مالدیپ پہنچنے پر وزیراعظم کا شاندار استقبال ، سارک کا فعال ہونا ضروری

مالے (نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور مالدیپ نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کےلئے مل کر کام کرنے، سول سروس، تعلیم، سیاحت اور تجارت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیاہے،سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے،خطے کی ترقی و خوشحالی کےلئے سارک کو فعال بنانا ضروری ہے بھارت نے سارک کے منشور اور اہداف کے منافی کام کیا تاہم مالدیپ اسلام آباد میں سارک اجلاس کے انعقاد کا حامی ہے، مالدیپ کے مستقبل کےلئے امن ، ترقی اور خوشحالی کی تمنائیں ہیں جبکہ مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان دیرینہ ،پائیدار اور قابل اعتبار دوست ملک ہے،مالدیپ نیشنل ڈیفنس فورس کی استعداد بڑھانے کےلئے تعاون پر مشکور ہیں، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے تعاون کا عزم رکھتے ہیں ،تجارت بڑھانے کےلئے مشترکہ ورکنگ گروپ کو فعال بنایا جائے گا ۔ وہ منگل کو یہاں مالدیپ کے شہر مالے میں باہمی ملاقات ، استقبالیے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں کی تقریب کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔قبل ازیں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشت پر دستخط ہوئے جن کے تحت دونوں ملک تجارت، تعلیم اور سیاحت جبکہ دفتر خارجہ اور سول سروسز کے شعبے میں تعاو ن بڑھایا جائیگا ۔ تقریب میں وزیراعظم نواز شریف اور مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم بھی موجود تھے ۔بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر مالدیپ نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی، سول سروس، تعلیم، سیاحت اور تجارت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا، تجارت بڑھانے کےلئے مشترکہ ورکنگ گروپ کو فعال بنایا جائے گا،سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔عبداللہ یامین عبدالقیوم نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادے پر توجہ دیں گے، مالدیپ نیشنل ڈیفنس فورس کی استعداد بڑھانے کےلئے تعاون پر مشکور ہیں، پاکستان دیرینہ ،پائیدار اور قابل اعتبار دوست ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے تعاون کا عزم رکھتے ہیں، خطے کو درپیش مسائل کے حل پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مالدیپ کی یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت باعث مسرت ہے، بطور مہمان خصوصی خوشی کے اس لمحے میں مدعوکیا جانا باعث فخر ہے۔ مالدیپ کے مستقبل کےلئے امن ، ترقی اور خوشحالی کی تمنائیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی مفاد کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کےلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، خطے کی ترقی و خوشحالی کےلئے سارک کو فعال بنانا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے سارک کے منشور اور اہداف کے منافی کام کیا جبکہ مالدیپ کے صدر اسلام آباد میں سارک اجلاس کے انعقاد کے حامی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن و استحکام کےلئے مالدیپ کے وژن کو سراہتا ہے، دونوں ملکوں کے مشترکہ بزنس گروپ تشکیل دیئے گئے ہیں اور دونوں ملکوں کے ورکنگ گروپس کی 4ذیلی کمیٹیاں بھی کام کر رہی ہیں، کھیل، صحت، تعلیم اور انسداد منشیات میں تعاون جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مالدیپ میں میڈیکل کالج کے قیام کےلئے تعاون کرے گا، پاکستان کے عوام مالدیپ کے عوام کےلئے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔ جبکہ حکومت اور پاکستانی عوام کیلئے اعزاز، مالدیپ کے قومی دن پر وزیراعظم نواز شریف مہمان خصوصی، نواز شریف کی آمد پر ایوان صدر میںپروقار استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، فنکاروں کا روایتی رقص، سات توپوں کی سلامی بھی دی گئی، وزیراعظم نواز شریف مالدیپ کے یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کیلئے مالے پہنچے، ایوان صدر میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ مالدیپ کے صدر نے اپنی کابینہ اور دیگر حکام سے معزز مہمان کا تعارف کرایا وزیراعظم پاکستان نے بھی اپنے وفد کے ارکان کو مالدیپ کے صدر سے ملوایا، خاتون اول بیگم کلثوم نواز، مشیر خارجہ سینیٹر سرتاج عزیز اور سینیٹر پرویز رشید بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہے، خطے کی ترقی کیلئے سارک کو فعال بنانا لازمی ہے، نئی دہلی نے سارک کے منشور کے منافی کام کیا اور سارک فورم کے مقصد کو نقصان پہنچایا ہے۔

کاﺅنٹی سے ملنے والی رقم کا ریکارڈ مل گیا ، جلد پیش کرونگا

اسلام آباد(صباح نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہا ہے کہ کاﺅنٹی کلب سسیکس کی جانب سے کی جانے والی ادائیگیوں کا ریکارڈ آ گیا ہے جسے جلد سپریم کورٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ساری منی ٹریل عدالت عظمی میں پیش کی جائے گی، منی ٹریل میں سسیکس کی جانب سے کی جانے والی ادائیگیوں کا بینکنگ ریکارڈ بھی شامل ہے، اس کے علاوہ لندن کے فلیٹ کی ادائیگیوں کا سارا بینکنگ ریکارڈ بھی موجود ہے، کیری پیکر کے جانب سے کی گئی ادائیگیوں کا بینکنگ ریکارڈ بھی آ گیا ہے اور اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات بھی مل گئی ہیں جنہیں جلد سپریم کورٹ میں پیش کردیا جائے گا۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ کوئی سرکاری عہدہ نہ رکھنے اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے کے باوجود وہ قوم اور سپریم کورٹ کے سامنے 40 برس پرانی منی ٹریل پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ نواز شریف اور ان کے حامی اس طرح کی منی ٹریل اور مالی شفافیت پیش کر کے دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نواز شریف کے حق میں بولنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری مکمل بینکنگ منی ٹریل سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپنی منی ٹریل مکمل دستیاب نہ ہونے کا تحریری طور پر اعتراف کیا تھا۔ نااہلی کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنا تحریری جواب عدالت کو جمع کرایا تھا جس میں اعتراف کیا گیا تھا کہ ان کے پاس منی ٹریل کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی اور کیس کی گزشتہ سماعت میں عدالت نے عمران خان سے بیرون ملک کرکٹ سے ہونے والی آمدن کی مکمل تفصیلات طلب کی تھیں، عدالت نے برہمی کا اظہار بھی کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان بارہا عدالتی احکامات کے باوجود اپنی منی ٹریل کی دستاویزات جمع نہیں کروا رہے۔ عمران خا ن نے کہا ہے کہ میں نے احتساب کیلئے خود کو قوم کے سامنے پیش کر دیا، احتساب کے اسی عمل نے شریف خاندان کے مالیاتی جرائم بے نقاب کیے۔ عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان اور ان کے ملازمین کے الزامات پر ان کا شکر گزار ہوں انہیں الزامات کی بدولت میں نے اپنا 40 سالہ مالیاتی ریکارڈ نکالا۔ عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان قوم کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔ میں نے احتساب کے لیے خود کو قوم کے سامنے پیش کر دیا۔ احتساب کے اسی عمل نے شریف خاندان کے مالیاتی جرائم بے نقاب کیے۔

دبئی سیاستدانوں کا دوسر ا گھر ، حالات کی خرابی پر فوراً باہر بھاگ جاتے ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہمارے سیاستدان پرندے ہیں، حالات خراب ہونے پر اڑ کر دبئی پہنچ جاتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے اقامہ کا پہلے ہی بندوبست کیا ہوتا ہے۔ دبئی سیاستدانوں کا دوسرا گھر ہے۔ 10,10 سال وہاں جا کر رہتے ہیں۔ دبئی، ابوظہبی کے حکمرانوں کے لئے پاکستان ایک شکار گاہ ہے۔ جب وہ یہاں آتے ہیں تو بڑے بڑے حکمران ان کی خوشامد کرتے ہیں۔ کوئی حکومت ان کے یہاں آ کر غیر قانونی شکار کرانے پر پابندی نہیں لگا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں شیخ زید ہسپتال اور رحیم یار خان میں ایئرپورٹ سلطان ایان نے بنا کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی جنوبی پنجاب میں کچھ سہولتیں دے رکھی ہیں کبھی کبھی ابوظہبی کے حکمران نیکی کے کام بھی کر لیے ہیں۔ ایوب خان کے دور سے لے کر آج تک کے سیاستدانوں کے لئے ابوظہبی بڑا اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو ظہبی کے حکمران آج کل یمن میں فوج نہ بھیجنے کی وجہ سے کچھ ناراض ہیں۔ لیکن جب وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی مقروض ملک مَر رہا ہے تو تھوڑے سے پیسے لگا دیتے ہیں کیونکہ وہ زندہ رہے گا تو اس سے پیسے وصول کیسے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو دور میں ہونے والی اسلامک کانفرنس میں عربی سے اُردو مترجم بھی رہا ہوں۔ اس میں الجزائر کے حکمران بومحی الدین نے میرے نزدیک سب سے خوبصورت تقریر کی تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ”اس وقت تک کوئی ملک آزاد تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کی حکومت کا اپنی زمین کے نیچے اور اوپر اپنا تسلط نہ ہو اور اپنی سکیورٹی کیلئے کرائے کے فوجیوں کا محتاج نہ ہو۔“ ان کا طنز یہ تھا کہ جتنے عرب یہاں بیٹھے ہیں، امریکن ان کی حفاظت کرتے ہیں، برطانوی دستے کرائے پر لے رکھے ہیں۔ نیل کے ذخائر پر اپنا کنٹرول نہیں رکھتے اور انہیں بین الاقوامی فرم کو لیز پر دے رکھا ہے۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہم بھی آزاد قوم کی حقیقی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ بلوچستان کی کانیں ٹھیکے پر دے رکھی ہیں۔ ایران میں بارڈر کے بالکل ساتھ تیل نکلتا ہے یہاں نکالنے نہیں دیا جاتا۔ سوئی میں گیس نکالی تو بگٹی کا حشر سب کے سامنے ہے۔ جو کچھ پاک سرزمین کے نیچے ہے شاید ہم سو فیصد اس کے بھی مالک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو اس پر کڑی پابندی لگانی چاہئے کہ جو یہاں وزیراعظم ہے وہ دبئی میں کسی کمپنی میں بھی ملازم ہیں اور پیسے بھی لے رہے ہیں۔ خواجہ آصف، مراد علی شاہ اور منظور وسان سمیت ایسے سیاستدانوں کی ایک طویل صف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا ہے کہ عمران خان لندن فلیٹ کی منی ٹریل صاف نہیں دے سکے لہٰذا ان کی بھی نااہلی کا خطرہ ہے۔ عمران خان اپنا جو بھی موقف دیتے ہیں وہ ان کی مرضی البتہ عدالت ان کے فراہم کردہ شواہد سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی۔ تجزیہ کار نے کہا کہ میر شکیل الرحمن کو بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہاں انصاف بکتا ہے، جس کے پاس پیسہ ہے وہ قانون خرید لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف مالدیپ کے ساتھ 5 کے بجائے 20 معاہدے بھی کر لیں تو اس میں شور مچانے یا بھنگڑے ڈالنے والی کوئی بات نہیں۔ مالدیپ چھوٹا سا ملک ہے۔ انہوں نے اپنا ملک سیاحوں کو ٹھیکے پر دے رکھا ہے۔ جرمنی کی کچھ کمپنیز نے اس کو ٹھیکے پر لے رکھا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے انڈیا میں عمر قید کے مجرموں کو کالا پانی بھیج دینے کی بات ہوتی تھی وہ مالدیپ تھا جہاں پانی ہی پانی بھرا ہوا ہے۔ لاہور دھماکے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ”آئندہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔“ ایسے بیانات کا کوئی فائدہ نہیں، نیشنل ایکشن پلان کے ایک ایک نقطے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف کا لاہور آنا، کور کمانڈر اجلاس طلب کرنا خوش آئند ہے لیکن وہ دیکھیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا، کہاں کوئی کمزوری رہ گئی۔ آج تک کبھی نہیں سنا یا پڑھا کہ کوئی سہولت کار گرفتار ہوا ہے۔ 99 فیصد ناظرین سے میری رائے سے اتفاق کیا کہ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردوں کی جڑ کو پکڑنے کی کوشش تھی۔ سہولت کاروں کو پکڑنے تک دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ تجزیہ کار مکرم خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر عمل ہی نہیں ہو سکا۔ آرمی چیف لاہور آئے لیکن کور کمانڈر سمیت کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ پنجاب میں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پلیٹ فارم پر ہیں یا نہیں؟ پنجاب حکومت نے فوج کی مداخلت روکنے کے لئے ہر وہ رکاوٹ کھڑی کی جو وہ کر سکتی تھی۔ پنجاب میں کہیں بھی ٹھیک طرح سے رینجرز آپریشن نہیں ہوا۔ سی ٹی ڈی نے آپریشنز کئے لیکن اس کا فوج کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس کی ٹریننگ بہتر نہیں ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے بلوچستان سے ملحقہ علاقے میں آج تک پولیس نبرد آزما نہیں ہو سکی۔ راجن پور، کشمور میں آئے روز پولیس پر حملے ہوتے ہیں۔

ظفر حجازی کی بیگم منظر عام پر آگئیں،نیا پنڈورا باکس کھول دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)ایس ای سی پی کے گرفتار ہونے والے چیئرمین ظفر حجازی کی اہلیہ نے وزیر خزانہ اور وزیراعظم نوازشریف سے اپیل کی ہے کہ ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنایا جائے جس میں وزارت انصاف اور وزارت خزانہ اور ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے ارکان شام ہوں جو ایس ای سی پی میں نام نہاد ریکارڈ ٹمپرنگ کے معاملے کی تحقیقات کریں اور تمام حقائق کو سامنے لا کر ظفر حجازی کیخلاف سازش کرنے والے عناصر کو بے نقاب کریں۔مسز حجازی کا کہناتھا کہ ان کے شوہر نے گزشتہ اڑھائی سال میں اپنی صحت کے مسائل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایس ی سی پی کو فعال ایک فعال ادارہ بنانے اور ضروری قانون سازی کیلئے دن رات کام کیا اور اس بات پر ہمیشہ فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تین سال کی تقرری کیلئے جو اہداف مقررر کیے تھے انہوں نے وہ اڑھائی سال میں حاصل کر لیے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ میڈیا کا ایک حصہ ظفر حجازی کے خلاف بے سروپا مہم چلا کر ان سے گزشتہ اڑھائی سال کی کامیابیوں کا کریڈٹ نہیں چھین سکتا ،ریکارڈ ٹمپرنگ کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ یہ مکمل گمراہ کن بات ہے کہ اس سارے سکینڈل کے پیچھے چھپے کرداروں کو بے نقاب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ان کا کہناتھا کہ اگر جونیئر افسروں کو اپنی کو تاہیوں کا اس آسانی سے اداروں کے سربراہوں پر الزام ڈینے کی روایت قائم ہو گئی تو کسی بھی ادارے کا سربراہ نہیں بچ سکے گا۔انہوں نے کہا کہ عجیب گات ہے کہ افسران جو یہ بات کہتے ہیں کہ فائل پر پچھلی تاریخ تاریخ میں نوٹ انہوں نے شدید دبا? کے باعث لکھا ،یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ،چونکہ فائل عملی طور پر پچھلے 32ماہ سے بد پڑی تھی۔ایف آئی اے نے ان افسران کو مکمل طور پر برالزمہ قرار دیتے ہوئے ان کے محض زبانی بیان پر کہ اس کیلئے انہیں چیئرمین نے کہا تھا ،سارا الزام چیئر مین پر ڈال دیا گیا ،جس سے ایف آئی اے کی بدنیتی سامنے آتی ہے ،لگتایہ ہے کہ کسی کو ہر حالت میں ظفر حجازی تک پہنچنا تھا اور اس کیلئے ایس ای سی پی کے کچھ افسران نے اپنا کندھا پیش کیا۔

خود کش حملہ بارے رپورٹ پیش ، دشمن کے مکروہ عزائم خاک

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے گزشتہ صبح اتفاق ہسپتال کا دورہ کیا اور ہسپتال میں زیرعلاج کوٹ لکھپت سبزی منڈی میں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد اور پولیس اہلکاروں کی عیادت کی اور انہےں دی جانے والی طبی سہولتوں کا جائزہ لےا۔ وزیراعلیٰ مختلف وارڈز میں گئے اور زخمی ہونے والے افراد اور پولیس اہلکاروں کی فرداً فرداً خیریت دریافت کی اور اس افسوسناک واقعہ کی تفصیلات معلوم ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ زخمیوں کی بہترین نگہداشت کی جائے اور ان کا مکمل صحت یابی تک ہرممکن خیال رکھا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے زخمی افراد کے لواحقین کو دلاسہ دیا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے پیاروں کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اور میں ذاتی طور پر ہسپتالوں میں زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کی نگرانی کر رہا ہوں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز لاہور میں دہشت گردی کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں معصوم لوگوں اور پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بزدل اور درندہ صفت دشمن نے سفاکانہ کارروائی کی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک بہادر قوم ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایسی لازوال قربانیاں دی ہیں جس کی اقوام عالم کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پنجاب پولیس کے بہادر جوانوں نے بھی اس جنگ میں بے مثال جرا¿ت اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس المناک واقعہ نے ہر پاکستانی کو رنجےدہ اورہر آنکھ کو اشکبار کےا ہے۔ پوری قوم کی ہمدردیاں شہداءکے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ ہیں اور قوم اپنے بہادر سپوتوں کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ معصوم پاکستانےوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت کے دشمن اپنے عبرتناک انجام سے بچ نہےں سکتے اور قوم شہداءکے خون کا بدلہ ضرور لے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زےر صدارت صوبائی کابےنہ کمےٹی برائے امن و امان کا ا جلاس منعقد ہوا ،جس میں کوٹ لکھپت سبزی منڈی میں خود کش حملے کے بارے میں ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی -اجلاس میں صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا-وزیراعلی محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز لاہور میں دہشت گردی کا انتہائی افسوسناک واقعہ ہواہے ،جس میں سفاک درندوں نے پولیس کے بہادر اہلکاروں اور معصوم شہریوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اوراس اندوہناک واقعہ نے پورے ملک کو سوگوار کیا اوراس المناک واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے-انہوںنے کہاکہ شہید پولیس اہلکار اور شہری قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی عظیم قربانی رائےگاں نہیں جائے گی-وطن کے امن کے لئے اپنی جانیں قربان کرنےوالوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے-وزیراعلی نے کہاکہ شہداءکے خاندانوں او ران کے بچوں کی ہر ممکن دیکھ بھال کریں گے اور شہداءکے خاندانوں کا پوری طرح خیال رکھا جائے گا-انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو ملکر بھرپور اور موثر اقدامات کرنا ہیں اور اس ضمن میں وضع کردہ پلان پر من وعن عملدرآمدیقینی بنانا ہوگا-وزیراعلی نے ہدایت کی کہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے مزید موثر انداز میں اقدامات کئے جائیں-صوبے او رشہروں کے داخلی وخارجی راستوں پر نگرانی مزید سخت کی جائے -دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور انداز میں کارروائی کی جائے-زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں او ر عام شہریوں کی ہسپتالوں میں بہترین نگہداشت جاری رکھی جائے-انہوںنے کہاکہ دشمن امن کے خلاف سازشیں کررہاہے او رہمیں اتحادکی قوت سے دشمن کے مذموئم عزائم کو خاک میں ملانا ہے -انہوںنے کہاکہ زخمیوں کے علا ج معالجے میں کوئی کمی نہیں آنے دیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ڈاکٹر مجید نظامی ایک نڈر، بیباک صحافی اورصحافت کے میدان میں اپنی مثال آپ تھے۔مجید نظامی مرحوم ایک عہد ساز شخصیت تھے اور ان کا کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ڈاکٹر مجید نظامی سچے انسان تھے اور بلا خوف اپنی بات کہنے کی قدرت رکھتے تھے اور ملکی اور قومی معاملات میں کمال درجے کی بصیرت رکھتے تھے ۔مثبت اور نظریاتی صحافت کے فروغ میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے روزنامہ”نوائے وقت“ کے ایڈیٹراور مقتدر صحافی ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم کی تیسری برسی پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر مجید نظامی نے ملک مےں جمہورےت کی سربلندی اورآئےن کی بالادستی کےلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔ انہوں نے ہر دور میں حکمرانوں کا کڑا احتساب کیا اور عوام کی ہر مرحلے پر رہنمائی کی۔ ڈاکٹر مجےد نظامی پاکستان کی نظریاتی اساس کے امین تھے اور تمام عمر ملک میں جمہوریت اورجمہوری اقدار کے استحکام کیلئے کوشاں رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے صوبہ بھر کے تعلیمی بورڈز کے میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو مبارکباد دی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوم کے بچوں اور بچیوں نے اپنی محنت کے ذریعے پوزیشنیں حاصل کرکے اپنے والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور بعض طلبا و طالبات نے کم وسائل کے باوجود اپنے عزم، حوصلے اور محنت کے ساتھ یہ مقام حاصل کیا ہے جو کہ لائق تحسین ہے۔ وزیراعلیٰ نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کے والدین اور اساتذہ کو بھی مبارکباد دی ہے۔ انہو ںنے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ حصول علم سمیت کسی بھی شعبہ میں کی جانے والی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔

دہشتگردی میں غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ، آرمی چیف کا بڑا اعلان

لاہور، راولپنڈی (وقائع نگار، بیورو رپورٹ) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور دھماکے کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے واقعات دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ، دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں اور ریجنل ایکٹرز دہشتگردی کو پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کررہے ہیں، اگر افغانستان کی سرزمین ایسے عناصر بلا روک ٹوک استعمال کرتے رہے تو دونوں ممالک دہشتگردی کا شکار رہیں گے، افغانستان کے سرحدی علاقوں سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں کے خاتمے میں مدد کیلئے تیار ہیں ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے منگل کو لاہور کور ہیڈ کوارٹرز میں سیکیورٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس کے دوران آپریشن رد الفساد اور گزشتہ روز ہونیوالے دھماکے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ دھماکے کے متاثرین اور انکے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ اس طرح کے واقعات اپنی سر زمین سے دہشتگردی کو ختم کرنے کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کے درمیان رابطے ختم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج ایسے واقعات پرسب سے پہلے متحرک ہونیوالی پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے انکی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کیخلاف ایک قوم کی حیثیت سے جنگ لڑی ہے ۔ کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو دی جائے اس طرح دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قومی شرکت یقینی بنائی جا سکتی ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دشمن اٹنیلی جنس ایجنسیاں اور ریجنل ایکٹرز دہشتگردی کو پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کرنے میں پوری طرح ملوث ہیں ۔ کابل اور لاہور میں یکے بعد دیگر ہونیوالے دھماکے ہمارے اس موقف کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشتگردی کا شکار ہیں اور اگر افغانستان کی سرزمین ایسے عناصر بلا روک ٹوک استعمال کرتے رہے تو دونوں ممالک دہشتگردی کا شکار رہیں گے ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سرحدی علاقوں سے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے میں مدد کیلئے تیار ہے جیسا کہ ہم نے سرحدی علاقے میں اپنی حدود میں کیا ہے ۔ بعد ازاں آرمی چیف نے جنرل ہسپتال میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی اور آئی جی پنجاب پولیس بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے آرمی چیف نے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔جنر ل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے تمام ذرائع اور روابط ختم کریں گے۔ پاک فوج پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دہشت گردی کیخلاف ہم سب متحد ہوکرلڑے اور اس لعنت کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے عوام کاتعاون ضروری ہے۔ عوام مشکوک نقل وحرکت سےسیکیورٹی فورسزکو مطلع کریں۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ کابل اور لاہور میں یکے بعد دیگرے دھماکوں سے یہ بات واضح ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی سے یکساں طور پر متاثر ہیں۔ پاکستان افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لئے مددکو تیار ہے۔

شریف خاندان کیخلاف انکوائری کرنیوالے واجد ضیا مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے شریف خاندان کے خلاف کرپشن کی انکوائریاں کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی تیاری کر لی ہے ۔ وزیر اعظم ہاﺅس نے رحمان ملک کے ساتھ مل کر لندن فلیٹس کی انکوائری کرنے والے سابق ڈپٹی دائریکٹر ایف آئی اے انعام الرحمان سحری کے خلاف نیب سے کرپشن کیس کا ریکارڈ حاصل کر لیا ۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءاور ان کے اہلخانہ کے آمدن اور اثاثوں کے ریکارڈ کا جائزہ اور نیب کو مطلوب انعام الرحمان سحری کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے پر غور کیا جا رہا ہے ۔دستاویزات کے مطابق انعام الرحمان سحری کو 1998 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے احکامات پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا ۔ انعام الرحمان سحری نے 1994 ءمیں رحمان ملک کے ساتھ مل کر شریف خاندان کی لندن جائیدادوں کی انکوائری کی تھی اگرچہ رحمان ملک کی انکوائری پر شریف خاندان کے خلاف کوئی کارروائی تو نہیں ہوئی تھی مگر رحمان ملک اور انعام الرحمان سحری سمیت ایف آئی اے افسران کو خمیازہ ضرور بھگتنا پڑا تھا ۔دستاویز کے مطابق احتساب بیورو نے انعام الرحمان کے خلاف 28 جنوری 1999 کو آمدن سے زائد منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بنانے کا کیس تیار کیا اور ایف آئی اے کو کارروائی کی ہدایت کر دی ۔ ایف آئی اے نے یہ انکوائری بعد میں نیب کے سپرد کر دی جس میں انعام الرحمان سحری پر 1985 سے 1988 کے دوران 2 کروڑ 33 لاکھ روپے کی جائیدادیں بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ اس عرصے کے دوران انعام الرحمان سحری کی آمدن ایک کروڑ 30 لاکھ روپے تھی ۔ انعام الرحمان سحری کے بنک اکاﺅنٹ میں ایک کروڑ 18 لاکھ روپے کی رقم بھی پائی گئی تھی جس کا کوئی ثبوت انعام الرحمان کی رقم بھی پائی گئی تھی۔جس کا کوئی ثبوت انعام الرحمان سحری کے پاس موجود نہیں تھا۔وزیر اعظم ہاﺅس کے سخت احکامات تھے کہ انعام الرحمان سحری کو احتساب عدالت کے ذرعیے عبرت کا نشانہ بنایا جائے ۔ نیب نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انعام الرحمان اور ان کی زوجہ کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا ۔ نیب راولپنڈی نے وزیر اعظم ہاﺅس کو آگاہ کیا کہ انعام الرحمان سحری کینیڈا اور ان کی اہلیہ لندن میں مقیم ہیں ۔ احتساب عدالت سے مفرور ہونے کے باعث انعام الرحمان سحری کے خلاف مزید کارروائی نہیں ہو سکتی ۔ حکومت انٹرپول کے ذریعے انعام الرحمان سحری کو نیب کے حوالے کر دے تو احتساب عدالت کے ذریعے انعام الرحمان کو سزا دلوائی جا سکتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق انعام الرحمان نے جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران میڈیا میں شریف خاندان کے خلاف محاذ کھولا جس پر وزیر اعظم سمیت حکومتی شخصیات برہم ہیں جس کے باعث نیب راولپنڈی سے انعام الرحمان سحری کے خلاف ریکارڈ منگوایا گیا ہے تاکہ انٹرپول کے ذریعے انعام الرحمان سحری کو پاکستان لایا جا سکے ۔دوسری جانب جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءاور ان کے خاندان کی آمدن اور اثاثوں کا ریکارڈ بھی جمع کیا جا چکا ہے ۔ واجد ضیاءنے توقعات کے برعکس جے آئی ٹی تحقیقات کے دوران شریف خاندان سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا اگرچہ فواد حسن فواد کو بھروسہ تھا کہ واجد ضیاءتحقیقاتی رپورٹ پر مددگار ثابت ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم ہاﺅس کی شخصیت کی ہدایت پر ایک نجی فرم سے واجد ضیاءکے اثاثوں اور آمدن کے ریکارڈ کی تجزیاتی رپورٹ تیار کرائی جا رہی ہے ۔ آمدن اور اثاثوں میں بڑا فرق ملا تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ بصورت دیگر میڈیا سیل کے ذریعے معلومات منظر عام پر لائی جائیں گی ۔

آئل ٹینکرز کی ہڑتال، پٹرول غائب ، پہیہ جام

اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور (نمائندگان خبریں) وزارت پٹرولیم اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ڈیڈ لاک برقرار ہے۔تفصیل کے مطابق حکومت اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنماو¿ں کے درمیان ہونے والے
مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری پٹرولیم کی زیرصدارت ہونے والے مذاکرات میں چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل، ڈی جی آئل عبدالجبارمیمن کے علاوہ آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین یوسف شاہوانی اور آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر بابر اسماعیل بھی شریک ہوئے۔آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیرمین یوسف شاہوانی کا کہنا تھا کہ اوگرا کی پالیسیاں غلط ہیں اور ہم اوگرا کا قانون نہیں مانتے، اب اوگرا سوتا ہوا جاگ گیا موٹروے پر ہماری گاڑیوں کے بلاوجہ چالان کئے جا رہے ہیں اور ایکسل بڑھانے کا بھی کہا جارہا ہے ہم نئے سسٹم پر نہیں چل سکتے وزارت پیٹرولیم کو پرانا سسٹم ہی بحال کرنا ہوگا۔ یوسف شاہوانی نے کہا کہ ہم پر لوگوں کی ہلاکتوں کا الزام لگایا جارہا ہے جب کہ احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کو آگ ہم نے نہیں لوگوں نے لگائی جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، ہمارے جو بھی مطالبات ہیں انہیں مانا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا دما دم مست قلندر جاری رہے گا۔مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترجمان اوگرا عمران غزنوی کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن کسی کی دھمکیوں سے بلیک میلنگ نہیں ہوں گے ہم نے آئل ٹینکرز ایسوسی سے درخواست ہے لوگوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شبہ ہے آئل کمپنیاں اس ہڑتال کے پیچھے ہیں اور جو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اس بلیک ملینگ میں ملوث ہیں وہ بے نقاب ہوجائیں گی۔ ترجمان اوگرا نے مزید کہا کہ ٹینکر مالکان کا ایشو فریٹ کا ہے، فریٹ او ایم سی نے کرنا ہے، پٹرولیم سیکریٹری نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کو اچھی تجاویز دی ہیں، ان کے پیچھے جن کمپنیز کا ہاتھ ہے وہ بھی ایکسپوز ہو جائیں گی اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے دوسرے روز بھی جاری پیٹرول کی سپلائی معمول کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں پیٹرول کی قلت پیدا ہونا شروع ہوگئی، پیٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی بند ۔کراچی کے مختلف پیٹرول پمپس پر پیٹرول ختم ہونے سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ادھر پشاور میں بھی آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث کچھ پیٹرول پمپس پر تیل کی فراہمی اور آئل ڈپو بند ہوگیا ہے۔ آل پاکستان آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کے چیر مین میر یوسف شاہوانی نے کہاہے کہ کرایوں میں جبری کٹوتی، اوگرا سمیت حکومتی اداروں کے سخت رویئے اور موٹروے پولیس کی جانب سے ناجائز جرمانے اور چالان کے خلاف ہڑتال کررہے ہیں۔میر یوسف شاہوانینے کہا کہ جب تک مطالبات منظور نہیں ہوں گے پورے ملک میں تیل کی سپلائی بند رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹینکر مالکان حکومت کو 3ماہ کا ایڈوانس ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر حکومت انہیں ریلیف دینے کے بجائے استحصال کررہی ہے۔چیرمین آئل ٹینکر ایسوسی ایشن نے کہا کہ موٹر وے پولیس جرمانے عائدکرنے پر لگی ہوئی ہے، پنجاب میں پٹرولنگ پولیس کی جانب سے آئل ٹینکر کو ہراساں کیا جاتا ہے جب کہ سندھ میں ایکسائز پولیس کی بھتہ خوری وغنڈہ گردی عروج پر ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزارت پٹرولیم نے جب سے آئل ٹینکرز سے متعلق امور اوگرا کے سپر د کیے ہیں تب سے آئل ٹینکر مارکیٹنگ کمپنیوں اوگرا اور آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کی کوئی بھی مشترکہ میٹنگ نہیں بلائی گئی، صرف بند کمروں میں احکامات جاری کیے جارہے ہیں جس سے ٹرانسپورٹروں کا استحصال ہو رہا ہے۔ڈی جی آئل کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول کے 4 جہاز کھڑے ہیں جن میں 11 لاکھ 6 ہزار میٹرک ٹن پٹرول موجود ہیاور ملک میں اس وقت پٹرول کا اسٹاک 21 لاکھ میٹرک ٹن جب کہ ڈیزل کا 4 لاکھ میٹرک ٹن اسٹاک موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں پٹرول،ڈیزل کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں۔دوسری جانب ترجمان اوگرا کی جانب سے مقف اپنایا گیا ہے کہ روڈ ٹرانسپورٹ سے متعلق اوگرا معیارات پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، ٹینکرز کا فٹنس سرٹیفکیٹ دیکھا، ٹینکرز کا ایکسل اور ایکسپلوسیو لائنس بھی چیک کیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ ٹیمیں آئل ٹینکرز کی فٹنس چیک کریں گی، روڈ ٹرانسپورٹ سے متعلق اوگرا معیارات کو چیک کیا جائے گا، ٹائرز کی صحت، ڈرائیور کی فٹنس، لائسنس اور ڈرائیونگ ٹائم چیک ہوگا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ معیارات کو یقینی بنانے کا مقصد انسانی جانوں کو ضیاع سے بچانا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ بڑھ گیا۔ احمد پور شرقیہ قدرتی حادثہ کو بنیاد بنا کر انتظامیہ نے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی میں بے پناہ رکاوٹیں کھری کرنی شروع کر دیں۔ نقشہ، فٹنس، سیفٹی، مقدار اور دیگر کاغذات چیکنگ کی آڑ میں آئل ٹینکر عملے کو دن رات ناجائز تنگ کرنا معمول بنا لیا کرایوں سے زائد کے چالان تھمانے لگے۔ آئل کمپنیوںاور اوگرا کی یقین دہانیوں کے باوجود مطالبات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ واضح رہے کہ اوگرا کی جانب سے روڈ سیفٹی، ٹینکرز کی فٹنس چیک کرنے اور انہیں قانون کے دائرے میں لانے کے فیصلے پر ٹینکرز ایسوسی ایشن نے گزشتہ روز ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں تیل کی ترسیل بند کرنے کا کہا تھا جس کے باعث ملک بھر میں پٹرول کا بحران شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

نواز شریف بارے ایک جج کا فیصلہ آنے کی دیر ہے, پھر کیا ہوگا؟ دیکھئے آئینی ماہرین کی رائے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پانامہ کیس میں وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ پانچ رکنی بنچ دے گا یا پھر تین رکنی بنچ کا فیصلہ حتمی ہوگا میڈیا پر بحث بڑھ گئی مختلف قانونی ماہرین اس معاملے پر اپنی رائے دینے لگے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ 2 ججز نے فیصلہ سنا دیا۔ 3ججز نے فیصلہ کرنا ہے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے وقت پانچوں ججز بیٹھیں گے۔ چیف جسٹس نے اس کیس میں 5 رکنی بنچ بنایا تھا جو ابھی ٹوٹا نہیں ہے۔ جسٹس (ر) ناصر اسلم نے کہا کہ حتمی فیصلہ 5 ججز ہی کرینگے عدالت وزیراعظم کو طلب کر سکتی ہے تاہم انہیں بلانا ضروری نہیں ہے۔ پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ سپریم ہوتی ہے اس لئے وزیراعظم کو عدالت میں بلانا عجیب لگتا ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ 5 رکنی بنچ نے کیس سنا 2 ججز نے اپنا فائنل فیصلہ دے دیا باقی 3 ججز نے معاونت کےلئے جے آئی ٹی بنائی جس نے رپورٹ جمع کرا دی۔ اب 3 ججز اپنا فیصلہ دینگے، 2 ججز فیصلہ دے چکے، پانچوں ججز صاحبان کا فیصلہ اب ملکر پڑھا جائے گا یعنی 3 ججز میں سے ایک نے بھی خلاف فیصلہ دیدیا تو کیس کا فیصلہ نواز شریف کےخلاف ہوگا۔ وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایک ہی مقدمے کا فیصلہ 2حصوں میں نہیں کیا جا سکتا۔ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عندیہ نہیں دیا گیا کہ حتمی فیصلہ پر پانچوں ججز بیٹھیں گے۔ 3رکنی بنچ الگ ہے اس کا فیصلہ پچھلے فیصلہ سے ملا کر نہیں پڑھا جا سکتا۔ وزیراعظم کے سابق وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ پانامہ کیس پر اب صرف ایک ہی 3 رکنی بنچ ہے جو حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔

جمائما سے آنیوالی ترسیلات زر بارے چیف جسٹس کے ریمارکس، کھلاڑی پریشان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے جمائما خان کی جانب سے آنے والی رقم پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی سابق اہلیہ کی جانب سے آنے والی ترسیلات واضح نہیں ہیں، تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا فلیٹ کی خریداری کیلئے رقم اکاو¿نٹ سے اداکی گئی، عمران خان کی غیر ملکی آمدنی پر انکم ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوتا تھا، اس پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عمران خان نان ریزیڈنٹ پاکستانی تھے ، چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ جمائما سے آنے والی ترسیلات زر واضح نہیں ہیں، نعیم بخاری کا عدالت میں کہنا تھا کہ عمران خان پروفیشنل کرکٹ کے علاوہ آمدن کاکوئی ذریعہ نہیں تھا، سیسکس اکاو¿نٹ سے بھی مکمل ریکارڈ نہیں ملا ہے ۔