ایرانی حکام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے منگل کو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ کو پہلے ایرانی بندرگاہوں سے بحری ناکہ بندی ختم، ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور فوجی کارروائیاں و دھمکیاں روکنے سمیت عبوری معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
یہ عبوری مفاہمتی یادداشت 17 جون 2026 کو طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنے، آبنائے ہرمز میں آمدورفت بحال کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات آگے بڑھانا تھا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی تشریح اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر اختلافات کے باعث یہ معاہدہ تیزی سے بحران کا شکار ہوگیا۔

