Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کرکٹرز نے نظام بگاڑا، اب کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے: سکندر بخت
    • چار خواتین کوہ پیماؤں نے بغیر پورٹرز کے 7 ہزار میٹر سے بلند چوٹی فتح کرلی
    • فاطمہ ثنا پُرعزم، پاکستان کی ایشیا کپ میں شاندار کارکردگی پر نظریں
    • ایران نے میرے بیٹے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، نیتن یاہو کا دعویٰ
    • پاکستان کا نیا اسپیڈ اسٹار: قیوم خان کی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ
    • پاکستان کی معاشی پوزیشن پر موڈیز کا اعتماد بڑھ گیا، کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کردی
    • نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات، برائیڈن کارس پاکستان کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر
    • ای سپورٹس ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب، رونالڈو کی سعودی ولی عہد سے ملاقات
    • بنگلہ دیش کی تاریخی چھلانگ، ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرلی، پاکستان آٹھویں نمبر پر
    • دبئی کا برج عزیزی 725 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت بننے کو تیار
    • میچ کے دوران اچانک گرنے سے 25 سالہ پرتگالی فٹبالر کوئین کاسترو چل بسے
    • انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس سکواڈ میں شامل
    • بچوں کے تحفظ کیلئے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی درخواست دائر
    • گوگل کے بعد ایپل کی بھی پاکستان میں دفتر کھولنے کی تیاری
    • پشاور میں 6 ماہ قبل تعمیر کیا گیا پل سیلابی پانی کی نذر ہوگیا
    • لاہور میں پاکستان کا پہلا عالمی معیار کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر قائم
    • آئی ایم ایف کی نئی شرط، پاکستان میں بجلی کے نرخ مزید بڑھانے کا مطالبہ
    • 23 سال بعد پاکستان میں پھر سجے گا ساؤتھ ایشین گیمز کا میلہ!
    • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے اہم ملاقات
    • عراق نے ایران اور سعودی عرب کو مشترکہ سکیورٹی کونسل کی پیشکش کردی
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    بیت المقدس کو اسرائیلی صدر مقام تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے پر دنیا بھر میں احتجاج:ضیا شاہد

    By Daily Khabrainدسمبر 7, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    zia shahid
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ طاہر القادری نے ملاقات کے دوران مجھے کہا تھا کہ ہم اب قانونی جنگ لیں گے سڑکوں پر نہیں آئے گے۔ لیکن پریس کانفرنس میں انہوں نے شک کا اظہار کیا ہے کہ رپورٹ میں سے کچھ حصوں کو نکال دیا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بیورو کریسی کی طرف سے ملنے والی یہ کاپی مکمل نہیں ہے۔ جب انہیں عدالت سے کاپی ملے گی تو شاید وہ مطمئن ہوں گے۔ اس لئے وہ اپنا پریشر بڑھا رہے ہیں۔ اخبارات کی لیڈ سٹوری کے مطابق پنجاب حکومت اتنی بھی معصوم نہیں۔ وکلاءکی آرا کے مطابق پی اے ٹی کی کوشش ہو گی کہ وہ پنجاب حکومت کے کردار کو لے کر ضرور عدالت میں سوال اٹھائے۔ رانا ثناءاللہ کا کہنا بھی درست ہے کہ رپورٹ میں کسی جگہ پر شہباز شریف کا رول متعین نہیں کیا گیا، نہ ہی ان کے بارے شکایت کی گئی ہے۔ میڈیا نمائندگان، سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی چاہیں گے کہ مصدقہ نقول انہیں مل جائیں اور دیکھیں کہ پنجاب حکومت کا نام کیوں استعمال کیا جا رہا ہے ایک بات تو ثابت ہے کہ رکاوٹیں ہٹانے کا حکم رانا ثناءاللہ کی جانب سے آیا تھا۔ اس کے بعد گولی چلانے کا حکم کس نے دیا تھا۔ اس پر ساری بحث کا دارومدار ہے۔ پولیس افسران موجودہ حکومت کے خلاف بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے جب تک کہ وہ ریٹائر نہ ہو جائیں یا انہیں عدالت بلا کر نہ پوچھے۔ رانا ثناءاللہ قبول کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کے سیکرٹریٹ میں ہونے والی میٹنگ کے دوران انہوں نے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا۔ دوسری جانب شہباز شریف کہتے ہیں کہ آپریشن ہوتا رہا اور مجھے علم ہی نہیں ہوا۔ ماہر قانون دان خالد رانجھا سے پوچھتے ہیں کہ کیا توقیر شاہ جو کہ دوسرے ملک میں سفیر مقرر ہیں ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا واقعی انہیں وزیراعلیٰ نے حکم دیا تھا کہ ایکشن کیا جائے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ معاملات نچلی عدالتوں سے شروع ہوں گے یا ہائیکورٹ سے اسے شروع کیا جائے گا۔ اگر کسی کو تسلی نہ ہو تو براہ راست سپریم کورٹ اس معاملے کو اپنے ذمہ لے لے۔ قانون کے مطابق ایک ایس ایچ او بھی وزیراعلیٰ سے تفتیش کر سکتا ہے۔ جے آئی ٹی کی اصطلاح اس طرح سے متعارف ہوئی کہ پولیس کے دو بندے اور دوسری ایجنسیوں کے دو بندے۔ سمجھا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی اچھا پرفارم کر سکتی ہے۔ لیکن نوازشریف صاحب کے کیس میں جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی تھی کہ اتنے بڑے کیس میں ہمیں آزادی سے کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ نامعلوم طاہر القادری اب کیا ڈیمانڈ کریں گے۔ لیکن اس بات میں جان ہے کہ سپریم کورٹ سو موٹو ایکشن لے لے۔ بڑا مشکل لگتا ہے کہ صوبے کا وزیر قانون تو کم از کم اس معاملے میں ملوث دکھائی دیتا ہے ایسی صورت میں جے آئی ٹی کی تشکیل آسان کام نہیں ہو گا۔ جسٹس خلیل الرحمن کی ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نجفی رپورٹ بالکل ناقص ہے اس میں غلطیاں ہی غلطیاں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو پنجاب حکومت نے ہی کہا تھا۔ ان کے صاحبزادے پنجاب حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل ہیں۔ دوسری رپورٹ ساتھ ہی جاری کرنے کا کیا مقصد تھا؟ جو پچھلی کی نفی کرتی ہو؟ جسٹس (ر) خلیل الرحمن تو کافی عرصہ سے ریٹائر ہو چکے ہیں؟ کیا ان سے پہلے کہا گیا تھا کہ رپورٹ کے بارے دوسری رپورٹ تیار کریں۔ اسرائیل کا مقصد تل ابیب سے اپنے دارالحکومت کو بیت المقدس شفٹ کرنے کا یہ ہے کہ وہ کافی فاصلے پر تھا وہ اپنا کنٹرول موثر بنانے کے لئے ایسا کرنا چاہتے ہیں دوسرے نمبر پر یہ کہ مسلمان اپنے قبلہ اول پر حملہ کرنے سے پہلے بہت سوچیں گے۔ سارے مسلمان ممالک بھی اس لئے اس فیصلے کے خلاف ہیں۔ امید یہ تھی کہ امریکہ بھی اس کی مخالفت کرے گا۔ مگر اس نے اس کو تسلیم کر لیا ہے جس پر دنیا بھر میں شدید احتجاج ہو گا۔ رانا ثناءایک بہادر راجپوت ”رانا“ ہیں۔ ان کی مونچھوں کا اسٹائل بتاتا ہے کہ وہ کسی سے ڈرتے ورتے نہیں ہیں۔ شاید وہ یہ سلسلہ اسی طرح چلاتے رہیں۔انہیں سکون نصیب نہیں میں نے حافظ سعید سے ملاقات کے دوران انہیں اپنی تینوں کتابیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا کہ نظر بندی کے دور میں مجھے ایک کتاب ملی ہے۔ ”امی جان“ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے شروع سے آخر تک کتاب ایک ہی سیٹنگ میں ختم کی۔ انہوں نے مجھ سے پانی کے مسئلے کے بارے پوچھا۔ میں نے انہیں سندھ طاس معاہدے کے بارے وضاحت کی جو 1960ءمیں ہوا۔ اس کی رو سے بھارت نے جن دریاﺅں کا پانی مکمل طور پر روک رکھا ہے۔ وہ اس کا مجاز نہیں ہے۔ اس پر حافظ صاحب نے کہا کہ میں اور میرے ساتھ آپ کی بات کو ”انڈوز“ کرتے ہیں۔ یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ ماہر قانون دان، خالد رانجھا نے کہا ہے کہ پی اے ٹی اگر چاہتے تو آسانی سے مصدقہ کاپی حاصل کر سکتی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ شائع شدہ رپورٹ میں سے کوئی چیز نکالی گئی ہو گی۔ رپورٹ سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ پنجاب حکومت نے طاہر القادری کے بندوں کو ”پھینٹی“ لگانے کا حکم دیا۔ ہو سکتا ہے پولیس نے تجاوز کیا ہو لیکن اسے پنجاب حکومت کی جانب سے حکم دیا گیا۔ گواہیاں اگر جھوٹی ہوں تو ملزم کے گلے پڑ جاتی ہیں۔ اس بات کے شواہد رپورٹ میں کہیں نہیں مل رہے کہ وزیراعلیٰ نے انہیں روکنے کا حکم دیا ہو۔ اس بات کے شواہد بھی موجود نہیں کہ چیف منسٹر کے سیکرٹری نے پولیس کو روکنے کا حکم دیا ہو۔ شرم کی بات ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد کمیشن کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ اس معاملے کا حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ ماڈل ٹاﺅن پر جے آئی ٹی بنا دے اور اس کی تفتیش ان کے سپرد کر دے اور وہ وقت کے ساتھ تعین کرے کہ کون کون اس سانحہ میں ملزم ہے۔ معاملے کا سادہ حل یہی ہے کہ سپریم کورٹ ایک ایسی جے آئی ٹی بنائے جس پر فریقین کو اعتماد ہو۔ ماہر قانون دان جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ نجفی رپورٹ کے جج صاحب ابھی حیات ہیں۔ اگر رپورٹ میں سے کچھ اجزاءنکالے گئے ہیں تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ عدالت سے جانا ایک آسان بات ہے کہ جناب یہ وہ رپورٹ نہیں ہے جو جج صاحب نے لکھی تھی۔ اس میں سے کچھ اجزاءخارج کئے گئے ہیں۔ جج صاحب سے مصدقہ نقل حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ رپورٹ فیصلہ تو نہیں ہے لیکن ایک ہائی لیول کے جج نے وقوع کو ”ایگزامن“ کیا۔ جس میں شہباز شریف صاحب نے حلف نامہ کی جمع کروایا۔ جس وقت یہ معاملات عدالت میں کھلیں گے۔ تو دونوں جانب کو سمن کیا جا سکے گا۔ فیصلہ تو نہیں ہے لیکن ایک اہم رپورٹ ہے۔ ماہرقانون دان اکرم شیخ نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر 2014ءمیں دو ایف آئی آر درج ہوئیں۔ تفتیش کے دوران جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی مقرر کر دی گئی اس کے بعد حکومت پنجاب نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ جوڈیشل ٹربیونل بنا دیا جائے تا کہ واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔ بھٹو دور میں شکیل الرحمن صاحب کا ایک کمیشن بنا تھا۔ وہ کمیشن بھی سیکشن (3) کے تحت بنایا گیا تھا۔ اس میں احمد رضا قصوری صاحب مدعی تھے۔ ان پر جرح کی اجازت طلب کی گئی۔ کورٹ نے قبول کیا کہ اس قسم کی رپورٹوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ نہ یہ تنازع طے کرتی ہیں نہ ان کی جوڈیشل پروسیڈنگ کی حیثیت ہوتی ہے اس لئے باقر نجفی صاحب کی رپورٹ ایک رپورٹ ہی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اس طرح جسٹس (ر) خلیل الرحمن صاحب نے جو رپورٹ دی ہے۔ وہ ان کی اپنی رائے ہے ان کی رائے بھی قابل احترام ہے۔ باقر نجفی کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے اگر یہ رپورٹ کہہ بھی دیتی کہ فریقین یوں کریں! یوں کریں! تب بھی فریقین اس کے پابند نہیں تھے۔ اسے ”نان بائنڈنگ رپورٹ“ کہہ سکتے ہیں۔ خلیل الرحمن کی رپورٹ میں ایک منتق ہے۔ ایک سوچ ہے اور ملکی قانون کی تاریخ کے عین مطابق ہے۔ نجفی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے اس نے کسی کو مجرم یا ملزم ثابت نہیں کیا۔ یہ واقعات بیان کرتی ہے اور پنجاب تک پہنچ جاتی ہے۔ میرا نوازشریف صاحب سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص فیس دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو میں اس سے فیس کی ڈیمانڈ نہیں کرتا۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      چار خواتین کوہ پیماؤں نے بغیر پورٹرز کے 7 ہزار میٹر سے بلند چوٹی فتح کرلی

      پاکستان کی معاشی پوزیشن پر موڈیز کا اعتماد بڑھ گیا، کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کردی

      بچوں کے تحفظ کیلئے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی درخواست دائر

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.