جے آئی ٹی رپورٹ، آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں ؟

لاہور(وقائع نگار)اس رپورٹ کے بعد ریفرنسز دائر ہونے کے بعد کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی روزپیشیاں بھی بھگتے اور حکومتی امور بھی سرانجام دے۔اگر عدالت عالیہ رپورٹ سے متفق ہوتی ہے تو اس کی روشنی میں متعلقہ اداروں کو حکم دے گی کہ آپ اس معاملہ کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ ریاست جو عرصہ دراز سے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی وہ اب بیدار ہوگئی ہے کہ ریاست کی رٹ کو قائم کرنا ہے کیونکہ اگر یہ نہیں ہوگی تو وہ ریاست نہیں ایک تماشہ ہے ۔حکومت کی بچت اسی میں ہے کہ عدالت میں جے آئی ٹی کی کاروائی اور اس کی رپورٹ کو تعصب پر مبنی ثابت کریں ان خیالات کا اظہار معروف قانون دانوں نے پانامہ لیکس کے حوالے سے بننے والی جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے جانے کے حوالے سے روزنامہ خبریں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔جسٹس(ر) رشید اے رضوی نے کہا کہ ہم نے تو انہیں بیس اپریل کو ہی کہا تھا کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے جب دو ججز نے فیصلہ دیا کہ یہ صادق اور امین نہیں ہیںتو سپریم کورٹ بار کے کنونشن میں بھی یہی مطالبہ دہرایا گیا تھااور اب جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد تو ویسے بھی قانونی جواز ختم ہوچکا ہے اور ویسے بھی اس رپورٹ کے بعد ریفرنسز دائر ہونے کے بعد کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی روز عدالت میں بھی پیش ہو اور حکومتی امور بھی سرانجام دے۔وزیراعظم کے پاس آپشن کم ہیں ،اب یہ اس رپورٹ کی کمزوریاں ظاہر کریں ورنہ یہی فیصلہ آئے گا کہ ان کے خلا ریفرنس دائر کیا جائے۔معروف قانون دان نوابزادہ احمد رضا خان قصوری نے کہا کہ یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ اگر آپ کی خواہش ہو تو کوئی نہ کوئی راستہ پیدا ہوجاتا ہے یہاں اب تک درجنوں جے آئی ٹیز بنی ہیں جن کی تحقیقات کا آج تک نہیں پتہ چل سکا لیکن یہاں معاملہ تھا کہ آپ نے کچھ فیصلہ کن کرنا ہے اور لوگوں کو شک تھا کہ ساٹھ دن میں کیسے معاملہ ہوگا لیکن جے آئی ٹی نے آٹھ ہزار صفحات اور دس والیم پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ کے حوالے کردی گئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمرانوں کے خلاف یہ خواہش کیسے پیدا ہوئی تو اس کی وجہ ریاست ہے اور ریاست جو عرصہ دراز سے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی وہ اب بیدار ہوگئی ہے کہ ریاست کی رٹ کو قائم کرنا ہے کیونکہ اگر یہ نہیں ہوگی تو وہ ریاست نہیں ایک تماشہ ہے ۔اب صورتحال یہ ہے کہ ایک تو یہ کہا گیا ہے کہ ایس ای سی پی کے سربراہ ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائےاور اہم بات یہ ہے کہ اس بات کا بھی کھوج لگایا جائے کہ اس کو کس نے حکم دیا کہ وہ ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کرے۔سپریم کورٹ نے اب واضع احکامات دئیے ہیں کہ کوئی بھی اب اپنے دلائل نہیںدہرائے گا اور اگلی پیشی پر سب تیاری کرکے آئیں گے لگتا تو یہ ہے کہ اس کیس کے حوالے سے فیصلہ اس ماہ کے آخر تک آجائے گا۔جو چیزیں سامنے آئی ہیں تو اس کے مطابق 62/63کے تحت صادق اور امین نہیں رہتی تو سپریم کورٹ انہیں خود ہی نااہل کرسکتی ہے۔سپریم کورٹ میں جعلی کاغذات جمع کروانے پر توہین عدالت کی بھی کاروائی ہوسکتی ہے اور کریمنل کیس بھی بن سکتا ہے۔ ماہر قانون سلمان راجہ نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ غیر متوقع نہیں ابھی اس معاملے پر فریقین کے وکلاءکے درمیان قانونی بحث ہوگی جس کے بعد اس معاملے کی شکل مختلف نظر آئے گی، سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ ابھی جے آئی ٹی کی رپورٹ آئی ہے، سپریم کورٹ نے ابھی فیصلہ نہیں سنایا، افسوس اس بات کا ہے کہ جب بھی کوئی منتخب حکومت آتی ہے تو اس پر کافی پرانے الزامات ہوتے ہیں، آخر ان کو اس وقت کیوں نہیں روکا جاتا۔

جے آئی ٹی کی صورتحال بارے طاہرہ اورنگزیب ، انجینئر افتخار کی چینل ۵ کے پروگرام نیوز ایٹ 8 میں گفتگو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کی رہنما طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کو قانون اور فوجداری مقدمات کا تجربہ نہیں تھا، جس رپورٹ میں کوئی دلیل نہ ہو وہ رپورٹ کیا ہوگی، چینل ۵ کے پروگرام نیوز ریٹ 8میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے اس رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا ،اس میں کوئی ثبوت نہیں ہیں، ہمارے پاس قانونی آپشن موجود ہے ،وزیراعظم یا انکا خاندان بالکل بھی دباو¿ میں نہیں، وزیراعظم کو عوام نے منتخب کیا وہ استعفیٰ کیوں دیںگے، تحریک انصاف کے رہنما انجینئر افتخار نے کہا کہ جے آئی ٹی نے تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی ہے جس میں انہوں نے بہت محنت کی ہے ، ابھی رپورٹ پیش کی گئی ہے فیصلہ کرنا باقی ہے، لیکن ان لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا ہے، ابھی تو اس کیس سے بہت کچھ نکلے گا، اگر یہ لوگ سمجھدار ہوتے تو خاموش رہتے۔

”پانامہ رپورٹ کی گولی کنپٹی کو چھو کر گزر گئی “بی بی سی کا دلچسپ تبصرہ

اسلام آباد (نیٹ نیوز) جس روز سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے دو ججوں نے نواز شریف کی برطرفی کے حق میں اور تین ججوں نے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ دیا اس روز شریف خاندان کے ایک رکن نے کہا ’گولی کنپٹی چھوتی گزر گئی‘۔اس روز مسلم لیگ نون نے ’جان بچی سو لاکھوں پائے‘ کی خوشی میں اور پی ٹی آئی نے انتخابی شیر کے زخمی ہونے کی سرشاری میں مٹھائی بانٹی۔ دونوں کیمپوں نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا اور شریف خاندان کی جانب سے کہا گیا کہ ’ہم پورا تعاون کریں گے اور جو بھی فیصلہ ہوا اس کا احترام کریں گے‘۔ (پاکستان شاید اکلوتا ملک ہے جہاں عدالتی فیصلوں پر عمل کم اور احترام زیادہ ہوتا ہے)۔مگر جیسے جیسے جے آئی ٹی کی جانب سے فلاں ابنِ فلاں بنتِ فلاں، برادرِ فلاں، دامادِ فلاں، ہم زلفِ فلاں حاضر ہو کی پکار پڑتی چلی گئی توں توں دھواں چھوڑنے والے گولوں اور کیچڑ اڑانے کا کام بھی تیز ہوتا چلا گیا۔ شریف خاندان نے جے آئی ٹی کے سامنے اپنی اجتماعی طلبی کا جس طرح سے خیر مقدم کیا اس پر مجھے حضرتِ جوش ملیح آبادی کی سوانح ’یادوں کی بارات‘ کا ایک قصہ یاد آ رہا ہے۔ لبِ لباب قصے کا یوں ہے کہ جب سرکار نے حکم دیا کہ علاقے کے تمام تعلقہ دار اپنا اسلحہ سرکار کے مال خانے میں جمع کروا کے رسید لے لیں تو چچا جان کا آفریدی خون اس توہین آمیز حکم کی آنچ پر ابل پڑا۔ طے پایا کہ کوتوال فلاں دن اور وقت چچا جان کی حویلی پر آئے گا اور تمام اسلحہ مہربند ہمراہ لے جائے گا۔ جب کوتوال دیوان خانے میں پہنچا اور چچا جان کو آداب کیا تو چچا جان کے گال غصے سے تمتما اٹھے۔ ماحول مکمل سکتہ زدہ تھا۔ ملازموں نے تمام بندوقیں لا لا کر سامنے رکھ دیں۔ چچا جان ایک ایک بندوق اٹھاتے، اس پر جوتا مارتے اور کوتوال کو یہ کہتے ہوئے حوالے کرتے جاتے کہ یہ رکھ لیجیے اور یہ بھی اور یہ بھی اور یہ بھی۔۔۔ اور کوتوال ہر بندوق سلام کرتا وصولتاً جاتاجب تک بھی جے آئی ٹی چلی انصافیے ہوں کہ نونئیے انہوں نے دشنام کا پرانا اور نیا سٹاک گودام سے نکال کر تہذیب کے بازار میں سیل لگا دی۔ پی ٹی آئی کا نشانہ شریف خاندان رہا اور شریف خاندان نے چومکھی چھیڑ دی۔نون لیگ کے لشکر کے قلب نے پی ٹی آئی کو نشانے پر رکھا۔ میمنہ نے اسٹیبلشمنٹ (ملٹری کریسی ) اور میسرہ نے عدلیہ کو سیدھا نشانہ بنانے کے بجائے ہوائی فائرنگ پر رکھا۔ پیپلز پارٹی کا عبداللہ بھی دیوانہ ہو گیا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کسے چھوڑے کسے نشانہ بنائے۔میڈیا ان بے مہار لمڈوں جیسا ہو گیا جو ہر کٹی پتنگ کے پیچھے ڈانگ اٹھائے بھاگنے اور ہر بارات میں پیسے لوٹنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس ہڑا ہڑی میں خود جے آئی ٹی بھی کسی سے پیچھے نہ رہی۔ کام کے اس قدر دباو¿ کے باوجود اس کے پاس ہر اخبار پڑھنے اور ہر چینل دیکھنے کی فرصت رہی۔اس کا ثبوت سپریم کورٹ میں ہر پندھرواڑے پیش کی جانے والی وہ رپورٹ ہے جو آدھی سے زیادہ اس تحقیق پر مشتمل تھی کہ کس اخبار اور چینل میں جے آئی ٹی کے ارکان کے لیے کیا چھپا اور کیا بولا گیا۔جے آئی ٹی میں شریک تفتیش کاروں کے اداروں نے بھی ایک دوسرے کی خوب خبر لی، کون روڑے اٹکا رہا ہے، کون تعاون کر رہا ہے، کون ریکارڈ میں تبدیلی کر رہا ہے، کون سا معلوم مگر نامعلوم ادارہ حسین نواز کی تصویر کی لیک کا ذمہ دار ہے، کون کس کے فون ٹیپ کر رہا ہے اور کون سے ادارے کے سادے جے آئی ٹی کے کس رکن کے گھر کے قریب مونچھوں کو تاو¿ دیتے منڈلا رہے ہیں۔یہ جے آئی ٹی قطری شہزادے کی وجہ سے بھی یاد رکھی جائے گی۔ جن کے بھیجے دو خطوط کا لبِ لباب وہی تھا جو کوئی معزز افسر بطور کرم فرمائی کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے طور پر کسی بھی احسان مند کے لیے لکھ دیتا ہے۔’باعثِ تحریر آنکہ۔ منکہ مسمی فلاں ابنِ فلاں کو عرصہ پینتیس برس سے جانتا ہوں۔ یہ انتہائی شریف اور قول کے پکے سچے خاندانی آدمی ہیں۔ میں نے انہیں مالی لین دین میں نہایت کھرا پایا۔ دعا ہے کہ یہ جہاں بھی رہیں خوش رہیں۔ نیک تمناو¿ں کے ساتھ۔ منکہ مسمی‘۔ظاہر ہے عدالت ایسے کیریکٹر سرٹیفکیٹ کا کیا کرتی۔ تاوقتیکہ’باعثِ تحریرِ آنکہ‘ بذات خود شہادت کے لیے پیش نہ ہو۔ چنانچہ قرائن نے واضح کر دیا کہ شریف خاندان اور قطری شہزادے کی کاروباری پارٹنر شپ غالباً ویسی ہی ہے جیسی اونٹ اور پہاڑ کے مابین ہوتی ہے۔جنابِ شیخ نے اپنے دوست کو گرداب سے نکالنے کے لیے اتنی دلچسپی بھی نہ دکھائی جتنی تلور سے ظاہر کی جاتی ہے۔ اب تو مجھے وزارتِ خارجہ کے اس دعوعے پر بھی شبہہ ہونے لگا ہے کہ پاکستان اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات کا بنیادی ستون تلور ہے۔دشنامی، بدنامی، غصے اور شرمندگی سے آسمان آلودہ کرنے کے بجائے یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ جس روز سپریم کورٹ نے جزوی قصور وار قرار دیا تھا اسی روز شام کو میاں صاحب قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہتے کہ اگرچہ عدالت نے انہیں حقائق چھپانے کا واضح طور پر مجرم قرار نہیں دیا لیکن جب تک ان کی ذات پر سے شک و شبہے کے بادل نہیں چھٹ جاتے تب تک وہ اپنے عہدے سے کنارہ کش ہوتے ہوئے اپنی بے گناہی کا مقدمہ ذاتی حیثیت میں لڑیں گے اور خدا کے فضل سے سرخرو ہوں گے۔اگر ایسا ہو جاتا تو وزیرِ اعظم کے ہانکے کی سوچنے والے دھرے رہ جاتے اور جمہوریت کو بہت ہی طاقتور اخلاقی انجیکشن بھی لگ جاتا۔ انجیکشن تو اب بھی لگے گا مگر جانے کسے اور کہاں لگے۔

لاہو ر اور کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقو ں میں بارش سے مو سم خوشگوار

کراچی(ویب ڈیسک)شہرقائد کے مختلف علاقوں میں بوندا باندی اورہلکی بارش جاری ہے جس کے موسم مزید خوشگوار ہوگیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی اور گرد و نواح کے علاقوں میں وقفے وقفے سے بوندا باندی اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے موسم مزید خوشگوارہوگیا ہے تاہم آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہرقائد میں آج صبح درجہ حرارت 26.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، زیادہ سے زیادہ سے درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے جب کہ دن بھر15 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے سمندری ہوائیں چلتی رہیں گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روزائیرپورٹ 2.4، گلستانِ جوہر 2، ناظم آباد 1.5، نارتھ کراچی اور صدر میں 1 ملی میٹر جب کہ سب سے زیادہ گلشنِ حدید میں 3 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔

”سپریم کورٹ فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے فوج بُلاسکتی ہے“ سابق صدر سپریم کورٹ بار کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے ایک حصہ مکمل ہو گیا۔ جے آئی ٹی کے ارکان کو سپریم کورٹ نے مکمل ”پروٹیکشن“ فراہم کی۔ حکومت کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ انہیں کسی مرحلے پر بھی فارغ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سپریم کورٹ اس کی ذمہ داری اس طرح نہ نبھاتی تو مستقبل میں کوئی ملازم اس بات پر تیار نہ ہوتا کہ وہ کسی قسم کی تفتیش کا حصہ بنے۔ بہرحال یہ رپورٹ ہے ابھی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہے کہ نوازشریف نے اپنی آمدن جو دکھائی ہے ان کے اثاثے اس سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وہ کہیں زیادہ ہیں۔ اسی طرح وہ منی ٹریل پر تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔ ایک سفارش یہ پیش کی گئی ہے کہ نوازشریف کے خلاف ریفرنس‘ نیب میں جمع کرا دیا جائے۔ دوسرا بڑا فیصلہ اس رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ ظفر حجازی کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کی جائے‘ کیا انہوں نے حکومت کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ وزیرداخلہ کے تحت ہی سی ای سی پی کا ادارہ کام کرتا ہے‘ لیکن جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار کو اس معاملہ پر طلب نہیں کیا۔ نوازشریف اور ان کی فیملی کا سب سے بڑا دفاع قطری شہزادے کا خط تھا۔ حکومتی وزراءبار بار اس کا اعلان کرتے رہے کہ اگر اس خط کو نہیں شامل کیا گیا تو ہم فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔پارلیمنٹ اور سینٹ میں کوئی شخص جب اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہے تو اداروں کے سربراہ اس وقت تک استعفیٰ قبول نہیں کرتے جب تک وہ خود پیش ہو کر دستخطوں کی تصدیق نہ کر دے۔ یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے استعفیٰ بغیر کسی دباﺅ کے دیا ہے تو وہ قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح قطری شہزادے نے عدالت کے نمائندوں کے سامنے اس خط کو قبول کرنا تھا۔ اگر وہ پاکستانی عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے تھے۔ تو جے آئی ٹی ارکان کو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیتے۔ جے آئی ٹی کے دو ارکان دبئی تک تو پہنچے لیکن قطر نہیں گئے۔ قطری خط پر عدالت کو حق حاصل تھا کہ وہ اس کی توثیق کرے یا سوال جواب کر کے مزید تفاصیل حاصل کرے۔ یہ معاملات نہیں ہوئے اس لئے صاف دکھائی دیتا تھا کہ عدالت اسے قبول نہیں کر رہی۔ تمام سیاسی جماعتوں کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس رپورٹ کو کس طرح دیکھتی ہے اور اس کے بارے کیا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی ماضی کی کارروائیوں سے ایسا لگتا ہے کہ اگر حکومت اس رپورٹ کے خلاف عدالت جائے گی تو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ عدالت کے ساتھ معذرت کے ساتھ یا تو حکومت تمام بنچ کو فارغ کر دے اور اس کی چھٹی کرا دے کیونکہ ان کا فیصلہ انہیں پسند نہیں آیا۔ ابھی سپریم کورٹ کا اصل فیصلہ آنا باقی ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ فریقین، نواز لیگ، شیخ رشید، سراج الحق اور عمران خان کو دے دی گئی ہے۔ بہتر ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ اس کے بعد وہ نظرثانی پر جا سکتے ہیں۔ تمام فریقین کو آئینی اور قانونی جنگ لڑنی چاہئے بجائے اس کے کہ میڈیا میں سڑکوں اور جلسوں میں معاملات اچھالے جائیں۔ سیاسی پارٹیوں میں جان نثاروں اور جیالوں کی کمی نہیں ہوتی وہ ہر وقت اپنے لیڈر کے اشارے کے منتظر ہوتے ہیں کہ اب کیا کرنا ہے۔ جس طرح ماضی میں سپریم کورٹ پر حملہ بھی ہو چکا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے تحت میاں فیملی منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے اخراجات آمدن سے بہت زیادہ ہیں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز کے بارے کہا گیا کہ ان کی باتیں غلط ہیں۔ یہ معمولی الفاظ نہیں ہیں۔ بہتر ہے سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد فریقین آئینی اور قانونی جنگ لڑیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ کا معاملہ کچھ اور تھا۔ جس طرح ان کی چھٹی کرائی گئی۔ ایسا اب دکھائی نہیں دیتا کہ حکومت کسی طریقے سے بھی چیف جسٹس کو ہٹانے کی کوشش کرے گی۔ میں نے چوہدری نثار علی خان صاحب سے ذاتی طور پر پوچھا کہ ڈان لیکس کی تو بات بار بار ہوتی ہے یہ تو بتائیں کہ رپورٹ کی ایک کاپی آپ کے پاس دوسری کاپی وزیراعظم صاحب کے پاس ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی تفاصیل تمام چینلز پر آ رہی ہیں اور اخبارات میں اس کا مواد شائع کیا جا رہا ہے؟ یہ لیکس کون کر رہا ہے؟ چوہدری نثار علی خان نے اس لیکس پر جو جواب دیا وہ پھر کسی وقت بتاﺅں گا اور اس پر لکھوں گا۔ ہمارے اخبارات کو بھی احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وقت سے قبل چیزیں شائع نہ کریں۔ آج بھی یہ معاملہ سامنے آیا ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان نے یہ تمام معلومات کسی اخبار کو دی ہیں۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ یہ سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کے تمام ذمہ داران کو منظر عام پر لے کر آئے۔ سپریم کورٹ کی کوئی بھی کارروائی اور جے آئی ٹی کی کوئی بھی کارروائی خفیہ نہیں رہتی۔ نہ ہی ڈان لیکس کی رپورٹ خفیہ رہتی ہے۔ یہ کس قسم کی حکومت ہے کہ ہر خفیہ معلومات ”آوٹ“ ہو جاتی ہیں۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ معلومات کہاں سے آئی ہیں تو وہ کہنے لگے ٹائپ کی ہوئی رپورٹ کی کاپی نکال لی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق منی ٹریل ثابت نہیں ہو سکا۔ ان کے الفاظ جھوٹ ہیں؟ اتنے سخت الفاظ کے بعد کیا میاں فیملی کے حق میں فیصلہ دیا جا سکتا ہے؟ بعض وزراءکے خیال کے مطابق فوراً احتجاج کا سلسلہ شروع کر دینا چاہئے کیا موجودہ صورتحال میں سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف حکومت کوئی کارروائی کر سکتی ہے؟ کیا حکومت کی طرف سے کئے جانے والے احتجاج کو سپریم کورٹ روکے گی؟ سابق صدر سپریم کورٹ بار علی ظفر شاہ نے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ آج کی رپورٹ کے بعد ایک معاملہ تو ختم ہو گیا کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو کلین چٹ نہیں دی۔ اس کا امکان بھی ختم ہو گیا ہے۔ تاہم ابھی 63,62 پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کورٹ نے اب فیصلہ کرنا ہے کہ نوازشریف اوران کی فیملی کے خلاف جوڈیشل یا کریمینل ”پروسیڈنگ“ کرنی ہے یا نہیں۔ عدالت کے آج کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم نااہل نہیں ہوئے تاہم ابھی عدالت فریقین کو سنے گی اور پھر حتمی فیصلہ دے گی۔ جے آئی ٹی نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ نوازشریف اور ان کی فیملی منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لیکن یہ کوئی عدالت نہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنی معاونت کے لئے ایک ٹیم بنائی تھی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک بات ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ دوسری بات لیکن اس رپورٹ سے ایسا نہیں لگتا کہ نوازشریف اور ان کی فیملی کے حق میں کوئی فیصلہ دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ آف یو ایس اے کا سکول کے بارے میں آنے والے فیصلے کو سدرن اسٹیٹس نے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہاں ایک احتجاجی کیفیت بن گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے آہستہ آہستہ اپنے فیصلے کو منوانے کے لئے اقدامات کر لئے۔ ہمارا آئین اور قانون یہ کہتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ مانا جا رہا ہو تو وہ فوج کو کال کر سکتے ہیں کہ ہماری مدد کرے۔ سجاد علی شاہ کے معاملے میں دو بنچ بنے ہوئے تھے۔ ایک بنچ جو فیصلہ دیتا تھا۔ دوسرا بنچ اس کو رد کر دیتا تھا۔ ایسا معاملہ چلتا رہا۔ بالآخر جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹا دیا گیا۔ لیکن ایسا ہوتا اب دکھائی نہیں دیتا کہ حکومت، چیف جسٹس کو ہٹانے کی کوشش کرے۔ سپریم کورٹ جے آئی ٹی پر یہ ریمارکس دے رہی ہے کہ میاں فیملی منی ٹریل ثابت نہیں کر سکی اور حسن، حسین اور مریم نواز کے الفاظ جھوٹ ہیں۔ کیا جے آئی ٹی کی رپورٹ کے متن کی کاپیاں جو سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلاءکو دی ہیں۔ ان کا متن جاری ہو گیا ہے؟پروگرام میں تجزیہ کار مزمل گجر نے کہا کہ ایک کاپی ہمیں ابھی تھوڑی دیر پہلے موصول ہوئی ہے جس کے مطابق مریم نواز نیسکول اور لیکسن کمپنی کی مالک ثابت ہوئی ہیں اور وزیراعظم صاحب بھی ایک آف شور کمپنی کے مالک ثابت ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم کے بچوں کے اثاثے کم ”شو“ کئے گئے ہیں۔ کمپنیوں کو نقصان میں دکھایا گیا ہے لیکن بہت زیادہ پیسے استعمال کئے گئے ہیں۔ نقصان کے بعد کمپنی سے زیادہ پیسے کس طرح استعمال کئے جا سکتے ہیں۔حکومت کہتی ہے کہ ہم جے آئی ٹی کی رپورٹ کو نہیں مانتے اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے نوازشریف ہی وزیراعظم رہیں گے اور ان سے کوئی استعفیٰ نہیں لے سکتا۔ عمران خان کا کہنا ہے نوازشریف مجرم ثابت ہو چکے ہیں۔ انہیں اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں عمران خان یہ بھی کہتے ہیں کہ نوازشریف کے ساتھ ساتھ ایاز صادق بھی استعفیٰ دیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ حکومت اب سپریم کورٹ سے جنگ کرے گی وہ چاہتی ہے کہ اسے غیر آئینی طور پر ہٹا دیا جائے۔

عمران خان نااہل،پی ٹی آئی پر پابندی،اہم شخصیت کے انکشاف نے نیا پینڈورا باکس کھو ل دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے عمران خان پر یہودیوں اور بھارت کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا ہے۔الیکشن کمیشن کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں عمران خان کے حیلے بہانے جاری ہیں، پیسہ ہمیشہ عمران خان کی کمزوری رہا ہے اور آج عدالت نے بھی عمران سے پوچھا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، خدشہ ہے کہ عمران خان کے والد نے بھی کرپشن کی ورنہ ایک ایس ڈی او کا بیٹا آکسفورڈ یونیورسٹی میں کیسے پڑھنے جاسکتا ہے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان یہودیوں اور بھارت کے ایجنٹ ہیں، وہ روز ٹی وی پر آکر جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے پاس بنی گالا کی منی ٹریل موجود ہے، انہوں نے 35 سال ہاتھ پھیلا کر عطیات جمع کئے اورصدقات و خیرات کے پیسوں سے بیرون ملک سرمایہ کاری کی، ان کے وکیل عدالت میں مان چکے ہیں کہ انہوں نے فارن فنڈنگ کی ہے، اب عمران خان نااہل ہونے والے ہیں اور الیکشن کمیشن نے بھی کہہ دیا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کریں گے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جے آئی ٹی کے بارے میں ہمارے خدشات گزشتہ روز سچ ثابت ہوئے، بڑے بڑے صندوقوں میں مفروضات کے سوا کچھ نہیں تھا، عمران خان اور شیخ رشید کو جے آئی ٹی کے اندر کے سوالوں کا پتہ کیسے چل جاتا تھا، ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان کے گھر انتظار کرنے اور رونے والا کوئی نہیں ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نت نئی کہانیاں اور ڈرامے دیکھنے کو ملتے ہیں، اب کرپشن کی جو کہانی بنائی جارہی ہے اس کا مدعی وہ شخص بننا چاہتا ہے جس پر اخلاقی کرپشن ثابت ہوچکی ہے، ہم عمران خان کی حقیقت لوگوں کو بتانے پر مجبور ہیں، ان کے والد کو کرپشن کرنے پر نوکری سے نکالا گیا اور کرپشن کے پیسوں سے ہی عمران خان بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے۔طلال چوہدری نے کہا کہ یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ کسی کی فرمائش پر وزیراعظم مستعفیٰ ہوجائیں ہمارے تمام اقدامات اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا جس دن عوام کی جے آئی ٹی ہمیں گناہ گار کہے گی ہم اپنے گھر چلے جائیں گے۔

سی پی این ای کا ”رائٹ ٹو انفارمیشن سہولت ڈیسک“ کے قیام کا اعلان

کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے وفاقی اور صوبائی سطح پر رائٹ ٹو انفارمیشن کے قوانین اور معلومات سے متعلق ایڈیٹروں، صحافیوں اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر سی پی این ای کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ”رائٹ ٹو انفارمیشن سہولت ڈیسک“ کے قیام کا اعلان کیاہے تاکہ ایڈیٹروں، صحافیوں اور عام شہریوں کو معلومات کے حصول میں رکاوٹ کی صورت میں رہنمائی اور معاونت فراہم کی جاسکے ۔ سہولت ڈیسک کے قیام کا یہ فیصلہ سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد کی صدارت میں منعقدہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس نے وفاقی سطح پر سرکاری اشتہارات کی تقسیم کو غیر منصفانہ اور سیاسی بنیادوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے خلاف ایک دباو¿ قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں وفاقی حکومت کے اشتہارات کی تقسیم کی معلومات کو مخفی رکھنے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے رائٹ ٹو انفارمیشن کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، حالانکہ تین چار ماہ قبل اشتہارات کی تقسیم کی تفصیلات کو پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر آویزاں کیا جارہا تھا۔ سی پی این ای نے اشتہاری ایجنسیوں کی جانب سے اخبارات کے اشتہارات کے لئے ادائیگی کی منظوری کو متعلقہ اخبارات کی انوائسز کے ساتھ مشروط کرنے کے فیصلے پر بھی وفاقی پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے عملدرآمد نہ کرنے کے عمل کو بد عہدی اور بدعنوانی پر مبنی قرار دیا ہے اس طرح اخبارات اور حکومت کو شدید مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ اجلاس میں وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کے مجوزہ خودکار نظام پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اے بی سی کے نئے نظام کے تحت اخبارات و جرائد کے لئے تو خودکار سافٹ ویئر نظام بنایا گیا ہے لیکن سرکولیشن کی تعداد کے تعین کے لئے خودکار نظام کے بجائے شخصی بنیادوں پر پرانا صوابدیدی نظام برقرار رکھا گیا ہے جس کی بنا پر سرکاری مداخلت، ناانصافیوں اور بدعنوانیوں کو فروغ دینے کا عمل نہ صرف بدستور رائج رہے گا بلکہ مزید تیز ہوگا۔ مزید برآں آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کایہ مجوزہ نظام آڈٹ بیورو آف سرکولیشن کی بجائے ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سینٹر کے تحت چلایا جا رہا ہے جس سے معلومات اور ریکارڈ میں ردوبدل کے خدشات بھی ہیں، لہٰذا غلطیوں، خامیوں اور صوابدیدی اختیارات سے پاک آٹومیشن سافٹ ویئر نظام کی تشکیل تک اسے مو¿خر کیا جائے۔ اجلاس میں سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صحافیوں اور میڈیا ہاو¿سز کی سیکورٹی کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔اجلاس میں سی پی این ای ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کے لئے صدر اور سیکریٹری جنرل کو اختیار دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ذیلی کمیٹی کے تین ماہ تک کوئی بھی اجلاس طلب نہ کرنے کی صورت میں کمیٹی غیر فعال تصور ہوگی۔صدر ضیا شاہد نے صوبائی صدور کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے علاقے کے مدیران، صحافیوں اور ان کے اداروں کو درپیش مسائل اجاگر کریں۔ قبل ازیں ممتاز صحافی، روزنامہ جہاد اور اتحاد کے چیف ایڈیٹر شریف فاروق کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اجلاس میں سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد، سینئر نائب صدر شاہین قریشی، سیکریٹری جنرل اعجازالحق، نائب صدور عامر محمود، رحمت علی رازی، طاہر فاروق، انور ساجدی، سینئر رکن وامق زبیری، قاضی اسد عابد، اکرام سہگل، غلام نبی چانڈیو، کاظم خان، ڈاکٹر جبار خٹک، امین یوسف، عارف بلوچ، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی، نصیر ہاشمی، حامد حسین عابدی، عبدالرحمن منگریو، خلیل الرحمن، تنویر شوکت، اسلم خان، محمد یونس مہر، بشیر احمد میمن، سید کامران ممتاز، مبشر میر، ابرار بختیار، عرفان عزیز، شیر محمد کھاوڑ، احمد اقبال بلوچ اور زاہدہ عباسی نے شرکت کی۔

برسات اور امراض

ڈاکٹر نوشین عمران
مختلف امراض سے آگاہی اور بروقت حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کیلئے سال میں کئی بار قومی ادارہ صحت کی جانب سے الرٹ جاری کئے جاتے ہیں، جون سے ستمبر کے مہینوں میں چند امراض کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ، برسات کے باعث مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
کانگووائرس: جانوروں میں پلنے والے چیچڑ کے کاٹنے سے پھیلنے والا وائرس کانگو فیور کا باعث بنتا ہے ، شدید سردرد، تیز بخار، کمردرد، جوڑوں میں درد، پیٹ میں مروڑ، سرخ آنکھیں ، قے متلی، سرخ چہرہ، جسم پر سرخ دھبے اس کی علامات ہیں، مرض بڑھنے پر ناک منہ سے خون بہنے لگتا ہے ، کانگو وائرس کا صرف ایک ہی مریض صحت کے اداروں کیلئے الرٹ ہے، شہروں کی نسبت گاو¿ں یا پسماندہ علاقوں میں مویشی پال افراد میں اس مرض کا زیادہ خدشہ ہے۔
چکن گونسیا: یہ وائرس بھی مچھر کے کاٹنے سے ہی پھیلتا ہے ، بخار، جسم درد، سردرد، قے ، تھکان، نقاہت اس کی ابتدائی علامات ہیں، اس کے علاج کیلئے کوئی خاص اینٹی وائرل دوا نہیں، علامات کو کنٹرول کرنے کیلئے مختلف ادویات دی جاتی ہیں۔
ڈینگی: مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والا ایک اور وائرس ڈینگی کا باعث بنتا ہے ، پاکستان میں ڈینگی کی وباءپہلی بار 1994میں پھیلی، تیز بخار ، جوڑوں میں درد، قے متلی، آنکھوں میں اور سر کے اگلے حصے میں شدید درد اس کی ابتدائی علامات ہیں، مرض بڑھنے پر ناک منہ سے خون ، خون کی قے ، پیشاب پاخانے میں خون، جسم پر سرخ نشان پڑجاتے ہیں، مریض کی علامات کنٹرول کرنے اور جسم سے پانی کی کمی دور کرنے کیلئے ادویات اور ڈرپ دی جاتی ہیں۔
ہیضہ: ہیضہ یا ”کالرا“ بیکٹیریا سے ہونے والی انفکشن ہے، پانی کی طرح دست ، قے ، ٹانگوں میں درد، جس میں پانی کی کمی اس کی علامات ہیں، علاج نہ ہونے سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے جو بعض اوقات موت کا باعث بنتی ہے ، بیکٹیریا پانی یا کھانے کی اشیاءکے ذریعے ہی پھیلتا ہے ، مریض کے پاخانے کیلئے ہی بیکٹیریا پھیلتا ہے اور پانی یا خوراک کو آلودہ کرتا ہے، برسات میں ہیضہ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے ، علامات شروع ہوتے ہی مریض کو نمکول ، او آر ایس دینا شروع کردیں اور فوری ہسپتال میں دکھائیں، ہیضہ کالرا سے بچاو¿ کیلئے ویکسیئن دستیاب ہے۔
ملیریا: مچھر کے کاٹنے سے ہونیوالا مرض ملیریا جولائی سے ستمبر تک بڑھ جاتا ہے ۔
خسرہ: اوبیلا بھی وائرس سے ہونیوالا مرض ہے، بخار ، جسم پر دانے ، پٹھوں میں درد، آنکھوں کی سرخی ، گلا خراب ، منہ میں سفید چھالے اس کی علامات ہیں، بچوں میں اس کا خدشہ زیادہ ہے، ایسے علاقے جہاں کوئی بچہ ویکسئین نہ لگوانے کے باعث خسرہ کا شکار ہو ،اپنے گرد ایسے بچوں میں مرض پھیلانے کا باعث بنتا ہے جن میں ویکسیئن مکمل نہ ہوئی ہو۔
ٹائیفائیڈ: لمبا عرصہ رہنے والا تیز بخار، متلی ، بھوک کا خاتمہ، قبض ، پیٹ میں درد اس کی ابتدائی علامات ہیں، آلودہ پانی اور کھانے پینے کی اشیاءسے پھیلنے والا بیکٹیریا برسات کے موسم میں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے ۔
ہیپاٹائٹس AاورE: وائرس سے پھیلنے والامرض، علامات میں پیلی رنگت ، آنکھوں کا پیلا رنگ، بھوک کا خاتمہ، پیلا پیشاب، تھکان، ہلکا بخار شام ہیں، چونکہ یہ وائرس بھی آلودہ پانی اور کھانے کی اشیاءکے ذریعے ہی پھیلتا ہے ،برسات میں اسکے پھیلنے کا رسک بہت بڑھ جاتا ہے ، ہیپاٹائٹس Aکی ویکسئین دستیاب ہے۔
٭٭٭

نواز شریف اپنی بات کی پا سداری کریں،خورشیدشاہ کابھی وزیر اعظم سے بڑا مطالبہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے خود کہا تھا کہ الزامات ثابت ہوگئے تو مستعفیٰ ہوجاو¿ں گا آج پارلیمنٹ خطرے میں ہے وزیراعظم اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں۔
اسلام آباد میں اپنے چیمبر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خود عہدہ چھوڑ کرعدالتی فیصلے پرعملدرآمد کیا تھا اور پھرملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرامن انتقال اقتدار ہوا لیکن آج پارلیمنٹ خطرے میں ہے نواز شریف نے کہا تھا کہ الزامات ثابت ہو جائیں تو استعفا دے دوں گا میرا مطالبہ ہے وزیر اعظم اپنے کہے کی پاسداری کریں اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت آج جس رویئے کا اظہار کر رہی ہے وہ باعث تشویش ہے، وزرا اداروں کو بدنام کر رہے ہیں جب کہ ریاست شخصیات سے نہیں بلکہ اداروں سے چلتی ہے اور اداروں کے کمزور ہونے سے دشمن مضبوط ہو رہے ہیں اگر حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ چلے تو وزیر اعظم اپنے عہدے سے علیحدٰہ ہوجائیں۔

عمران خان ثبوت دیں ورنہ نتائج کیلئے تیار ہو جائیں،بڑی عدالت کا بڑا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نااہلی کیس میں چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے بنی گالہ کی اراضی خریدنے سے متعلق منی ٹریل اور بیرون ممالک سے پارٹی فنڈنگ کے بارے میں تفصیلات طلب کرلیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر قانونی اثاثوں اور ٹیکس چوری کے حوالے سے حنیف عباسی کی دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو گذشتہ سماعت پر کیے گئے سوالات کا جواب دینے کی ہدایت کی جس پر نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے زمین اپنی اہلیہ کے لئے خریدی تھی اور یہ ان کی ملکیت تھی لیکن طلاق کے بعد وہ زمین اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی تھیں اس لئے سابق شوہر کو تحفے میں دی اور انتقال کے لئے سیف اللہ سرور کو پاور آف اٹارنی دیا۔
عمران خان کے وکیل کا موقف تھا کہ طلاق کے بعد جمائما کے نام کوئی زمین منتقل نہیں ہوئی اور انتقال میں زوجہ درج ہونے کی وجہ انتقال میں تاخیر ہے جس کے لئے وہ ذمہ دار نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زمین کے انتقال کا عمل 2002 میں شروع ہوا لیکن پابندی کی وجہ سے اس وقت یہ عمل مکمل نہیں ہوسکا اور وہ عمل 2005 میں مکمل ہوا۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران اور جمائما میں طلاق جون 2004 میں ہوئی جب کہ بنی گالہ کی زمین کا آخری انتقال 2003 میں ہوا۔ عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ رقم کی ترسیل کے بارے ان کے پاس موجود ثبوت انھوں نے جمع کرادیئے لیکن جمائما سے رابطہ کرکے ان سے ان کے پاس دستیاب دستاویزات مانگی گئی ہیں ،موصول ہونے پر جمع کرادی جائیں گی۔
نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان 1981سے اب تک کا ٹیکس ریکارڈ سر بمہر لفافے میں جمع کردیا ہے ،عدالت اسے دیکھ سکتی ہے لیکن درخواست گزار کو اسے دیکھنے کا حق حاصل نہیں۔ نعیم بخاری نے شاہراہ دستور پر گرینڈ حیات کمپلیکس میں فلیٹ کی خریداری کے لئے رقم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس ریٹرن اور الیکشن کمیشن میں جمع گوشواروں میں رقم کا ذکرکیا گیا ہے لیکن جائیداد اس لئے ظاہر نہیں کی گئی کہ ابھی تک اسے الاٹمنٹ نہیں ہوئی۔انھوں نے مزید بتایا کہ لندن فلیٹ کا انکم ٹیکس ریٹرن میں اس لئے ذکر نہیں ہوا کیونکہ وہ بیرون ملک کمائی گئی رقم سے خریدا گیا تھا لیکن 2000میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت انھوں نے فلیٹ ظاہر کرکے ٹیکس ادا کردیا اور یہ معاملہ حل ہوگیا کیونکہ سی بی آر نے ان کی درخواست پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے غلط طور پر فائدہ اٹھایا گیا کیونکہ یہ اس طرح کے اثاثوں کے لئے نہیں تھی ،یہ ملکی اثاثوں کے لئے تھی اورنیازی سروسزلمیٹیڈ پاکستان میں نہیں تھی۔