مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری پھنس گئے، اختلافات شدت اختیار کرگئے

کراچی ( غلام عباس ڈاہری سے ) صوبہ سندھ میں بھی پی پی پی کے کچھ رہنماﺅں کے پی پی پی قیادت باالخصو ص سابق صدر آصف علی ذرداری سے اختلافات کی خبریں گردش کررہی ہیںاور ضلع گھوٹکی کے لونڈ برادرز کو پارٹی میں واپس لانے پر مہر گروپ بھی ناراض ہوگیا ہے جبکہ ضلع قمبرشہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر رکن سندھ اسمبلی میر نادر خان مگسی نے بھی پی پی پی قیادت سے اختلافات کے باعث پارٹی سے دوری پیدا کرلی ہے اور انکے گروپ کے پارٹی عہدیدار گزشتہ 4، سال سے غیر سرگرم ہیں باخبر ذرائع کے مطابق ضلع گھوٹکی سے پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سردار علی محمد خان مہر اور سردار علی گوہرخان مہر نے لونڈ برادرز کے سردار نثار احمد لونڈ کی پی پی پی مین واپسی بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جس پر مہر گروپ نے اظہارناراضگی ظاہر کی ہے اور انہیں اس فیصلے پر اعتماد نے لینے پر پارٹی قیادت کو اپنے خدشات سے آگاہ بھی کردیا ہے دوسری طرف لاڑکانہ ڈویژن کے بااثر سیاسی خاندان سابق صوبائی وزیر میر نادر علی مگسی اور انکے بھائی رکن قومی اسمبلی میر عامر علی مگسی گزشتہ 4 ، سالوں سے پی پی پی سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیںاور میر نادر خان مگسی نہ صرف پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے بلک سندھ اسمبلی کے اجلاس میںبھی کم نظر آتے ہیں اور گزشتہ 4، سالوں کے دوران انہوں نے نہ صرف آصف علی زرداری بلک بلاول بھٹو ذرداری سے بھی ملاقات نہ ہونے کے برابر کی ہیں ان اختلافات کو ختم کرانے کیلئے لاڑکانہ ڈویژن سے منتخب بگھیو قبیلے کے رکن قومی اسمبلی خزب اللہ بگھیونے بھی متعدد بار کوشش کی تاہم اختلافات کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے گئے زرائع کے مطابق میر نادر علی خان مگسی نے مختلف سیاستدانوں سے بھی رابطوں کے اطلاعات موصول ہوئے ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت مگسی خاندان پی پی پی کو خیر باد کہہ سکتے ہیں جبکہ مگسی خاندان کی جگہ اراکین سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیواور برہان خان چانڈیوپر آصف علی زرداری کی مہربانیاں جاری ہیں اور ضلع قمبر شہدادا کوٹ میں تمام اعلیٰ افسران چانڈیو خاندان کی مرضی سے تعنیات کئے گئے ہیں ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ مہر گروپ کی وجہ سے پی پی پی کو ضلع گھوٹکی کے علاوہ ضلع سکھر میں بھی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

2لاکھ 66ہزار پاکستانی ملک بدر

لاہور(خصوصی رپورٹ)دنیا کے مختلف ممالک سے غیر قانونی طور قیام پذیر پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔دنیا کے مختلف ممالک سے گزشتہ 3سالوں میں2لاکھ66ہزار پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا، سعودی عرب سے سب سے زیادہ 1لاکھ39ہزار49 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ،جبکہ متحدہ عرب امارات سے 18ہزار476،برطانیہ سے 6ہزار939،امریکہ سے339،چین سے 133 اور اومان سے 7ہزار400 پاکستانیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ملک بدر کیا گیا۔ پانامہ سے بھی 2016میں 11پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا ۔دستاویزات کے مطابق دنیا بھر سے گزشتہ تین سالوں میں 2لاکھ66ہزار پاکستانیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کیا گیا ، سب سے زیادہ 1لاکھ39ہزار49پاکستانیوں کو صرف سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا گیا ۔دوسرے نمبر متحدہ عرب امارات سے 18ہزار476پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ اومان سے 7ہزار400،ملائشیا سے 10ہزار505،برطانیہ سے 6ہزار939،ترکی سے 5ہزار121،یونان سے 4ہزار965،جنوبی افریقہ سے 1369،تھائی لینڈ سے 880،روس سے 532،فرانس سے 444،امریکہ سے339،بحرین سے 700،کویت سے 368،ہانگ کانگ سے 200،جرمنی سے 449،سری لنکا سے 413،چین سے 133،بھارت سے 27،سپین سے 242،آسٹریلیا سے88،کینیڈا سے 195،ایران سے175 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا ۔ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن سمیع الرحمان خان جامی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مختلف ممالک سے غیر قانونی طور قیام پذیر پاکستانیوںکے ڈپورٹ ہونے کے بعد ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی ہے ۔اس بات کی تفتیش بھی کی جاتی ہے کہ یہ کس ویزے پر پاکستان سے گئے تھے اور کن وجوہ کی بنا پر مقررہ وقت پر واپس نہیں آسکے۔

عازمین حج کیلئے تشویشناک خبر

ملتان (خصوصی رپورٹ) پی آئی اے نے حج آپریشن 2017ءکے لیے چھ ماہ پہلے گراﺅنڈ ہونے والے بیس سال پرانے جہاز استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے فیڈرل سیکرٹری (سول ایوی ایشن) کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ان سے گراﺅنڈ ہونے والے جہاز چلانے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایئر بس 310 اور دو ایئر بس 300 ‘ تینوں ہوائی جہاز اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اور انہیں دسمبر 2016ءمیں گراﺅنڈ کر دیا گیا ہے۔ ان حقائق کے باوجود پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو نے سینکڑوں عازمین حج کی زندگی کا رسک لیتے ہوئے حکومت سے ایک بار ایلیکیشن دینے اور ان جہازوں کو آپریشنل کرنے کی اجازت طلب کرلی ہے۔ پی آئی اے کے سی ای او نے سعودی ایوی ایشن حکام سے بھی سیفٹی چیک سے مستثنیٰ قرار دینے کی اجازت لینے کی درخواست کی ہے۔ فیڈرل سیکرٹری سول ایوی ایشن ڈویژن عرفان الٰہی نے کہا کہ سیفٹی کے معاملے پر دورائے نہیں ہے۔ ایئربس 310 اور ایئر بس 300 کو اس صورت آپریشن کی اجازت دی جائے گی جب وہ 100 فیصد پرواز کے قابل ہوں گی۔ اس کے لیے ایئربس بنانے والی کمپنی اور سول ایوی ایشن کا سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ضروری ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین جہاز کسی فنی خرابی کی وجہ سے گراﺅنڈ نہیں کیے گئے بلکہ ان کی ایوی ایشن پالیسی 2015 کے تحت عمر پوری ہو گئی تھی۔ اس ماڈل کے ایئربس دنیا کے مختلف ممالک میں آپریشنل ہیں۔

ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی،اہم ترین قرارداد منظور

اقوام متحدہ (نیٹ نیوز) اقوام متحدہ میں 122ممالک نے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کیلئے عالمی معاہدہ منظور کر لیا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ایٹمی طاقت کی حامل ریاستوں نے مخالفت کی تھی اور مذاکرات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ہالینڈ نے مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ سنگاپور غیرحاضر رہا۔ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک نے اس پابندی کو غیرحقیقی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا کہ دنیا میں 15 ہزار ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کیلئے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس، بھارت، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل نے مذاکرات اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ معاہدہ منظور کرنے والے 122 ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک پر زور دیں گے کہ وہ سنجیدگی سے ایٹمی ہتھیار کم کریں۔ بتایا گیا ہے کہ جاپان نے بھی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔

ٹریفک حادثے میں ایک ہی یونیورسٹی کے 3پروفیسرز جاں بحق

راولپنڈی (ویب ڈیسک) چکری روڈ پر کار حادثے کے نتیجے میں ملتان کے گورنمنٹ ایمرسن کالج کے 3 پروفیسرز جاں بحق ہوگئے۔راولپنڈی میں موٹروے پرچکری روڈ کے قریب کارتیز رفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں ملتان کے گورنمنٹ ایمرسن کالج کے 3 پروفیسرز جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسرز رانا دلشاد اورراوو¿ ذوالفقارجب کہ اسسٹنٹ پروفیسر راو¿ ظفر اقبال شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق تینوں پروفیسرز مری جارہے تھے کہ حادثہ پیش ا?یا، تینوں پروفیسرز کی میتیں پمز اسلام آباد جبکہ ایک زخمی پروفیسربھی پمزمیں زیرعلاج ہے۔

برہان وانی کی قربانی حق خودارادیت کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے، آرمی چیف

 راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ برہان وانی اور دیگر کشمیریوں کی قربانیاں بھارتی مظالم کے خلاف ان کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے شہید برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کشمیریوں کو حق خوداردیت حاصل ہے جب کہ برہان وانی اور دیگر کشمیریوں کی قربانیاں ان کے کشمیر سے متعلق عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ،اہم پیش رفت، کیا ہونے جارہاہے؟دیکھیں اہم خبر

لاہور(خصوصی رپورٹ) پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے آخری 48 گھنٹے اہم ہیں۔ رپورٹ لکھی جارہی ہے بلاشبہ جے آئی ٹی کے 6 ارکان نے 60 دن کی مقررہ مدت میں کٹھن ترین فریضہ انجام دیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی بقا اور ان کی حکومت کا مستقبل جے آئی ٹی کی تحقیقات پر منحصر ہے۔ ایک جانب اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف اور وزیراعظم نواز شریف سے ناراض قوتیں ہیں، دوسری جانب حکومت اور اس کا مستقبل اوربیچ میں یہ جے آئی ٹی ہے۔ اس تناظر میں جے آئی ٹی کو پاکستان کی تاریخ کا کٹھن ترین کام دیا گیا تھا۔ یہ کام بڑا مشکل تھا، اس میں اپوزیشن اور حکومت جے آئی ٹی کو نشانہ بنانے میں اکٹھی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور ن لیگ کے رہنما جے آئی ٹی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان، آصف زرداری اور دیگر سیاسی رہنماﺅں نے بھی اس پر نکتہ چینی کی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جے آئی ٹی کا کوئی رکن اپنی مرضی سے اس میں شامل ہوا ہے، ان 6 افراد کا انتخاب سپریم کورٹ نے کیا ہے۔ مختصر ترین وقت میں پاکستان کی مشکل ترین تحقیقات انتہائی وسیع مینڈیٹ کے سوالات کے ساتھ ان 6 پاکستانیوں کو سونپی گئی ہیں۔ ان 6 افسروں کی دیانتداری اور ساکھ کے بارے میں آج تک کوئی ایشو سامنے نہیں آیا۔ قطری شہزادے کے خط کے حوالے سے کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں لگتا ہے کہ حسین نواز کی جانب سے جے آئی ٹی کو کچھ دستاویزات دی گئی ہیں اور منی ٹریل بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری جانب لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اب عمران خان کی تلاشی لے گئی اور اس سلسلے میں مستعدی سے تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ ایک بات جو سامنے آرہی ہے کہ اس کا تعلق عمران خان کے ٹیکس گوشواروں سے ہے اور خاص طور پر اس معاملے کے حوالے سے ہیں جس میں 1997ءمیں کیلی فورنیا کی عدالت نے ان کی بیٹی کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا۔ عمران خان کے لئے یہ حساس معاملہ ہے، لگ رہا ہے کہ اس بات کی تیاری ہو رہی ہے کہ عمران خان سے ان سوالوں کے جوابات لئے جائیں گے۔ اس حوالے سے جے آئی ٹی میں شامل لوگ اچھی شہرت کے حامل ہیں ان کی دیانتداری ہر شبہ سے بالاتر ہے۔ وزیراعظم کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا ہے۔ وزیراعظم کی اس سے سبکی نہیں ہوئی بلکہ ان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کو مزید وقت دیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف جے آئی ٹی کی فائنڈنگ کی روشنی میں عدالت نیب، ایف بی آر اور ایف آئی اے کو ہدایت کر سکتی ہے کہ اس پر مزید کام کرکے عدالت میں رپورٹ دیں، عمر چیمہ نے کہا کہ عمران خان کو بھی تلاشی کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ میں لندن فلیٹس کی منی ٹریل اور اس حوالے سے قطری شہزادے حمد بن جاسم کی اپنے مکتوب کی تصدیق اور تفتیش اہم ہے اور یہی اس حوالے سے کسی فیصلے کی بنیاد بن سکتی ہے، جس کے لئے بعض حلقوں کی جانب سے دباﺅ ہے کہ وہ قطری شہزادے اور جے آئی ٹی کے درمیان بات چیت کو ممکن بنائیں۔ ذرائع کے مطابق قطری شہزادے حماد بن جاسم نے اپنے محل میں بیان ریکارڈ کرانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ دوسری جانب حکومت کے ایک ذمہ دار ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں جے آئی ٹی اور قطری شہزادے میں کوئی بڑا بریک تھرو (رابطہ) ہوسکتاہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ رات بھی وزیراعظم ہاﺅس میں وزیراعظم نواز شریف نے اپنے سیاسی اور قانونی ساتھیوں سے مشاورت کی اور جے آئی ٹی کی ممکنہ رپورٹ کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا اور طے کیا گیا کہ قطری شہزادے کے بیان کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے مخالفین کا سیاسی میدان میں بھرپور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مخالفین کے لئے میدان خالی نہیںچھوڑا جائے گا۔ سیاسی مخالفین کی تنقید کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے نظرثانی کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جمہوری نظام کے استحکام کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو ”آن بورڈ“ آنے کے بعد ضرورت پڑی تو تمام آئینی و قانونی آپشن استعمال پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اس بات کا فیصلہ مسلم لیگ کے اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا جو جمعہ کو وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم کبھی احتساب سے خوفزدہ نہیں ہوئے لیکن وہ صحیح معنوں میں احتساب ہونا چاہیے اور ہمارے ہاتھ صاف ہیں ہم نے سرکاری خزانے کی ایک پائی کا غلط استعمال نہیں کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند عناصر مسلسل ہماری حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور ہمیں ترقی کے راستے سے ہٹانے کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں مگر ہم عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کریں گے اور ہم اپنے تمام وعدوں کو پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کے دوران جے آئی ٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ جے آئی ٹی اور دیگر قانونی امور پر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورت حال پر پارلیمانی جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔
جے آئی ٹی

”کے پی کے “میں بڑی تبدیلی آگئی

پشاور (خصوصی رپورٹ)خیبرپی کے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون کو تھانہ کا ایس ایچ او مقررکردیا گیا۔ پولیس لائن سے جاری ہونے والے حکم نامہ کے مطابق شہر کے مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کو تبدیل کردیا گیا، نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ او میں خاتون بھی شامل ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ آپریشنل ذمہ داریاں کسی خاتون کو سونپی گئی۔ پشاور پولیس نے سب انسپکٹر رضوانہ حمید کو پولیس سٹیشن گلبرگ کی ایس ایچ او تعینات کیا۔

امریکی جھنڈے پر پشاب کرنیوالی خاتون کی ویڈیو وائرل

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ)امریکی پرچم پر پیشاب کرنے پر خاتون کو مومت کی دھمکیاں ملنے لگیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی پرچم پر پیشاب کرتے ہوئے اپنی ویڈیو کو فیس بک پر شیئر کرنے والی خاتون ایملی لانس کا کہنا ہے کہ ان کی اس حرکت پر ان کے خاندان کے لوگوں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایملی لانس نے 4 جولائی کو امریکہ کے یوم آزادی کے موقع پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہیں امریکی پرچم پر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ایملی لانس کو ویڈیو شیئر کرنے پر جان سے مار دینے اور ریپ کی دھمکیاں ملی ہیں۔فیس بک پر ایملی لانس ا اکانٹ اب ختم ہو چکا ہے لیکن جب ان کا اکانٹ ایکٹو تھا تو انھوں نے اپنے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اس فعل کی وجہ سے ان کے والد اور دفتر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکہ میں جھنڈے کی بے حرمتی کے خلاف قانون نہیں ہے۔اس ویڈیو میں ایملی لانس ایک ایسے ٹوئیلٹ پر کھڑے ہوئے پیشاب کرتی نظر آتی ہیں جس پر امریکی پرچم لپٹا ہوا ہے۔بعد میں ایملی لانس نے اپنے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ غلط لوگوں پر غصہ نہ نکالیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے خاندان کا میری اس شرارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہاکی پلیئر کی آمدن قومی کرکٹ ٹیم کے ”مالیشے “سے بھی کم

لاہور(خصوصی رپورٹ ) چیمپئنز ٹرافی میں کرکٹ ٹیم کی فتح کا مزا ورلڈ ہاکی لیگ سیمی فائنلز میں قومی ہاکی ٹیم کی ہار نے تھوڑا پھیکا کردیا مگر ہاکی ماہرین اس موازنے کو نہیں مانتے ۔ ماہرین کے مطابق کرکٹرز کروڑوں میں کھیلتے ہیں جبکہ ہاکی کھلاڑیوں کوجھنڈے والی قمیض کے سوا کچھ نہیں ملتا۔کرکٹ پاکستان میں جنون کی حد تک ہے لیکن قومی کھیل ہونے کے باوجود اس کے کپتان کا نام تک کوئی نہیں جانتا۔ کھلاڑیوں کی معاشی خوشحالی کے حوالے سے بھی دونوں طرف زمین آسمان کا فرق ہے ۔اے کیٹیگری کے ایک کرکٹر کو ماہانہ پانچ لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ ہاکی کھلاڑی کی جیب خالی ہوتی ہے ۔ ایک ون ڈے میچ کی فیس تین لاکھ روپے ہے اور ہاکی میچ میں کھلاڑی کوامید کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔کرکٹ کوچ کی تنخواہ18لاکھ روپے ماہانہ ہے جبکہ ہاکی کوچ کوصرف دلاسے ملتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے سابق کوچ دانش کلیم نے اس صورتحال کا قصور وار حکومت کے ساتھ کھلاڑیوں کو بھی قرار دیا ۔انہوں نے کہا 1994 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کو ایک دن کے بیس ڈالرز ملتے تھے جو کافی تھے میگا ایونٹ جیتا تو ساری غربت دور ہوگئی۔ کرکٹرز کو چیمپئنز ٹرافی جیتنے پر کروڑ روپے ملے ہاکی کھلاڑی بڑا ایونٹ جیتیں تو انہیں بھی حکومت کروڑ پتی کردے گے ۔ ایک ہاکی پلیئر کی کل آمدن محض نو لاکھ روپے ہے اور اس سے زیادہ کمائی قومی کرکٹ ٹیم کے مالشیئے کی ہے ،دانش کلیم نے کہا یہ بھی سچ ہے کہ اب ہاکی کھلاڑیوں کے پاس نوکریاں نہیں، ماضی میں حسن سردار ایڈیشن کلکٹر کسٹمز، منیر ڈار اور خواجہ ذکا الدین پولیس میں ڈی آئی جی رہے اور اب کے ہاکی کھلاڑیوں کو بھی آفر ہے تو وہ ضرورپنجاب پولیس میں کانسٹیبل لگ جائیں ۔ہاکی پلیئر کی آمدن قومی کرکٹ ٹیم کz مالشیئے سے بھی کم کرکٹرز پر کروڑوں نچھاور ، ہاکی کھلاڑیوں کیلئے صرف جھنڈے والی قمیض ، کرکٹ کا جنون ،ہاکی ٹیم کے کپتان کا نام کوئی نہیں جانتا کرکٹر کی تنخواہ 5لاکھ روپے ،ہاکی سٹار کی جیب خالی ،ون ڈے میچ کی فیس 3لاکھ،ہاکی میچ میں کھلاڑی کوامید کے سوا کچھ نہیں ملتا کرکٹ کوچ کی تنخواہ 18لاکھ ،ہاکی کوچ کو دلاسے ،ماضی میں ہاکی کھلاڑی بڑے عہدوں پر اب کانسٹیبل کی نوکریمیسر لاہور (ثنا اللہ خان)چیمپئنز ٹرافی میں کرکٹ ٹیم کی فتح کا مزا ورلڈ ہاکی لیگ سیمی فائنلز میں قومی ہاکی ٹیم کی ہار نے تھوڑا پھیکا کردیا مگر ہاکی ماہرین اس موازنے کو نہیں مانتے ۔ ماہرین کے مطابق کرکٹرز کروڑوں میں کھیلتے ہیں جبکہ ہاکی کھلاڑیوں کوجھنڈے والی قمیض کے سوا کچھ نہیں ملتا۔کرکٹ پاکستان میں جنون کی حد تک ہے لیکن قومی کھیل ہونے کے باوجود اس کے کپتان کا نام تک کوئی نہیں جانتا۔ کھلاڑیوں کی معاشی خوشحالی کے حوالے سے بھی دونوں طرف زمین آسمان کا فرق ہے ۔اے کیٹیگری کے ایک کرکٹر کو ماہانہ پانچ لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ ہاکی کھلاڑی کی جیب خالی ہوتی ہے ۔ ایک ون ڈے میچ کی فیس تین لاکھ روپے ہے اور ہاکی میچ میں کھلاڑی کوامید کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔کرکٹ کوچ کی تنخواہ18لاکھ روپے ماہانہ ہے جبکہ ہاکی کوچ کوصرف دلاسے ملتے ہیں۔ روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کوچ دانش کلیم نے اس صورتحال کا قصور وار حکومت کے ساتھ کھلاڑیوں کو بھی قرار دیا ۔انہوں نے کہا 1994 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کو ایک دن کے بیس ڈالرز ملتے تھے جو کافی تھے میگا ایونٹ جیتا تو ساری غربت دور ہوگئی۔ کرکٹرز کو چیمپئنز ٹرافی جیتنے پر کروڑ روپے ملے ہاکی کھلاڑی بڑا ایونٹ جیتیں تو انہیں بھی حکومت کروڑ پتی کردے گے ۔ ایک ہاکی پلیئر کی کل آمدن محض نو لاکھ روپے ہے اور اس سے زیادہ کمائی قومی کرکٹ ٹیم کے مالشیئے کی ہے ،دانش کلیم نے کہا یہ بھی سچ ہے کہ اب ہاکی کھلاڑیوں کے پاس نوکریاں نہیں، ماضی میں حسن سردار ایڈیشن کلکٹر کسٹمز، منیر ڈار اور خواجہ ذکا الدین پولیس میں ڈی آئی جی رہے اور اب کے ہاکی کھلاڑیوں کو بھی آفر ہے تو وہ ضرورپنجاب پولیس میں کانسٹیبل لگ جائیں ۔