اسلام آباد (سیاسی رپورٹر) آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور اکثریت کے ساتھ سینیٹ سے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف نااہلی کیس کے باوجود آئینی ترمیم کو نامنظور کردیا تھا۔ چند روز میں قومی اسمبلی کے ارکان نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا نوازشریف کو نااہلی کے باوجود پارٹی صدارت پر فائز کرنے کی جوترمیم قومی اسمبلی پہلے منظور کرچکی ہے کیا اس مسترد کیا جائے یا برقرار رکھا جائے۔ گزشتہ 24گھنٹے میں اسلام آباد میں 2متضاد لابیاں تیزی کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ تحریک انصاف، پی پی، جماعت اسلامی اور ایک اطلاع کے مطابق ایم کیو ایم بھی جس نے پہلے نوازشریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنادیا تھا۔ اب شاید یہ فیصلہ نہ کرے کیونکہ ان پر بعض حلقوں کی طرف سے جن کی بات ان کیلئے ٹالنا بالعموم مشکل ہوتا ہے۔ سابقہ آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گی جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ان کے ارکان ایک بار پھر یہی فیصلہ کرینگے۔ نوازشریف دوبارہ صدر رہیں۔ لیکن واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر ن لیگ کے اندر فارورڈ گروپ بنانے کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔ اور مختلف حلقے ایک ایک ناراض یاباغی رکن قومی اسمبلی جن کا تعلق ن لیگ سے ہے ان پر دباﺅ ڈالیں گے۔ کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں نوازشریف کی پارٹی آمریت سے جان چھڑانے کا یہ سنہری موقعہ ہے جسے ضائع کیا گیا تو مرنے والے 100برسوں میں بھی شریف خاندان کی بادشاہت قائم ہوجائے گی۔ لہذا رواں اجلاس میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ کہ کون کس کے ساتھ ہے۔ آخری فیصلہ ن لیگ کے باغی یا ناراض ارکان کے ہاتھ میں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ نوازشریف کی ٹیم کے سرگردہ ارکان نے بھی دوبارہ ن لیگی ممبران اسمبلی کو منانے اور پارٹی کو متحد رکھنے کیلئے آخری سر توڑ کوششیں کی ہیں۔ جمعرات کا دن فیصلہ کن ہے۔ تاہم مشترکہ ایجنڈے میں یہ ترمیم زیر بحث لانے کا فیصلہ ہوگیا آج رات گئے تک متضاد اطلاعات آتی رہیں تاہم زیادہ خیال یہی ہے کہ جمعرات کو فیصلہ نہ ہوا تو چند روز میں ہوجائے گا۔

