Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امریکہ-ایران تنازع بڑھ گیا، تیل کی قیمت 90 ڈالر کے قریب پہنچ گئی
    • پاکستان میں سونا سستا، قیمت 4.2 لاکھ روپے کی سطح پر آ گئی
    • لاہور کے سوزو واٹر پارک میں 9 سالہ بچی جاں بحق
    • مارکیٹ میں خوف و ہراس، پی ایس ایکس کو کئی ماہ کی شدید ترین مندی کا سامنا
    • تحقیق میں انکشاف: ویڈیو گیمز کھیلنا دماغی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے
    • روپے پر دباؤ برقرار، پاؤنڈ 360 اور یورو 315 روپے تک پہنچ گی
    • صنعا ایئرپورٹ پر حملے کے بعد حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل حملہ
    • ایف بی آئی چیف کاش پٹیل کی محسن نقوی سے ملاقات، پاک -امریکہ تعاون کو اہم قرار دیا
    • ایشین جوجِتسو چیمپئن شپ پاکستان کی شاندار کارکردگی ،2 گولڈ اور 2 سلور میڈلز حاصل کر لیے
    • ایرانی میزائل حملوں میں امارات کے دو تیل بردارجہاز متاثر، ایک بھارتی جاں بحق
    • فرانس نے شدید گرمی کی لہر کے باعث جوہری ری ایکٹرز بند کر دیے
    • فیلڈ مارشل عاصم منیر کو انقرہ میں ترکی کا اعلیٰ ترین سروس اعزاز سے نوازا گیا
    • 21 سال بعد 2005 زلزلے میں لاپتہ بچے کی لاش برآمد
    • کیلیان ایمباپے کا نیا ریکارڈ، 20 ورلڈ کپ گولز تک تیز ترین رسائی
    • غزہ میں اسرائیلی حملے: 3 فلسطینی جاں بحق، 15 زخمی
    • ایران نے آبنائے ہرمز میں تصادم کے بعد عملہ بچا لیا
    • ٹرمپ: آبنائے ہرمز ایران کے ساتھ یا بغیر بھی کھلی رہے گی
    • بحرین میں نیا فضائی حملے کا الرٹ، شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت
    • یو اے ای میں امریکی سفارتخانے اور قونصلر سروسز 13 تا 15 جولائی تک معطل
    • حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نیا این آر او ؟مریم نواز نے حقائق واضح کر دئیے

    By Daily Khabrainنومبر 2, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    maryam nawaz khabrain
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کو نہیں کسی اور کو این آر او کی ضرورت ہے انہیں پارٹی میں کسی انکل سے پرابلم نہیں۔ رائے دینا میرا جمہوری حق ہے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لندن میٹنگ ان لوگوں کو ”پلان“ دکھائی دیتی ہے۔ جو خود پلان بناتے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف کے پاکستان تو آنا تھا۔ لیکن میٹنگ سے پہلے شاید شیڈول طے نہیں تھا۔ میاں شہبازشریف اور شاہد خاقان عباسی، والدہ کی عیادت کیلئے لندن گئے تھے۔ پارٹی پالیسی بیان نہ کرنے کا کوئی پیغام مجھے نہیں پہنچایا گیا۔ پارٹی پالیسی بیان دینے کا پہلا حق لیڈر شپ کا ہے۔ پارٹی میں ”سنیارٹی“ لسٹ پر غور کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی میں کسی انکل سے کوئی ”پرابلم“ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) ایک جمہوری سیاسی پارٹی ہے سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے مجھے بھی یہ آزادی حاصل ہے۔ اس پر رہنمائی تو لی جاسکتی ہے لیکن میرا اپنا حق بھی ہے تجربہ حالات سے بہتر ہوجاتا ہے اس کیلئے وقت لازم نہیں ہے۔ کبھی کبھار میاں صاحب سے ڈانٹ بھی پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے موجودہ عمل میں انصاف کی توقع کم ہے۔ قوم نے دیکھا کس طرح جے آئی ٹی بنائی گئی۔ کس طرح فیصلہ لکھا گیا۔ کس طرح سر کس لگائی گئی۔ سب قوم کے سامنے ہے۔ جے آئی ٹی کے جنات نے جس طرح کام کیا سب کے سامنے ہے، والیم دس کا ”ڈھنڈورا“ کس طرح پیٹا گیا۔ والیم دس میں نے دیکھا ہے اس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہوتا تو اقامہ پر فیصلہ نہ ہوتا۔ مریم نواز نے کہا کہ والیم دس کو چھپانے کی درخواست اس لئے کی گئی کہ کوئی ثبوت نہیں ملا۔ جے آئی ٹی کی شرمندگی کو اسی میں بند رہنے دیا جائے۔ اس میں وہ خطوط ہیں جو دوسرے ملکوں کو لکھے گئے۔ اس میں سے اکثر ملکوں نے جواب نہیں دیا۔ جس نے جواب لکھا اس نے پوچھا کہ کیا کرپشن کا عنصر ہے یا غلط کاری کا عنصر ہے؟ سعودی عرب، یو اے ای کو لکھا۔ یو اے ای سے لائے گئے خط جس کو انہوں نے بنیاد بنایا۔ وہ موضوع سے بالکل ہٹ کے تھا۔ ہمارے وکلاءنے بہت مضبوط ثبوت عدالت میں پیش کئے۔ ہمارے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ حقائق یہ ہی کہ ہم نے بہت بہت ثبوت دے۔ اگر ثبوت مضبوط نہ ہوئے تو 10ہزار درہم نہ لینے پر نہ نکالا جاتا۔ مجھ پر مقدمہ مختلف نوعیت کا ہے نہ کاروبار کا ہے نہ کرپشن کا۔ مجھ پر یہ حملے دھرنے کے بعد سے شروع ہوئے۔ میں حق بات کرتی ہوں۔ اسی وجہ سے مجھے ٹارگٹ کیا گیا۔ پہلے ڈان لیکس میں گھسیٹا گیا پھر پانامہ میں ۔ ڈان لیکس کے مرکزی کردار کو انجام مل گیا۔ میں اس کا نام نہیں لوں گی میں اپنے بیانات سے والد کو پھنسانا نہیں چاہتی۔ نڈر لوگوں کو ڈان لیکس، مقدمات، جیل یا پانامہ سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کے اربوں کے اثاثے دکھائے گئے ا ن کو دس ہزار درہم چھپانے پر سزا عجیب نہیں؟ ہمارا سوال بنتا ہے توہین عدالت کہنے والے سوچیں۔ میاں نوازشریف نے دن رات ملک کی ترقی کیلئے کوششیں کیں۔ حادثات اور واقعات انسان کو نظریاتی بناتے ہیں۔ میاں صاحب نے خود کہا کہ مجھے حالات اور واقعات سے نظریاتی بنادیا۔ میاں نواز شریف نے گزشتہ چار سال کے دوران جتنی مفاہمت کی وہ صرف ملک کی خاطر تھی تاکہ ملک ترقی کرے، کوئی چیز ایسی نہ ہو جس سے ملک کی ترقی، سسٹم کو نقصان پہنچے، اس کیلئے انہوں نے بہت کچھ برداشت کیا، میری ذاتی رائے ہے کہ میاں نواز شریف کواکثر سمجھوتے نہیں کرنے چاہئیں تھے، جنہیں ان کی کمزوری کے طور پر لیا گیا، ان کی وجہ سے ایک تاثر یہ لیا گیا کہ یہ انکی کمزوری ہے، بعد ازاں ان سمجھوتوں کو انہیں کمزور کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ انہیں اصول پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے تھا، انہوں نے اپنی ذات کیلئے کوئی آپشن استعمال نہیںکیا، این آر او کی میاں صا حب کو ضرورت نہیں، اس میں فریق ثانی کون ہے؟ انہیں کون دے گا، ابھی سارے آپشن ان کے پاس موجود ہیں، ہماری پوری فیملی نے سزائیں بھگتیں، جلا وطنی کاٹی، میاں نواز شریف نے2013 ءکے الیکشن سے پہلے کہہ دیا تھا میمو گیٹ پر پریشر نہیں بننا چاہئے تھا، یہ غلط ہوا، مسلم لیگ (ن) نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھا، قربانیاں دے کر ازالہ کیا، میاں صاحب پہلے وزیراعظم نہیں جنہیں نکالا گیا، یہ18 وزراءاعظم کی زیادتی کی تلافی بھی ہے، زرداری صاحب کے بیان کی ابھی مجھے سمجھ نہیں آرہی، وہ کسی اور کی زبان بول رہے ہیں، آج جو لوگ خوشی خوشی استعمال ہورہے ہیں زرداری صاحب کو فون کرکے سوال کرنا میرا حق نہیں، پارٹی لیڈر شپ انہیں فون کرسکتی ہے، پارٹی پالیسی بنانا میرا استحقاق نہیں ہے، میاں نواز شریف کا پیغام عوام تک پہنچا، ووٹ کا تقدس عوام نے ان کے بیان سے سمجھ لیا اور قبول کیا، نااہلی سے جو اہداف درکار تھے وہ حاصل نہیں ہوسکے، لیکن ڈس کریڈیٹ نہیں کیا جاسکا۔ تمام آئینی اور قانونی اداروں کا احترام ہونا چاہئے، پارلیمنٹ آئین ساز ادارہ ہے، ابھی تو لوگ خوشی خوشی نواز شریف کو گرانے میں استعمال ہورہے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہئے، نواز شریف اس کے باوجود” قابل قبول ہیں“۔ کچھ لوگ تو قابل قبول ہیں ہی نہیں، نواز شریف کو نکالنے کے بعد کس کی باری ہوگی وہ سوچ لیں، اسکا جواب عوام پر چھوڑتی ہوں کہ پیچھے کون ہے۔” انصاف“ تنقید کے مرہون منت نہیں ہے، تنقید کرینگے تو انصاف نہیں ملے گا، تنقید نہیں کرینگے تو انصاف ملے گا، اسکا مطلب ہے ادھر غصہ ہے، فیصلہ عجلت میں دیا گیا، حمزہ اپنے ذاتی کام کی وجہ سے این اے120 کی انتخابی مہم میں شریک نہ ہوسکے اور باہر چلے گئے، میں نے الیکشن جیتنے کے وقت جو کچھ کہا وہ آنکھوں سے دیکھا تھا، میں حقائق جانتی ہوں، وہاں کیا ہوا، ایسے کاموں کو روکنا لیڈر شپ کا کام ہے، یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے، الیکشن کے دو چار روز قبل ہی اسی پر کام شروع ہوچکا تھا، اسکی جھلک این اے4 پشاور میں بھی نظر آئی، میڈیا اور آزاد مبصرین کو وہاں کیوں نہیں جانے دیا گیا، اسکا مطلب چھپانے کیلئے کچھ تھا، ووٹر بہت سمجھ دار ہے، سب جانتے ہیں، پانامہ کرپشن یا منی لانڈرنگ کا کیس نہیں، ایک عدالت سے دوسری عدالت دوسری سے تیسری، کوشش ہے میاں نواز شریف کے خلاف کچھ بنا کر عوام کو دکھایا جائے، پانامہ میں کرپشن کا الزام نہیں تھا، فیملی معاملات کیلئے کسی نے کمپنی بنائی، اس میں کسی کا حق نہیں بنتا کہ اسے بھری عدالت میں اچھالے، بیٹی باپ کے گھر میں کیوں رہتی ہے، باپ نے بیٹی کو تحفے کیوں دیئے، بیٹے نے باپ کو کما کر کیوں دیا، اخلاق سے گری ہوئی حرکات سے انصاف کو بد نام کیا گیا، کبھی سسلین مافیا کہا گیا، کبھی ڈان کہا گیا، کبھی گاڈ فادر کہا گیا، انہوں نے کہا کہ فیصلہ آنے سے پہلے انصاف کا قتل عام کیا گیا ہے۔ نیب ریفرنسز جس طرح بنائے گئے وہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے۔ میاں نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس میں کسی بھی وزارت عظمیٰ کے دور کی کرپشن یا کک بیک کا الزام نہیں ہے۔ الزام یہ ہے کہ بیٹوں کے کاروبار کا اصل پیسہ میاں صاحب کا ہے۔ میاں صاحب نہیں بتا سکے اس لیے وہ مورد الزام ٹھہرے۔ حسین بہت عرصے سے کاروبار کر رہا ہے حسن، حسین کو پیسہ ان کے والد سے نہیں گیا وہ ارب پتی دادا کے پوتے ہیں۔ دادا کا اثاثہ معاہدے کے تحت پوتوں کو دیا گیا پورے خاندان کے دستخط موجود ہیں۔ مجھ پر ٹرسٹ ڈیڈ کا کیس بنا۔ جہانگیر ترین پر بھی یہی کیس تھا فرق صاف دکھائی دیتا ہے ہمارے لیے پیمانے اور دوسرے کیلئے انصاف کے پیمانے اور ہیں ان کے وکیل نے کہا ٹرسٹ ڈیڈ کو اوپن کرنے کا قانون موجود نہیں۔ ہماری باری پر عدالت میں تماشہ بنایا گیا ہم نے ٹرسٹ ڈیڈ بھی عدالت میں جمع کروا دی۔ جائیداد میرے بھائی کی تھیں اگر میری تھیں تو ثبوت کہاں ہیں دنیا میں کوئی تو ثبوت ہو گا بس فیصلہ پہلے ہو چکا ہوا ہے۔ کیپٹن (ر) صفدر نے پارلیمنٹ میں جب تقریر کی وہ انکی ذاتی رائے تھی اسکا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پارٹی میں اکاﺅنٹی بیلٹی ہے غلط بولنے پر سب کو ڈانٹ پڑتی ہے مجھے بھی پڑی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی پڑی۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      پاکستان میں سونا سستا، قیمت 4.2 لاکھ روپے کی سطح پر آ گئی

      لاہور کے سوزو واٹر پارک میں 9 سالہ بچی جاں بحق

      مارکیٹ میں خوف و ہراس، پی ایس ایکس کو کئی ماہ کی شدید ترین مندی کا سامنا

      تازہ ترین

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      یورپ ‘اومیگا بلاک’ کی گرفت میں، عالمی ادارہ صحت نے 1,300 اموات کی سنگین حقیقت کا انکشاف کیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.