کر نا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ ہمارے سب سے اہم گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا انویسٹی گیشن ٹیم کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے پاس جا کر بیان ریکارڈ کرے ¾ انہوںنے کہاکہ واجد ضیاءصاحب پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں خط لکھ کر پوچھتے تھے کہ کب تشریف لائیں۔آگے سے پرویز مشرف کا سیکرٹری بتاتا تھا کہ جنرل صاحب اس وقت مصروف ہیں اب پتہ نہیں ان کے پاﺅں میں کیا مہندی لگ گئی ہے اب بیان ریکارڈ نہیں کر سکتے ۔انہوںنے رپورٹ کو رام کہانی ¾ طوطا مینا کی کہانی قرار دیتے ہوئے کہاکہ تمام قانونی اورآئینی اعتراضا ت سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے ہمیں امید ہے کہ وہ اس کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دےگی ۔وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف نے کہاکہ ہم نے جتنی بھی رپورٹ پڑھی ہے اس میں کوئی بات حتمی نہیں ہے ¾ انہوںنے کہا ہے کہ یو اے ای سے سورس رپورٹ آئی ہے ¾ یو کے سے بھی سورس رپورٹ آئی ہے ۔خواجہ آصف نے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں رحمن ملک کی باتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے ان کا نام لیکر کہہ دینا کافی ہے ¾زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ہوں ۔ خواجہ آصف نے کہاکہ میرا خیال تھا کہ پڑھے لکھے لوگ ہیں ¾ کوئی ایف آئی اے اور کوئی نیب سے تعلق رکھتا ہے ¾کم از کم ان کا انحصار بڑی مضبوط شہادتوں پر ہوگا حسن نواز سے متعلق دو کمپنیوں کا ذکرکیا گیا ہے سرے یہ کمپنیاں ان کی ملکیت نہیں ہیں اگر حسین نواز نے اپنے والد نواز شریف کو سعودی عرب میں کمپنی سے پیسہ بھیجا ہے تو بیکنگ چینلز کے ذریعے بھیجا ہے اگر کوئی غلط بات ہوتی تو بیکنگ چینلز سے پیسہ نہ بھیجا جاتا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ پوچھا گیا کہ تحفے کہاں سے آئے ہیں ¾ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے قوانین بھی ہیں ¾ وہاںپر منی لانڈنگ کے قوانین زیادہ سخت ہیں وہاں کا ادارہ ہمارے ایف بی آر سے زیادہ سخت ہے جہاں سے یہ پیسہ آرہا ہے وہاں تو کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا ¾یہاں ہر چیز حرکت میں آئی ہے ¾جہاں سے پیسہ کمایا گیا اور پاکستان میں بھیجا گیا وہاں کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا ۔خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی جنگ ہے ہم قانون جنگ عدالت میں بھرپور طریقے سے لڑینگے ¾ہر الزام کو جھوٹا ثابت کرینگے تمام دستیاب قانونی آپشنز استعمال کرینگے ہمیں عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے انہوںنے کہاکہ اس عدلیہ بحالی میں ہمارا خون شامل ہے ¾ہماری جدوجہد شامل ہے آج عدلیہ آزاد ہے تو اس میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ¾ہمیں پوری امید ہے ہمارے ساتھ قانون اور آئین کے مطابق برتاﺅ کیا جائیگا ۔ انہوںنے کہاکہ آف شور کمپنیوں کے متعلق بار بار ذکر کیا جاتا ہے یہ قانون سے آزاد کمپنیاں نہیں ہیں ¾یہ ساری کسی نہ کسی ملک کے قانون کی پابند ہیں ¾صرف پاکستان میں قانون نہیں ہے دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی قوانین ہیں جو ہم سے زیادہ سخت ہیں ¾ ہمارے وکلاءجے آئی ٹی کی رپورٹ کاجائزہ لینگے ہم نے جو جائزہ لیا ہے اس میں رحمن ملک کی بات چیت پر بڑا انحصار کیاگیا ¾سورس رپورٹ پر انجضار کیا گیا ¾دستخط شدہ دستاویزات پر نہیں ¾ڈرافٹ پر انحصار کیاگیا ہے انہوںنے کہاکہ پوری رپورٹ پڑھ کر میز چیزیں اجاگر کرینگے انہوںنے کہاکہ یہ انصاف نہیں ہے آئندہ پیر کو عدالت میں بھرپور موقف پیش کرینگے جنگ تمام محاذوں پر لڑی جائیگی ۔وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جے آئی ٹی کے رویئے پر پہلے دن سے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں آج وہ تحفظات رپورٹ کی صورت میں سامنے ہیں ¾ہم نے رپورٹ دیکھی ہے مجھے جنرل مشرف کے وہ ریفرنس یاد آرہے ہیں جو ہمارے خلاف بنائے جاتے تھے جس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی تھی چند حقائق کو جھوٹ میں شامل کر کے یہ تاثر دیا جاتا کہ کوئی وار دات ہوئی ہے اور آخر میں کہہ دیا جاتا تھا کہ اثاثے انکم سے زیادہ ہیں ¾آج بھی وہی الفاظ دہرائے گئے ہیں حسین نواز ¾ حسن نواز ملک میں نہیں رہتے ہیں ¾ وہ اوور سیزپاکستانی ہیں ¾ پاکستان میں کاروبار نہیں کرتے ¾ان کے بارے میں کہاگیا ان کے اثاثے انکم سے زیادہ ہیں ¾ اگر انہوںنے اپنے والد کو بیکنگ چینلز کے ذریعے رقم بھیجی ہے تو کونسے قانون کے تحت جرم ہے ؟ایسی ایسی باتیں رپورٹ میں ہیں جو مضحکمہ خیز اور ناقابل یقین ہیں انہوںنے کہاکہ جو رپورٹ آئی ہے غیر متوقع نہیں ہے ¾ہمیں جے آئی ٹی سے یہی توقع تھی رپورٹ میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسحاق ڈار کے بارے میں کیا گیا کہ خیرات بہت کی ہے یعنی خیرات کر نا بھی جرم ہے ¾ ان کے بارے میں کہاگیا کہ اثاثے بہت بڑھ گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ رپورٹ کے اندر بہت تضاد موجود ہے اگر سمجھ ہے تو عمران خان بھی رپورٹ پڑھ لے اور سمجھ آجائےگی رپورٹ میں کیا ہے ¾حقائق بڑے واضح ہیں قانون ماہرین دیکھ رہے ہیں حقائق سب عوام کے سامنے آجائینگے ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھناچاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں تمام ویڈیو زعوام کے سامنے رکھ دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے ہم نے عدالت اور جمہوریت کےلئے جنگ لڑی ہے یہ چیزیں اگلے چند روز میں واضح ہو جائیں گی ¾مقدمہ ہمارا پاکستان کے عوام کے سامنے ہے ۔انہوںنے کسی مائنس ون فارمولا کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ مائنس ون فارمولا لگانے کی کوشش کی گئی تووہ طاقت کا ذریعہ بنے گا ان ہتھکنڈوں سے عوام کے مینڈیٹ کو نفی نہیں کرسکتے ¾ آج ہر پاکستانی کے دل میں تمنا ہے کہ چین ¾ کوریا ¾ ملائیشیا آگے نکل گیا ہے ¾ مخالفین کنٹینر پر چڑھ کر بتاتے ہیں کہ پاکستان پیچھے رہ گیا ہے ¾کبھی کسی نے یہ سوال پوچھا کہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے پاکستان چین اور کوریا نہیں بن سکا تیسری بار ہماری حکومت منتخب ہوئی ہے اور اس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں مسلم لیگ (ن)کا ووٹر اپنی قیادت اور وزیر اعظم پر فخر کرتا ہے کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ¾ مائنس ون ¾ مائنس ٹو ¾ مائنس تھری یا مائنس فور کرینگے تو وہ زیادہ طاقتور بنے گا ایک سوال پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ رپورٹ کی کاپیاں دی جائیں انہوںنے کہاکہ ہم نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا تھاکہ ان کے دونوں بچے غیر ملک میں رہتے ہیں وہاں کاروبار کرتے ہیں ¾ ایف بی آر کو جوابدہ نہیں ہیں نواز شریف نے بہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے بچے آئیں گے اور جواب دینگے تاہم بچوں پر کوئی ریفرنس نہیں ہوسکتا ۔احسن اقبال نے کہاکہ پانا ما لیکس میں وزیر اعظم کا نام نہیں ہے پانا ما پیپرز کا معاملہ آیا تو بہت ہی معصومیت کے بعد پتا چلا کہ عمران خان کی آف شور کمپنی ہے جو 2014تک قائم رہی انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات میں کیا چستیاں ہیں عمران خان کے خلاف ٹرائل میں کس قسم کی سستیا ں ہیں ¾جو لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف بادشاہ ہے انہیں کہنا چاہتا ہوں بادشاہ وہ ہوتا ہے جو عدالت سے بھاگتا ہے ¾ شہنشاہ بنی گالا میں بیٹھا ہے جو سپریم کورٹ سے بھاگتا ہے وزیر اعظم نے شفافیت اور قانون پر یقین رکھتے ہوئے پوری فیملی کو فلٹر سے گزارا ہے پی ٹی آئی کا پارٹی فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی تلاشی سے کیوں گھبرا رہی ہے ¾عمران خان صاحب اپنے گھر کی فروخت کی تلاشی دینے کےلئے تیار نہیں ہے ۔ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہاکہ الزام لگایا جاتا ہے کہ طلال چوہدری ¾ دانیال عزیز نے جے آئی ٹی کو دھمکایا ہے انہوںنے کہاکہ عمران خان نے کہاہے کہ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو سزا نہ دی تو محاسبہ کرینگے ¾ جلسے کرونگا ¾ جلوس نکالونگا یہ جے آئی ٹی کو دباﺅ میں ڈالنے کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔خواجہ آصف نے کہاکہ 2012میں میں نے عمران خان پر الزام لگایا کہ اس نے زکواہ ¾ خیرات کا پیسہ ملک سے باہر انویسٹ کیا ہے ¾دبئی اور مسقط میں آف شور کمپنی بنائی۔سازش کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہاکہ ترقی کا سفر روکنا سازش ہے ¾ہم کسی اور طرف اشارہ نہیں کررہے ہیں ہم اپنا دفاع عدالت عظمیٰ میں کرینگے ۔انہوںنے کہاکہ عدالت میں کچھ چیزیں پہلے لے گئے ہیں اب مزید تفصیلات پیش کرینگے اور لیگل اعتراضات کورٹ میں رکھیں گے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے وہ بیس کروڑ عوام کی خواہشوں کا مظہر ہے ہم عوام کے ووٹوں سے آئے ہوئے ہیں یہ معاملہ بالکل اسمبلی میں آئےگا اور ڈسکس ہوگا ¾پیپلز پارٹی کی ہم نے بھی سپورٹ کی تھی ہمیں امید ہے تمام پارٹیاں جمہوریت کےلئے ہماری حمایت کرینگی اور ہم پارلیمنٹ کے فلور پر سرخروہونگے انہوںنے کہاکہ پہلے دن سے اپنے تحفظات ظاہر کررہے ہیں اس کے باوجود ہم نے جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون کیا ہم پیش نہ ہوتے تو کہا جاتا آپ بھاگ رہے ہیں وزیر اعظم تاریخ میں پہلے بار کسی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ¾ جس جس کو کہا گیا وہ سب جے آئی ٹی میں پیش ہوئے ہیں معاملے پر جے آئی ٹی کے سامنے تعاون کو سراہنا چاہیے انصاف نہ صرف ہو نا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے انہوںنے کہاکہ ہمارے مخالفی چاہتے ہیں آئین اور قانون کی جنگ سوشل میڈیا پر لڑنی چاہیے ¾ پاکستان کے اندر عدالت کارول آئین اور قانون کا ہے سوشل میڈیا میں ہمارے مخالفین دھونس کے ذریعے فیصلے لینا چاہتے ہیں ایسے پاکستان نہیں چل سکتا احسن اقبال نے کہاکہ ہمارے سیاسی مخالفین کو کشمیر ¾ گلگت ¾پنجاب اور پشار میں شکست ہوئی کراچی میں بھی پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے جسٹس وجہہ الدین نے کہاکہ پی ٹی آئی میں کرپشن کے مگر مچھوں نے قبضہ کرلیا ہے تو آپ نے وجہہ الدین کو ہٹا دیا عمران خان چور دروازے میں آکر وزیراعظم بننے کاخواب دیکھ رہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا ۔ایک سوال پر خواجہ آصف نے کہاکہ حسن نواز پراپرٹی ڈویلپمنٹ کا کام کرتا ہے اور یہ پندرہ بیس سال سے کام کرتے ہیں حسین نواز کی سٹیل مل ہے انہوںنے دو لون لئے تھے ان کے ریکارڈ موجود ہیں انہوںنے کہاکہ بینک ٹرانزیکشن بڑا ٹیکینکل کام ہے ¾ اسی وجہ سے کہتے ہیں ساری کارروائی عوام کے سامنے لائی جائے ان کے سوالا ت میں کتنا وزن تھا اور آگے سے کیا جوابات ملے ہیں یہ سورس رپورٹ نہیں چلے گی منظر عام پر لایا جائے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ جب جب ہماری حکومت ختم کی گئی ہم دوبارہ زیادہ مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے اب بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ووٹر سے کوئی خطرہ نہیں ہے ہمارے ووٹرز میں اضافہ ہوگا ۔احسن اقبال نے کہاکہ مسلم لیگ (ت)پاکستان کی سیاست میں دیوار چین ہے ¾ہمارے خلاف بہت سازشیں ہوئی ہیں ہمارا ووٹر ز اپنی جماعت اور وزیر اعظم پر فخر کرتا ہے خواجہ آصف نے کہاکہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر کسی ادارے نہیں بٹھایا عوام نے نواز شریف کو منتخب کیا ہے۔

شریف خاندان کی ذرائع آمدن کم ، دولت زیادہ ، ملزم قرار

اسلام آباد ( رپورٹنگ ٹیم‘مانیٹرنگ ڈیسک‘ ایجنسیاں) پاناما جے آئی ٹی نے وزیرا عظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز اور بیٹی مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کردی۔لی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے مطابق مدعا علیہان تحقیقاتی ٹیم کے سامنے رقوم کی ترسیلات کی وجوہات نہیں بتا سکے، جبکہ ان کی ظاہرکردہ دولت اور ذرائع آمدن میں واضح فرق موجود ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچے آمدنی کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے اور منی ٹریل ثابت نہیں کر سکے۔رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے برٹش ورڑن آئی لینڈ سے مصدقہ دستاویزات حاصل کرلی ہیں، آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی مالک مریم نواز ہیں اور ان دونوں کمپنیوں کے حوالے سے جمع کرائی گئی دستاویزات جعلی ہیں، جبکہ ’ایف زیڈ ای کیپیٹل‘ کمپنی کے چیئرمین نواز شریف ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بےقاعدہ ترسیلات سعودی عرب کی ’ہل میٹلز‘ اور متحدہ عرب امارات کی ’ کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ کمپنیوں سے کی گئیں، جبکہ بےقاعدہ ترسیلات اور قرض نواز شریف، حسن نواز اور حسین نواز کو ملے۔برطانیہ کی کمپنیاں نقصان میں تھیں مگر بھاری رقوم کی ہیر پھیر میں مصروف تھیں، جبکہ یہ بات کہ لندن کی جائیدادیں اس کاروبار کی وجہ سے تھیں آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔رپورٹ کے مطابق انہی آف شور کمپنیوں کو برطانیہ میں فنڈز کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا، ان فنڈز سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئیں۔پاکستان میں موجود کمپنیوں کا مالیاتی ڈھانچہ مدعا علیہان کی دولت سے مطابقت نہیں رکھتا، بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بےقاعدگی سے ترسیل کی گئی، یہ رقوم سعودی عرب میں ’ہل میٹلز‘ کمپنی کی طرف سے ترسیل کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 اے وی کے تحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا جے آئی ٹی مجبور ہے کہ معاملے کو نیب آرڈیننس کے تحت ریفر کردے۔ جبکہ وزیراعظم نوازشریف کے نام سے بھی ایک آف شور کمپنی کا انکشاف ہوا ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ایف زیڈ ای کیپٹل کمپنی کے چیئرمین نوازشریف ہیں، وزیراعظم اور ان کے بچے منی ٹریل ثابت نہیں کر سکے۔ الانا سروسز، لینکن ایس اے اور ہلٹن انٹرنیشنل سروسز بھی شریف خاندان کی ہیں، اس سے قبل نیلسن، نیسکول اور کومبر گروپ نامی کمپنیاں منظر عام پر آئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق شریف خاندان نے کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کرائیں، جے آئی ٹی نے نیلسن اور نیسکول سے متعلق دستاویزات جعلی قرار دے دیں۔ رپورٹ کے مطابق حسن نواز کی لندن میں جو فلیگ شپ اونر کمپنی اور جائیدادیں ہیں اس میں بھی تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ برطانیہ کی کمپنیاں نقصان میں تھیں مگر بھاری رقوم کی ریوالونگ میں مصروف تھیں۔ آف شور کمپنیز برطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبار سے منسلک ہیں، آف شور کمپنیاں برطانیہ میں موجود کمپنیوں کو رقم فراہمی کے لئے استعمال ہوتی ہیں پیسہ برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان کی کمپنیو ںکو بھی ملتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوازشریف اور حسین نواز یہ فنڈز بطور تحفہ اور قرض وصول کرتے رہے، تحفے اور قرض کی وجوہات سے جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کیا جا سکا، متحدہ عرب امارات نے بارہ ملین درہم کی کوئی ٹرانزیکشن نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 14 اپریل 1980ءکو گلف اسٹیل مل کی فروخت کا کوئی ریکارڈ نہیں مل سکا، 2002,2001ءمیں دبئی سے جدہ کسی قسم کا کوئی اسکریپ نہیں بھیجا گیا، طارق شفیع بی سی سی آئی کے 9 ملین درہم کے ڈیفالٹر تھے۔ واضح رہے کہ پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعتکے دوران جے آئی ٹی نے حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ سربمہر رپورٹ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے 13 سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ حتمی رپورٹ میں قطرے شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تفصیلات کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے مہیا کردہ ریکارڈ بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئی رپورٹ کی جلد نمبر 3میں متحدہ عرب امارت کی وزارت انصاف کا خط شامل کیا گیا ہے جس میں وزارت نے وزیر اعظم پاکستان کے کزن طارق شفیع کے 6میں سے5دعوے مسترد کردئیے ہیں۔پانامہ کیس کی تحقیقات کے دوران شریف خاندان کی جانب سے دی گئی منی ٹریل کو متحدہ عرب امارات کی وزرات انصاف نے مسترد کردیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے کزن طارق شفیع کی جانب سے گلف سٹیل مل کی فروخت کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ 14اپریل 1980ءگلف سٹیل مل کی فروخت کی گئی لیکن جے آئی ٹی کا کہنا تھا کہ دوبئی سے اس فروخت کا کسی بھی قسم کا ریکارڈ نہیں ملا۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ 80اور 90کی دہائی میں کمپنیاں بنائی گئیں تو اس وقت نوازشریف سرکاری عہدہ رکھتے تھے ،مریم نواز کی نیسکول اورنیلسن کمپنی کی ملکیت بھی ثابت ہو گئی ہے جبکہ طارق شفیع کی جانب سے کیے جانے والے چھ دعوں میں دبئی کی حکومت نے 5مسترد کر دیئے ہیں۔جے آئی ٹی کی جانب سے اس سے متعلق یو اے ای حکومت کا خط بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیاہے۔ جے آئی ٹی نے قطری خط کو افسانہ قرار دیدیا ہے،قطری شہزادے کے خطوط حقیقت نہیں یہ محض ایک فسانہ ہیں،غیرملکی حکومتوں کے خطوط کے بعد قطری خط کی حیثیت بے معنی ہوگئی ہے۔جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطری خاندان سے بیریئر سرٹیفیکیٹس کی شریف خاندان کو منتقلی جھوٹی اور من گھڑت کہانی ہے جبکہ قطری شہزادے کا خط حقیقت نہیں محض ایک فسانہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق قطری کاروبار سے متعلق تمام مالیاتی دستاویزات غلط ہیں۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ انہوں نے تحقیقات میں معاونت کیلئے 6ممالک سے رابطہ کیا۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ انہوں نے سعودی عرب سمیت چھ ممالک کو خطوط لکھے جن میں سوئٹزر لینڈ ،لکسمبرگ ،آئس لینڈ ،متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔جے آئی ٹی کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ یو اے ای کی وزارت انصاف نے سات میں سے چار خطوط کا جواب نہیں دیا جبکہ برطانیہ کے ہوم آفس سے 7مختلف درخواستیں کی گئیں اور آئس لینڈ کے اٹارنی جنرل نے تین خطوط میں سے ایک کا جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں کہا ہے کہ شریف خاندان کی جانب سے جاوید کیانی کی معاونت کے لئے قرضے حاصل کرنے کے لئے 1991ئ تا 1998 ء فرضی غیرملکی کرنسی اکاونٹس فراڈسے کھولے گئے۔ انہی فرضی اکاونٹس پر قرضے لیے گئے، ڈپازٹس کو حدیبیہ پیپرز،حدیبیہ انجینئرنگ کے فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔شریف خاندان کی جانب سے ، 712 ملین روپے مالیت کے شیئرزکے عوض قرضہ لیاگیا۔ 642ملین روپے قرضہ حدیبیہ پیپرملز کے نام پرلیاگیا جبکہ 70ملین روپے قرضہ حدیبیہ انجینیرنگ کے نام پر بھی لئے گئے۔ اس قرضے کو1998میں مکمل کیاگیا،یہ سیٹ اپ اسحاق ڈارنے تیارکیاتھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 9اے وی کے تحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کے سرکاری جواب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ یو اے ای کی مرکزی بینک کے ذریعے طارق شفیع کی طرف سے فہد بن جاسم بن جبار بن الثانی کو ایک کروڑ 20لاکھ درہم منتقل کرنے کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلف سٹیل مل کے حوالے سے سوال پوچھنے پر وزیر اعظم نواز شریف نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ حسین نوازاورہل میٹل نے نوازشریف کے اکاونٹس میں تحفوں کے نام پربڑی رقوم منتقل کیں، شریف خاندان کے برطانیہ،دبئی میں اثاثوں سے 88 کروڑ روپے تحفوں کے نام پرمنتقل کیے گئے۔ ریکارڈ کے مطابق نوازشریف نےاپنی اہلیہ،بیٹوں اوربیٹیوں کے نام پرشیئر رکھے۔ نوازشریف کامقصدخاندانی کاروبارپر کنٹرول رکھتے ہوئے بھی کنٹرول ظاہرنہ کرناتھا۔ تاہم یہ کمپنیاں فنڈز کو مسلسل اپنے درمیان گھما پھرا رہی تھیں۔تحقیقات کے دوران جب وزیر اعظم سے گلف سٹیل مل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا جواب دینے کی بجائے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ جے آئی ٹی نے پاناماکیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جعلی دستاویزات جمع کروائیں۔تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ مریم نواز اور حسین نواز کے درمیان لکھی گئی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے ،بچوں کی طرف سے فراہم کردہ دستاویزات خود ساختہ ہیں ،ان جعلی دستاویزات پر حسین نواز ،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے بھی دستخط ہیں ،یہ جعلی دستاویزات حقائق کو توڑنے مڑونے کیلئے ہیں ،جعلی دستاویزات دینا جرم ہے۔جے آئی ٹی کا کہناتھا کہ حسن نواز نے بھی سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ جے آئی ٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ پانامہ کیس کے الزامات اسی کے گرد گھومتے ہیں اگر اس کیس کی پروفیشنل انداز میں تحقیقات کی جاتی تو پانامہ لیکس کا معاملہ کئی سال پہلے ہی حل ہوجاتا مگر نیب انتظامیہ کے تاخیری حربوں کی وجہ سے یہ غیر معمولی طور پر تاخیر کا شکار ہے ، اگر چہ 27دسمبر 1999کواس کیس کی تحقیقات شروع کرنے کی اجازت دی گئی مگر اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود نیب لندن میں جائیداد کے حوالے سے کوئی ثبوت اکھٹے نہیں کر سکا ،اب سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی میں اس حوالے سے کافی شواہد سامنے آئے ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نیب کی انوسٹی گیشن کا اس کے ساتھ گہرہ تعلق ہے ،اسی طرح رائیونڈ کے گرد و نواح میں خریدی گئی زمین کا کیس فروری 2000سے،رائیونڈ سٹیٹ میں سڑک کی تعمیرمیں اختیارات کا ناجائز استعمال کا کیس اپریل 2016سے،شریف ٹرسٹ کے حوالے سے جاری تحقیقات کا کیس مارچ 2000سے حدیبیہ انجینئر کمپنی میں بے نامی سرمایہ کاری کے حوالے سے کیس فروری 2000سے،ایف آئی میں غیر قانونی بھرتیوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے کیس 1999سے ،لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کیس 2000زیر التواءہیں ،جے آئی ٹی نے وزیراعظم کیخلاف خارج ہونے والے متعدد مقدمات کو دوبارہ ری اوپن کرنے کی سفارش کی ہے ،مقدمات میں نواز شریف ،سیف الرحمان کیخلاف ہیلی کاپٹر کی خریداری کا کیس ، حدیبیہ پیپر مل کیس ،رائیونڈ میں غیر قانونی تعمیر ات سے متعلق کیس شامل ہیں جبکہ جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کیخلاف ایف اے کے حدیبیہ انجینئرنگ پرائیوئٹ لمیڈڈ ،اور حدیبیہ پیپر مل لمیٹڈ کے منسوخ مقدمات کو دوبارہ ری اوپن کرنے کی سفارش کی ہے اسی طرح جے آئی ٹی کی جانب سے ایس ای سی پی کی جانب سے چوہدری شوگر مل چوہدری شوگر مل کے سالانہ آڈٹ اکاﺅنٹس میں پر اسراربے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ کے کیس کو بھی دوبارہ کھولنے کی سفارش کی گئی ہے۔ نوازشریف کا اپنے خاندانی کاروبار سے گہرا تعلق تھا، رپورٹ سے یہ بھی ظاہرہوتاہے نوازشریف خاندانی کاروبارسے مالی فائدہ لے رہے تھے۔ نوازشریف اثاثے بناکر بچوں کے نام پر ظاہر کرتے رہے۔ اس حقیقت کوانکم ٹیکس گوشواروں اورالیکشن کمیشن میں بھی ظاہرنہیں کیاگیا۔ یہ معاملہ دولت کو ظاہر نہ کرنے کے زمر ے میں آتا ہے اس لئے سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے آئی ٹی کی رپورٹ نے مریم نواز کی کمپنیوں کا انکشاف کیا ہےکہ دختر اول مریم نواز نیلسن اور نیسکول سمیت مزید دس کمپنیوں کی مالک ہیں جبکہ نیلسن اور نیسکول کا کوئی ٹرسٹی نہیں مریم نواز ہی اصل مالک اور بینفیشر ہیں۔جے ا?ئی ٹی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دختر اول مریم نواز نیلسن اور نیسکول سمیت مزید دس کمپنیوں کی مالک ہیں جبکہ وہ کئی ملوں میں بھی حصہ دارہیں۔ حالی سٹیل کی فروخت کا معاہدہ جعلی ہے، 1980ئ میں ال ا?حالی سٹیل کے 25 فیصد شیئرز کی فروخت کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، ڈیکلریشن ا?ف ٹرسٹ سے متعلق خود ساختہ رپورٹس جمع کرائی گئیں۔جے ا?ئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ کے حکم پر پبلک کر دی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کا والیم 10 جو کہ دیگر ممالک سے متعلق ہے، اسے جے ا?ئی ٹی کی درخواست کے مطابق، پبلک نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کو جے ا?ئی ٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل اور دیگر ماہرین قانون نے جے ا?ئی ٹی کی رپورٹ پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔

میچ ختم ,شریف خاندان پر پابندی، نیا پاکستان بن گیا، قوم جشن منائے

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے پر ثابت ہوگیا ہے کہ نوازشریف قوم کے مجرم ہیں وہ مجرم قرار پاچکے ہیں اب ان کے رہنے کا کوئی جوازنہیں رہا وہ فوری مستعفی ہوجائیں ۔ میچ ختم ہوگیا ہے دیکھنا ہے وزیراعظم ہاﺅس کب خالی کرتے ہیں اور سارے شریف خاندان کو ای سی ایل پر ڈال پر دیا جائے ۔ ہمارے تمام خدشات سچ ثابت ہوئے ہیں ساری چیزیں سامنے آگئی ہیں انہوںنے اداروں سے غلط کام کروایا ہے انہوںنے اپنی چوری چھپانے کیلئے اداروں کی ساکھ خراب کی بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ان کا ریفرنس بھیجنے کی بجائے میرا ریفرنس بھیج دیا سپیکر قومی اسمبلی کو بھی استعفی دینا چاہیے ۔ انہوںنے کہا کہ کرپشن سے بڑاجرم منی لانڈرنگ ہے جو ناقابل معافی ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ تحقیقات کے دوران نوازشریف کو وزیراعظم نہیں ہوناچاہیے تھا میں نے نوازشریف کا نام گاڈ فادر بالکل درست رکھا تھا۔ انہوںنے اداروں کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں جعلی کاغذات دیئے ۔ پاناما کیس جہاد سے کم نہیں تھا یہ خاندان 30سال سے ملک لوٹ رہا ہے یہ آئی بی کو استعمال کررہے ہیں جو شریف خاندان کی کرپشن بچا رہا ہے آج ثابت ہوچکا ہے کہ فلیٹس کی اصل مالک مریم نوازشریف ہی ہیں ۔ نوازشریف نے چوری کے پیسوں سے مریم نوازکے نام پر فلیٹ خریدے ۔ جے آئی ٹی نے جو کچھ کیا ہے اور جس انداز میں تحقیقات کرکے معاملے کو یہاں تک پہنچایا ہے یہ حقیقی جمہوریت کا تسلسل ہے میں وکلاءکا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوںنے جس طرح اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی مہم چلائی اور اب پاناماکیس میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے یہ سب جمہوری تحریک کا تسلسل ہے ۔ اب میچ ختم ہوگیا ہے اب دیکھنا کہ نوازشریف نے کس دن وزیرعظم ہاﺅس چھوڑنا ہے میرا مطالبہ ہے کہ سارے شریف خاندان کا ای سی ایل پر ڈالا جائے یہ اربوں ڈالر کی کرپشن اور منی لانڈرنگ ہے جس نے اس ملک کو غریب ترین بنا دیا ہے اسے مقروض کردیا ہے ۔جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد نواز شریف فوری استعفیٰ دیں۔ ہمارے سارے خدشات سچ ثابت ہو ئے ہیں۔ آج ساری چیزیں سامنے آ گئی ہیں۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین تحریک انصاف عمران خان جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد بنی گالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو ججز نے جب نواز شریف کو نااہل کیا تھا اسی وقت نواز شریف استعفی دے دیتے تو اچھا تھا۔ شریف فیملی کے لوگ کرپشن کے پیسے کو بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ ڈالر کی کمی ہونے پر ہمیں قرض لینے پڑتے ہیں۔ قرضوں کی وجہ سے ملک میں غربت بڑھتی ہے۔ آج واضح ہو گیا کہ انصاف کو روکنے کے لئے پوری رکاوٹیں ڈالی گئیں۔انہون نے مزید کہا کہ اپنی چوری چھپانے کے لئے ملکی اداروں سے غلط کام کروائے گئے۔جیو اور جنگ کے مالک میر شکیل کو ہمارے ٹیکس کے پیسے سے اشتہارات ملے، میرشکیل جیسے لوگ مجرم کو بچانےکی کوشش کر رہے ہیں۔ بتائیں اس گروپ کو اشتہارات کیسے ملے ہیں؟میرشکیل پیسے لے کر مجرم کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اینکرز کو جنہوں نے پریشر کے باوجود اپنا کام میرٹ پر جاری رکھا سلوٹ پیش کرتا ہوں۔اس جدوجہد میں جس جس نے کردار ادا کیا اسے سلام پیش کرتا ہوں۔نیا پاکستان عدل اور انصاف سے بنتا ہے۔آج سپریم کورٹ آزاد نہ ہوتا تو یہ فیصلہ نہ آتا۔انہوں نے مزید کہا کہ میچ ختم ہوگیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا نوازشریف کب وزیراعظم ہاو¿س چھوڑتے ہیں۔نوازشریف کی پوری فیملی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔اب پتا چلے گا شریف فیملی نے کتنا پیسہ لوٹا۔ عمران کان نے پریس کانفرنس سے اپنے خطاب مین یہ بھی کہا کہ شہبازشریف آپ کو شرم آنی چاہئیے آپ نے میرے اوپر 10 ارب کا ہرجانہ کررکھا ہے جبکہ آپ خود کرپشن میں ملوث ہیں۔نئے پاکستان میں سپریم کورٹ کسی کو نہیں چھوڑے گا۔جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جے آئی ٹی میں ابھی نئی نئی چیزیں نکل کر سامنے آرہی ہیں۔نوازشریف قوم مجرم ہیں اور چھوٹے گارڈ فادر کو فوری استعفی دینا چاہئیے۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ سچ سامنے آ گیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف میں تھوڑی سی بھی شرم ہوتی تو بہت پہلے استعفیٰ دیدیا ہوتا، جے آئی ٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے تمام تر دباو¿ کے باوجود قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کی اور اس مافیا کو بے نقاب کردیا، پوری قوم آج بہت خوش ہے، ایک کال دینگے تو سب باہر نکل آئینگے، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کسی شواہد کی ضرورت نہیںرہی، بے شرم وزراءکا ٹولہ اب بھی جھوٹ بولے جارہا ہے ان میں ذرا بھی حیا اور غیرت نہیں ہے، نواز شریف اور اس کے پورے مافیا کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہئے، شریف خاندان کا اگر خیال ہے کہ عدالت پر حملہ آور ہوں تو یاد رکھیں کہ ان کے ساتھ جو ہوگا اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، پوری قوم اس وقت عدالت عظمیٰ کے ساتھ ہے، نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے مزید کہا کہ آج ثابت ہوگیا کہ گلف سٹیل سے کوئی پیسہ انہیں نہیں ملا، قطری اور اس کا خط فراڈ تھا، مریم نواز نیلسن اور نیسکول کی مالک ہیں، حسین نواز اور مریم کی ٹرسٹ ڈیڈ فراڈ ہے، نواز شریف خود ایک کمپنی کے مالک ہیں، جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کسی مزید شواہد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن لیگی وزراءاب بھی ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہے ہیں جھوٹ بول بول کر ان کی شکلیں بگڑ چکیں ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ قوم تیار بیٹھی ہے صرف ایک کال دوں گا تو سب باہر نکل آئینگے، پاکستانی قوم خوشی منائے گی کہ پہلی بار ایک طاقتور مافیا قابو آیا ہے، پہلی بار پتہ چلا ہے کہ آزاد عدلیہ کام کررہی ہے، شریف خاندان نے پارلیمنٹ کو مفلوج کررکھا ہے، سپیکر ایاز صادق کو اب استعفیٰ دینا چاہئے، پارلیمنٹ کی ایکوزیشن بھیج رہے ہیں، پارلیمنٹ میں دل سے تقریر کروں گا کہ یہ سارا کام کرنا تو آپ کے زمے تھا کہ آپ عوامی نمائندے کہلاتے ہیں تو کیوں کچھ نہ کیا، پارلیمنٹ میں آنے والے صرف پیسے بنانے آتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کا اسلام بھی نواز شریف کی کرپشن بچانے اور پیسے کھانے تک محدود ہے، اگلے الیکشن میں سٹیٹس کو کے نمائندے چور لٹیرے ایک طرف اور ملک میں انصاف پر مبنی نظام چاہنے والے دوسری جانب ہونگے، عمران خان نے کہا کہ قومیں بمباری سے نہیں ادارے تباہ ہونے سے بربادہوتی ہیں، جو نواز نے کردکھایا، نواز شریف سازش کی بات کرکے انگلی فوج اور عدالت کی جانب اٹھاتے ہیں حالانکہ آج تک سازش صرف انہوں نے خود کی ہے، جونیجو حکومت کوہٹایا، اسامہ بن لادن سے پیسے لئے، آئی ایس آئی سے پیسے لئے، لغاری سے ملکر بینظیر حکومت گرائی، مشرف سے معاہدہ کرکے بھاگ گئے، زرداری سے ملکر ملک کیخلاف سازش کی یہ سب سازشیں تو نواز شریف نے خود کی ہیں وہ کس منہ سے سازش کی بات کرتے ہیں، نواز شریف نے صرف اپنے مفاد کیلئے ملک کو تباہ کردیا اس سے بڑی سازش کیا ہوسکتی ہے، شریف فیملی نے تو میرے تصور سے بھی زیادہ لوٹ مار کی ہے، یہی تو صرف مے فیئر فلیٹس بھی سامنے آئے ہیں، عمران خان نے کہا کہ پوری قوم کو آج مبارکباد دیتا ہوں، آج نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، آج سارے کرپٹ مافیا کو ایک پیغام گیا ہے، آج میری نہیں تمام پاکستانیوں کی جیت ہوئی ہے، قوم کا خون چوسنے والے قابو آئے ہیں، یہ مافیا پاکستان کو تباہ کررہا تھا لوٹ مار کرکے پیسہ باہر بھجوادیتا جس کے باعث ملک کنگال ہوچکا ہے اور قرضوں کی دلدل میں دھنس چکا ہے، پنجاب میں شہباز شریف کا بیٹا ہر پراجیکٹ کے پیچھے بیٹھا ہے، ایک تعمیراتی کمپنی کو تمام ٹھیکے دیئے جاتے ہیں، تمام خاندان صرف پیسہ بنانے پر لگا ہے، عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کے پاس اب وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز نہیںرہا ہے کیونکہ وہ صادق رہے نہ امین، ن لیگ اگر جمہوری پارٹی ہے تو خود نواز شریف کو ہٹادے ورنہ نواز شریف کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی، پارٹی سے مشاورت کے بعد آج لائحہ عمل دینگے۔

https://mostbet-games.net/ar-tn/

جے آئی ٹی سربراہ کا رپورٹ پیش کرنے کے بعد اہم بیان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءنے کہا ہے کہ ہم سچ کی تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ،بطور سربراہ تفتیش کے تمام پہلوﺅں کی ذمہ داری لیتاہوں۔ جے آئی ٹی کا سربراہ نامزد ہونا میرے لیے باعث فخر ہے، اعتماد کرنے اور جے آئی ٹی کا سربراہ بنانے پر سپریم کوٹ کر مشکور ہوں ،ہم سچ کی تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ،جے آئی ٹی ممبران کی صلاحیتوں کے بغیر ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں تھا ،جے آئی ٹی ممبران نے عزم اور غیر جانبداری سے کام مکمل کیا ،بطور سربراہ تفتیش کے تمام پہلوﺅں کی ذمہ داری لیتاہوں ۔

”گیم اوور نواز “ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

اسلام آباد( آن لائن ) سماجی رابطے کی ویب ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ گیم اوور نواز بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق معروف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیر کے روز پاناما کیس کی سماعت کے بعد گیم اوور نواز ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ صارفین اس ٹرینڈ کے حوالے سے مختلف ٹویٹس کررہے ہیں۔ گیم اوور نواز ٹویٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

چئیرمین ایس ای سی پی بارے خاص خبر ، گرفتاری سے بچنے کیلئے کیا کرینگے ، دیکھئے خبر

اسلام آباد( آن لائن ) ایس ای سی پی کے چیئرمین ظفرحجازی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت کروانے کافیصلہ کرلیا،عدالتی فیصلے کے وقت ظفرحجازی اپنے دفترمیں موجود تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پرایس ای سی پی کے چیئرمین ظفرحجازی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کاحکم دیاتھا۔جس پرظفرحجازی کیخلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔ تاہم اب ظفرحجازی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ضمانت کروانے کافیصلہ کرلیاہے۔ضمانت کے بعد ظفرحجازی انکوائری ٹیم کے سامنے تحقیقات کیلئے پیش ہوں گے۔

حکومت کیخلاف فیصلہ کن تحریک کونسی جماعت کریگی ، دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد ( نعےم جدون ) پاکستان تحرےک انصاف کا حکومتی جماعت مسلم لےگ (ن) کے خلاف فےصلہ کن تحرےک شروع کرنے کا فےصلہ کےا ہے جوحکومت کی طرف سے جے آئی ٹی رپورٹ کومسترد کرنے کا ردعمل ہے ۔ حکومتی اقدام کے خلاف جارحانہ سےاسی حکمت عملی اختےار کرنے کا فےصلہ چئےرمےن تحرےک انصاف عمران خان کی زےر صدارت پارٹی اجلاس مےں کےا گےا ہے ۔ حکومت مخالف تحرےک مےںپارٹی چئےرمےن عمران خان کی ہداےت پر دےگر اپوزےشن جماعتوں سے بھی رابطے شروع کئے جارہے ہےں جس کا ٹاسک سےنئر رہنماءشاہ محمود قرشی اور جہانگےر ترےن کو سونپا گےا ہے ۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومت کے خلاف اپوزےشن سے تعلق رکھنے والے سےاسی جماعتوں کا گرےنڈ آلائنس تشکیل دئےے جانے کا بھی قوی امکان ہے جو پارلےمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کے خلاف محاز قائم کرے گا ۔ پاکستان تحرےک انصاف کے سےنئر رہنماﺅں نے بتاےا کہ مسلم لےگ (ن) کی حکومت نے جس طرح سے جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد کی ہے اسی طرح کا ردعمل سپرےم کورٹ کے فےصلے پرکےا تو تحرےک انصاف حکومت کے خلاف سخت اقدام اٹھائے گی جس مےں اسلام آباد کی طرف مارچ اور دھرنا دےنے کا آپشن شامل ہے ۔ تحرےک انصاف اور (ن) لےگ کے درمےان محاز آرائی جمہوریت اور جمہوری اداروں کی بقاءکےلئے بھی خطرناک ہوسکتی ہے تحرےک انصاف پانامہ کےس کے فےصلے پر عمل درآمد کےلئے عوام سے رجوع کرنے اور حکومتی مشےنری کو مفلوج کرنے سمےت تمام آپشن استعمال کرسکتی ہے ۔

”سپریم کورٹ پر حملے کا وقت گیا “

اسلام آباد(صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کو جیل میں دیکھ رہا ہوں یہ کہانی کا آغاز ہے اختتام نہیں ہے،وہ وقت گزر گیا جب لوگ سپریم کورٹ پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ آور ہوتے تھے اب جمہوری زمانہ ہے، احتساب سے جمہوری نظام کمزور نہیں مضبوط ہوگا اور معاملات شفاف ہوں گے ،پاکستان میں مضبوط جمہوریت دیکھ رہا ہوں، اگر فیصلہ حکمرانوں کے خلاف آئے تو قیامت نہیں آئے گی، بیس کروڑ عوام کی خاطر چند لوگوں کو اڈیالہ جیل چلے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا،یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ حکومت سرکاری وسائل اور دباﺅ استعمال کرتی ہے اور اداروں اور عدالتوں پر دباﺅ ڈال رہی،حکومت اشتہارات کو سیاسی رشوت کے لیے استعمال کررہی ہے حکومتی اشتہارات کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنا بند ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہاں پر ہر کوئی خواہشات کے گھوڑے پر سوار ہے ہمیں خوشی ہے کہ عدالت نے تمام چیزوں کا احاطہ کیا ے اور نوٹس لے رہی ہے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ حکومت سرکاری وسائل اور دباﺅ استعمال کرتی ہے اور اداروں اور عدالتوں پر دباﺅ ڈال رہی تاکہ اپنی مرضی کے فیصلہ حاصل کر سکے اس پر ان کو ناکامی ہوئی ہے ٹمپرنگ کی بات کی جا رہی ہے پورا نظام ٹمپرنگ زدہ ہے پاکستان میں ادارے بھی ناکام بنائے گئے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اﷲ نے موقع فراہم کیا ہے کہ عوام کو انصاف مل جائے پاکستان میں 70 سال سے طاقتوروں نے عدالتوں کو مفلوج کیا ہے کمزور عدالتی نظام بااثر افراد کے ہاتھ میں ہے عوام میں مضبوط عدالتی نظام چاہتے ہیںکوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ہمارا آئین فرق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے یہ انصاف کرنے کا بہترین موقع ہے اور جماعت اسلامی انصاف کی امید پر عدالت میں کھڑی ہے۔ وہ وقت گزر گیا جب لوگ سپریم کورٹ پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ آور ہوتے تھے اب جمہوری زمانہ ہے عدالتیں اور ایوان آزاد ہیں احتساب سے جمہوری نظام کمزور نہیں مضبوط ہوگا اور معاملات شفاف ہوں گے اور پاکستان میں مضبوط جمہوریت دیکھ رہا ہوں اگر فیصلہ حکمرانوں کے خلاف آئے تو پاکستان میں قیامت نہیں آئے گی اگر بیس کروڑ عوام کی خاطر چند لوگوں کو اڈیالہ جیل چلے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے چوکوں اور چوراہواہوں میں نہیں ہوتے فیصلہ کی جگہ عدالت ہے، عدالت پر پوری قوم کا اعتماد ہے جو لوگ عدالتوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں یہ فیصلہ سے پہلے شکست خوردگی کی علامت ہے اور شکست ہے جن لوگوں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس دلائل ختم ہیں اور وہ حق پر نہیں ہیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہو میں تمام پاکستانیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان نے چاند پر قدم رکھا ہے اور ترقی کر رہا ہے۔ ساری دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے اور پاکستان کرپشن کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔ اس دلدل سے اپنی قوم، ملک اور اداروں کو نکالنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم بادشاہت اور کسی فرد کی حکمرانی کی بجائے ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس کیس کو بہت زیادہ لمبا کرنے کی بجائے فیصلہ دیا جائے تاکہ سارا آر یا پار ہو جائے تاکہ قوم کو بھی سکون ہو جائے اس کیس کے بعد یہ انتہا نہیں بلکہ یہ احتساب کی ابتدا ہے اگرچہ کچھ لوگوں نے ابھی سے رونا دھونا شروع کیا ہے۔ میں کہتا ہوں” ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا“۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما سکینڈل میں اور بھی بہت سارے لوگ ملوث ہیں۔ ہم یہ چاہیں گے کہ یہ فیصلہ اختتام تک پہنچے تو پھر دوسرے کرداروں کی بھی نقاب کشائی اور ان کے چہروں سے بھی پردہ اٹھانے کا وقت آئے گا۔