Monthly Archives: July 2017
لاہور حملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنا نے کا فیصلہ
شریف خاندان کا شکر گزار ہوں انہی کے الزامات کی وجہ سے اپنے چالیس سال کے ریکارڈ کی کھوج کی، عمران خان
آپ نے کہا تھا ایک لاکھ ڈالرز ٹریس نہیں ہو رہے ،عمران خان نااہلی کیس چیف جسٹس کے ریمارکس
عمران خان نااہل ہونے جا رہے ہیں ، حنیف عباسی
عمران خان نے کیس کے متعلق آج کلابازیاں لگائیں ، دانیال عزیز
لاہور دہشت گردی جیسے واقعات ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے ،آرمی چیف
میموری کا رڈ میں غلطی سے ڈیلیٹ ہو نیوالا ڈیٹا وا پس لانے کا سب سے آسان طریقہ
لاہور(ویب ڈیسک) اوہ نو، نہیں نہیں نہیں، ہر شخص تقریباً ایسے ہی ردعمل کا اظہار کرتا ہے جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس نے غلطی سے اپنے موبائل فون سے وہ تصاویر ڈیلیٹ کر دی ہیں جو کسی خوبصورت جگہ پر چھٹیاں گزارتے ہوئے اتاری تھیں یا کسی دوست یا رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے موقع پر خوبصورت لمحات کو اپنے موبائل فون کے کیمرے کے ذریعے ویڈیوز یا تصاویر کی صورت میں محفوظ کیا تھا۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گھر میں موجود بچوں کے ہاتھ موبائل فون لگ گیا اور انہوں نے یہ تصاویر یا ویڈیوز ڈیلیٹ کر دی ہیں۔
اینڈرائڈ سمارٹ فونز میں “USB debugging” آن کرنے کا طریقہ
ایسا ہونے پر شدید کوفت ہوتی ہے اور انسان یہ سوچتا ہے کہ کاش ایسا ہونے سے پہلے پتہ چل جاتا لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہاں آپ کو کچھ ایسے سافٹ وئیرز اور طریقہ کار کے بارے میں بتایا جائے گا جن کے ذریعے آپ غلطی سے ڈیلیٹ ہونے والی تصاویر یا ویڈیوز کو واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ طریقے استعمال کرنے کیلئے سافٹ وئیرز کی ضرورت ہو گی تاہم کچھ اتنے آسان بھی ہیں جنہیں استعمال کرنا ذرا بھی مشکل نہیں۔
ان طریقوں کے استعمال سے ڈیلیٹ شدہ مواد کو واپس لانے کی 100 فیصد گارنٹی تو نہیں دی جا سکتی لیکن کسی بھی پروفیشنل ریکوری کیلئے پیسے خرچ کرنے سے قبل ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ زیادہ تر افراد کو ان طریقوں کے استعمال سے کامیابی ہی حاصل ہوتی ہے۔
میموری کارڈ سے ڈیٹا ریکور کرنے کا طریقہ:۔
ریکوری پراسیس میں کودنے سے پہلے یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جب کسی میموری کارڈ میں سے تصاویر یا کوئی اور مواد ڈیلیٹ کیا جاتا ہے تو موبائل یوزر کو خالی جگہ تو ظاہر کرتا ہے لیکن اصل میں وہ ڈیٹا اس وقت تک موجود رہتا ہے جب تک کوئی اور مواد اس میموری کارڈ میں ٹرانسفر نہ کیا جائے۔ لہٰذا کچھ اور چیزیں میموری کارڈ میں ٹرانسفر کرنے سے پہلے ہی ریکوری پراسیس کو استعمال کرنا ضروری ہے اور اسی صورت میں ہی ڈیلیٹ شدہ تصاویر یا ویڈیوز واپس مل سکتی ہیں۔
ویسے تو ڈیٹا ریکوری کیلئے بہت سارے سافٹ وئیرز دستیاب ہیں تاہم ان میں سے اکثر ایسے ہیں جنہیں استعمال سے قبل خریدنا پڑتا ہے لیکن یہاں کچھ ایسے سافٹ وئیرز کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جو بالکل فری ہیں اور انٹرنیٹ سے باآسانی ڈا?ن لوڈ کئے جا سکتے ہیں۔ “CG Security” کمپنی کا “PhotoRec” سافٹ وئیر بہترین آپشن ہے جو ونڈوز اور میک دونوں کیلئے دستیاب ہے لیکن اس کا انٹرفیس تھوڑا سا مشکل ہے تاہم ایک اور کمپنی “piriform” کا سافٹ وئیر “Recuva” اس کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جس کا انٹرفیس انتہائی آسان ہے لیکن یہ سافٹ وئی صرف ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کیلئے دستیاب ہے۔
پہلا سٹیپ:۔ اپنا میموری کارڈ کمپیوٹر کے ساتھ کنیکٹ کریں اور “PhotoRec” سافٹ وئیر کو لانچ کریں۔
دوسرا سٹیپ:۔ اپنے کی بورڈ پر موجود ”ایرو کیز“ کو استعمال کرتے ہوئے فراہم کی گئی لسٹ میں سے اپنا میموری کارڈ سلیکٹ کریں۔( اگر آپ کو میموری کارڈ ڈھونڈنے میں پریشانی ہو رہی ہے تو آپ اس کے سائز کا اندازہ لگا سکتے ہیں)۔ صحیح ڈرائیو لیٹر ڈھونے کے بعد ”اینٹر“ پریس کریں۔ آپ کے سامنے ایک نئی سکرین آ جائے گی۔
تیسرا سٹیپ:۔ اب آپ اس سکرین پر موجود آپش “FAT32” کو سلیکٹ کریں۔
چوتھا سٹیپ:۔ آپ کے سامنے اسی ونڈو پر مزید دو آپشنز “Free” اور “Whole” آ جائیں گی۔ اگر آپ ڈیلیٹ شدہ مواد واپس لانا چاہتے ہیں تو “Free” آپشن پر کلک کریں اور اگر آپ کا میموری کارڈ کرپٹ ہے تو “Whole” آپشن کو سلیکٹ کریں۔
پانچواں سٹیپ:۔ اب یہ سافٹ وئیر میموری کارڈ کی سے ملنے والی فائلز کو سیو کرنے کی جگہ منتخب کرنے کو کہے گا۔ لہٰذا آپ کی بورڈ پر موجود ایرو کیز کے استعمال سے مطلوبہ جگہ کا انتخاب کریں اور پھر کنفرمیشن کیلئے “C” کا بٹن دبائیں۔ یہ سافٹ وئیر ریکوری پراسیس شروع کر دے گا اور زیادہ سے زیادہ 30 منٹ میں یہ عمل مکمل ہو جائے گا تاہم سکیننگ کا وقت میموری کارڈ کے سائز پر منحصر ہے۔ امید ہے کہ اس آپشن کے استعمال سے آپ کا اہم ڈیٹا، تصاویر یا ویڈیوز واپس مل جائیں گے۔
1400سال قبل کہی گئی ایسی با ت جو انگریز اور ان کے سائنسدان بھی ما ن گئے
لندن(ویب ڈیسک) کھانا چبا چبا کر کھانے کا ہمیں بچپن ہی سے بتایا جاتا ہے لیکن اس کے فوائد کے بارے میں نہیں بتایا جاتا۔اسلام میں یہ بات واضح طور پر بتائی گئی ہے کہ کھانا آرام سے اور چباکر کھانا چاہیے۔اب اس کا ایک ایسا فائدہ سامنے آگیا ہے کہ جان کر آپ کھانا اچھی طرح چباکرکھائیں گے۔ ایک تجربے میں دیکھا گیا کہ جو خواتین 35بار چباکر کھاناکھاتی ہیں وہ ان خواتین سے 30فیصد کم کھانا کھاتی ہیں جو کہ 15بارچباکرکھاتی ہیں۔
آکسفورڈ اور ہارورڈ کا ایجوکیشن ماہر اور تحقیق کارڈاکٹرXand van Tullekenکا کہنا ہے کہ ماضی میں کھانا چباکر کھانے سے وزن کم ہونے کا فائدہ بتایا گیا ہے لیکن حقیقت میں اس کا فائدہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تجربہ ٹی وی شو میں بھی دکھایا گیا ہے اور لوگوں کو وزن کم کرنے کے لئے چباچباکرکھانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جتنا زیادہ کھانا ہم چبا چباکرکھائیں گے تو ہمار لعاب اس میں بہتر طریقے سے شام ہوگا اور کھانا بآسانی ہضم ہوگا۔تجربے میں 20خواتین کو پاسٹا کھانے کو کہا گیا اور ساتھ بتایا گیا کہ جب ان کا پیٹ بھر جائے تو وہ ر±ک سکتی ہیں۔ آدھے گروہ کو کہاگیا کہ وہ اپنے بھرے ہوئے منہ کو15بار چباکر کھائیںجبکہ دوسرے کو 35بار چبانے کا کہاگیا۔آخر میں ہر خاتون کے پلیٹ کو دیکھاگیا کہ جلدی کھانے والے افراد نے 468کیلوریز کھائیں اور چباچباکر کھانے والی خواتین نے 342کیلوریز لیں۔ اس کا کہنا ہے کہ دونوں گروہوں میں126کیلوریز کا فرق ہے جو کہ انتہائی حیران کن ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جو لوگ چباچباکر کھانا کھاتے ہیں ان کا وزن کم کھانے کی وجہ سے کم ہونے لگتا ہے۔
آپ بھی حضرت علیؓ کے اقوال سے ایک خطرناک بیماری سے نجات پا سکتے ہیں
اسلام آباد(ویب ڈیسک)آج کل کی مصروف زندگی میں ڈپریشن ایک عام مرض بن چکا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 34 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔ دوسری جانب اس ڈپریشن کا علاج کرنے والے ماہرین نفسیات کی تعداد انتہائی کم ہے اور ہر 20 لاکھ کی آبادی کو صرف 400 ماہرین میسر ہیں۔ڈپریشن کی عمومی وجہ کام کی زیادتی اور زندگی سے بیزاری ہوتی ہے تاہم بعض اوقات اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی اور یہ کسی بھی عمر کے فرد کو، کبھی بھی ہوسکتا ہے۔ ڈپریشن کی تشخیص اگر ابتدائی مرحلے میں ہوجائے تو کچھ طریقے اپنا کر اس سے باا?سانی چھٹکارہ پایا جاسکتا ہے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر مسئلہ کی طرح اسلام ڈپریشن کا علاج بھی 1400 سال قبل بتا چکا ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں حضرت علی? کے ان اقوال سے ہوتا ہے جو ہمیں مختلف کتابوں میں ملتے ہیں۔ آئیے ان پر نظر ڈالتے ہیں۔سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں:غصہ، تناﺅ اور پریشانی کے موقع پر سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا دماغ کو پرسکون کرتا ہے۔ اس بارے میں حضرت علی? نے فرمایا، ’جب کبھی ایسا دکھ محسوس ہو جس کی وجہ معلوم نہ ہوسکے، تو اپنے سر پر پانی ڈالو‘۔ (بہار الانوار، اشاعت 76)۔خدا کو یاد کریں:دکھ اور تکلیف کے وقت میں خدا کو یاد کرنا اس بات پر یقین پختہ کرتا ہے کہ یہ وقت جلد گزر جائے گا اور خدا اس وقت میں ہمارا ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔ ’جب دکھ بڑھ جائے تو کہو، اللہ کے سوا کوئی طاقت نہیں جو بچا سکے‘۔ (بہار الانوار، اشاعت 76)۔صفائی کا خیال رکھیں:ہم بچپن سے پڑھتے ا?ئے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ انفرادی صفائی سے لے کر اجتماعی طور پر گھروں، گلی، محلوں، شہروں اور ملکوں کی صفائی انسانی نفسیات پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہننا اور خوشبوئیں لگانا ہمارے دماغ کو ہلکا پھلکا کرتا ہے۔حضرت علی? کا قول ہے، ’صاف کپڑے پہننا دکھ اور غم کو دور کرتا ہے‘۔ (بہار الانوار، اشاعت 76)۔صرف طبی ماہرین ہی نہیں بلکہ دماغی و سماجی مسائل پر کام کرنے والے ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ صاف ستھرا لباس زیب تن کرنا اور صاف ستھرا رہنا نہ صرف دماغ کو تازہ دم کرتا ہے بلکہ ا?پ کی نفسیات اور موڈ پر بھیخوشوگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔انگور کھائیں:بعض روایات سے موسوم ہے کہ حضرت علی? تکلیف اور ذہنی تناو? کے مواقعوں پر انگور کھایا کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے۔حسد سے بچیں:حدیث نبوی? ہے، ’حسد انسان کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے ا?گ لکڑی کو‘۔حضرت علی? نے بھی اس بارے میں فرمایا کہ میں نے اس شخص کو خود اس کا سب سے بڑا دشمن دیکھا جو حسد میں مبتلا ہے۔ حسد کی وجہ سےوہ مستقل انتقامی کیفیت، بے سکونی اور دکھ کا شکار رہتا ہے۔ ( مفہوم۔ بہار الانوار، اشاعت 76)۔طرز زندگی میں تبدیلی:ماہرین عمرانیات کے مطابق ہم مادی اشیا سے جتنا دل لگاتے ہیں یہ ہمیں اتنا ہی زیادہ بے چینی اور بے سکونی میں مبتلا کرتی ہیں جو ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔حضرت علی? کا قول ہے، ’دنیا کی اشیا دکھ اور غم دینے کا سبب بنیں گی اور ان سے چھٹکارہ پالو گے تو یہ جسم اور دل کے لیے باعث راحت ہوگا‘۔ (بہارالانوار، اشاعت 76)۔شکر گزار بنیں:ہم دوسروں کی کامیابیوں پر حسد کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے ایسی کتنی ہی نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے جو کئی افراد کو میسر نہیں۔ شکر گزاری دل و دماغ کو سکون پہنچاتی ہے۔حضرت علی? نے فرمایا، ’اللہ نے یقین اور اطمینان میں سکون اور خوشی رکھی ہے۔ جو بے یقینی اور بے اطمینانی کا شکار ہوگا وہ دکھی اور غمزدہ ہوگا‘۔ (بہار الانوار، اشاعت 76)

















