لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک میں کڑے احتساب کیلئے کام شروع ہو گیا، سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی جائیدادیں بنانے والے سابق و موجودہ بیورو کریٹس، پولیس افسروں، پٹواریوں، محکمہ ریونیو کے افسران اور اربوں روپے ٹیکس بچانے والے بااثر کاروباری مافیا کے خلاف بھی انکوائریاں شروع ہو گئیں، ن لیگ، پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف میں
جانے والے سابق اہم رہنماﺅں جن پر کرپشن کے الزامات تھے کے حوالے سے بھی آئندہ چند روز میں کیس کھول کر کارروائی شروع ہو جائے گی، باوثوق ذرائع کے مطابق ایسے تمام افراد جن کے خلاف نیب کو کرپشن کے ثبوت مل جائیں گے، ان کو بیرون ملک فرار سے روکنے کے لیے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی پالیسی پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس پر نیب کے آئندہ اجلاسوں میں احکامات جاری ہونے کے امکانات ہیں، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ، ایل ڈی اے، سی ڈی اے ، لاہور پارکنگ سٹینڈ کمپنی اور دیگر اہم محکموں میں کس طرح منظور نظر افراد کو نوازا گیا، کس کے کہنے پر کس کو ٹھیکے دیئے گئے کے حوالے سے خفیہ انکوائری شروع ہو چکی ہے، سرکاری اراضی کو پرائیویٹ اراضیوں میں شامل کرکے فردیں جاری کرنے والے 45 سے زائد نامور پٹواریوں کے خلاف بھی انکوائری کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اس سلسلے میں ایسے اداروں سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنہوں نے اس حوالے سے پہلے ہی رپورٹس تیار کی ہوئی ہیں، باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے ”احتساب سب کا“ کے حوالے سے کام شروع کر دیا ہے اور اس ضمن میں نیب کے تمام ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ کسی کے ساتھ رعایت نہ کی جائے ، عبدالعلیم خان، نذر محمد گوندل، سمیت کئی اہم رہنماﺅں کے خلاف پرانی انکوائری کھولنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب میں سو سے زائد پرانے کیسز پر نہ صرف کام شروع کر دیا ہے بلکہ اس پر یہ بھی کام کیا جا رہا ہے کہ ان فائلز کو کس کے دباﺅ پر بند کیا تھا اور نیب میں کون اس کیلئے کام کر رہا تھا، سخت احتساب کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں باقاعدہ کئی سرکاری اداروں کو نہ صرف خط لکھے جائیں گے بلکہ ان تمام افراد جن کیخلاف نیب کو درخواستیں بھیجی گئی ہیں۔ اس پر بھی اداروں سے پوچھا جائے گا۔ نیب ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ چار ایسی اہم شخصیات کے حوالے سے انکوائری کی جا رہی ہے جن کو پنجاب میں نہ صرف اہمیت حاصل ہے بلکہ ان کے حوالے سے یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے خلاف ثبوتوں کے باوجود کبھی بھی انکوائری نہیں ہو سکتی۔ ذرائع کے مطابق نومبر کے وسط میں پنجاب سے تین سابق سرکاری شخصیات بلوچستان کے ڈی آئی جی، 9ایم این ایز، 3 سابق ضلع ناظم، ایک ڈی آئی جی جو اس وقت بلوچستان میں تعینات ہیں، فیصل آباد میں تعینات رہنے والے انیسویں گریڈ کے دو افسروں، 9اراکین اسمبلی اور تین سابق ناظم ضلع کونسل کے خلاف انکوائریاں اوپن ہو سکتی ہیں۔
بدعنوانی پر پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ

