ملک کی نظریاتی ،جغرافیائی سرحدوں کو چیلنج کرنیوالوں کا آخری سانس تک راستہ روکوں گا نامور صحافی اور ادیب ضیاشاہد کی کتاب ”پاکستان کیخلاف سازش“کی تقریب رونمائی سے خطاب

کراچی (خصوصی رپورٹر) سی پی این ای کے صدر ، روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ، کہنہ مشق صحافی اور ادیب ضیاشاہد نے کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان اصل مقصد یہ ہے کہ جو قوتیںملک کو جغرافیائی نظریاتی سرحدوں کو چیلنج کررہی ہیں ان کی سازشوں کا خاتمہ ہوسکے ، مجھے اخبارنویس کی حیثیت سے 51برس گزرچکے ہیں ، میں نے صحافت کا آغاز18برس کی عمر سے کیا جب کالج میں پڑھتا تھا ۔ گزشتہ ایک سال میں جو مضامین اور یادداشتیں لکھیں کافی چیزیں جمع ہوگئی ہیں ، میرے دماغ پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش بننے کا گہرا اثرہوا تھا ، یہ کتاب اسی اثر کا نتیجہ ہے ، میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کا قیام دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا ، قائداعظم کا خیال تھا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی ، معاشی حقوق پورے نہیں ہوسکتے ، اسی لئے قرارداد پاکستان لانا پڑی ۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم نے سیاسی غلطیاں کی ہیں ۔ میں صوبوں کے حقوق کا قائل ہوں ، اٹھارویں ترمیم کے علاوہ صوبوں کو اور بھی حقوق ملنے چاہیئیں ۔چھوٹے صوبوں کی بات کی جارہی ہے ، انتظامی طور پر انھیں چلانا آسان ہے ۔ میری پیدائش گڑھی یاسین میں ہوئی جہاں میرے والد مختیارکار تھے ،میں نے بھاولنگر ، ملتان اور لاہور میں تعلیم حاصل کی ہے ۔ سب علاقوں کو حقوق ملنے چاہیئیں، پاکستان کے لئے شیخ مجیب الرحمان نے کلکتہ سے ڈھاکہ تک سائیکل پر سفر کیا تھا ، مگر زبان کی بنیاد پر بنگلہ دیش وجود میں آیا ۔ اردوکو قومی زبان بنانے پر ردعمل ہوا ، پھر تحریک شروع ہوئی جو بنگلہ قومیت کی بنیاد بنی ، جس کے بعد چھ نکات کی شکل میں سیمی انڈی پینڈنس کا مطالبہ کیا گیا ۔ پھر بھی ہم معاملات نہیں سنبھال سکے اور انڈیا نے مداخلت کرکے اسے الگ ملک بنادیا ۔ سندھ ، بلوچستان ، خیبرپختونخواہ جہاں کہیں زبان اور نسل کی بنیاد پر صوبائی حقوق کا نعرہ دیکھا ، جائز مطالبات نہ مانے گئے تو علیحدگی کی باتیں سامنے آئیں ۔ یہ باب ابھی بند نہیں ہوا ، نواب سلیمان ، حربیارمری ، الطاف حسین ، محمود اچکزئی یا اسفندیار ہوں ، جب کہا جائے کہ ڈیورنڈلائن کو نہیں مانتے ، کہا جائے کہ خیبر پختونخواہ افغانوں کا علاقہ ہے تو پھر سوچنا پڑے گا کہ ہم سے غلطی تو نہیں ہوگئی ہے ، یہ کتاب اس بحث کو سمیٹنے کے لئے کافی ہے ۔ میں خود کو پولیٹیکل سائنٹسٹ نہیں سمجھتا صرف ایک اخبارنویس کی حیثیت سے ان حالات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ بھٹونے نیپ پر پابندی لگائی تھی ، جی ایم سید نے پاکستان بننے سے پہلے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا ، ہم سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف تحریک شروع کردی ۔ یہ تحریک بظاہر ختم ہوئی مگر اس کے اثرات آج بھی قوم پرست تحریکوں کے احساسات میں کہیں موجود ہیں ۔ بعض احباب کا خیال ہے کہ یہ بحثیں پرانی ہوگئی ہیں ، مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ باتیں ختم نہیں ہوئی ہیں ، کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ زبان اور نسل کی بنیاد پر صوبائی حقوق اور پھر علیحدگی کا مطالبہ سامنے آتا رہا ہے ۔

مداحوںنے جتنی عزت و شہرت بخشی اس پر ان کی مشکور ہوں

لاہور(شوبز ڈیسک)پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ سجل علی نے کہا ہے کہ عوام نے جتنی مجھے عزت و شہرت بخشی اس پر ان کی مشکور ہوں،ابھی تو کیریئر کی شروعات ہیں اور میری منزل بہت دور ہے جہاں تک پہنچنے کیلئے تھوڑا مزید وقت لگے گا ۔ایک انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ شوبز کی دنیا میں اس لئے آئی کہ شہرت کی بلندیوں کو چھو جاﺅں اور عوام نے جتنا میرا کام پسند کیا میں اس پر ان کی مشکور ہوں تاہم مزید شہرت حاصل کرنا چاہتی ہوں کیونکہ ابھی تو میرا کیریئر شروع ہوا ہے اور میری منزل بہت دور ہے جس حاصل کرنے کیلئے مزید کچھ وقت درکار ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سٹیج ڈراموں میں کام کرنے کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے اور اس طرف جانا بھی نہیں چاہتی کیونکہ میں اپنے کیریئر کو صاف ستھرارکھنا چاہتی ہے۔

فائنل میں انڈین کھلاڑی مجھ پر جملے کستے رہے

لاہور (سپورٹس ڈیسک) بھارت کیخلاف چیمپئنز ٹرافی فائنل میں فخر زمان کی شاندار پرفارمنس شائقین کرکٹ ابھی تک نہیں بھولے۔ پاکستانی ٹیم کے ساتھ انھیں ابھی تک مختلف اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔ فخر زمان نے بتایا کہ ویرات کوہلی اور ان کی ٹیم کے کھلاڑی فائنل میں مسلسل پاکستانی کھلاڑیوں کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈین باو¿لر جسپریت بمرا نے انھیں کہا کہ تھوڑا سامنے بھی رن بنا لے، کب تک ایسے کھیلے گا؟فخر زمان نے بتایا کہ جب میں اور اظہر علی وکٹ پر موجود رہ کر ٹیم کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے تو دوسری جانب انڈین کھلاڑی بھی اپنی فقرے بازی جاری رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈین کھلاڑی مسلسل کہتے رہے کہ ارے، ایک وکٹ نکل جائے گی تو یہ سارے آو¿ٹ ہو جائیں گے۔ بس ایک کو نکالو جلدی۔ فخر زمان نے بتایا کہ کھل کے ابتدائی اوور میں ہی جسپریت بمرا نے انھیں وکٹوں کے پیچھے کیچ آو¿ٹ کروا دیا تھا، تاہم نو بال ہونے کی وجہ سے میری وکٹ بچ گئی۔ اس وجہ سے بمرا بھی مجھ پر فقرے کسنے والوں میں پیش پیش تھے، لیکن میں نے ان پر کان نہیں دھرے۔

انعامات کی فہرست میں ردوبدل،پی سی بی کا انکوائری پر غور

لاہور(بی این پی ) ٹیم مینجمنٹ میں شامل نہ ہونے والوں کے نام بھی وزیراعظم ہاو¿س سے انعام وصولی کے لئے فہرست میں ڈالنے کی انکوائری پر غور شروع ہوگیا۔ چیمپئنز ٹرافی کے فاتح اسکواڈ کیلئے وزیر اعظم ہاو¿س کی جانب سے جاری کردہ پہلی فہرست میں کرکٹرز کو ایک ایک کروڑ، مینجمنٹ میں شامل کوچز مکی آرتھر،گرانٹ فلاور،اسٹیورکسن اور اظہر محمود،ٹیم منیجر طلعت علی، میڈیا منیجر رضا راشد، سوشل میڈیا منیجر عون زیدی، انچارج ٹور آپریشنز شاہد اسلم،کرکٹ اینالسٹ محمد طلحہ، سیکیورٹی منیجراظہرعارف، فزیوتھراپسٹ شین ہیز اور مساجر ڈونلڈ ڈیو البرٹ کو50،50 لاکھ روپے انعام کا حقدار قرار دیاگیا تھا، بعد ازاں ترمیم شدہ نئے نوٹیفکیشن میں کوچز کے سوا دیگر معاون اسٹاف کی رقم کم کرکے 25، 25 لاکھ کردی گئی جبکہ ایک میچ کھیلنے والے وہاب ریاض کو بھی16ویں کھلاڑی کے طور پر شامل کرلیا گیا۔واضح رہے کہ وزیر اعظم ہاو¿س میں4 جولائی کو تقریب کے دوران سلیکٹرز اور بعض آفیشلز کو بھی انعامات سے نواز دیا گیا، وزیر اعظم ہاو¿س کی جانب سے اسی روز جاری ہونے والی تیسری پریس ریلیز میں بعد میں شامل کیے جانے والے آفیشلز کو حقائق کے برعکس مینجمنٹ کا حصہ ظاہر کیا گیا،اس فہرست کو فاتح ٹیم کے منتظمین کا عنوان دیا گیا ہے۔

بھارت کا پرو لیگ سے بائیکاٹ

لاہور (بی این پی ) کھیل دشمن بھارت کا ایک اور اوچھا ہتھکنڈا ، ایف آئی ایچ کو سبق سکھانے کے لیے پرو ہاکی لیگ کا بائیکاٹ کر دیا۔ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے متبادل ٹیم شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔ کھیل دشمن بھارت کا ایک اور اوچھا ہتھکنڈا ، ایف آ ئی ایچ کو نیچا دکھانے کے لیے پرو ہاکی لیگ کا بائیکاٹ کر دیا اور بہانہ یہ بنایا کہ بھارتی ویمنز ٹیم کا پرو لیگ کھیل کر ورلڈ کپ اور اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کا امکان نہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن اور ہاکی انڈیا کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ گزشتہ ماہ بھارتی ٹیم پاکستان کے خلاف میچ میں بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اتری جس پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے تحفظات کا اظہار کیا۔ورلڈ ہاکی لیگ کے دوران ہی لندن پولیس نے سابق بھارتی کپتان سردار سنگھ سے خاتون کو ہراساں کرنے پر پوچھ گچھ کی جس پر بھارتی ہاکی فیڈریشن نے ایف آئی ایچ سے احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ایک پاکستانی نڑاد رکن پارلیمنٹ نے خاتون کو سردار سنگھ کیخلاف شکایت درج کرانے کیلئے اکسایا۔ ٹورنامنٹ کے دوران ہی تفتیش سے پلیئر اور ٹیم کی کارکردگی ب±ری طرح متاثر ہوئی۔

انسان کو اپنی بنیاد نہیں بھولنی چاہیے

راولپنڈی (صباح نیوز) شعیب اختر کے آبائی گھر کی تصویر کے سوشل میڈیا پر چرچے جاری ہیں۔ شعیب اختر کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی بنیاد نہیں بھولنی چاہیے۔جب بھی راولپنڈی آتا ہوں تو اپنے آبائی گھر کا دورہ ضرور کرتا ہوں۔ پاکستان کے مایہ ناز اور دنیا کے تیز ترین فاسٹ باولر شعیب اختر کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی گئی جس نے خاصی دھوم مچائی ہے۔ یہ تصویر شعیب اختر کے آبائی گھر کی ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے۔ شعیب اختر کی جانب سے کہنا ہے کہ انسان کو اپنی بنیاد نہیں بھولنی چاہیے۔میں جب بھی راولپنڈی آتا ہوں تو اپنے آبائی گھر جہاں میری پیدائش ہوئی وہاں کا دورہ ضرور کرتا ہوں۔ شعیب اختر کی اس تصویر کو کرکٹ کے چاہنے والوں کی جانب سے پسند کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ بات یقینی طور پر قابل تحسین ہے کہ راولپنڈی ایکسپریس شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود اپنی بنیاد کو نہیں بھولے۔

روی شاستری بھارتی کرکٹ ٹیم کے کوچ کیلئے فیورٹ

دہلی(بی این پی ) بھارتی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے لئے 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن روی شاستری سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔ انیل کمبلے نے کپتان ویرات کوہلی سے تنازع کے باعث دورہ ویسٹ انڈیز سے قبل ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جس کے بعد اس عہدے کے لئے 10 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔کرکٹ ایڈوائزری کمیٹی کل نئے کوچ کے لئے امیدواروں کے انٹرویو کرے گی جب کہ کمیٹی میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی، سچن ٹنڈولکر اور وی وی لکشمن شامل ہیں۔کوچ کے لئے مضبوط ترین امیدواروں میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق ڈائریکٹر روی شاستری اور جنوبی افریقا کے لانس کلوزنر شامل ہیں اور ٹیم کا مضبوط ترین عہدہ سنبھالنے کے لئے ان دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔بھارتی ٹیم کے کوچ بننے کے خواہشمندوں میں ورندر سہواگ، سابق سری لنکن کوچ ٹام موڈی، ا?ئرلینڈ اور افغانستان کی کوچنگ کرنے والے فل سمنز، عمان کرکٹ ٹیم کے کوچ راکیش شرما، رچرڈ پے بوز، ڈوڈا گنیش، لال چند راجپوت اور اپنراناتھ براہما چاری شامل ہیں۔

زبان اور نسل کی بنیاد پر سازشیں جاری،ملک کو مضبوط کرنے کیلئے سب کو برابر حقوق دینا ہونگے

کراچی (رپورٹ: صابر فیاض) ملک کی ممتاز سیاسی شخصیات، دانشوروں، صحافیوں، وکلاءاور ادیبوں کا کہنا ہے کہ آج بھی زبان اور نسل کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری ہے ، آزادی کے فوراََ بعد بھارت نے ملک توڑنے کی سازش شروع کردی تھی ، پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو سب کو برابر کے حقوق دینا ہوں گے ، شیخ مجیب الرحمن اورجی ایم سید غدارنہیں تھے انہیں غدار بنایا گیا ، خان آف قلات اور ریاست بہاولپور کے تحفظات دور کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی ، غربت او ر احساسِ محرومی کے سبب سازشیں پنپ رہی ہیں ، بھارت میں مسلمان دلتوں سے بری زندگی گزار رہے ہیں جس نے ایک بار پھرثابت کردیا کہ دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے ،مغرب بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کو سازش کا شکار بنانا چاہتا ہے ، اس سے چوکنا رہنا ہوگا ۔ قائداعظم نے جاگیرداری نظام مسترد کردیا تھا مگر آج پاکستان پر جاگیردار مسلط ہیں اور اندرونِ سندھ اور جنوبی پنجاب کے لوگ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، ممتاز دانشور اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون ، پیپلزپارٹی کے رہنماءسینیٹر تاج حیدر، پاک سرزمین پارٹی کے رہنماءرضاہارون، وسیم آفتاب ، جناح مسلم لیگ کے سربراہ آزاد بن حیدر، سینئرصحافی سعواے ساحر، ممتاز صحافی وقار یوسف عظیمی ، اے پی این ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرڈاکٹر تنویر اے طاہر ، سی پی این ای کے نائب صدر عامرمحمود،جماعت اسلامی کے رہنماءبرجیس احمدنے ان خیالات کا اطہارمقامی ہوٹل میں سی پی این ای کے صدر ، روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ، کہنہ مشق صحافی اور ادیب ضیاشاہد کی کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“کی تعارفی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ممتاز دانشور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین ہارون نے اپنے خطاب میں دورحاضر میں پاکستان کے خلاف جاری عالمی سازشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ضیاشاہدنے پاکستان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرکے ایک انتہائی اہم کام کیا ،پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور مغرب بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کو افغانستان کے ذریعے نشانہ بنانے کی سازش کررہاہے ، افغانستان اس وقت پاکستان کے لئے بڑا خطرہ بنا ہواہے اور اس معاملے کو مذاق نہ سمجھا جائے ، دوقومی نظریہ ابھی تک زندہ ہے اور بھارت کے جسٹس سجا د کی رپورٹ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان دلتوں سے بھی بدتر جانوروں جیسی زندگی گزاررہے ہیں ، اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ پاکستان کے دو علاقے جنوبی پنجاب اور خیرپختونخواہ جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ تھی وہاں طالبان نے زور پکڑا ، عرب اسپرنگ کے نام پر تیونس کے بن علی ، مصر کے حسنی مبارک اور لیبیا کے کرنل قذافی کو ہٹادیا گیا مگر آج تک کوئی نہیں بتارہا کہ ان کی دولت کہاں گئی ؟ مغرب نے پوری اسلامی دنیا کو جنگوں میں دھکیل دیاہے ، شام میں 500سال بعد استحکام آیا تھا شیعہ ، سنی ، یہودی ، عیسائی سب امن سے رہ رہے تھے ، مگر اسے عراق اور افغانستان کی طرح عدم استحکام کا شکارکردیا گیا ، 9ملین افراد نے ہجرت کی مگر حالات نہیں سدھرے ۔ آئندہ 100سال تک جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے ۔ حسین ہارون نے کہا کہ افغانستان کے حالات خراب ہونے میں منشیات کا بڑا کردار ہے ، افغانستان میں منشیات کی کاشت سے جو پیسہ بنایاگیا اس سے کراچی اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنایا گیا ، پاکستان کے خلاف کاروائیوں میں افغانستان کی اسٹبلشمنٹ ملوث ہے ، وہ بھارت کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے ، ملک میں نہ کوئی خارجہ پالیسی ہے نہ فارن آفس کا کوئی رول نظر آتا ہے ، افغانستان کسی غلط فہمی میں نہ رہے ، ڈیورنڈ لائن کے اس پار کا علاقہ امیرِ افغانستان نے بیچا تھا ، یہ ہانگ کانگ نہیں کہ وہ واپس مانگ لیں ، آج اچکزئی جیسے لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ افغان ہیں،جب اس وقت قبائل نے امیر افغانستان سے شکایت کی کہ آپ نے ہمیں بیچ دیا ہے تو امیر نے جواب دیا تھا آپ کچرا ہو ، جو ہم نے الگ کردیا ، حسین ہارون نے سی پیک کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سی پیک کی خوشی ہے مگر اس کے ساتھ گھبراہٹ بھی ہے کہیں ایسٹ انڈیا کمپنی والا کام نہ ہو جائے، ہم پاکستانی بچھ جاتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ 14فیصد سود پر قرض حاصل کیا جارہا ہے اگر ادا نہ کیاگیا تو پھر کیا ہوگا ؟ کہیں وہ ایسا نہ کردیں جیسا ایسٹ انڈیا کمپنی نے کرناٹک میں کیا تھا ، ہم مالی زلزلے کی طرف جارہے ہیں ، سی پیک کو رقم کی ادائیگی کیسے کریں گے، پاکستان کی خود مختیاری سب سے اہم ہے۔ حسین ہارون نے حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہمارے یہاں کوئی پلاننگ نہیں ہے کوئلہ تھر سے نکلا ہے مگر اس کے لئے پلانٹ ساہیوال میں لگایا گیا ہے، قطر سے ایل این جی لی دنیا میں سب سے مہنگے داموں لی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ گوادر فیروزخان نے عمان سے قیمتاََ خریدا تھا ، بھٹو نے جو آئین بنایا اس پر بہاولپور کے دو ایم این ایز نے دستخط نہیں کئے تھے ، 18ویں ترمیم کے بعد بھی سندھ حکومت چیخ رہی ہے ، دوبارہ سازشیں ہورہی ہیں اور جہاں توازن نہیں ہوتا وہاں سازشیں شروع ہوجاتی ہیں ، یورپ میں لوکل باڈیز سسٹم تبدیل ہوئے بغیر چل رہا ہے ، خان آف قلات نے پہلے پاکستان کی مخالفت کی پھر وہ مان گئے تھے مگر ان کے ساتھ ظلم کیا گیا ، فائنل ایگریمنٹ میں پٹھانوں اور لسبیلہ کو سندھ سے کاٹ کر ان کے سروں پر بٹھادیا گیا ۔جب ضیاءالحق کشمیر کے موضوع پر ڈیپتھ پرسیپشن کی بات کررہے تھے تو میں نے کہا کہ آپ وقت ضائع کررہے ہیں، میں نے تجویز دی تھی کہ آپ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے کشمیر میں استصواب رائے کروادیں ، کارٹر آپ کے دوست ہیں اور دیگر کئی عالمی مبصرین بلالیں ، 99فیصد آپ کے حق میں آئے گا ، بھارت نہیں کرواسکے گا مگر آپ بھارت پر دباو¿ ڈال سکیں گے ، مگر انھوں نے وقت ضائع کردیا، حسین ہارون نے کہا کہ مجھے کینیڈا میں شیخ مجیب الرحمن نے بتایا تھا کہ دورانِ قید ایک بریگیڈیئر آئے اور انھوں نے کہا کہ ہم تمہیں بنگلہ دیش بھیج رہے ہیں ، اس وقت مجھے پتہ چلا کہ اب بنگال بنگلہ دیش میں تبدیل ہورہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ زمیندار صرف پیسہ کمانے کے لئے سیاست میں آتے ہیں ، پی آئی اے اور ریلوے کا ستیا ناس کردیا گیا ہے ،کراچی کی صفائی کا ٹھیکہ چینی کمپنی کو دے رہے ہیں ایک زمانے میں پورا کراچی پانی سے دھلتا تھا ، پانی اور بجلی نہیں ہے اور ہمارے یہاں منفی سوچ کا غلبہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماءسینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ میں ضیاشاہد کو شاندار کتاب پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں یہ بہت اہم موضوع ہے ، مکالمہ جتنا بڑھائیں گے اس سے ملک مضبوط ہوگا اور اختلافات کا خاتمہ ہوگا ، دوقومی نظریہ آج بھی زندہ ہے ، سرسید نے مسلمانوں کو ایک واضح شناخت دی ، مذہب ، زبان اور کلچر کی بنیاد پر جب الگ وطن وجود میں آئی تو مسلمان دو حصوں میں بٹ گئے اور 70میں تین حصوں میں بٹ گئے، پاکستان بننے کے بعد سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ قوم میں اتفاقِ رائے پیداکرتیں مگر ایسا نہیں ہوا ، شیخ مجیب الرحمان نے اپنے 6نکات سے ایک سینٹی میٹر بھی پیچھے ہٹنے سے انکارکردیا تھا ، اس سانحہ کے بعد ملنے والے سبق کے بعد پاکستان کی اکثریتی جماعت سب کو ساتھ لے کر بیٹھی ، ولی خان ، پروفیسر غفور اور مذہبی لیڈروں نے مل کر دستور تشکیل دیا ، ہم اسلامی دنیا کا حصہ ہیں اور استعمار ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، 74میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد ایک تاریخی موقع تھا جس میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا ، اس کے بعد انتقام لیا گیا ، پوری اسلامی دنیا کو استعمار نے تقسیم کیا مسلمانوں کی گولیوں سے مسلمان مارے گئے ، امریکہ ، اسرائیل اور ہندوستان کا ملٹری الائنس بن رہا ہے یہ عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہے ، پاکستان ایک فیڈریشن ہے جہاں صوبے مل کر کام کررہے ہیں، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے مضبوط ہوئے ہیں، قائداعظم نے جاگیرداری اور مغربی سرمایہ داری نظام کو مسترد کردیا تھا انہوں نے اسلامی سوشلزم کی بات کی تھی ہم اس وژن سے ہٹ گئے اور بار بار ہٹے ، جب لوگوں کو احساس ہوگا کہ وہ برابر کے شہری نہیں ہیں تو پاکستان مضبوط نہیں ہوگا ، سب کو برابر کے حقوق دینا ہوں گے ، میں سوال کرتا ہوں کہ جس ملک میں 97فیصد مسلمان ہوں کین ان کا مسئلہ کفر و اسلام ہے؟، یہاں کفر واسلام کی جنگ کا سوال نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم کا ہے ، دونوں مسلمان ہیں، اصل مسئلہ استحصال اور حقوق کا ہے ، یہاں حقوق سلب ہورہے ہیں ۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنماءرضاہارون نے کہا کہ ضیاشاہد بڑے دانشور ہیں اور ان کی کریڈیبلیٹی کسی شک و شبے سے بالاتر ہے ۔ دوقومی نظریہ جہاز کا ون وے ٹکٹ تھا جو ہمیں ہندوستان سے پاکستان لے آیا ، جہاز رن وے تک تو آگیا مگر گھر نہیں پہنچا ، جب دو قومی نظریہ کا مقصد پورا ہوگیا اور الگ ملک بن گیا تو پھر ایک قومی نظریہ شروع کیا جانا تھا ، پاکستان کو مضبوط کرنے کے لئے ، آج کے نوجوان سے انٹر ایکشن کی ضرورت ہے ، یوتھ پرانی تاریخ میں دلچسپی نہیں لے رہی، آج کی دنیا میں کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ بڑی قومیں اپنے لوگوں پر انویسٹ کرتی ہیں ، میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 8سے40تک کا مطالعہ کرتا ہوں تو خوش ہوجاتا ہوں کیونکہ اس میں شہریوں کو ان کے حقوق کی گارنٹی دی گئی ہے ، آرٹیکل 41حکمرانوں کا معاملہ شروع ہوجاتا ہے وہ آئینِ پاکستان میں لوگوں کے حقوق والے آرٹیکل پڑھتے ہی نہیں۔ کسی حکومت نے آج تک لوکل باڈیز سسٹم نہیں بنایا ، ہم نے عام آدمی کو اہمیت ہی نہیں دی، اس کے حقوق کی بات ہی نہیں کی، پاکستان کے خلاف جو سازش ہورہی ہے اس کا محرک احساسِ محرومی کے بوجھ تلے دبے لوگ ہیں۔ غربت کے سبب لوگ ملک کے خلاف سازشوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں ، پاکستان میں اختیارات نچلی سطح پر لائے جائیں ، ہم آج تک لوکل باڈیز سسٹم نہیں بناسکے ہیں، رضاہارون نے کہا کہ ہرپارٹی میں الطاف حسین ہے، عدالت میں الطاف حسین ہے ، بیورورکریسی میں الطاف حسین موجود ہیں ، میں تو اپنی جماعت کے الطاف حسین کے خلاف کھڑاہو گیا ، ان کے خلاف کون کھڑاہو گا ؟ اس قوم کے پاس کچھ نہیں ہے ، پروفیشنل تک نہیں ہیں ، تعلیمی ادارے اور مقامی حکومتوں کا نظام تک نہیں ہے ، ہم آج تک قوم نہیں بنا سکے لوکل باڈیز کے الیکشن بھی سپریم کورٹ نے کروائے ہیں کسی جمہوری حکومت کو اس کی توفیق نہیں ہوسکی ، مردم شماری بھی سپریم کورٹ کو ڈنڈے کے زور پر کروانا پڑی ہے ، ہماری جمہوری حکومتیں تو لوگوں کو گننے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ نیب آرڈیننس کو ختم کرنے کے بجائے بہتر بنانا چاہیئے تھا ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں جناح مسلم لیگ کے سربراہ آزاد بن حیدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ شیخ مجیب الرحمان اور جی ایم سید غدار نہیں تھے انھیں غدار بنایا گیا تھا، خان آف قلات اور نواب آف بہاولپور کے تحفظات تھے مگر کوئی انھیں سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھا ، جی ایم سید نے پاکستان کے لئے جدوجہد میں حصہ لیا ، پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ہندوستان نے سازشوں کا آغاز کردیا تھا ، 1947ءمیں کراچی میں تعینات انڈین ہائی کمشنر نے اندرونِ سندھ کے دورے کئے اور اس نے لوگوں کو اکسایا کہ وہ کراچی کو دارالخلافہ بنانے کی مخالفت کریں اس وقت لیاقت علی خان مرحوم نے اس ہائی کمشنر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکالا ، مئی 1948میں سکھر میں نیشنل کنونشن ہوا جس میں ایک پارٹی وجود میں باچا خان کو اس پارٹی کا صدر اور جی ایم سید کو جنرل سیکریٹری بنایا گیا اور اس پارٹی نے پاکستان توڑنے کا کام شروع کیا ۔ جی ایم سید نے اقوام متحدہ کو درخواست دی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کو ایک الگ ملک بنایا جائے اور علی احمد تالپور اس کے پہلے صدر ہوں گے ، ہم نے اس کے جواب میں کراچی صوبہ تحریک شروع کی ، اس کے جواب میں جی ایم سید اور ہمارے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعد انھوں نے مجھے اپنی پارٹی میں عہدے کی پیشکش کی ۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہنماءوسیم آفتاب نے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب ایک بہترین دستاویز ہے ضیا شاہد نڈر اور بے باک صحافی ہیں اور ملک کے لئے ان کی بے پناہ خدمات ہیں، پاکستان میں بدقسمتی سے جن لوگوں کو اقتدار ملا انھوں نے اس ملک کے لئے کچھ نہیں کیا، ہندوستان ہمارا سب سے بڑادشمن ہے مسلمان کو مسلمان سے لڑوایا گیا، ملک کے مسائل آج بھی وہی ہیں ، آج بھی لوگ بھوکے مررہے ہیں ،ریاست نے آج تک یہ کوشش نہیں کی کہ لوگوں کو ایک بنایاجائے ،حکمرانوں نے لوگوں کو تقسیم کیا ، تاکہ ان کی حکمرانی مضبوط ہو، اقتدار میں آنے والوں نے ملک کے خلاف سازشیں کیں، انہوں نے ملکی سلامتی کے لئے کوئی لائن ڈرا نہیں کی ، تھر میں بچے بھوکے مررہے ہیں ، کراچی میں لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں، آج لوگ اس لئے ظلم کے کخلاف باہر نہیں نکل رہے کہ آج کا حبیب جالب ، افتخارعارف اور عبیداللہ بیگ اپنا قلم بیچتا ہے، الفاظ کی حرمت بک گئی، ملک کو لوٹنے والے کچھ بھی کرجائیں آج کا دانشور کچھ نہیں کہتا ، قوم کو فرقوں اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا ہے ، ملک میں قومی نظرئیے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ سینئرصحافی سعود اے ساحر نے کہا کہ جن علاقوں میں پاکستان بن رہا تھا وہاں مسلم لیگ کا وجود نہیں تھا اور جہاں مسلم لیگ تھی وہاں پاکستان نہیں بن رہا تھا ، مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کی اکثریت تھی وہ غدار ہوگئے اور ہم وفادار ٹہرے ، پاکستان میں لوگوں نے ووٹ بینک بنائے مگر سیاسی جماعتیں نہیں بنائیں کوئی جماعت گراس روٹ لیول تک آرگنائز نہیں ہے ۔ پیپلز پارٹی کو گراس روٹ لیول تک آرگنائز کیا گیا مگر بھٹو نے اپنی جماعت کو خود ہی تتربتر کردیا ، سیاسی جماعتیں اپنی حکومتوں کو غلط کاموں سے روکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضیاشاہد ، الطاف حسین قریشی ور مجیب الرحمان شامی یک دور میں جیل گئے مگر آج مادر پدرصحافتی آزادی کا دور ہے ، ملک کی اصل خرابی جاگیرداری ہے جب تک جاگیرداری ختم نہیں ہوگی ملک میں بہتری نہیں آئے گی ، جنوبی پنجاب اورسندھ کا ایم این اے غلاموں کے ووٹوں سے آتا ہے ، جاگیردار ، بیوروکریسی اور فوج ملک پر قابض ہے ، اور وزیراعظم کوئی بھی ہو ، بے نظیر جیسی وزیراعظم کو اسلم بیگ نے کہا کہ پہلے میرے گھر آو¿ پھر وزیراعظم نامزد کریں گے ۔ سی پی این ای کے نائب صدر عامر محمود نے کہا کہ ضیاشاہد نڈر اور بے باک صحافی ہیں انھوں نے اپنی کتاب میں دو قومی نظرئیے کے حوالے سے بہت سارے چہرے بے نقاب کئے ہیں ، 1970کے بعد آج پھر ملک اسی کرائسز میں ہے ، فوجی آمروں اورسول حکمرانوں نے اس ملک کے ساتھ انصاف نہیں کیا ،سیاستدان اس ملک کی صورتحال سے کسی بھی طور بری الذمہ نہیں ہے ، ان پارٹیوں نے صرف جمہوریت کا راگ الاپا ہے ، مگر انصاف نہیں کیا، اس ملک میں کیا کچھ نہیں ہوا ، بھٹو کا جوڈیشل مرڈر کیا گیا ،ایم کیو ایم بھی انصاف کی منتظر ہے ، دوقومی نظریہ مکمل طور پر بھلادیا گیاہے ، ہم آج بھی غلامانہ سوچ کا شکار ہیں ، سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے ٹکرارہی ہیں، کسی سیاسی جماعت نے ڈلیور نہیں کیا ، پیپلز پارٹی نے سندھ میں دودھ کی نہریں نہیں بہائیں، اس ملک میں فساد کا بیج بویا جاتا ہے، کراچی مسائل کا گڑھ بناہواہے ،یہ شہر ملک کو 70فیصد ریونیو دیتا ہے مگر کیسی کیسی اس شہر کے ساتھ زیادتیاں کی گئی ہیں ، میڈیا تقسیم ہے ، مجھے نیب کے قانون کے خاتمے کا بیحد دکھ ہے ، اس ملک سے خرابیوں کے خاتمے کے لئے ضیاشاہد کو دوسوکتابیں اور لکھنا پڑیں گی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے پی این ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکتر تنویر اے طاہر نے کہا کہ میں ضیاشاہد صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے کتابوں کا سلسلہ شروع کیا ہے ، مگر مجھے اس کتاب میں شامل کوئی چہرہ ملک دشمن نظر نہیں آتا ، میں سمجھتا ہوں انھیں ملک دشمن بنایا گیا ہے ، جی ایم سید کبھی ملک دشمن نہیں رہے ، بلکہ پاکستان بنانے میں ان کا کلیدی کردار رہا ، جی ایم سید نے سندھ میں مسلم لیگ کو قائم کیا،وہ اچانک کیوں ملک دشمن ہوگئے ، اس کی وجہ تلاش کی جائے ، پاکستان بنانے والی جماعت کے تضادات تھے ، مسلم لیگ کی تشکیل منفی تھی ،پاکستان کی تشکیل دراصل اقلیت کی اکثریت سے بغاوت تھی ، 1947میں جو لوگ غالب آئے ان کا تعلق اقلیتیصوبوں سے تھا ، ان میں سے 87فیصد اقلیتی صوبوں کے اردو اسپیکنگ تھے ، مسلم لیگ اقتدار میں آئی تو ساڑھے تین فیصد اردو اسپکنگ پورے ملک پر حکومت کررہے تھے ۔ جی ایم سید کو اس لئے نکالا گیا کہ وہ لیاقت علی خان کے مرضی کے امیدوار نہیں لارہے تھے ۔ ہمیں یہ بات ماننا ہوگی کہ اقلیت کا راج اکثریت پر نہیں ہوسکتا ، اس کے نتیجے میں بغاوتیں اور سازشیں جنم لیتی ہیں ، پاکستان نے صوبوں کو نہیں بنایا بلکہ صوبوں نے پاکستان کو بنایا تھا ۔ معروف دانشور ڈاکٹر وقاریوسف عظیمی نے کہا کہ بھارت کے حالات آج بھی قائداعظم کے نظریئے کو درست ثابت کر رہے ہیں، ملک چلانے کے لئے مذہب کا نام لے کر محض لوگوں کو خوش نہیں رکھا جاسکتا، لوگوں کو حقوق دینا ہوں گے ، بنگالی کو قومی زبان نہ بنانے کے معاملے پر علیحدگی کی تحریک شروع ہوئی ، وڈیرہ ذہنیت ہمارے اوپر حکومت کرتی رہی ہے ، سرداروں اور وڈیروں کی حکومتیں یہاں رہی ہیں ، مڈل کلاس شہری کا فیصلہ سازی میںکوئی حصہ نہیں ہے ، ہرطرف وڈیرہ ذہنیت قابض ہے بیوروکریسی قوم کی خدمت کا جذبہ نہیں رکھتی ، بیوروکریسی میں آنے والے انسانوں کو کیڑے مکوڑے اور جانور سمجھتے ہیں، ہمارے یہاں رورل اور اربن سوسائٹی میں کلیش ہے ، کراچی میں جب بھی کوئی باہر سے آتا ہے وہ اربن سوچ نہیں اپناتا ، رورل سوچ کو مسلط کرتا ہے ، ایم کیو ایم کی کراچی میں کامیابی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے کراچی کے شہریوں کے بہت سے مسائل کو مس ہینڈل کیا گیا ، سب سے زیادہ ریوینیو دینے والے شہر میں لوگ باہر سے آکر حکومت کررہے ہیں ۔ 60کے عشرے میں ایسے ہی ہوا تھا سڑکیں ٹوٹی تھیں اور لوگوں کو حقوق نہیں دیئے گئے ، جس سے دشمنوں کو موقع ملا۔ جو حکومتیں رہی ہیں ان کا حتساب کیا جائے ، سندھ کو پیپلز پارٹی نے تباہ کردیا ہے ، اندرون سندھ اس سے زیادہ تباہی ہے ۔ کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنی ہیں ، کیا حقوق ملے ہیں،،،،،، یہاں انسانوں کو مرنے کے لئے چھوڑدیا گیا ہے ۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر برجیس احمد نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری ہے ، حقوق کے مسائل اب بھی موجود ہیں یہ تحریکیں پھر ابھریں گی ، باہر کی قوتیں بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں ، جو ایشوز بنتے ہیں وہ ختم نہیں ہوتے ، اندراندر بہت زیادہ چیزیں چلتی رہتی ہیں ، ایم کیو ایم بننے سے پہلے60ءمیں بھی یہ باتیں کی جاتی تھیں مگر اسے پکنے میں مدت لگی ۔ یہ چیزیں اب بھی موجود ہیں مگر ان کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو ایسی قوتوں کے خلاف دباو¿ بڑھانا ہوگا۔

پاکستان کے ایک اور عمدہ کھیل کو رونق بخشنے عالمی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ شروع

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان کے ساتھ سکواش سیریز کےلئے غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ کل سے شروع ہوگا۔ اسی طرح مصری کھلاڑی بھی سیریز کےلئے مرحلہ وار پاکستان پہنچیں گے۔ پاکستان سکواش فیڈریشن کے سیکرٹری طاہر سلطان نے بتایا کہ پاکستان اور ورلڈ 5 کھلاڑیوں کے درمیان سیریز 12سے 13جولائی تک مصحف علی سکواش کمپلیکس، اسلام آباد میںشروع ہوگی ۔جس میں ہانگ کانگ، مصر، فرانس، امریکا اور انگلینڈ کے کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ایکشن میں نظر آئیں گے۔سیریز میں شرکت کے لئے غیر ملکی عالمی کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ 11جولائی سے شروع ہوگا۔ اسی طرح پاکستان اور مصری کھلاڑیوں کے درمیان سکواش سیریز15اور 16 جولائی کو اسلام آباد میں کھیلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سکواش کے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے پاکستان سکواش فیڈریشن سرینا ہوٹلز کے اشتراک سے2 انٹرنیشنل سیریز مصحف علی سکواش کمپلیکس اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان ایونٹس کے کامیاب انعقاد کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا اچھا تاثر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیکیورٹی نمائندہ بھی اس موقع پر موجود ہوگا وہ یہاں پر سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے اس کے بعد امید ہے کہ پاکستان میں پی ایس اے کے مقابلے بھی جلد بحال ہوں گے۔

فرسٹ کلاس نظام کو مضبوط بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے ہونگے

اسلام آباد(آن لائن)قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری فرسٹ کلاس کرکٹ کا نظام کمزور ہے جسے مضبوط بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانا ہوں گے ، کئی بار عمدہ پرفارمنس کے باوجود ٹیم میں جگہ نہیں بناسکا ، آئی سی سی ٹرافی کیلئے لندن جانے سے قبل ٹیم منیجمنٹ سمیت سب کا خیال تھاکہ اگر سیمی فائنل تک بھی رسائی ہو گئی تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے انکشاف کیا کہ وہ متعدد بار عمدہ پرفارمنس کے باوجود بھی قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے اور اس کا ذمہ دار کمزور فرسٹ کلاس سسٹم ہے جسے مضبوط بنانے کیلئے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ آئی سی سی ٹورنامنٹ میں نوجوان کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس سے پاکستان کرکٹ کو نیا ولولہ ملا ہے اور اب قوم کی امیدیں زیادہ وابستہ ہوگئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی سی سی ٹرافی کیلئے لندن جانے سے قبل ٹیم منیجمنٹ سمیت سب کا خیال تھاکہ اگر سیمی فائنل تک بھی رسائی ہو گئی تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آئی سی سی کے آٹھویں درجے کی ٹیم کےلئے ایونٹ جیت لینا کسی خواب سے کم نہیں ،سری لنکا کیخلاف فتح نے سیمی فائنل تک رسائی کا موقع فراہم کیا جس کے بعد تمام دباﺅ ختم ہو گیا اور ہم نے وہ حاصل کیا جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو چیمپئن ٹرافی کا تاج سر پرسجانے کا مرحلہ کبھی نہیں بھول سکتا جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایونٹ کے ناک آﺅٹ مرحلے میں ہم نے روایتی حریف بھارت سے چیمپئن ٹرافی چھین لی۔