حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ کو’’ردی‘‘ قراردیکر مسترد کردیا

اسلام آباد: حکومت نے جے آئی رپورٹ کو ردی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں کوئی دلیل یا مستند مواد نہیں جب کہ رپورٹ کو عمران نامہ قرار دینا غلط نہیں ہوگا، جے آئی ٹی رپورٹ دھرنا نمبر 3 ہے اور ہم اس رپورٹ کو ردی قرار دے کر مسترد کرتے ہیں، اچھا ہوتا وزیراعظم کے خلاف مالی بدعنوانی کا ثبوت نکالا جاتا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ یہ جے آئی ٹی نہیں بلکہ پی ٹی آئی رپورٹ ہے اور سیاسی الزامات کو رپورٹ کی شکل میں پیش کیا گیا جب کہ جے آئی ٹی کے 4 ارکان قانونی معاملات کی سمجھ نہیں رکھتے۔

پانامہ تحقیقاتی رپورٹ کے اہم نکات،جان کر آپ بھی حیران ہو نگے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں وزیراعظم اور ان کے بچوں کو بلایا گیا اور ان کے بیانات سے جو بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ان کے طرززندگی اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھاری رقوم کو قرض یا تحائف کی صورت میں دینے سے متعلق بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدعا علیہان تحقیقاتی ٹیم کے سامنے رقوم کی ترسیل کے ذرائع نہیں بتا سکے۔رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں جب حسن نواز اور حسین نواز سے رقوم کے بارے میں دریافت کیا گیا تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ مدعا علیہان کی برطانوی کمپنیاں شدید نقصان میں ہونے کے باوجود بھاری رقوم کی ترسیل میں ملوث تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس لیے استعمال ہو رہی تھیں تاکہ ایسا محسوس ہو کہ ان برطانوی کمپنیوں کے کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کی مدد سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئی ہیں۔

اگر آپ کا میاب بزنس مین بننا چاہتے ہیں تو یہ خبرلازمی پڑھیں

لندن(ویب ڈیسک)ہر کامیاب شخص کی زندگی کے کچھ ضابطے ہوتے ہیں جن پر عمل کرکے وہ ترقی کی منازل طے کرتا ہے اور دنیا کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔ ورجن گروپ (Virgin Group)کے بانی رچرڈ برانسن بھی ایسے ہی کامیاب افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے صفر سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور آج ان کا گروپ 200سے زائد بین الاقوامی کمپنیوں کا مالک ہے۔ 1972ءمیں رچرڈ برانسن کی عمر 22سال تھی جب انہوں نے کچھ عجیب و غریب کاموں کی فہرست مرتب کی تھی جن پرانہیں خود کو کاربند کرنا تھا۔ اب انہوں نے وہ فہرست افشائ کر دی ہے تاکہ لوگ ان کی ترقی کا راز جان سکیں۔
وہ 8نکاتی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔
1: میں اڑنا سیکھوں گا۔
2: میں اپنا، تمہارا اور کشتی کا خیال رکھوں گا۔
3: جو بھی میرے ساتھ ہو گا میں اس کی تفریح طبع کا سامان کروں گا۔
4: اچھے لوگوں کو واپس اپنے پاس بلاﺅں گا۔
5: ’دی مینر‘ (The Manor)میں ایک چھوٹا سے گھرحاصل کروں گا۔
6: اپنے سٹوڈیو کے لیے انوکھی چیزیں خریدوں گا۔
7: خود ہی اپنے منصوبوں پر کام کروں گا۔
8:مزید دکانیں تلاش کروں گا۔
رپورٹ کے مطابق برانسن کا کہنا تھا کہ ”مجھے ایسی فہرستیں ترتیب دینے کا بہت شوق تھااور اس فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کم عمری میں بھی میں بہت آگے جانے کا خواہش مندتھا۔ ایسی فہرستیں آدمی کو آگے بڑھنے اور اپنے منصوبوں کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس سے ہمیں اپنی منزل متعین کرنے اور اپنے خوابوں کی تعبیر پانے میں مدد ملتی ہے۔جیسا کہ میری اس فہرست سے واضح ہوتا ہے کہ میں اس وقت بھی جہاز اڑانا سیکھنا چاہتا تھا اور مزید ورجن ریکارڈز سٹور بنانا چاہتا تھا۔ “

ایک مسلمان کھلاڑی کی بدولت انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کیخلاف 57سال بعد تاریخی کارنامہ سر انجام دیدیا

لارڈز (ویب ڈیسک) انگلینڈ نے معین علی کی عمدہ آل راﺅنڈر کارکردگی کی بدولت جنوبی افریقہ کو 57 سال کے طویل انتظار کے بعد لارڈز کے تاریخی گراﺅنڈ پر 211 رنز سے شکست دیدی ہے۔ اپنے کیرئیر کے پہلے ٹیسٹ میچ میں کپتانی کرنے والے جو روٹ نے ناصرف ریکارڈ سنچری بنائی بلکہ ان کی قیادت میں 57 سالہ جمود بھی ٹوٹ گیا۔لارڈز کے تاریخی گراﺅنڈ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز انگلینڈ نے 119 رنز 1 کھلاڑی آﺅٹ سے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا تو جنوبی افریقی باﺅلرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلش بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا اورپوری ٹیم 233 رنز پر آﺅٹ ہو گئی اور جنوبی افریقہ کو جیت کیلئے 331 رنز کا ہدف دیا۔
انگلینڈ کی جانب سے سابق کپتان الیسٹر کک نے سب سے زیادہ 69 رنز بنائے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں کیٹن کیننگز نے 33، گیری بیلنس نے 34، جو روٹ نے 5، جونی بیرسٹو نے 51، بین سٹوکس نے 1، معین علی نے 7 اور مارک ووڈ نے 28 رنز بنائے جبکہ لائم ڈامسن، سٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن کوئی سکور بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے کیشو مہاراج نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ مورنی مورکل اور کاگیسو ربادا نے 3,3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی اور معین علی کی شاندار باﺅلنگ کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 119 رنز بنا کر آﺅٹ ہو گئی جبکہ اس کے پانچ کھلاڑی دوہرا ہندسہ عبور کرنے میں بھی ناکام رہے۔ ٹیمبا باووما نے سب سے زیادہ 21 رنز بنائے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں ہینو کوہن نے 9، ڈین ایلگر نے 2، ہاشم آملہ نے 11، جے پی ڈومنی نے 2، کوینٹن ڈی کوک نے 18، تھیونس ڈی بروئین نے 1، ویرنون فلینڈر نے 19، کیشو مہاراج نے 10، کاگیسو ربادا نے 4 اور مورنی مورکل نے 14 رنز بنائے۔
انگلینڈ کی جانب سے معین علی نے انتہائی عمدہ باﺅلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 اوورز میں 53 رنز کی بدولت 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھاتے ہوئے ٹیم کی جیت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا اور لائم ڈامسن نے 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جیمز اینڈرسن اور مارک ووڈ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

پانامہ کیس کی سماعت ختم ہوتے ہی سٹاک ایکسچینج میں اچانک وہ کا م ہو گیا کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے

کراچی (ویب ڈیسک)پاناما کیس کی سماعت مکمل ہوتے ہی سٹاک مارکیٹ کے کاروبار میں تیزی دیکھی گئی ہے اور اس کے 100 انڈیکس میں ایک ہزار 51 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت ہوئی جس میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرائی گئی۔ کیس کی سماعت ملتوی ہونے پر سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک ہزار 51 پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد 100 انڈیکس 46 ہزار 273 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں اب تک 11 کروڑ 66 لاکھ 10 ہزار 310 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مجموعی مارکیٹنگ ویلیو 9 ارب 77 کروڑ 38 لاکھ 5 ہزار 146 روپے رہی۔

پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ، حکمراں جما عت نے بھی بڑا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے مزید تحقیقات کے لیے قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی عدالت عظمیٰ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کو حکمراں جماعت مسلم لیگ(ن) نے چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ جے آئی ٹی نے سوالات کچھ پوچھے جب کہ جوابات کچھ اور دیے گئے لہٰذا جے آئی ٹی کے رپورٹ متنازع ہے اور اسے آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔حکمراں جماعت کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے پر بدستو ر وجود رہیں گے اور ان کی جانب سے استعفیٰ دینے کا کوئی امکان نہیں۔ وزیراعظم نے قانونی اور آئینی ماہرین کو جواب تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔یاد رہے کہ پاناما جے ا?ئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف ریفرنس قومی احتساب بیورو (نیب) میں دائر کیا جائے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ انہوں نے جے آئی ٹی کو خراج تحسین بھی پیش کیا ہے۔

پاکستانی فلمی صنعت کا سنہری دور واپس آ رہا ہے: ماریہ واسطی

کراچی (خصوصی رپورٹ) ٹی وی کی مقبول اداکارہ ماریہ واسطی نے کہا کہ فلموںکا سنہر دور واپس آ رہا ہے، اگر معیاری فلموں کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا تو ہم انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی پہچان بناسکیں گے، معیاری کہانیوں پر مزید فلمیں بناتے رہنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے ڈرامے عوام میں ماضی کی مقابلے میں زیادہ پسند کیے جا رہے ہیں، نئے تقاضوں کے مدنظر ڈرامے بن رہے ہیں، آج ہر فنکارکی مصروفیات میں اضافہ ہو رہا ہے، سابق آموز ڈرامے شائقین زیادہ پسند کر رہے ہیں۔ ٹی وی کے معیار کو برقراررکھتے ہوئے نت نئے موضوعات پر کام کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ موجودہ فلموں کی کامیابی پر تمام فلم میکرز اور فنکاروں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ہمیں آپس میں ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہوئے آگے کی جانب یوں ہی بڑھتے رہناہوگا۔

کوئی ڈگری شوبز میں کامیابی کی ضمانت نہیں: متیرا

لاہور (خصوصی رپورٹ) گلوکارہ و اداکارہ متیرا نے کہا ہے کہ فن کسی کی میراث نہیں، نہ ہی کوئی ڈگری شوبز انڈسٹری میں کامیابی کی ضمانت ہوتیہے۔ شوبز انڈسٹری جتنے بھی نامور فنکار، گلوکار، موسیقار، رائٹر، ڈائریکٹر آئے ان میں سے اکثریت اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر سامنے آئے۔ متیرا نے کہا کہ پاکستان میں تو ایکٹنگ سمیت دیگر شعبوں میں تربیت دینے کے لیے باقاعدہ کوئی ادارہ نہیں مگر اب کچھ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ایکٹنگ اور فلم میکنگ کو پڑھایا جانے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ اس سے شوبز انڈسٹری میں آنے کے خواہشمند لوگوں کوکسی حد تک کیریئر کوآگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔

جے آئی ٹی رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاناما کیس کی جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کی آمدن اور طرز رہائش مطابقت نہیں رکھتیں لہذٰا ان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کیا جائے۔سپریم کورٹ میں پاناماکیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت نوازشریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرے۔رپورٹ میں جے آئی ٹی نے مو¿قف پیش کیا ہے کہ مدعا علیہان کی آمدنی اوردولت کے ظاہر کردہ ذرائع میں اہم تضاد پایا جاتا ہے، بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بے قاعدگی سے ترسیل کی گئی، برطانیہ کی کمپنیاں نقصان میں تھیں لیکن پھر بھی بھاری رقوم کی ترسیل میں مصروف تھیں، یہ بات کہ لندن کی پراپرٹیز اس بزنس کی وجہ سے تھیں آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ انہی آف شورکمپنیوں کو برطانیہ میں فنڈز کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا ان فنڈز سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بےقاعدہ ترسیلات لندن کی ہل میٹل کمپنی، یو اے ای کی کیپٹل ایف زیڈ ای کمپنیوں سےکی گئیں، رقوم سعودی عرب میں ہل میٹل کمپنی کی جانب سے ترسیل کی گئیں، نوازشریف اور ان کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز جےآئی ٹی کے سامنے رقوم کی ترسیلات کی وجوہات بھی نہیں بتا سکے، مدعاعلیہان کی ظاہرکردہ دولت اور ذرائع آمدن میں واضح فرق ہے پاکستان میں موجود کمپنیوں کا مالیاتی ڈھانچہ مدعاعلیہان کی دولت سےمطابقت نہیں رکھتا جب کہ شریف خاندان کی آمدن اور طرز رہائش بھی ایک جیسا نہیں۔رپورٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ جے آئی ٹی مجبور ہے کہ معاملے کو نیب آرڈیننس کے تحت ریفر کردے کیوں کہ نیب آرڈیننس سیکشن 9 اے وی کےتحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے ،عمران خان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریف خاندان کے تمام افراد کے نام ای سی یل میں ڈالے جائیں۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور حکومتی وزرا نے انصاف کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں جب کہ ایف آئی اے اور آئی بی سمیت دیگر اداروں کو اپنے حق میں استعمال کیا گیا اور سپریم کورٹ میں آئی بی کا کردار بھی سامنے آگیا، چیرمین ایس ای سی پی پر مقدمہ درج کرنے کاحکم دیا گیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے سارے خدشات سچ ثابت ہوگئے ہیں اور اب جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے کیوں کہ اب ان کے پاس مستعفیٰ ہونے کے سوا اور کوئی جوا ز نہیں جب کہ نوازشریف کے خلاف 2 ججز کا فیصلہ آنے کے بعد ہی انہیں مستعفیٰ ہوجانا چاہیے تھا۔ انہوں نے شریف خاندان کے تمام افراد کا نام ای سی ایل میں ڈانے کا بھی مطالبہ کیا۔چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ شریف خاندان نے اپنی چوری چھپانے اور ہمیں بلیک میل کرنے کے لیے ہمارے خلاف مقدمات دائر کروائے اور اپنے وزیروں کے ذریعے میرے خاندان والوں کو بدنام کیا جن کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں جب کہ میں تو صرف بطور اپوزیشن لیڈر اپنا فرض ادا کررہا تھا لیکن شریف خاندان کا یہی طریقہ واردات ہے جو یہ پچھلے 30 سال سے ملک کو لوٹتے آرہے ہیں۔عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے جنگ گروپ کو نوٹس جاری کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کو روکنے میں میرشکیل الرحمان کا بھی ہاتھ ہے اور جنگ گروپ نے شریف خاندان کی چوری روکنے کے لیے بھرپور کوشش کی، (ن) لیگ کے حق میں اور ہمارے خلاف غلط رپورٹس شائع کی جن کی بنیاد پر وفاقی وزرا پریس کانفرنس کرتے تھے۔ انہوں نے میڈیا کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن اینکرز اور میڈیا گروپ نے غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق اور سچ کی بات کی قوم انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔