Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب بھر کے میزاروں کی کیش کشادگی میں ماہانہ کروڑوں روپے کی خوردبرد کا سلسلہ جاری
    • فن ایلن کی میلبورن اسٹارز میں بڑی ڈیل بی بی ایل کی سب سے بڑی سائننگ
    • فیصلوں میں تاخیر پولیس کی لوٹ مار عوام اپنی عدالتیں لگا کر سزائیں دینے لگے
    • ماں بچہ صحت پروگرام کےبعد کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام بھی بحران کا شکار
    • دھرنوں کے دوران حکومت نے راطہ کیا ہم نے معذرت کی حافظ نعیم الرحمن
    • نیپال چین سرحد پر سیلاب ہلاکریںہلاکتیں 1410تک پہنچ گیئں سے 5,650 ذائد لا نپتہ
    • پاکستان نے آخری میچ میں ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی
    • پنجاب ‘ سموگ سیزن سے قبل آلودگی کیخلاف کارروائیاں سخت کرنیکا فیصلہ
    • این اے 168 ضمنی انتخاب، 20 امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ
    • جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس شروع، کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی ترجیح قرار
    • حکمران عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے منگولوں نے بغداد کو لوٹا تھا، فواد چودھری
    • الیکشن کمیشن ،مالی گوشوارے جمع نہ کرانے پر صاحبزادہ حامد رضا، عبدالطیف اور زرتاج گل نااہل قرار
    • 26نومبر احتجاج کیس، وزیرِ اعلی کے پی سہیل آفریدی سمیت دیگر کے وارنٹ برقرار
    • بی او پی کے شیئرہولڈرز کی 30 ارب روپے کے ایکویٹی انجکشن کی منظوری
    • یش ٹھاکر افغانستان سیریز اور ایشین گیمز کیلئے بھارتی اسکواڈ کا حصہ بن گئے
    • ٹرمپ کا بڑا اعلان، ریپبلکن کامیاب ہوئے تو ہر بالغ امریکی کو 5 ہزار ڈالر
    • لیسکو میں سولر سسٹم پر منتقل ہونیوالے ہزاروں کنکشنز کی بلنگ نہ ہونیکا انکشاف
    • سکولوں میں طلبہ کیلئے گوگل جمنائی لرننگ ،سرٹیفکیشن پروگرام شروع کرنیکا اعلان
    • جنرل ہسپتال ‘ جلدی سی ٹی سکین کرانے کے نام پر مریض سے 3500 روپے وصول کرنیوالا نوسرباز پولیس کے حوالے
    • پاکستان نے مینز جونیئر ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کو 3-0 سے شکست دے کر گروپ میں ٹاپ کر لیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    شاہد خاقان نے فلسطین کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ،مبارکباد:ضیا شاہد

    By Daily Khabrainدسمبر 14, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    zsks
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ یہ خوش آئند ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے بیت المقدس اور کشمیر پر بہت کھل کر بات کی ہے سابق وزیراعظم نے غالباً امریکہ کے پریشر پر اپنے دورے میں کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے کھل کر او آئی سی پر زور دیا کہ مقبوصہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کا مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے۔ ہم اس پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ جرا¿ت مندانہ انداز میں مظلوم مسلمانوں بالخصوص کشمیری اور فلسطینیو ںکے حق میں آواز اٹھائی۔ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کے لئے فوج کا کچھ کردار تو بنتا ہے لیکن آج کی فوج پرانے زمانے کی مسلح فوج نہیں ہے جو کسی بھی جگہ پر جہاد کے لئے نکل پڑتے تھے جب سے دنیا میں اسٹیٹ کرافٹ کا دور آیا ہے اس کے تحت ریاست میں ایک حکومت ہوتی ہے۔ جو اس قسم کے مشترکہ فیصلے کرتی ہے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ”کنٹروورسی“ کشمیر پر 1948ءمیں شروع ہوئی۔ جسے مذہبی نوعیت کی کہہ سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان ہم نے آزاد کروا لیا تھا۔ اس پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ جبکہ کشمیر میں نان ریگولر آرمی نے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اپنے طور پر جہادی نکلے تھے۔ ہندوستان سے علیحدگی کے وقت یہاں انگریز فوج تھی۔ اس وقت انگریز آرمی نے معذرت کر لی تھی کہ ہم ہندوستان کی آرمی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔صوبہ سرحد کے مجاہدین شمالی علاقوں اور پنجاب کے شمالی حصے کے کچھ لوگ وہاں داخل ہو گئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں۔ اس وقت مولانا مودودی کا فتویٰ آیا تھا کہ جب تک حکومت اعلان نہ کرے ہم اسے جہاد نہیں کہہ سکتے، فوج ایک منظم ادارہ ہے۔ جو وزارت دفاع کے تحت کام کرتی ہے۔ لہٰذا ہمارے فوجی حکومت کی مرضی کے بغیر خود سے جہاد کےلئے نہیں نکل سکتے۔ اسلامی اتحادی فوج کی ابھی باقاعدہ شکل نہیں بنی۔ اس میں تمام مسلم ممالک سے ہتھیاروں سمیت فوجی دستوںکو اس میں شامل کیا جاتا تھا۔ اس کی باقاعدہ میٹنگ پچھلے ماہ ہونی تھی۔وہ ابھی تک نہیں ہوئی۔ ملک میں اگر دھرنوں کی صورت ”پولرائزیشن“ اگر بڑھتی جاتی ہے تو ہمیںبہت نقصان ہوگا۔ ڈالر جس طرح سے مہنگا ہو رہا ہے۔ اس سے 130اشیاءبہت مہنگی ہو جائیں گی۔ اگلے بجٹ کےلئے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اس کےلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ اسی طرح چین سے قرضہ لیا جارہا ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں لوگوں کا کچومر نکلتا جا رہا ہے۔ اکنامی صورتحال کے پیش نظر ہم معاشی خود کشی کی طرف جا رہے ہیں۔ دھرنے کے دو فریق تھے۔ ایک ڈاکٹر طاہرالقادری، ان کے لوگ شہید ہوئے۔ بقول ان کے انہیں انصاف نہیں مل سکا۔ دوسرے فریق وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ تھے۔ ماڈل ٹاﺅن سانحہ پر وہ قبول کر چکے ہیںکہ رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ ان کا تھا لیکن وہ کہتے ہیں کہ مار دھاڑ کا انہوں نے حکم نہیںدیا تھا۔ رانا صاحب استعفیٰ پر ڈٹے ہوئے ہیں ہم نہیںچاہتے کہ محاذ آرائی بڑھتی جائے۔ بات پھر دھرنوں، گلیوں اور سڑکوں پر آ جائیگی۔ یہ معاملات عدالتوں تک محدود رہیں تو اچھا ہے۔
    کج شہر دے لوک وی ظالم سن
    کج سانوں مرن دا شوق وی سی
    لگتا ہے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے دونوں فریق یہی چاہتے ہیںکہ ان کے ساتھ ایک باری ہاتھ ہو ہی جائے۔
    فاٹا جو کہ وفاق کے کنٹرول والا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ علاقے کسی صوبے کا حصہ بھی نہیں ہے۔ لہٰدا وہاں ایم پی اے کوئی نہیں ہوتا لیکن سنیٹرز اور ایم این ایز ہوتے ہیں۔ سنیٹرز ملکی قانون کے مطابق ووٹ بینک وہاں کے ایم این ایز ہوتے ہیں۔ یہ ایک اسٹاپ گیپ بندوبست ہے جو گزشتہ (10) سالوں سے چل رہا ہے۔ وہاں کے قانون کو سب ”کالا قانون“ کہتے تھے۔ کیونکہ وہاں عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہ تھے۔ وہاں صوبوں کی مانند پولیس اور عدالتیں موجود نہیں تھیں۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ انہیں بنیادی حقوق دیئے جائیں۔ اب جھگرا یہ ہے کہ کچھ جماعتیں جسے تحریک انصاف جس کی حکومت وہاں موجود ہے کے پی کے کی آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ ہے جبکہ فاٹا کی آبادی (50) لاکھ تک ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اسے کے پی کے میں ضم کروانا چاہتے ہیں تا کہ صوبے کا درجہ مل جائے جبکہ مولانا فضل الرحمن اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ فاٹا کو اگر الگ صوبہ بناتے ہیں تو پھر ظاہر ہے آرٹیکل (ون) کے تحت تبدیل کرنا پڑے گی۔ یہ ایک آئینی ترمیم ہو گی جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کے پی کے میں ضم کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ رائے معلوم کرنے کا بہترین طریقہ ریفرنڈم ہے۔ پچاس لاکھ کی آبادی کا الگ صوبہ بنتا نہیں۔ وکلاءقانون کے محافظ ہوتے ہیں۔ قانون ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ وہ جب چاہیں ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔وہ تگڑے ہیں۔ کوئی ان سے ٹکر نہیں لے سکتا، ملتان میں جو کچھ ہوا وہ درست نہیں ہے۔ سابق وزیرخارجہ، خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ او آئی سی کی میٹنگ ایک خوش آئند عمل ہے۔ بدقسمتی سے یہ ادارہ تنازع کا شکار ہے بالخصوص سعودی عرب اور ایران کے آپس کے تنازعات کی وجہ سے مسلم امہ جس کردار کی اس سے توقع کر رہی تھی۔ وہ ادا نہیں کیا۔ بڑے اسلامی ممالک نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔ پاکستان اور ترکی کی پوزیشن ذرا مختلف ہے۔ ہمارے اندر کے مسائل بہت الجھے ہوئے ہیں جس کی بناءپر ہماری حکومت وہ موقف نہیں اپنا رہی جو اسے اپنانا چاہئے۔ ہمارے دور میں ہم نے یورپی یونین کو ساتھ ملا لیا تھا، اس طرح ترکی نے سپین کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ شروع کئے۔ ترکی کے مسائل ایسے نہیں جیسے ہمارے ہیں اس لئے اسلامی دنیا کے اتحاد کے لئے ترکی جو رول ادا کر سکتا ہے وہ ہم نہیں کر سکتے۔ مسلم لیگ (ن) کے زعیم قادری نے کہا ہے کہ محترم ضیا شاہد صاحب پورا پاکستان آپ کی محب الوطنی کا شاہد ہے اور یقینا تاریخ میں بھی آپ کے کردار کو یاد رکھا جائے گا۔ لوگ آپ کو جانتے ہیں کہ آپ اپنے اخبار اور جریدوں کے ذریعے پاکستانیت کی حمایت کرتے ہیں موجودہ سیاسی تناظر میں ”میکرو اکنامک اینڈی کنٹینرز“ کو اگر دیکھا جائے جو کہ کسی بھی ملک کے لئے روح کی غذا سمجھی جاتی ہے اس میں سیاسی عنصر کی مضبوطی سب سے اہم ہے۔ آپ کی کاوش پر لوگ معترف بھی ہیں اور شکر گزار بھی۔ ہم عدالتوں کے رخ کو اور ”کورس آف لائ“ کو کبھی بھی ”ڈائیورٹ“ نہیں کر رہے۔ ہم اس پر کلیئر ہیں ہم نے نا چاہتے ہوئے بھی عدالتوں کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا۔ عدالت سے ہارڈ کاپی ملنے سے قبل ہی میاں نوازشریف استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر ہم رپورٹ کو روک سکتے تھے۔ اوراسے لے کر سپریم کورٹ جا سکتے تھے۔ اس سے ہائیکورٹ کا فیصلہ رک جاتا۔ پھر اس میں 30 دن لگتے یا 30 سال اس میں ہماری ذمہ داری نہ تھی۔ لیکن اگر اب یہ رپورٹ چیلنج کی جاتی ہے تو ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ طاہر القادری نے کہا کہ میں اسے ”ڈلے“ کرواﺅں گا تا کہ آنے والی حکومت ہمارے حق میں فیصلہ دے دے۔ ہم نے اس فیصلے کو ”کنکلوسوو“ بنانے کے لئے انتہائی ماہر جج صاحب کو متعین کر دیا کہ آپ بتائیں اسے کس طرح کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔ طاہر القادری جسٹس نجفی کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے بلکہ وہ اس کے خلاف کورٹ میں چلے گئے۔ لہٰذا جواب الجواب میں ہمیں خود ہی جواب دینا پڑا۔ کیونکہ مدعی موجود ہی نہ تھا۔ جے یو آئی (ف) حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ فاٹا کے پس منظر پر آپ کی نظر تو ہے ہی۔ 70 سال سے یہاں کالے قانون کا راج ہے اس کالے قانون کو ختم کرنے کے لئے فاٹا اصلاحات کے نام سے ایک جدوجہد جمہوری حکومت نے شروع کی ہے۔ اس کی تین صورتیں تھیں ایک یہ کہ ایف سی آر برقرار رہے۔ یا فاٹا، کے پی کے میں ضم ہو جائے۔تیسری صورت اس کو علیحدہ حیثیت دیتا ہے فاٹا کے عوام کیا چاہتے ہیں یہ کسی نے نہیں پوچھا۔ جے یو آئی (ف) نہیں چاہتی کہ ایف سی آر مسلط رہے۔ علیحدہ صوبے کو بھی عوام پر مسلط کرنا درست نہیں۔ البتہ ہم چاہتے ہیں۔ اتنے بڑے فیصلے سے قبل عوام سے ضرور رائے لی جانی چاہئے۔ فاٹا کے عوام کی رائے ایک نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی بھی رائے اس پر ایک نہیں ہے۔ اس صورت میں انضمام کا فیصلہ درست نہیں۔ فاٹا پر فیصلہ مسلط کیا گیا تو انتشار بڑے گا اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا تو امن قائم رہے گا ہم اپنی رائے کسی پر بھی مسلط نہیں کرنا چاہتے۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      پاکستان کا پہلا وائلڈ لائف اسپتال تیار، 12 آپریشن تھیٹرز

      حوثی حملے سعودی عرب تک پھیلے تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوگا: پاکستان

      جوہر ٹاؤن کی نئی سڑک میں اچانک بڑا گڑھا بن گیا

      تازہ ترین

      نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات

      آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آبدوز پکڑنے کا ایرانی دعویٰ

      عمران خان کیلئے وسیم اکرم بھی بول پڑے

      امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف انکوائری شروع، فون ضبط

      حماداظہرگرفتارہوہوئےیا گرفتاری دی؟

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.