گلف سٹیل مل ،آخر کا روزیر اعظم نے حقائق سے پر دہ اٹھا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گلف اسٹیل مل قرضہ لے کر قائم کی گئی۔جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں گلف اسٹیل مل فروخت کے معاملات کو زیر بحث نہیں لانا چاہتا کیونکہ یہ چیزیں میرے والد کو اچھی طرح معلوم تھیں میں صرف یہ جانتا ہوں کہ یہ کاروبار پاکستان سے باہر قائم کرنے کے حوالے سے ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ الثانی فیملی کو گلف سٹیل مل فروخت کے بعد منتقل کی گئی۔ میں نہ تو گلف اسٹیل مل کے معاملات میں دلچسپی لیتا ہوں اور نہ ہی اس کا مالک ہوں میں کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو چلانے میں شامل نہیں رہا۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے پارلیمنٹ اور جے آئی ٹی میں گلف سٹیل مل کے حوالے سے دیے گئے بیان میں کافی تضاد ہے۔ نواز شریف کی گلف اسٹیل مل کو 9ملین ڈالر یا 33.37ملین روپے میں فروخت کرنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سپریم کو رٹ سے عمران خان نااہلی کیس کی سب سے بڑی خبر بھی آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان آف ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کی، اس موقع پر وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ یہ سارا کیس فارن فنڈنگ کی بنیاد پر چل رہا ہے جب کہ عمران خان کے وکیل کی جانب سے تاحال جواب نہیں آیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 14جون 2017ئ کو عدالت نے جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا، وجہ یہی تھی کی عدالتی کارروائی میں خلل نہ آئے اب دیکھ رہے ہیں کہ 2 درخواستوں پر جوا ب نہیں آیا۔سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت سے معافی مانگی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ساری چیزیں معافی سے تو حل نہیں ہوتیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی چھٹیوں کے باوجود ججز چھٹیاں نہیں لے رہے، تعاون کی بات ہے تعاون پر ہی معاملات چلتے ہیں،عمران خان کے وکیل انورمنصور خود 21جولائی تک چھٹیوں پر چلے گئے اور انہوں نے درخواستوں پر جواب بھی جمع نہیں کرائے لہذا عمران خان خود پیش ہو کر بتائیں عدالتی سوالات کے جواب کون دے گا۔
جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس میں کہا کہ چاہتے ہیں وکلا عدالت کی مکمل معاونت کریں جب کہ اس کیس میں بہت سے لیگل ایشوز ہیں۔سماعت کے دوران وکیل عمران خان نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالت کہے تو انور منصور کی جگہ میں جواب جمع کروا دیتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف جواب جمع نہیں کرانا بلکہ دلائل بھی دینا ہیں جب کہ دیکھنا ہے کہ کسی کو بددیانت قرار دینے کے لیے کیا معیار ہوگا۔عدالت نے عمران خان سے لندن فلیٹس کی ادائیگیوں اور 1971سے 1983ئ تک کی کرکٹ آمدن کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

جس وقت جے آئی ٹی رپورٹ پیش ہوئی وزیر اعظم اور انکی صاحبزادی کیا کر رہی تھی ،حیر ت انگیز انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک) گزشتہ جب پاناما دستاویزات کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی رپورٹ شاہراہ آئین پر عدالت عظمیٰ میں دائر کی جا رہی تھی جس میں شریف خانوادے کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب سے آئے اپنے پوتے زکریا حسین شریف کی سالگرہ کا کیک افراد خانہ کے جھرمٹ میں کاٹ رہے تھے جہاں ہیپی برتھ ڈے ٹو یو کے نغمے الاپے جارہے تھے اس گئی ہے اور حکومت کے مخالفین نے شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا رکھاہے اس پر وزیراعظم کی صاحبزادی نے سنی اَن سنی کردی نواز شریف نے اشارے سے دریافت کیا کہ ماجرا کیا ہے تو محترمہ مریم نے کہاکہ کچھ نہیں وہی ”ان کا“ رونا دھونا ہے۔روزنامہ جنگ کے سنیئر رپورٹر محمدصالح ظافرکے مطابق حسین نواز سالگرہ کی صبح ہی لندن سے یہاں پہنچے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی حسن نواز بعدازاں اپنی کاروباری مصروفیات کے سلسلے میں عازم لندن ہو گئے۔نماز عصر کے بعد وزیراعظم نواز شریف اپنے دفتر میں آئے۔ جہاں وفاقی دارالحکومت میں موجود وفاقی وزرائ نے ان سے ملاقات کی اور تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بارے میں بے تکلفانہ تبادلہ خیال کیا اور اس حوالے سے حکمت عملی کے بارے میں غور کیا۔ یہ غیر رسمی ملاقات اذان مغرب تک جاری رہی۔اسی دوران عدالت عظمیٰ سے رپورٹ کی نقول بھی ایوان وزیراعظم پہنچا دی گئیں قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف جنہیں صبح دھاسو کے پن بجلی کے عظیم الشان منصوبے کے سنگ بنیاد رکھنے کیلئے صوبہ کے پی جانا تھا موسم کی خرابی کے باعث انہیں دورہ
ملتوی کرنا پڑا تھا تاہم انہوں نے اپنے دفتر میں بجلی کے نئے منصوبوں کے بارے میں متعلقہ حکام سے بریفنگ لی اور وہ ماہ رواں کے آخر میں بجلی کی بہم رسانی کیلئے نئے پاورپلانٹ کے افتتاحی پروگرام کا جائزہ لیا۔اس دوران وزیراعظم ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے۔ ایوان وزیراعظم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس وقت سیاسی چومکھی لڑنے میں مصروف ہیں بھرپور سیاسی پنجہ آزمائی اور حزب اختلاف کے بعض عناصر سے زور دار قانونی جنگ کے لئے تیار ہیں۔