فکسنگ کیس،خالد نے پھر ٹربیونل کی کاروائی پر اعتراضات اُٹھادئیے

لاہور(نیوزایجنسیاں) پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ میں معطل کرکٹر خالد لطیف نے اینٹی کرپشن ٹریبیونل کی کارروائی پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ میں معطل کرکٹر خالد لطیف نے اینٹی کرپشن ٹریبیونل کی کارروائی پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں، کرکٹر کے وکیل نے ایک بار پھر ٹریبیونل پر عدم اعتماد کرتے ہوئے درخواستیں بھجوا کر مزید کارروائی کی استدعا کی ہے۔ خالد لطیف کی جانب سے ٹریبیونل میں یکطرفہ کارروائی پر اعتراضات کرتے ہوئے بیان حلفی جمع کروایا گیا ہے۔خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری غیرموجودگی میں گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے گئے اور گواہان پر جرح کا موقع نہ دے کر ہمارا کیس کمزور کیا گیا، اس لیے گواہان پر جرح کی اجازت طلب کی ہے۔واضح رہے کہ خالد لطیف اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ ٹریبیونل کا بائیکاٹ کر چکے ہیں، انہوں نے ٹریبیونل کی تشکیل کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ بھی دائر کی تھی، سنگل بنچ کی جانب سے درخواست مسترد ہونے پر ڈویڑنل بنچ میں بھی درخواست دائر کی تھی لیکن وہاں بھی ان کی درخواست کو رد کر دیا گیا تھا۔پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں خالد لطیف کیس کی سماعت مکمل ہوگئی۔ کیس میں 25 اگست تک فیصلہ آنے کا امکان ہے جبکہ شاہ زیب حسن کیس کی سماعت 16 اگست تک ملتوی کردی گئی بتایا گیا ہے کہ فکسنگ سکینڈل میں خالد لطیف کیس میں فریقین نے حتمی تحریری دلائل جمع کرادئیے،تحریری جواب جمع ہونے کے بعد طریقہ کار کے مطابق ٹربیونل 30 روز کے اندر کیس کا فیصلہ سنانے کا پابند ہے پی سی بی کے جی ایم لیگل سلمان نصیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی سی بی نے خالد لطیف کیس میں اپنے دلائل جمع کرادئیے ہیں اور امید ہے کہ یہ کیس مزید آگے نہیں چلے گا دوسری جانب خالد لطیف کے وکیل بد رعالم نے ٹربیونل میں ایک اور درخواست میں استدعا کی ہے کہ کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل ان کو گواہوں کے بیانات پر جرح کرنے کا ایک موقع دیاجائے جس پر ٹربیونل بعد میں فیصلہ کرے گا دوسری طرف شاہ زیب حسن کیس کی سماعت پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی کے بیرون ملک ہونے کی بنا پر 16 اگست تک ملتوی کردی گئی ہے۔

نواز شریف کی نااہلیت ناقابل قبول, نیا پلان منظر عام پر

اسلام آباد(این این آئی) وزیرمملکت اطلاعات نے کہاہے کہ وزیراعظم کا پاناما لیکس سے کوئی تعلق ہی نہیں،وزیراعظم کا کہیں بھی کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا،مخالفین کو اپنا ریکارڈ نہیں مل رہا،وزیراعظم نے اپنے تمام ریکارڈ پیش کیے،جے آئی ٹی پر تحفظات سے عدالت آگاہ ہے،عمران خان کو احتساب کا زیرو کریڈٹ دوں گی،عمران خان اپنی منی ٹریل پیش نہیں کر پارہے، اپوزیشن کو ایک اور بیساکھی نہیں دینا چاہتے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب وزارت سنبھالی تب بہت سیاسی ہلچل مچی تھی تھوڑے وقت میں میں مجھے بہت زیادہ عزت ملی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے کیس جے آئی ٹی نے تحقیقات کی رپورٹ میں کرپشن یا منڈی لانڈرنگ کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ جے آئی ٹی پر تحفظات سے عدالت آگاہ ہے ن لیگ نے جے آئی ٹی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم چاہتے تو جے آئی ٹی میں پیش نہ ہوتے،وزیراعظم نے اپنے تمام ریکارڈ پیش کیے۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ وزیراعظم نے ملک میں احتساب کی روایت رکھی اب ملک میں احتساب سے کسی کو استثنیٰ نہیں۔وزیرمملکت نے کہاکہ عمران خان اداروں کے اختیارات چیلنج کررہے ہیں،عمران خان الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کرتے ہیں،عمران خان سپریم کورٹ کے اختیار چیلنج کررہے ہیں،عمران خان اپنی منی ٹریل پیش نہیں کر پارہے،عمران خان کبھی جمائمہ اور کبھی کسی کا نام لیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف نااہل نہیں ہوں گے پاناما کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے،ہم فیصلے سے پہلے کیوں اندازے لگائیں،وزیراعظم نے ہمیشہ کہا کہ سسٹم کو چلنے دیں،مریم اورنگزیب نے کہاکہ وزیراعظم پر الزامات لگائیں تو ہم بولے بھی نہیں،کسی پر انگلی اٹھائیں تو باقی آپ کی طرف ہوتی ہیں،ہر پاکستانی شہری کا فرض ہے کہ آئین کی حفاظت کرے،وزیراعظم اپنے مینڈیٹ کی حفاظت ڈٹ کر اور آخری وقت تک کریں گے۔وزیرمملکت نے کہاکہ اپوزیشن کو ایک اور بیساکھی نہیں دینا چاہتے،تحفظات پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہاکہ کابینہ اجلاس میں چوہدری نثار نے اپنی رائے دی،کابینہ اجلاس میں اور ممبران بھی اپنی رائے دی،چوہدری نثار کی رائے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا،چوہدری نثار وزیراعظم کے قریبی ساتھی ہیں، چوہدری نثار نے کہا کہ قیاس آرائی سے اجتناب کیا جائے،چوہدری نثار پریس کانفرنس میں کابینہ اجلاس پر بات کریں گے۔

اوچھے ہتھکنڈوں کے دن گنے جاچکے, بیساکھیاں ٹوٹنے والی ہیں

اوکاڑہ (بیورورپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاو¿ل بھٹو زرداری نے کہا کہ سانحہ فیروز پور روڑ لاہور مو جودہ حکمرانوں کی گُڈ گرننس کی کلی کھل گئی ہے نواز شریف اپنے ڈکٹیٹر روحانی پیشوا ضیاالحق کے نقشِ قدم پر چلتے ہو ئے پی پی پی کے کارکنوں پر جھوٹے مقدمات بناکر یہ ثابت کر نا چاہتا ہے کہ جیالے اِن حربوں سے ڈر جا ئیں گے یہ اُن کی بھول ہے ڈکٹیٹر اور کر پش کی پیداوارپی پی پی کے جیالوں پر اُچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے ساہیوال اور پاکپتن میں سینکڑوں کارکنوں پر جھوٹے مقدمات شرم کی بات ہے جیالوں کی روحوں میں بھٹو اور بی بی بو لتے ہے انشااللہ تختہ لاہور چھین لیںگے نواز شریف جن بیساکھیوں پر چلتے ہیں وہ عنقریب ٹوٹ جا ئیں گی اِن خیالات کا اِ ظہار اِنہوں نے اوکاڑہ میں پی پی پی کے مذمتی اِجلاس میں ٹیلی فونک خطاب کرتے ہو ئے کیا اس مو قع پر ضلعی صدر پی پی پی ضلع اوکاڑہ وسابق ایم این اے چوہدری سجاد الحسن،اِنفارمیشن سیکرٹری ملک شاہد سلیم نو نا ری ،مرکزی رہنماءمحمد آصف خان بلوچ ، ملک عنائیت اللہ،دیان سلطان طور ،عالم شیر خان لودھی ،راو¿ رفیق ساجداور سلمان قریشی کے علاوہ کار کنو ں کی کثیر تعداد مو جود تھی انہوں نے کہا کہ سانحہ لاہور کے شہداءکے لوا حیقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔

نواز شریف کا متبادل وزیراعظم, چودھری نثار نے سب کو حیران کردیا

اسلام آباد (آئی این پی، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان سے پنجاب ہاﺅس میں ملاقات کی، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چوہدری نثار کو پارٹی اختلافات میڈیا پر نہ لانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی معاملات مل بیٹھ کرحل کیے ہیں، آپ پارٹی کے اہم رکن ہیں اور آپ کی پارٹی کے لیے ناقابل فراموش خدمات ہیں، آپ svنے لاہور دھماکے کے بعد سیاسی معاملات کو ایک طرف رکھ کر دانش کا مظاہرہ کیا، چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میرے اختلافات اصولوں پر مبنی ہیں، میں اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پارٹی اور ملکی مفاد میں بات کرتا ہوں جب کہ اپنے ضمیر کو فراموش نہیں کر سکتا، وزیراعظم نواز شریف کے دورہ مالدیپ سے واپسی پر وزیراعلیٰ پنجاب وزیرداخلہ سے اپنی ملاقات کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کریں گے جس کے بعد وزیرداخلہ اور وزیراعظم کی ملاقات کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وزیرداخلہ چوہدری نثار سے پنجاب ہاﺅس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرداخلہ کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جو تقریباً ساڑھے چار گھنٹے جاری رہی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چوہدری نثار کو پارٹی اختلافات میڈیا پر نہ لانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی معاملات مل بیٹھ کرحل کیے ہیں، آپ پارٹی کے اہم رکن ہیں اور آپ کی پارٹی کے لیے ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ نجی ٹی وی نے سینئر لیگی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر داخلہ کا ارادہ اس وقت تبدیل ہوا، جب وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے چوہدری نثار کو یہ یقین دہانی کروائی کہ پاناما پیپر کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں ان سے جونیئر کسی وزیر کو وزیراعظم کے طور پر نامزد نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ چوہدری نثار نے نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں وزیر داخلہ کے علاوہ کسی اور وزیر کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے منصوبے پر نواز شریف سے اختلاف کیا تھا۔ انہوں نے چوہدری نثار کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ حکومت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہونے اور کابینہ کے دیگر وزرا سے سینئر ہونے کی بنا پر وزیراعظم نواز شریف کے متبادل کے طور پر ان کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار صرف وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے حق میں دستبردار ہونے کو تیار تھے اور دوسری صورت میں انہوں نے وزارت سے مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی۔ ترجمان وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وزیر داخلہ چودھری نثار ناراض ہیں، وزیرداخلہ کو منانے کی کوشش کا تاثر بھی غلط ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے چند اہم امور پر پارٹی اجلاس میں ایک مو¿قف اختیار کیا تھا، اس مو¿قف کے بعد وزیر داخلہ کو تمام مشاورتی عمل سے الگ کر دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ چودھری نثار چاہتے ہیں کہ انہیں بتایا جائے کہ ایسا کیوں ہوا؟ میاں شہباز شریف کے علاوہ ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ سب نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ اختلافات کو میڈیا پر نہ لائیں۔ پوری کابینہ میں سے کوئی بھی وزیراعظم کا امیدوار نہیں۔ مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ چودھری نثار علی خان نے آج میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس سے قبل ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال وغیرہ سے ملاقات کر چکے ہیں۔ سیاست میں ایک دوسرے سے گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں۔ آج کی ملاقات میں وزیراعظم کی مرضی بھی شامل تھی۔ انہیں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس اختلاف کو میڈیا پر نہ لائیں مخالفین اچھالیں گے۔ ہر کوئی اپنی مرضی کی باتیں نکالے گا۔ ہماری رفاقت 32 سالہ پرانی ہے۔ آج کی بات نہیں۔ میاں نواز شریف اور چودھری نثار علی کا اور طرح کا رشتہ ہے۔ وزیراعظم نے انہیں گلدستہ بھیجا اور طبیعت بارے بھی پوچھا تھا۔ کچھ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ان کے کچھ تحفظات ہیں۔ سچی بات ہے فاصلہ تو بڑھ گیا تھا۔ لیکن مسائل دونوں جانب ہوتے ہیں۔ لیکن وہ بڑے بھائی ہیں ہم منا کر بٹھا لیں گے۔ ہماری جماعت اور قانونی ٹیم وکلاءکی حتمی رائے ہے کہ وزیراعظم نااہل ہو ہی نہیں سکتے۔ ہم میں سے کوئی بھی وزیراعظم کا امیدوار نہیں ہے۔ کامیابی کے بعد وزراءکی لسٹ بھی قائد نے خود فائنل کی تھی۔ ملک میں انتشار کی صورت نہیں پھیلنے دیں گے۔ مخالفین لاکھ زور لگا لیں ہم کسی بھی صورت وزیراعظم کو نااہل کئے جانے کے خلاف ہیں بے شک وہ پی پی پی کا ہو یا کسی اور جماعت کا۔

عدم استحکام کی سازشیں کرنیوالوں بارے وزیراعلیٰ کا بڑا اعلان

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم نے مل کراسے آگے لے کر جانا ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت پاکستان کے عوام کا مقدر نہیں اور نہ ہی قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پاکستان میں ایسے ناسور کی کوئی گنجائش ہے۔ پاکستانی بہادر اور دلیر قوم ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم کی عظیم قربانیاں اپنی جگہ مسلمہ ہیں۔دہشت گردی کا چیلنج جتنا بڑا ہے، پاکستانی قوم کا عزم اس سے زیادہ بلند ہے۔دہشت گردی کے عفریت کو ہر قیمت پر شکست دے کر ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے اور اتحاد و اتفاق کی طاقت سے دہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کا مکمل صفایا کریں گے۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے افسران، جوانوں، ان کے بچوں، پولیس کے افسران، اہلکاروں اور سیکورٹی اداروں نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں عوام کا لہو بھی شامل ہے۔ وطن عزیز کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے بزدلوں کا ساتھ دینے والے بھی عبرتناک انجام کے مستحق ہیں اور انہیں بھی کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں بلکہ یہ سفاک درندے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شہید ہونے والے افراد کی زندگیاں تو نہیں واپس لائی جاسکتیں لیکن شہداءکے قیمتی خون کا بدلہ ہر قیمت پر لیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے ۔ ہزاروں پاکستانی جام شہاد ت نوش کر چکے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمولی جنگ نہیں ہماری بقائ، ہماری نسلوں اور ہماری سلامتی کی جنگ ہے اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی قوم کے پختہ ارادوں کو کبھی کمزور نہیںکرسکتیں۔انہو ںنے کہا کہ ہمارا دشمن وطن عزیز کے خلاف سازشیں کر رہا ہے لیکن پاکستانی قوم دشمن کے مذموم عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ قوم نے اتحاد اور اتفاق کی قوت سے پہلے بھی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف دشمن ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے تو دوسری طرف بعض شکست خوردہ سیاسی عناصر محض اپنی جھوٹی انا کی خاطر ترقی کی شاہراہ پر گامزن پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ وقت اتفاق اور اتحاد کا ہے، قوم میں نفاق ڈالنے کا نہیں ، لہٰذا ہم سب کو پاکستان کیلئے سوچنا ہے اور پاکستان کیلئے ہی جینا مرنا ہے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ملتان کے علاقے مظفر آباد مےں پنچایت کے فےصلے پرلڑکی سے زےادتی کے واقعہ کاسخت نوٹس لےتے ہوئے سی پی او ملتان سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔وزےراعلیٰ نے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کا حکم دےا ہے ۔وزےراعلیٰ نے ہداےت کی ہے کہ متاثرہ خاندان کو ہر قےمت پر انصاف فراہم کےا جائے اورمقدمہ درج کر کے ملزمان کے خلاف بلاامتےاز کارروائی کی جائے۔ وزےراعلیٰ کی ہداےت پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلےاگےا ہے اورپنچاےت کے سربراہ سمےت 20ملزم گرفتار کرلئے گئے ہےںجبکہ ملتان پولےسمفروردےگر ملزموںکی گرفتار ی کےلئے چھاپے ماررہی ہے اورباقی ملزموں کو بھی جلد گرفتار کرلےاجائےگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے فیصل آباد کے علاقے میں الائیڈ ہسپتال کے معروف پروفیسر ڈاکٹر محمود علیم کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور قتل کے ملزموں کی جلد گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرکے قانون کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار پورا نظام غیر یقینی صورتحال کا شکار

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں جس نوازشریف کو جانتا ہوں وہ بہت رحم دل، خدا خوفی رکھنے والے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے جب ہمارا سلوگن سُنا ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ تو انہوں نے اسی سلوگن کو اپنا لیا ”جہاں ظلم وہاں نواز شریف“ نوازشریف صاحب چھوٹے سے چھوٹے واقعہ پر بھی پہنچ جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کچے کے علاقے میں وہ ہیلی کاپٹر میں ایک بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر پر وہاں پہنچے اور ملزمان کی گرفتاری تک وہاں رہے۔ شمالی لاہور میں ایک مرتبہ شدید بارش ہوئی۔ ہر طرف پانی پانی تھا۔ نواز شریف نے مجھے اور چند صحافیوں کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اڑھائی گھنٹوں تک وہ ہمارے ساتھ پانی میں پھرتے رہے۔ اب شاید وہ نوازشریف تبدیل ہو چکے ہیں۔ لاہور میں دھماکے کے باوجود وہ دوسرے ملک کے دورے پر چلے گئے اور دھماکہ بھی ان کی پرانی رہائش گاہ کے اتنا قریب ہوا۔ اتنے عرصہ سے حکمران رہنے کے بعد شاید وہ پرانے والے نوازشریف نہ رہے ہوں اور انہوں نے دھماکے کو صوبائی معاملہ سمجھتے ہوئے میاں شہباز شریف پر ڈال دیا ہو۔ میں اس نوازشریف کو جانتا ہوں جو وزیرخزانہ تھے تو ہمارے دفتر آ کر ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر گوال منڈی سبز چائے پلانے لے جاتے تھے۔ یہ ان کا شوق تھا، بطور دوست وہ ہمدرد انسان تھے۔ چوہدری نثار علی خان اور شہباز شریف کی آج ملاقات ہوئی ہے لیکن امن ملاقات ہی سے کچھ نہیں نکلنے والا۔ مسلم لیگ (ن) چوہدری نثار کا گھر ہے۔ انہوں نے گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جانا وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر ریلوے سعد رفیق صاحب نے 4 گھنٹے ملاقات میں ضائع کئے، انہیں اپنے اپنے معاملات دیکھنے چاہئیں۔ چوہدری نثار کہیں نہیں جانے لگے۔ چوہدری نثار علی کی پریس کانفرنس کرنا یا نہ کرنا اتنی بڑی خبر نہیں کہ اٹھ کر کھڑے ہو جائیں یہ کیا ہوا عمران خان اور شیخ رشید سادا لوح انسان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چھوڑ چلے ہیں۔ ایسا ممکن نہیں۔ چوہدری نثار علی خان وہی ہیں جو کہتے تھے کہ فواد حسن فواد نے لیکس کی رپورٹ پر بیان کیوں دے دیا یہ تو میرا استحقاق تھا، یہ بیان تو میں نے دینا تھا، میری منسٹری نے بیان جاری کرنا تھا۔ اسی قسم کی لڑائیاں اور ناراضگیاں ہیں۔ یہ جلد دور ہو جائیں گی۔ میر شکیل رحمن نے عدالت نے معافی مانگ کر بہت اچھا کیا۔ عدالت سے معافی مانگ لینی چاہئے۔ ان سے لڑنا نہیں چاہئے۔ عمران خان نے پیسے جوڑ کر لاہور میں شوکت خانم بنا لیا۔ پھر پیسے جوڑ کر پشاور میں بنا لیا اب کراچی میں بنائے جا رہے ہیں یہ فلاحی کام سیاست سے بھی زیادہ اچھا کام ہے۔ خان صاحب اسی طرف لگے رہیں۔ عمران خان کی لوگوں میں جو عزت ہے وہ 99 فیصد شوکت خانم کی وجہ سے ہے۔ سیاست کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمران خان نے جنگ اور جیو کے بائیکاٹ کا پہلے بھی اعلان کیا تھا لیکن کسی نے عمل نہیں کیا یہ لڑائی تو دو فریقین کی ہے۔ میڈیا گروپ (جنگ) اور دوسرا فریق عمران خان وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس سٹریٹ پاور ہے۔ عمران کو شکایت ہے تو اسے بھی عدالت میں لے جائیں۔ وہاں ثابت کر دیں کہ یہ فنڈنگ لے کر لوگوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔ میاں نوازشریف اور شہباز شریف کے شکل ہی معصومانہ ہے۔ اللہ نے انہیں چہرہ ہی ایسا دیا ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر بھی بحث ہونی چاہئے تھی۔ عدالت کی طرف سے یہ بیان آنا کہ جے آئی ٹی نے بہت عمدہ، مکمل رپورٹ دی ہے۔ اس سے عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ جے آئی ٹی نے سب کچھ صحیح کہا ہو گا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یا تو سپریم کورٹ مسترد کر دے۔ عدالت کے بیان سے لگتا ہے کہ اسے جے آئی ٹی کی تحقیقات قبول و منظور ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ بھی محفوظ کر لیا ہے۔ محترم جج صاحبان نے جو بھی فیصلہ دینا ہے خدارا جلد دے دیں۔ اس کا فیصلہ سب کو قبول ہونا چاہئے۔ فیصلہ محفوظ کرنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے یہ کوئی اکاﺅنٹ نہیں کہ جس کے پیسے برھتے جائیں گے۔ یا یہ انڈے بچے دے گا۔ فیصلہہ محفوظ کرنے کے بعد شاید اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ججوں کے سامنے کس کی پیش چلتی ہے کہ وہ ان کے دیئے ہوئے فیصلے کو تبدیل کروا سکے۔ کیا امریکہ آ کر کہے گا یا کوئی اور اوپر سے آ کر کہے گا۔ ایسا ممکن نہیں ان کا دیا ہوا فیصلہ کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ پانامہ کیس کے فیصلے کی وجہ سے مکمل اہم کام روکے ہوئے ہیں۔ پروجیکٹ رک گئے ہیں۔ پالیسیاں رک گئی ہیں۔ عدالت فیصلہ دے دے۔ تا کہ پتا چلے گا کہ نوازشریف نے رہنا ہے یا جانا ہے۔ ان کی جگہ کسی عوام نے نہیں لینی۔ لیکن رکنے کی وجہ سے ملکی معیشت رک گئی ہے۔ جس کا تعلق عام آدمی سے ہے۔ تقرریاں رکی ہوئی ہیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں کہ ایک دوسرے کے پیچھے چل رہے ہیں ایک چھوٹی مگر اہم خبر یہ آئی ہے کہ آصف زرداری ناراض ہو کر باہر چلے گئے ہیں۔ سیاست میں پوائنٹ سکورنگ ہوتی ہے۔ خورشید شاہ اور عمران خان ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔ عمران خان ایک سیاسی رہنما ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایک میڈیا گروپ صحیح خبریں نہیں دے رہا بلکہ اینگلنگ کر رہا ہے۔ تو انہیں حق حاصل ہے کہ وہ اس کے بارے جو چاہیں کہیں۔ جس طرح سیاست دانوں کی اپنی سوچ ہوتی ہے اسی طرح صحافی بھی اپنی رائے رکھتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ اشتہاروں کی لالچ کی وجہ سے اپنی رائے تبدیل کر لیں۔ مجیب الرحمن شامی حکومت کے حق میں بولتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی جیب میں لفافہ گیا ہے۔ کوئی میڈیا گروپ نیک نیتی سے بھی تو سمجھ سکتا ہے کہ میاں نواز شریف درست کام کر رہے ہیں یہ ان کا حق ہے۔ آزادی اظہار کا سب کو حق حاصل ہے۔ اے آر وائی کا اخبار ہی کوئی نہیں تو انہیں سرکاری اشتہار کہاں سے ملتے۔ آج کل سلمان اقبال صاحب ان کے صاحبزادے اے آر وائی چلا رہے ہیں۔ ان کے والد مرحوم عبدالرزاق صاحب کے حکومت کے ساتھ بہت شدید اختلافات تھے۔ اس وقت یہ سونے کا کاروبار کرتے تھے ابھی ٹی وی چینل نہیں کھولا تھا۔ ان کے خلاف کچھ مقدمات درج تھے۔ اس کی وجہ سے وہ پاکستان میں آ نہیں سکتے تھے۔ اور پابندیاں ختم کروائیں۔ اب ان کی اپنی سوچ ہے کہ حکومتوں کے بارے میں حکومت پاکستان کے بارے میں حتیٰ کہ آصف زرداری کے دور میں بھی وہ حکومت کے خلاف چلتے تھے۔ انہوں نے شاید تہیہ کر رکھا ہے کہ حکومت پاکستان کےخلاف چلنا ہے۔ اب اس صورتحال میں حکومت تو انہیں اشتہار نہیں دے گی ناں۔ تجزیہ کار قسور کلاسرا نے کہا ہے کہ چودھری نثار علی خان نے اپنی پریس کانفرنس ملتوی کی ہے۔ ان کے اور پارٹی کے دیگر ارکان کے آپس میں معاملات کشیدہ ہیں۔ پانامہ کے بعد میاں نواز شریف کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔ اس بات پر چودھری نثار علی خان متفق تھے۔ ان کا خیال تھا کہ نواز شریف کو کسی متبادل کا اعلان کر دینا چاہیے تھا۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی کی ملاقات آج ہوئی ہے آپ کو یاد ہو گا کہ جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ن لیگ کا معاملہ چل رہا تھا تو ان دونوں نے ملکر اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کئے تھے۔ نثار علی خان کا 32 سال کا نواز شریف سے قریبی تعلق ہے وہ لگتا نہیں کہ ان کا ساتھ چھوڑیں گے لیکن خبر یہ ہے کہ شہباز شریف نے چودھری نثار علی خان کو راضی کر لیا ہے کہ اختلافات کو میڈیا پر لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے اختلافات اپنی جگہ لیکن یہ معاملات میڈیا پر نہیں آنے چاہئیں۔ ماہر قانون دان خالد رانجھا نے کہا ہے کے عدالت کی جانب سے فیصلہ اسی لئے محفوظ کیا جاتا ہے کہ اسے فوری طور پر لکھا نہیں جا سکتا۔ اس دوران اسے تفصیل سے لکھا جا رہا ہوتا ہے۔ مختصر فیصلہ سنایا نہیں جاتا۔ عدالت کی کارروائی کے دوران اسے مختصراً لکھ لیا جاتا ہے اور محفوظ کرنے کے بعد اسے تفصیلی طور پر تحریر کیا جا رہا ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے فواد چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان نے جنگ گروپ کے خلاف درست کہا ہے۔ آپ ان کا اخبار نکال کر دیکھ لیں۔ وہ عمران خان کے خلاف بھرا ہوتا ہے۔ وہ آئی ایس آئی کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ وزراءبیٹھ کر عمران خان کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ لگتا ہے یہ منفی پروپیگنڈا ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی کو بدنام کیا سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر کہا بیہودہ بات کی ہے۔ ہم ان کے ایجنڈے کے خلاف ہیں، عمران خان نے درست کہا ہے کہ بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ اے آر وائی والے اگر حکومت کے خلاف باتیں کر رہے ہیں تو وہ حکومت سے ریونیو تو وصول نہیں کر رہے۔ شکیل الرحمن نے قبول کیا ہے کہ وہ کاروباری ہیں صحافت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

اشتہاری ملزمان کیلئے بُری خبر, عدالت نے حکمنامہ جاری کردیا

کراچی (خصوصی رپورٹ) عدالت نے نادرا کو قریباً ایک لاکھ مفرور اور اشتہاری ملزمان کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دے دیا ایپکس کورٹ کی کراچی رجسٹری کے بینچ نے اشتہاری اور مفزور ملزمان کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ان تمام افراد کے بینک اکاﺅنٹس بھی منجمد کرنے اور ان کی جائیدادوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کا بھی حکم صادر کیا معزز جج صاحبان نے سندھ پولیس پر کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بھی مفرور قیدی کو پکڑنے میں ناکام ہوگئی ہے عدالت نے محکمہ داخلہ کو بھی ہدایات جاری کی ہیں وہ جلد از جلد مجرموں کو پکڑ کر عدالت کے روبرو پیش کرے۔

قومی خزانے کو 2ارب کے جھٹکے کا امکان, ذمہ دار کا نام بھی سامنے آگیا

اسلام آباد (قسور کلاسرا) ملک کے ایک معتبر تحقیقاتی ادارے نیب نے اپنی ایک رپورٹ میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی پر الزام عائد کیاہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوے ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکہ دلوایا جو کھ اس کی حقدار نھیں تھی۔ واضع رہے کہ شاہد خاقان کا نام اس وقت با اثر حلقوں میں وزیراعظم نواز شریف کے متبادل کے طور پر لیا جا رھا ھے۔ رپورٹ میں انکشاف ھوا ھے کھ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کا کنٹریکٹ ایلنجی ٹرمینل پرائیویٹ لمٹیڈ کو دینے پر قومی خزانے کو دو ارب ڈالر کا نقصان پہنچنے کا خدشھ ہے۔،ایل این جی ٹرمینل پرائیویٹ لمٹیڈ کو ٹھیکہ دینے میں وفاقی وزیر پٹرولیم ، سیکرٹری اوردیگرا داروں کے اعلی حکام ملوث ہیں۔ نامعلوم وجوہات کی بناپرنیب کی تحقیقاتی رپورٹ کو سردخانے کی نذر کر دیا گیا ، خبریں کو دستیاب دستاویز کے مطابق قوا نین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل این جی ٹرمینل لگانے کاکنٹریکٹ ایلنجی ٹرمینل پرائیویٹ لمٹیڈ (ای پی ٹی ایل)کو دینے پر اور اس سے ری گیسیفیکیشن کرانے سے قومی خزانے کو دوارب ڈالر کا نقصا ن پہنچے کا انکشاف ہو اہے نیب کی ابتدائی انکوائر ی رپورٹ میں وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ، سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید ، انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کے ایم ڈی مبین صولت ، سوئی سدرن گیس کمپنی کے اس وقت کے ایم ڈی یم ڈی زوہیر صدیقی کو انکوائری رپورٹ میں غیر قانونی طریقے سے ایل این جی ٹرمینل کا کنٹریکٹ دینے میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ، نیب کی رپورٹ کے مطابق ایل این جی ٹرمینل کا کنٹریکٹ ایلنجی ٹرمینل پرائیویٹ لمٹیڈ کو ایوارڈ کرنے میں پیپرا قوانین کی بھی دھجیاں اڑائی گئی ہیں دستاویز کے مطابق ایلنجی ٹرمینل پرائیویٹ لمٹیڈ کو ٹھیکہ دینے پر قومی خزانے کو پندرہ سالوں میں دو ارب ڈالر کا نقصان ہو گا ،نیب کی رپورٹ کے مطابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے ٹینڈ ر ای پی ٹی ایل کو دینے میں اپنا اثر رسوخ استعمال کیا اور سوئی سدر ن گیس کمپنی اور سوئی نادرن کی بجائے ٹینڈ ر انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کو دلوایا گیا دستاویزکے مطابق اس وقت سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید اور نے انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کے سارے اجلاسوں کی صدارت کی اور ٹینڈ ر ایوارڈ کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور ای پی ٹی ایل کا کامیاب پارٹی قراردیا ، انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کے مبین صولت نے سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے علم میں لائے بغیر ٹینڈ ر جاری کردیا مبین صولت نے انٹیگریٹڈ ٹینڈر کو ٹولنگ ٹینڈر میں تبدیل کرکے انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کے بورڈ اور سوئی سدرن کے بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی جاری کر دیا اور ای پی ٹی ایل کو کامیاب قرار دے دیانیب دستاویزکے مطابق عمران الحق نے ای پی ٹی ایل کی طرف سے انٹرسٹیٹ گیس کمپنی ، سوئی سدرن اور دیگر اداروں کے ساتھ بات چیت کی اور تما م خط وکتابت انھی کے دستخطوں سے کی گئی ، نیب رپورٹ میں زوہیر صدیقی کو بھی اس ڈیل میں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے انھوںنے اکتوبر سے دسمبر 2013میں انٹرسٹیٹ گیس کمپنی کے اجلاسوں میں شرکت کی زوہیر صدیقی نے ستمبر 2013سے اپریل 2014 تک سوئی سدرن کے بورڈ کے اجلاسوں میں شرکت کی زوہیر صدیقی نے سوئی سدرن کی جانب سے ایل ایس اے پر دستخط کئے ، دستاویزکے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی پروکیورنگ ایجنسی نہیں تھی تاہم سوئی سدرن نے ای پی ٹی ایل کے ساتھ ایک آپریٹر کے طورایل ایس اے پر دستخط کئے ،دونوں گیس کمپنیوں کے درمیان ایسا کوئی معاہد ہ نہیں ہوا جس کی بنیاد پر سوئی سدرن کو سوئی نادرن کی جگہ پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہو ، دستاویز کے مطابق سوئی سدرن نے 130دنوں کے لئے ای پی ٹی ایل کو 12یا 13ارب روپے کی بجائے چار ارب روپے ادا کئے دستاویز کے مطابق اس شرح پر ای پی ٹی ایل کی سرمایہ کاری چودہ ماہ میں ریکور کی جائے گی اور بقایا تیرہ سال ای پی ٹی ایل کامنافع ہو ں گے دستاویز میں اس بات کی سفارش کی گئی ہے کہ اس اقدام کی تفصیلی تحقیقات کی جائے ،نیب دستاویزکے مطابق اس معاہدے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ، ای سی سی ممبران ، وفاقی سیکرٹریوں انٹر سٹیٹ گیس کمپنی کے ایم ڈی ایم ڈی پی ایس او اور دیگر افسران سے تحقیقات کی ضرورت ہے ، نیب کے افسر نے ایل این جی ٹرمینل میں بے ضابطگیوں کی رپورٹ چئرمین نیب کی منظوری کے لئے پیش کر دی ہے 2015کی انکوائری کی رپورٹ ابھی تک ایکشن کی منتطر ہے تاہم نیب نے بااثر افراد کے ملوث ہونے کی بناپر کوئی ایکشن نہیں لیا ، اس حوالے سے جب ترجمان نیب سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے موبائل کالز اور ٹیکسٹ میسجز کو کوئی جواب نہیںدیا۔

پنچائیتی نظام کے زریعے معصوم بچیوں کی عزتیں تارتار ذمہ دار حکومت یا کوئی اور؟

ملتان (رپورٹ:مرزا ندیم+رضوان شیخ‘ تصاویر: منصور عباس) دین سے دوری‘ جہالت‘ تعلیم کی کمی اور حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے پنچایتی نظام کے ذریعے لڑکیوں کی عزتیں تار تار کرنے کے واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ پنجاب بھر میں ونی پر پنچایتیں سجاکر معصوم بچیوں کی عزتوں سے کھیلا جارہا ہے۔ دوسری طرف قانون کے محافظ ایسے واقعات کی روک تھام اور ذمہ داروں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچانے کے بجائے روٹین کی کارروائی بناکر معاملات دبانے میں مصروف ہیں۔ میڈیا میں واقعہ آنے کے بعد پولیس افسران اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں دوڑیں لگادیتے ہیں اور پہلے سے موجود درخواستوں کو ایف آئی آر کی شکل دے کر گرفتاریاں شروع کردیتے ہیں۔ دھڑا دھڑ گرفتاریاں کرکے اس بات کا خیال کئے بغیر کہ کون سے اصل ملزم ہیں‘ رپورٹ اعلیٰ حکام کو پہنچادی جاتی ہے۔ دوسری طرف عوامی نمائندے اپنے ڈیروں پر پنچایت سجالیتے ہیں اور معاملہ چاہے کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو‘ صلح کرادیتے ہیں تاکہ دونوں پارٹیوں کی طرف سے انہیں ہی ووٹ مل سکیں۔ تھانہ مظفر آباد کے علاقے موضع شیرشاہ بستی راجہ پور میں زیادہ تر دیہاڑی دار لوگ آباد ہیں۔ رفیق دھمرایا اور حق نواز رقبے کے ساتھ جانوروں کی خریدوفروخت بھی کرتے ہیں۔ دونوں کاروبار میں پارٹنر ہیں۔ رفیق کے بیٹے نوید کے حق نواز کی بیٹی مومل شمیم سے تعلقات تھے۔ ایک دن دونوں پکڑے گئے۔ نوید موقع سے فرار ہوگیا۔ رفیق نے موقع سے چند قدم کے فاصلے پر کھیتوں میں کام کرنے والے غریب نوجوان عمر حیات کو پکڑ کر تشدد شروع کردیا اور لوگوں کے جمع ہونے پر شمیم سے زیادتی کا الزام لگادیا۔ تمام لوگ چونکہ آپس میں رشتہ دار ہیں اس لئے گھر میں ہی پنچایت سجالی اور عمر حیات کی والدہ کنیزہ مائی کو حکم صادر فرمادیا گیا کہ بیٹی کی عزت کے بدلے میں بیٹی پیش کرو۔ بوڑھی ماں اپنی شادی شدہ دو بیٹیوں کو لے کر پنچایت میں پہنچ گئی مگر رفیق اور حق نواز نے کہا کہ کنواری لڑکی لے کر آﺅ۔ مجبوراً کنیزہ مائی یہ سوچ کر اپنی 16سالہ بیٹی عذراں بی بی کو لے کر آگئی کہ شاید اس کا نکاح پڑھادیا جائے گا۔ بوڑھی ماں نے اپنی بچی دیور امین کے حوالے کردی۔ امین نے پنچایتیوں کو کہا کہ یہ میری بیٹی ہے آپ کے حوالے کررہا ہوں‘ انصاف کرنا‘ حق نواز نے اپنے بیٹے اشفاق کو کہا کہ اسے لے جاﺅ اور زیادتی کرو۔ اشفاق نے زبردستی بچی کے ساتھ زیادتی کی۔ چند اور رشتہ داروں کی بھی نیت خراب ہوگئی مگر اس دوران علاقے کے لوگ جمع ہوگئے اور شورشرابہ کی وجہ سے بچی کو نکال لیا گیا۔ یتیم بچی جس کا والد 12سال قبل فوت ہوچکا ہے‘ ماں کے ساتھ دوسرے گاﺅں میں جاچھپی۔ مظلوم خاندان تھانہ مظفر آباد پہنچا تو انہیں دادرسی سنٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ دادرسی سنٹر میں 18جولائی کو بچی سے میڈیکل کے بعد پرچہ درج کرلیا گیا اور پولیس موقع پر تفتیش کیلئے پہنچ گئی۔ حق نواز اور رفیق بھی شمیم کو لے کر دادرسی سنٹر پہنچ گئے جن کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔ مظفر آباد واقعہ میں متاثرہ لڑکیوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہوگئی ہے جبکہ میڈیکل کے بعد نمونے ڈی این اے رپورٹ کیلئے تجزیاتی لیبارٹری کو بھجوائے جاچکے ہیں۔معاملہ سامنے آنے پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں اور چھاپے مار کر دونوں پارٹیوں کے 2خواتین سمیت 15افراد کو گرفتار کرلیا۔ تھانہ مظفر آباد پولیس نے بھی دفعہ 310A اور 109 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ اشفاق‘ نوید‘ رفیق‘ حمید‘ سونا اور ربنواز تاحال مفرور ہیں جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

مختاراں مائی نے آخر کار چپ توڑ دی, وجہ کیا بنی؟

ملتان، مظفرگڑھ( لیڈی رپورٹر، سپیشل رپورٹر، نمائندہ خبریں) مختار مائی ویلفیئر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مختار مائی نے کہاہے کہ مظفرآباد میں ایک اورحوا کی بیٹی کوپنچایتی فیصلے کی بھینٹ چڑھا دیاگیا۔ آج میری آنکھوں کے سامنے 22جون2002ءکاواقعہ جومیرے ساتھ ہوا گھوم رہاہے اور یوں لگ رہاہے کہ ایک بارپھر میرے ساتھ ہی ریپ ہواہے۔ پنچایت کے حکم پر مجھ سے ہونیوالی جتماعی زیادتی کے کیس میں گینگ ریپ کرنے والوں اور پنچایت والوں کوکڑی سزا مل جاتی تو نام نہاد پنچایتوں کے حکم پردرندگی کے زیدواقعات رونما نہ ہوتے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ جب تک ان واقعات میں ملوث افراد کو سرعا م پھانسی نہیں دی جاتی اس وقت تک حوا کی بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہونگی۔ پاکستان میں مردوں کامعاشرہ ہے جس میں خواتین کو برابری کے حق تودور کی بات بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔ پولیس سمیت تمام ادارے خواتین کے تحفظ میں ناکام ہوگئے ہیں۔ زیادتی کاشکار ہونیوالی خواتین کاانصاف نہ ملنے پر خودکشیوں میں اضافہ اسکامنہ بولتاثبوت ہے انہوں نے کہاکہ اب لوگوں کو اس طرح کے واقعات پراٹھ کھڑے ہوناچاہیے۔