سوشل میڈیا ظلم کیخلاف بڑا ہتھیار ہے

اسلام آباد(صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں سٹیٹس کو کوتبدیل کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے،سوشل میڈیا ظلم کے مو جودہ نظام کو تبدیل کرنے میں اہم کرادار اداسکتا ہے، موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے یہ ہتھیار بندوق اور تلوار سے بھی زیادہ موثر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ سوشل میڈیاکے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں ملک بھر سے شعبہ سوشل میڈیا کے ٹیم ہیڈز نے شرکت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے یہ ہتھیار بندوق اور تلوار سے بھی زیادہ موثر ہے اس کے ذریعے لوگوں کے دلوں اور سوچ کو بدلا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستانی معاشرے کی برائیوں کو درست کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے کامل یکسوئی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں سٹیٹس کو تبدیل کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے اگرچہ یہ مشکل کام ہے کیونکہ پانی کے بہاﺅ میں بہنا آسان کام ہے لیکن اس کے مخالف تیرنا یا اس کے آگے بند باندھنا انتہائی مشکل کام ہے اور سٹیٹس کوکو چیلنج کرنا دراصل ایک مشکل کام ہے لیکن جماعت اسلامی اس میںکامیاب ہوگی ۔ انہوںنے کہا کہ سوشل میڈیا ٹیم اپنے شعبے میں بھر پور انداز میں کام کرتے ہوئے ملک بھر کے تمام طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے اور جماعت اسلامی کی سوچ اور سلوگن کو عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ اس موقع پر انہوںنے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم نے کہا کہ سوشل میڈیا آج کے دور میں عوامی رابطوں کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس کو بہتر اور موثر انداز میں استعمال کرکے ملک میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے کو جانچنا اور مثبت انداز میں ان کے سوالوں کے جواب دینا ضروری ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں پر اچھے اثرات مرتب کئے جاسکیں ۔

عمران خان کیخلاف بھی فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (آ ئی این پی ) الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، 10 اگست کو سنایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے باغی رہنما اکبر ایس بابر نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے جب کہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے توہین عدالت کی درخواست سننے سے متعلق الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں آج 5 رکنی کمیشن نے درخواست پر سماعت کی جس میں عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار چیلنج کیا۔بابر اعوان کا اپنے دلائل میںکہاکہ آئین کے مطابق ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ توہین عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں، توہین عدالت سے متعلق الیکشن کمیشن کے اختیارات کا کوئی ذکر نہیں۔بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ 1976 کا توہین عدالت کا قانون ختم ہوچکا ہے، توہین عدالت کی کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کا قانون موجود ہونا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا بھی الگ سے قانون اور طریقہ کار ہے، آئینی اختیارات کے لیے قانون کا موجود ہونا بھی لازم ہے۔بابر اعوان نے مو قف اپنایا کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر کارروائی کا مطالبہ غیرقانونی ہے، اگر الیکشن کمیشن کا درجہ ہائیکورٹ جتنا ہے تو پھر قواعد بھی ہائیکورٹس والے لاگو ہوں گے، الیکشن کمیشن پانچ میں سے کون سی عدالت کے قواعد پرچلے گا؟ آئین میں الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے متعلق اختیارات دیئے گئے ہیں۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے اسے 10 اگست کو سنانے کا اعلان کیا۔

عمران خان کو سب سے بڑا جھٹکا، پی ٹی آئی حلقوں میں کھلبلی

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف جہاں قومی سیاست میں وکٹیں گرانے میں کسی بھی سیاسی جاعت کو ثانی نہیں رکھتی وہیں صوبہ خیبر پختونخوا ہ میں اپنی حکومت کو بچانے کے لالے پڑھ گئے ہیں ، 20سے زائدارکین اسمبلی نے دیگر جماعتوں سے رابطے کرتے ہوئے اڑان بھرنے کی تیار یاں کر لیں، بغاوت پر تلے ہوئے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی ، مشیر شامل ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق خیبر پختو انخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو شدید خدشات لاحق ہو ئے ہیں جس کی بڑی وجہ اراکین اسمبلی کے وزیر اعلی پرویز خٹک سے اختلافات اور چند قریبی لوگوں کو دو دو وزراتوں اور عہدوں سے نوازنا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی میں شریک ہونے والے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے اراکین اپنی کابینہ اور وزیر اعلی سے شدید نالاں ہونے کے باعث ن لیگ سمیت دیگر پارٹیوں سے روابط قائم کرکے پارٹی سے اڑان بھر نے کی تیاریاں کر رہے ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بغاوت کی سوچ رکھنے والے اراکین کو آئندہ جنرل الیکشن میں پارٹی ٹکٹیں نہیں دی جائیں گی۔

عمران پر صادق اور امین نہ ہونے کا الزام, فیصلہ جلد آئیگا

اسلام آباد( آن لائن، مانیٹرنگ ڈیسک) نااہلی کیس کی سماعت، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے انکم ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا، عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کہتے ہیں عمران خان کا پروفیشنل کرکٹ کے علاوہ آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے پہلے اور اب کے مو¿قف میں فرق ہے۔ عدالت نے عمران خان کو لندن فلیٹ کی ادائیگیوں اور برطانیہ آسٹریلیا میں کرکٹ آمدن کا ریکارڈ متفرق درخواست کے ساتھ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی عمران خان کی نااہلی کےلئے دائر درخواست کی سماعت کی تین رکنی بنچ میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی شامل تھے۔ عمران خان نے انکم ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا، عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ لندن فلیٹ کی خریداری سے متعلق عدالت کو مطمئن کرنا ہے، لندن فلیٹ کی ادائیگی اور آسٹریلیا برطانیہ میں کرکٹ آمدن کا ریکارڈ بھی مل گیا ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میڈیا کس انداز سے چیزوں کو پیش کرتا ہے اس سے سروکار نہیں، لندن فلیٹ کی خرداری سے متعلق دستاویز اپنے اطمینان کے لیے طلب کیں، درخواست گزار نے لندن فلیٹ خریداری میں منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگایا، درخواست گزار کا الزام یہ ہے کہ عمران خان نے آف شور کمپنی کا بینیفشل مالک ہونا تسلیم کیا، آف شور کمپنی کو ظاہر نہ کر کے عمران خان صادق اور امین نہیں رہے، ہماری دلچسپی اس حد تک ہے کہ عمران خان کے اکاونٹ میں فلیٹ خریداری کے وقت کتنے رقم موجود تھی، فلیٹ خریداری کی رقم بذریعہ بنک ادا کی گئی۔ پی ٹی آئی وکیل نے بتایا 75 ہزار ڈالر منتقل ہوئے تو ڈالر اور پاو¿نڈ کا ریٹ برابر تھا، انٹرسٹ کی رقم شامل کر کے فلیٹ کی قیمت ایک لاکھ 61 ہزا رپاو¿نڈ ہو گئی،نعیم بخاری نے بتایا عمران خان 1971سے 1976 تک ووسٹرشائرکی جانب سے کھیلتے رہے اس کے علاوہ 1977 سے 1979 تک کیری پیکرکرکٹ کھیلی، ماجدخان،ظہیرعباس،آصف اقبال نے بھی کیری پیکرکرکٹ کھیلی، عمران خان کو آسٹریلیااورلندن میں کرکٹ آمدن کاریکارڈمل گیا،لیکن ووسٹرشائرسے ملنے والے پیسوں کاریکارڈدستیاب نہیں،پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایاعمران خان نے 85-1984 میں آسٹریلیاکی جانب سے 2سیزن کرکٹ کھیلی۔جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا تمام دستاویزات متفرق درخواست کےساتھ جمع کرا دیں؟ اس پر نعیم بخاری کی جانب سے بتایا گیا تمام منی ٹریل سامنے آ چکی ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا درخواست گزار کی استدعامنی لانڈرنگ سے متعلق نہیں ہے، نعیم بخاری نے بتایا درخواست میں الزام ہے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کاغلط فائدہ اٹھایا گیا، عمران خان کاپروفیشنل کرکٹ کے علاوہ آمدن کاذریعہ نہیں تھا،، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جمائمہ خان نے 4 کروڑ 8 لاکھ روپے پاکستان بھیجی، عمران خان نے جمائمہ کو قرض سے زیادہ پیسے ادا کیے، یہ میاں بیوی کے درمیان معاملہ ہے، چیف جسٹس نے کہا 26 ہزار ڈالر کی جمائما اور راشد خان کے درمیان سیٹلمنٹ کا کوئی دستاویز ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے غیر مصدقہ دستاویز پیش کی گئیں، تصدیق کرائی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی خود ساختہ دستاویز عدالت میں کیوں جمع کرائے گا، وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ قطری خط پیش کرنے پر کس قسم کی شرمندگی دوسرے فریق کو اٹھانی پڑی، اس لیے خود ساختہ دستاویز کیسے دے سکتے ہیں، عمران خان کا موقف درست ہے وہ فلیٹ فروخت کر کے پیسہ پاکستان لائے، چیف جسٹس نے کہا اس طرح کے مقدمات کو جلد نمٹانا چاہتے ہیں،تا کہ عام لوگوں کے مقدمات کو سن سکےں۔عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت31 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

نئے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری

لاہور(خصوصی نامہ نگار) پنجاب حکومت نے ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کیلئے کیپٹن (ر)عارف نواز کو پنجاب پولیس کا مستقل سربراہ منتخب کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ،آج وہ اپنے عہدے کا حلف لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے 43 ویں انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب آج اپنے عہدے کا باقاعدہ طور پر چارج سنبھالیں گے ،اس سے قبل آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عثمان خٹک کو 13 گھنٹے کیلئے آئی جی پنجاب تعینات ہوتے ہوئے تھے جنہیں ہائیکورٹ کے حکم پر ٹوٹیفکیشن منسوخ کردیا گیا تاہم وہ گذشتہ 3 ماہ سے قائم مقام آئی جی پنجاب کے طور پر کام کر رہے تھے ،وفاقی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق سکیل 21 کے ایڈیشنل آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز پنجاب پولیس کے 14 کامن سے تعلق رکھنے والے آفیسر ہیں جو 1961 میں چیچاوطنی میں پیدا ہوئے اور بی ایس سی کے بعد 1986 ءمیں بطور اے ایس پی تعیناتی میں ملتان ،لودھراں ،پاکپتن اور فیروز والہ میں ذمہ داری سرانجام دی بطور ایس پی گوجرانوالہ ،راجن پور اور چکوال رہے ایس ایس پی عہدے پر ترقی ملنے پر ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈی پی او بہاولپور رہے ،خیبر پختوانخواہ میں سپیشل برانچ اور سی آئی ڈی میں بطور ڈی آئی جی رہے جبکہ ڈی آئی جی ایڈمن فیصل آباد سمیت ڈی آئی جی ٹریننگ پولیس لاہور ذمہ داریاں سرانجام دی اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر بلوچستان اور آر پی او کوئٹہ بھی تعیناتی حاصل کی ایڈیشنل آئی جی بلوچستان کانسٹیبلری کے بعد ایڈیشنل آئی جی آپریشن پنجاب اور بعدازان ایڈیشنل آئی اسٹیبلشمنٹ کام کر رہے تھے کہ ان کو مستقل آئی جی پنجاب تعیناتی کے احکامات پر پنجاب پولیس کا سربراہ منتخب کرلیا گیا ۔

خودکش حملہ آور بارے مزید انکشافات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

لا ہور (کرائم رپورٹر )بم دھما کے کی جگہ کو تحقیقا تی اداروں نے کلیئر کر دیا جس کے بعد سڑ ک کو عا م ٹر یفک کیلئے کھو ل دیا گیا ۔فرانزک ماہرین اور حساس اداروں کے تفتیش کاروں کی جانب سے خودکش دھماکے کی جگہ سے دوسرے روز بھی شواہد اکٹھے کئے گئے جس کے بعد جائے وقوعہ کو صفائی کے بعد عام ٹریفک کےلئے مکمل طو رپر کھول دیا گیا ،مبینہ خود کش حملہ آور کے جسم کے ملنے والے مختلف اعضاءکو ڈی این اے کےلئے فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیا گیا جبکہ جیو فینسنگ کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ،دھماکے میں تباہ ہونے والی تمام موٹرسائیکلوں کی شناخت ہوگئی ۔ذرائع کے مطابق فرانزک ماہرین اور حساس اداروں کے متعلقہ شعبوں کے افسران اور اہلکار فیروز پور روڈ پر ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف تھے اور یہ سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا ۔ ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ اور اس کے اطراف ،دھماکے میں تباہ ہونے والی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں سے ضروری شواہد اکٹھے کئے گئے جن کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروں کو جائے وقوعہ کے قریب واقعہ درخت سے مبینہ خود کش حملہ آور کے سر کے بال اور سر کاکچھ حصہ ملا ہے جنہیں جائے وقوعہ سے ملنے والے دیگر اعضاءکے ہمراہ فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیا گیا جہاں ان کا ڈی این اے کیا جائے گااور اس کی شناخت کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔شواہد اکٹھے کرنے کا مرحلہ مکمل ہونے پرجائے وقوعہ کو پانی سے دھویا گیا اوربیرئیر اور قناعتیں ہٹا کرشاہراہ کو عام ٹریفک کےلئے کھول دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروںنے جیو فینسنگ کا مرحلہ بھی مکمل کر لیا ہے جسکے تحت علاقے میں خود کش دھماکے سے پہلے اور بعد میں کی جانے والی موبائل فون کا ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے گی جس کے ذریعے ممکنہ طور پر خود کش حملہ آور کے سہولت کاروں تک پہنچنے میں مدد میسر آسکے گی ۔ذرائع کے مطابق فیروز پور روڈ پر خودکش حملے کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور موٹرسائیکل کی بجائے رکشے پر آیا جو گجومتہ اور کاہنہ کی طرف سے ہوتا ہوا پرانی سبزی منڈی پہنچا۔انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے لیکن اس کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے، اس کی ٹانگ اور سر کے بال ڈی این اے کے لیے بھجوادیئے گئے ہیں۔انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق دھماکے میں تباہ ہونے والی تمام موٹرسائیکلوں کی شناخت ہوگئی ہے، تمام تباہ شدہ موٹرسائیکلیں شہید یا زخمی ہونے والے افراد کی ہیں۔ سانحہ فیروز پور روڈ کے بعد حساس اداروں نے والٹن روڈ پر کامیاب کارروائی کرکے دو مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا، بارودی مواد اور نقشے برآمد، مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔کو ٹ لکھپت کے علا قہ فیروز پور روڈ پرہونے والے خود کش دھماکے کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والے دو نا معلوم افراد کی لاشوں میں سے ایک کی شناخت ہو گئی ۔ بتایا گیا ہے کہ سانحہ میں 2 6افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے شناخت ہونے پر 23لاشوں کا پوسٹمارٹم مکمل کر لیا گیا تھا جبکہ دو لاشوں کی شناخت نہ ہونے کے باعث پوسٹمارٹم نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز نا معلوم لاشوں میں سے ایک کی ارشد مسیح کے نام سے شناخت ہو گئی ہے جس کے بعد پوسٹمارٹم کیا گیا ۔

پٹرول کے ستائے عوام کیلئے بڑی خوشخبری

اسلام آباد (ویب ڈیسک)آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اوگرا حکام سے سیکرٹری پٹرولیم کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہڑتال ختم کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنما یوسف شاہوانی نے کہا ہے کہ شام 4 بجے ملک بھر میں تیل کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔تفصیلات کے مطابق آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے تیسرے روز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور اوگرا حکام میں مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کی سربراہی سیکرٹری پٹرولیم نے کی اور یہ اسلام آباد میں ہوئے۔ مذاکرات کے دوران آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے اپنا پرانا مطالبہ دہرایا اور 2009 کے اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کی شرط رکھی۔ اوگرا حکام نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کو 15 روز میں آرڈیننس میں ترمیم کا کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال ختم کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی۔ دوسری جانب ایسوسی ایشن نے اوگرا حکام کی گاڑیوں کو فٹ رکھنے کی شرط بھی مان لی ہے۔

عمران خان کے مزید خفیہ اکاﺅنٹس بارے خبر

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی سیاست کا جلد خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ وہ اپنے اثاثوں کا منی ٹریل دینے میں ناکام رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی بنی گالہ کی رہائش گاہ اور اپنے زیر ملکیت فلیٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں،ہم نے ان سے منی ٹریل مانگی لیکن انہوں نے مِنی ٹریل دی۔انہوں نے کہا عمران خان کی سیاست کی آخری آرام گاہ بنی گالہ تھی،انہوں نے کہا کہ مخالف سیاسی جماعتیں چور دروازوں سے اقتدار کے حصول کی امید کے ساتھ ہر روز سپریم کورٹ آتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ان سیاسی یتیموں کو پاکستان کی عوام مسترد کر چکی ہے،انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جب کرکٹ کو خیر باد کہا تو انہوں نے کیری پیکر جن کا شمار اسوقت کے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا کا سہارا لیا، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کیری پیکر کے لئے کرکٹ کھیلنے کے لئے ان سے 25000پاونڈز لئے، انہوںنے کہا کہ عمران خان نے جو بھی پراجیکٹ شروع کیا چاہے وہ نمل کالج ہو یا ہسپتال وہ سراسر فراڈ تھا۔ حنیف عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان نے 25 ہزار ڈالر کا سودا کیا، ہم نے منی ٹریل مانگی تھی، آپ نے تو م±نی ٹریل دے دی عمران خان نے جو اکاونٹس سپریم کورٹس سے چھپائے ،وہ قوم کے سامنے لاو¿ں گا ،لندن میں ان کے فرنٹ مین سے بہت سے دستاویزات حاصل کرلیے ہیں۔ حنیف عباسی نے کہا کہ آئندہ اتوار کو اپنے گھر پریس کانفرنس کر رہاہوں،اس موقع پر عمران خان کے وہ اکاونٹس میڈ یا کے سامنے لاو¿ں گا جو انہوں نے سپریم کورٹ سے چھپائے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے فرنٹ مین سے لندن میں بہت سے دستاویزات حاصل کرلیے ہیں ،ان فائلوں کو سامنے لانے سے پتہ چلے گا کہ پیسہ پاکستان اور دبئی کیسے گیا ،نمل اور شوکت خانم کے پیسے بھی دبئی گئے۔انہوں نے بتا یا کہ عمران خان نا اہلی کیس میں آج ایک اور یو ٹرن آگیا ہے ،عمران خان کی جانب سے پہلے کہا گیا کہ پیسہ جمائماخان نے ارشد خان کو دیا ،اب عدالت میں ارشد خان نے کہا ہے کہ عمران خان کوبنی گالا اراضی کے لیے پیسے میں نے دیے۔ارشد خان نے بتا یا کہ لندن فلیٹ کے ایک لاکھ 36ہزار پاو¿ڈ کا ریکار ڈ ہی موجود نہیں ہے۔ دانیال عزیز نے کہا ہے عمران خان بنی گالہ کی زمین خریداری کے حوالے منی ٹریل پیش کرنے میں ناکام ہو گئے،عمران خان قبول کر رہے ہیں ان کے پاس منی ٹریل نہیں انہوں نے کہا جے آئی ٹی نواز شریف کیخلاف کوئی ثبوت نہیں لا سکی،نواز شریف کہیں نہیں جا رہے اب صرف عمران خان نہیں ان کی پوری پارٹی نااہل ہونے جا رہی ہے،عمران خان نے اسرائیل اور بھارتی کمپنی سے پیسے وصول کئے۔ رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کہاہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حکومت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں سرگرم عمل ہے، موجودہ حکومت نے توانائی کے بحران اوردہشت گردی سمیت تمام چیلنجوں سے نمٹنے پر خصوصی توجہ دی، ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے اور آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ )ن( ایک بارپھر عوامی حمایت سے کامیابی حاصل کرے گی۔

موٹاپا اور حمل

ڈاکٹر نوشین عمران
دوران حمل وزن بڑھ جانا ایک قدرتی بات ہے۔ لیکن ایسی خواتین کے لئے حمل میں پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں جن کا وزن حمل سے پہلے ہی نارمل سے زیادہ ہو، یعنی موٹی خواتین کے لئے محفوظ حمل اور زچگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے لئے رسک اور مسائل دوسری خواتین کی نسبت بہت بڑھ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین اور امریکن ”آبس اینڈ گائنی“ کے مطابق خواتین کا دوران حمل وزن تقریباً 20 سے 35 پاﺅنڈ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ حمل کے دوران خاتون دو آدمیوں کا کھانا کھائے بلکہ اس کی روٹین کی خوراک میں تین سے پانچ سو کیلوریز روزانہ کا اضافہ ضروری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خوراک متوازن ہو جس میں صرف چکنائی یا موٹا کرنے والی چیزیں نہ ہوں بلکہ پروٹین، وٹامن اور منرل والی غذائیں لازمی ہوں۔ جو خواتین پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہوں، دوران حمل اگر ان کے وزن میں 25 پاﺅنڈ سے زائد وزن کا اضافہ ہو جائے تو ان کے اپنے اور ان کے بچے کے لئے کافی خطرناک ہے۔ ایسی خواتین کو ابتدا سے ہی ہائی بلڈ پریشر، حمل کی ذیابیطس، فٹ یا جھٹکے لگنا، حمل ضائع ہونا یا قبل از وقت زچگی جیسے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان خواتین میں سیزیرین سیکشن آپریشن کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔”آبس اینڈ گائنی کے ماہرین کے مطابق ماں کا بے تحاشا موٹاپا بچے کے لئے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان بچوں میں کئی طرح کے مسائل دوران حمل ہی ہو جاتے ہیں جیسا کہ ان کے دماغی صلاحیتیں کم ہو سکتی ہیں، دماغی نشوونما رک سکتی ہے، وزن ضرورت سے زیادہ یا کم ہو سکتا ہے، دوران زچگی یا پہلے بچے کی موت ہو سکتی ہے۔ بچوں میں پیدائشی طور پر دل کے نقائص ہو سکتے ہیں۔ زچگی کے بعد ان خواتین میں ٹانگوں میں خون کا لوتھڑا بن جانے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ ایسی خواتین میں بار بار حمل ضائع ہونے کارسک بھی زیادہ ہے۔
موٹاپے کا درست اندازہ لگانے کے لئے BMI معلوم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کے پاس بی ایم آئی نکالنے کا انٹرنیشنل یونٹ فارمولا ہے جس کے تحت معلوم کیا جاتا ہے کہ قد اور وزن کی مناسبت سے بی ایم آئی کیا ہے۔ اگر یہ 25 سے زائد نکلے تو موٹاپا موجود ہے جو حمل میں مسائل پیدا کرے گا۔
ضروری نہیں کہ تمام خواتین کو ایسے مسائل ہوں لیکن بے تحاشا یا درمیانے درجے کا موٹاپا دوران حمل یا زچگی کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دوران حمل ان بچوں میں فولک ایسڈ اور آکسیجن کی کمی کے علاوہ خون کی فراہمی بھی کم ہو سکتی ہے۔ ماں کے خون میں ٹرائی گلسرائڈ اور یورک ایسڈ بڑھ جاتے ہیں جو بچے کی نشوونما متاثر کرتے ہیں۔
٭٭٭