سرفراز نے ڈس ایبل کرکٹرز کی مدد کا بیڑا اٹھا لیا

کراچی(آئی این پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے پاکستان ڈِس ایبل کرکٹ ایسوسی ایشن(پی ڈی سی اے)کو ڈِس ایبل کرکٹرز کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرادی۔چیمپیئن کپتان سرفراز احمد نے اس خواہش کا اظہار پی ڈی سی اے کے چار رکنی وفد سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا۔پی ڈی سی اے کے چار رکنی وفد میں ادارے کے اعزازی سیکریٹری امیر الدین انصاری، جوائنٹ سیکریٹری اور میڈیا مینیجر محمد نظام، ڈاکٹر نعمان پالیکر اور محمد صادق کھتری شامل تھے۔اس موقع پر پی ڈی سی اے کے وفد نے سرفراز احمد کو ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ چیمپیئنز ٹرافی 2017 جیتنے پر مبارک باد پیش کی اور مستقبل میں بھی پاکستان ٹیم کی مزید فتوحات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔چار رکنی وفد نے پی ڈی سی اے کے صدر سلیم کریم کی جانب سے سرفراز احمد کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جبکہ پی ڈی سی اے کی جانب سے سرفراز احمد کے اعزاز میں عشائیے کی دعوت بھی پیش کی گئی۔ملاقات کے دوران سرفراز احمد نے پی ڈی سی اے کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور تنظیم کی جانب سے عشائیے کی دعوت بھی قبول کرلی۔اس موقع پر سابق فرسٹ کلاس کرکٹر ظفر احمد بھی موجود تھے جبکہ سرفراز احمد نے پاکستان میں پی ڈی سی اے کی خدمات کو بھی سراہا۔

عمراکمل بورڈکے رویے پرخون کے آنسورونے لگے

لاہور(آئی این پی)قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز عمراکمل کا کہنا ہے کہ انہیں چیمپئنز ٹرافی اور پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونے کا افسوس ہے ،و ہ فٹنس پر کام کر رہے ہیں اور جلد ٹیم میں واپسی کریں گے ۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عمر اکمل کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگا ہ کرنے کے بعد برطانیہ فٹنس پر کام کرنے آئے ہیں ،وہ لوگوں کی باتوںپر دھیان دینے کی بجائے اپنی فٹنس پر کام کررہے ہیں اور جلد کوچز کے میعار کے مطابق فٹنس حاصل کرکے ٹیم میں واپسی کریں گے ۔عمر اکمل کا مزید کہنا تھا کہ انہیںچیمپئنزٹرافی کی ٹیم سے باہر ہونے کاافسوس ہے تاہم وہ ایک با ر پھر ٹیم میں واپسی کے لیے پرعزم ہیں تاکہ آئند ہ اس طرح کے ٹورنامنٹس مس نہ کریں۔مڈل آرڈر بلے باز نے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ سے باہر ہونا افسوس ناک ہے تاہم وہ مایوس نہیں ہوئے اور کڑی محنت سے نہ صرف سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کریں گے بلکہ ٹیم میں بھی واپسی کریں گے ۔

فکسنگ سکینڈل ، خالد نے تحریری جواب ٹریبونل کو بھجوا دیا

لاہور(آئی این پی)معطل کرکٹر خالد لطیف نے اسپاٹ فکسنگ کی سماعت کرنے والے ٹریبونل کو تحریری جواب بھجوادیا ہے۔ وہ ٹریبونل میںآج خود پیش نہیں ہوں گے۔معطل کرکٹرخالد لطیف نے کوریئر کمپنی کے ذریعے اپنا جواب ٹربیونل کو بھجوادیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد لطیف نے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ ٹربیونل نے انہیں نظرانداز کر کے یکطرفہ کارروائی کی۔ پی سی بی کے گواہوں کے بیانات ان کی عدم موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے۔ ان کے وکیل کو گواہوں پر جرح کرنے کا موقع نہیں ملا، جس سے کیس کی شفافیت پر اثر پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد لطیف نے تحریری جواب میں مزید کہا ہے کہ گواہوں کے بیانات کی کاپی متعدد بار مانگی گئی، مگر آخری روز کاپی دے کر تحریری جواب دینے کا کہا گیا۔خالد لطیف کیس کی سماعت 26 جولائی کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہوگی، جس میں فریقین کو تحریری دلائل جمع کرائیں گے۔واضح رہے کہ چند روزقبل برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے منیجر آپریشنز اینڈریو ایف گریو کا نیا انکشاف سامنے آیا تھاجس میں جرح کے دوران اینڈریو گریو نے دو مزید پاکستانی کرکٹرز کے نام دے دیے۔ پی سی بی کا فکسنگ کے نئے کرداروں کو نوٹس جاری نہ کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ بورڈ کی جانب سے فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرز کے نام بتانے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میں ایک فاسٹ بولر اور ایک مڈل آرڈر بلے باز ہے تاہم بورڈ کے پاس دونوں کرکٹرز کے خلاف شواہد موجود نہیں۔

دبئی کے اقامہ کی پٹاری کھل گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دبئی کے اقامہ کی پٹاری کھل گئی ہے ، سیاستدانوں کے ساتھ بیوروکریٹس کے نام بھی جلد سامنے آئیں گے، یہ انکشاف سینئر صحافی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ وزیردفاع کا اقامہ بھی سامنے آگیا ہے ، اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ، وزیرداخلہ سندھ اور وزیراعظم پاکستان کا بھی دبئی کا اقامہ سامنے آچکا ہے ، ابھی قوم بہت سے مزید اقامے بھی دیکھے گی، صرف سیاستدان ہی دبئی کے اقامہ ہولڈر نہیں ہیں بہت سے بیوروکریٹس بھی خفیہ جیبوں میں اقامے چھپائے ہوئے ہیں، جو جلد منظر عام پر آنے والے ہیں۔

آزادی صحافت اہم ، سپریم کورٹ میدان میں آگئی

اسلام آباد (صباح نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے جنگ گروپ کے مالکان میر شکیل الرحمان، میر جاوید الرحمان اور رپورٹر احمد نورانی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے انہیں مزید جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی ہے ،منگل کوجسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ کے روبروغلط خبر شائع کرنے پرجنگ گروپ کے مالکان میر شکیل الرحمان، میر جاوید الرحمان اور رپورٹر احمد نورانی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کون کون سے فریقین عدالت میں موجود ہیں اور کس کس نے جواب داخل کروا دیا ہے جس پر وکیل چوہدری ارشد نے کہا کہ تینوں فریقین عدالت میں موجود ہیں اور تینوں کی جانب سے جواب داخل کروا دئیے ہیں تاہم مزید دستاویزات کی ضرورت ہوئی تو دیں گے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ جواب دیکھ لیا ہے تاہم آئندہ آپ کی درخواست پر دلائل ہوں گے جس کے بعد عدالت نے میر شکیل الرحمان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت22اگست تک ملتوی کردی گئی۔سماعت ملتوی ہونے کے بعدجنگ گروپ کے پرنٹر و پبلشر میر شکیل الرحمان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ اپنے ادارے کی جانب سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ عدالتی آبزرویشن میںکہا گیا کسی کے ایما پر یہ خبریں شائع ہو رہی ہیں، اشتہارات کی تفصیل عدالت نے منگوائی جس پر ہم سب کو بہت تکلیف ہوئی،عدالت نے صرف تین حکومتوں کے اشتہار منگوائے جب کہ سب سے زیادہ اشتہارات ہمیں خیبر پختونخوا میںعمران خان کی حکومت نے دئیے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایشو یہ ہے کہ جان بوجھ کر غلط رپورٹنگ کی گئی، غلط خبریں اور غلط عدالتی احکامات چھاپے گئے، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ غلط خبریں شائع کرنے کا مقصد عوام میں کنفیوژن پیدا کرنا تھا، جان بوجھ کر افواہیں پھیلانے، عدالت اور جے آئی ٹی کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ میر شکیل صاحب، آ پ سے عرض کر رہے ہیں وکیل کے ذریعے بحث کریں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہم آپ سے بحث نہیں کر رہے۔میر شکیل الرحمان نے کہا کہ ان کے اخبار کا تمام عملہ کہتا ہے کہ ہماری خبریں درست ہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے ایسی خبریں دیکھی ہیں جو غلط ہیں جس میں عدالت کو غلط طور پر پیش کیا گیا، میر شکیل کا کہنا تھا کہ مجھے بتائیں کون سی خبر غلط ہے تاکہ اپنے عملے کی سرزنش کر سکوں۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آپ نے عدالت آنے سے پہلے چھاپی جو باﺅنس ہوئی، ہمیں ہر بات کہنے پر مجبور نہ کریں، لاہور ہائی کورٹ کے بارے غلط خبر چھاپ کر سارا دن معافی مانگتے رہے تھے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایک غلط خبر مانی ہے، مزید بھی مانیں گے، آپ کو جو کہنا ہے اپنے جواب میں لکھیں جس پر میر شکیل الرحمان نے کہا کہ عدالت آئی ایس آئی اور واٹس ایپ خبروں سے متعلق بھی نوٹس لے، ایک خبر پر نوٹس لیا ہے لہذا باقی پر بھی نوٹس لیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ فکر نہ کریں بات ہو گی تو سب پر ہوگی، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ اونچ نیچ پر اس لیے خاموش ہوتے ہیں کہ آزادی صحافت مقدم ہے، برداشت کرتے ہیں کیونکہ صحافت کو خاموش نہیں کرانا چاہتے۔میر شکیل الرحمان نے کہا کہ آپ جو ریمارکس دیتے ہیں وہ آرڈر میں نہیں ہوتے جس پر جسٹس عظمت نے ریمارکس دیے کہ آپ کہتے ہیں تو آج کے ریمارکس آرڈر میں ڈال دیں گے تاہم بعد میں ریمارکس نکالنے کے لیے درخواست نہ دینا جب کہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ آزادی صحافت مقدم ہے لیکن کیچڑ اچھالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ علاوہ ازیں بڑے میڈیا گروپ کے مالک عدالت میں حاضری کے بعد باہر آ کر آپے سے باہر، معزز جج کے ریمارکس کو بیہودہ قرار دیا۔ جج صاحب کےخلاف مقدمہ درج کرانے کی دھمکی دی۔ نجی ٹی وی کے مطابق میڈیا گروپ کے مالک عدالت سے باہر آئے تو جوش خطابت میں آپے سے باہر ہوگئے۔ بڑے بھائی اور وکیل کے روکنے کے باوجود زبان پر قابو نہ پایا اور معزز جج کےخلاف بیہودہ گفتگو اور کیس درج کرانے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ صحافی نے جج صاحب کا نام لیکر سوال پوچھا جس پر بیہودہ ردعمل دیا گیا۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے اس معاملہ پر کہا کہ ججز کو دھمکی دینا توہین عدالت ہے اس پر فوری ایکشن ہونا چاہیے۔ میڈیا گروپ کے مالک کےخلاف توہین عدالت کا کیس بنتا ہے کیونکہ انہوں نے جج صاحب کے بارے میں انتہائی توہین آمیز رویہ اختیار کیا جس کی سزا ملنی چاہیے۔ سابق اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا کہ میڈیا گروپ کے مالک نے غیرقانونی، غیر آئینی اور غیر مناسب باتیں کی ہیں جن پر عدالت کو فوری ایکشن لینا چاہیے اس طرح کے جملے بولنا اور دھمکیاں دینا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ سیکرٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ نے کہا کہ میڈیا گروپ مالک نے عدالت سے باہر جس طرح کی گفتگو کی وہ توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔ ہم انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا رویہ اختیار نہ کریں ورنہ بنچ اور بار ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں، آئندہ ایسی حرکت کی تو ہمیں آپ کےخلاف میدان میں آنا پڑے گا۔

ظفر حجازی کی بیماریوں نے تفتیشی ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کردیں

اسلا م آباد(صباح نیوز) ایف آئی اے کے زیر حراست سابق چیرمین ایس ای سی پی ظفر حجازی کی بیماریوں نے تفتیشی ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں جب کہ ایف آئی اے کی 2 رکنی ٹیم کو دوران تفتیش ظفرحجازی سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے،نجی ٹی وی نے زرائع کا حعوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ظفر حجازی ایف آئی اے کی حوالات میں بند ہیں جب کہ افسران کی جانب سے تفتیشی ٹیم کو ان سے دوران تفتیش نرمی برتنے اور تفتیش جلد مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کے بعد تفتیشی ارکان بھی پریشانی کا شکار ہیں کہ قانونی تقاضے دیکھیں،افسران کی سنیں یا طبی ماہرین کی۔گزشتہ روز وزرات خزانہ نے بھی ظفر حجازی کی معطلی اور نئے چیرمین ظفر عبداللہ کی قائم قام تقرری کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق ظفرحجازی کیس کا فیصلہ ہونے تک معطل رہیں گے۔

خواجہ آصف کا بھی اقامہ سامنے آ گیا ، اب کیا ہو گا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خواجہ آصف نے متحدہ عرب امارات میں 6 ماہ قیام کا اقامہ حاصل کیا، خواجہ آصف نے 3 مختلف ادوار میں تین اقامے حاصل کیے، ایک اقامہ 2007 سے 2010، دوسرا اقامہ 2010 سے 2011 تک جب کہ تیسرا اقامہ 2010سے 2011 تک کا تھا۔اس حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کا اقامہ 27 سال سے الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں ظاہر کیا ہوا ہے، ان کا ابو ظہبی میں 1983 سے بینک اکاو¿نٹ موجود ہے ، اسی وقت سے بینکنگ چینلز کے ذریعے پیسے وصول کرتے ہیں۔واضح رہےکہ تحریک انصاف کے رہنما عثمان دار نے الزام لگایا تھا کہ خواجہ آصف وفاقی وزیر ہونے کے ساتھ دبئی کی ایک کمپنی کے ملازم بھی ہیں ، انہوں نے کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات کا اقامہ لے رکھا ہے۔ اس ملازمت کے بدلے میں وہ مختلف منصوبوں میں اپنی کمپنی کو مالی فائدے پہنچاتے ہیں۔ عثمان ڈار نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان لیگ کا سیالکوٹی بھی اقامے والانکلا خواجہ آصف دبئی کی ایک مکینکل کمپنی میں بحثیت لیگل ایڈوائزر کام کرتے ہیں لیکن اس کی حاصل کردہ آمدنی کو اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا نواز شریف کے بعد ان کے حواری کا بھی اقامہ نکل آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب لوٹ مار اور جیب بھرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے خواجہ آصف نواز شریف کے فرنٹ مین ہے جنہوںنے اپنی پھچلی وزارت میں بھی لوٹ کھسوٹ کی اور اب یہ اقامہ بھی نکل آیا ہے دراصل جس کمپنی سے اقامہ لیا گیا ہے اس کو پراجیکٹ کی مد میں فائدہ پہنچایا گیا ہے تحریک انصاف کے رہنمانے کہا کہ اپنے اثاثے چُھپاکر قوم اور قومی اداروں کو دھوکہ دینا آئین پاکستان کے آرٹیکل 62اور 63کی خلاف ورزی ہے ہم اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے اور استدا کریںگے کہ خواجہ آصف قومی اسمبلی کے ممبر ہونے کی حثیت سے بیرونی ملک ملازمت کرنے اثاثے چھپانے اور جھوٹ بولنے پر صادق اور امین نہیں رہے لہذا ان کو آئین کے آرٹیکل 62اور63کے تحت نااہل کردیا جائے انہوںنے کہا کہ عمران خان کے پاس اقامہ اس لئے نہیں لیتے ہیں کہ ان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے اقامے تو نواز شریف اور خواجہ آصف جیسے چور لیتے ہیں جو ملک کے بجائے ذاتی مفاد کو عزیز رکھتے ہیں دوسری جانب خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 27سال سے جس نے پنا اقامہ الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں ڈکلیر کیا ہوا ہے 1983سے بیکنگ چیلنجز سے پیشہ وصول کررہا ہوں اور 1983ہی سے ابوظبی بینک اکا¶نٹ بھی موجود ہے لہذا بے جا الزامات سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ وقت الزامات لگاکر عوام کو مزید اُلجھانے کا نہیں بلکہ اپنی آئینی قانونی وقومی ذمہ داری نبھا کر قومی مسائل کا حل نکالنے کا ہے۔

پی ٹی آئی کے بانی رکن کے عمران خان بارے انکشافات نے مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچا دی

اسلام آباد (اے پی پی) تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ کیس پر سپریم کورٹ میں جو جواب جمع کرایا گیا ہے اس میں اکثر دستاویزات خود ساختہ ہیں، ایک طرف تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ (ن) کے رکن کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائرکررکھا ہے اور دوسری طرف اپنی باری آنے پر انہوں نے الیکشن کمیشن کا توہین عدالت کی کارروائی کے حوالے سے دائرہ اختیار تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ ہندو اور یہودی کمپنیوں سے فنڈ ریزنگ کے دوران حاصل کئے گئے فنڈز کی تفصیلات امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ منگل کو الیکشن کمیشن میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہاکہ عمران خان نے وعدہ کرکے الیکشن کمیشن میں جواب نہیں دیا ۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن شوکاز نوٹس جاری کرے۔ عمران خان الیکشن کمیشن سے معافی مانگے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف بچہ سقہ اور رنگیلا بادشاہ کے دورکے نظام کے قائل ہیں ۔ ایک طرف عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں توہین عدالت کے کیس پر ان کے وکیل کا مو¿قف ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس کا اختیار ہی نہیں جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رکن دانیال عزیز کے خلاف یہیں پر توہین عدالت کاکیس دائر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فارن فنڈنگ کیس پر عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جو جواب جمع کرایا گیا ہے اس میں خود ساختہ فہرست بنا کرپیش کی گئی ہے ۔ ہندو اور یہودی کمپنیوں سے فنڈ ریزنگ کے نام پر جمع کی گئی رقم کی تفصیلات امریکی محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اگر نواز شریف احتساب کے کٹہرے میں آسکتے ہیں تو عمران خان کیوں نہیں آسکتا ۔ عمران خان کی ہٹ دھرمی پوری تحریک انصاف کو ڈبو رہی ہے ۔ ہر روز نظریاتی کارکن ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن میں فنڈ ریزنگ کیس اپنے منطقی انجام کی طرف چلا گیا ہے ۔2003ءکا قانون توہین عدالت کے حوالے سے واضح ہے ۔ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ ان کے لئے جنگل کا قانون ہو اور دوسروں پر ملکی قانون لاگو ہو ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے جو ترجمان مجھ پر آج سوال اٹھا رہے تھے ان کا عمران خان کے بارے میں قبل ازیں مو¿قف یہ تھاکہ انہیں سیاست کی الف ب کا پتہ نہیں ۔ وہ بنی گالا منشیات کے عادی افراد کا اڈا قرار دیتا تھا، مفاد پرست لوگوں کو تحریک انصاف میںشامل کرنا اس سیاست کی نفی ہے جس کے لئے تحریک انصاف وجود میںآئی ۔ آج المیہ ہے کہ ایسے مفاد پرست لوگ تحریک انصاف کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں ، ہم نے ان کالی بھیڑوںکو باہر نکالنا ہے اور عبرت کا نشان بنائیں گے جو سیاست کا کاروبار بناتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے سعودی عرب میں فنڈ ریزنگ کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں ۔ عمران خان الیکشن کمیشن کو اکاﺅٹس کے فرانزک آڈٹ کا جواب دے ۔ تحریک انصاف نے ایک بھی بینک سٹیٹمنٹ جمع نہیں کرائی ۔ جعلی اکاﺅنٹس کھول کر اس میںپیسے رکھے گئے ہیں۔

معروف قانون دان احمد رضا قصوری ، پی پی رہنماءآیت اللہ درانی کی چینل ۵ کے پروگرام نیوز ایٹ میں گفتگو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے رہنما آیت اللہ درانی نے بتایا میں ایک سیاسی کارکن ہوں اوراپنی پارٹی میں ہی خوش ہوں چینل ۵ کے پروگرام نیوز ایٹ 8میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیاستدانوں اور فوج کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ دہشت گردی میں معصوم لوگ جان سے جاتے ہیں دھماکہ لاہور میں ہو یا کابل میں اس پر افسوس ہوتا ہے پنجاب میں آپریشن ہونا چاہیے پاکستان کو مضبوط خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے انہوں نے کہا پانامہ کے معاملے پر شواہد کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثرات صدیوں تک رہیں گے۔ ماہر قانون احمد رضا قصوری نے کہا کہ ملک میں پانامہ کا شور مچا ہوا ہے اور سب کوفیصلے کا انتظار ہے نوازشریف کو جس طرح تذلیل ہورہی ہے انہیں تو استعفیٰ دے دینا چاہیے لیکن یہ نسلوں کا معاملہ ہےجس کے باعث وہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں دو ججوں نے وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دیدیا اگر ایک اور جج نے بھی خلاف فیصلہ دیا تو نوازشریف نااہل ہوجائیں گے۔

پیپلزورکس پروگرام میں میگا کرپشن ، ذمہ داروں بارے خاص خبر

اسلام آباد (اے پی پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے پیپلز ورکس پروگرام کے تحت منصوبوں کی غلط پیمائش اور کام مکمل ہونے سے قبل ادائیگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت ہاﺅسنگ کو ہدایت کی ہے کہ ” تھرڈ پارٹی” کے ذریعے اس کی چھان بین مکمل کرکے پی اے سی کو رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس منگل کو پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان شیخ روحیل، ارشد خان لغاری، جنید انوار چوہدری، محمود خان اچکزئی، راجہ جاوید اخلاص، سردار عاشق گوپانگ، سید نوید قمر، شاہدہ اختر علی، ڈاکٹر عارف علوی، سینیٹر اعظم سواتی، میاں عبدالمنان ، پرویز ملک، سید نوید قمر، خالد مقبول صدیقی، سینیٹر تنویر خان، ڈاکٹر درشن کے علاوہ متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت ہاﺅسنگ و تعمیرات کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ نے ٹھلیاں ہاﺅسنگ سکیم کے حوالے سے بریفنگ دینا تھی مگر کمیٹی کے رکن سردار عاشق گوپانگ نے کہاکہ ان کی سربراہی میں ایک ذیلی قائمہ کمیٹی کو پہلے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے دیا جائے۔ پی اے سی کے چیئرمین خورشید شاہ نے ان کی اس تجویز سے اتفاق کیا اور کہاکہ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔پہلی ذیلی کمیٹی اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے، اس کے بعد مرکزی پی اے سی وزارت ہاﺅسنگ و تعمیرات کے 2013-14ءکے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ ضلع چکوال میں شاہراہ کی تعمیر کی بولی میں ٹمپرنگ سے سرکاری خزانے کو 5کروڑ 95لاکھ کا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ شاہ رخ ارباب نے بتایا کہ اس میں ملوث افراد ریٹائر ہوگئے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی گئی کہ ملوث افراد کے نام ای سی ایل پر ڈالے جائیں۔ پی اے سی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ ایکسیئن شاہ جہاں اور اکاﺅنٹس آفیسر شکیل کی پنشن روک دی جائے اور تحقیقات مکمل کی جائیں۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ ملتان، اسلام آباد، گوجرانوالہ، سکھر، نوشہرہ، پشاور اور لاہور ڈویژنوں میں مختلف سکیموں کی غلط پیمائش سے خزانے کو 32 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ ادائیگی کے لئے مقررہ 90 سے 180 دنوں کی بجائے 3 سے 30 دنوں میں ادائیگی کی گئی۔ پاک پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ بات درست ہے کہ کام کی پیمائش پہلے کی گئی اور کام بعد میں مکمل ہوا۔ ہم نے واقع کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تین دنوں میں ادائیگی مجرمانہ فعل ہے۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ پی اے سی ذیلی کمیٹی بنا کر ان منصوبوں کا موقع پر جا کر جائزہ لے۔ سردار عاشق حسین گوپانگ نے کہا کہ جو لوگ اس میں ملوث تھے ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ شاہ رخ ارباب نے پی اے سی کے استفسار پر بتایا کہ اگر ہم سے تحقیقات کی اجازت طلب کی گئی تو ہم اس کی اجازت دے دیں گے۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ کے متعلقہ احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری نے کہا کہ وزارت کی طرف سے چارج شیٹ جاری کی گئی ہے اور تحقیقاتی کارروائی شروع ہے۔ راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ پیپلز ورکس پروگرام کی سکیموں میں 5سے 7 ارب روپے کی خورد برد کی گئی ہے۔ ہمارے علاقوں میں کام بند پڑے ہیں جبکہ ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔ کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے تاکہ وہ کام مکمل ہوسکیں۔ سیکرٹری ہاﺅسنگ شاہ رخ ارباب نے کہا کہ ہم اس کی چھان بین کرکے ایکشن لے رہے ہیں۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ تیسرے فریق سے ان معاملات کی چھان بین کرا کے ہمیں رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال گزر گئے ہیں مگر تاحال تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اتنے بڑے نقصانات پر پاک پی ڈبلیو ڈی کو بند ہونا چاہیے۔ جن لوگوں نے فراڈ کئے ہیں ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ پی اے سی نے ہدایت کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کرا کے رپورٹ پیش کی جائے۔