Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • سعودی کمپنی کا پاکستانی ایئرپورٹ خریدنے میں دلچسپی کا اظہار
    • سانحہ پمز ، وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کے اسپتالوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم
    • نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب، 1500 کے قریب افراد لاپتا
    • پمز سانحہ، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کا پاکستان سے اظہارِ یکجہتی
    • پمز آتشزدگی: مصطفیٰ کمال کا احتساب کا اعلان، غفلت پر کوئی رعایت نہیں
    • مون سون کا نیا اسپیل، اسلام آباد، سوات، شانگلہ، بونیر اور ایبٹ آباد میں بارش کا امکان
    • انگلش کپتان جو روٹ نے کھلاڑیوں کو سخت پیغام دے دیا، فاسٹ بولر جوش ٹنگ کا انکشاف
    • لیون کے خلاف فتح کے بعد میٹیو گینڈوزی کا جشن، شائقین مشتعل
    • لاہور جمخانہ کی زمین کی لیز پر بڑا سوال 218 ارب کی اراضی صرف 5 ہزار روپے سالانہ
    • الجزائر میں خوفناک آتشزدگی، جیجل بجایا اور تی زی اوزو میں 12 افراد ہلاک
    • ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹِم کری 80 سال کی عمر میں چل بسے
    • اسرائیلی طیاروں کی نبطیہ سمیت جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر بمباری
    • پاکستان میں 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کی تجویز
    • سینئرکو باہر بٹھانے میں کوئی برائی نہیں، جو ٹیم کیلئے اچھا ہے وہی کھیلےگا: بابراعظم
    • قومی ویمن فاسٹ بولر ایمن انور کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    • امریکا کا دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ
    • خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسزکی کارروائیاں جاری
    • یو ایس اوپن مکسڈ ڈبلز: نوواک جوکووچ اور آرینا سبالینکا کا سفر تمام
    • پاکستان کی فتح کے بعد بنگلہ دیش کا بڑا قدم چینی J-10C طیاروں کی خریداری پر غور
    • ٹرمپ کا سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے پر بڑا اقدام، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑ دیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ملتان ،یونیورسٹی کی طالبہ سے زیادتی ،گورنر پنجاب کو فون اور رانا ثناءاللہ سے ملا ہوں

    By Daily Khabrainفروری 2, 2018
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میر ہزار خان بجا رانی اور ان کی اہلیہ کی ہلاکت ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ خبر میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے اگر کمرہ اندر سے مقفل تھا تو یقینا یہ خودکشی کا واقعہ ہو سکتا ہے۔ میر ہزار خان بجارانی وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ میں ان سے اسلام آباد میں مل چکا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ان کی تیسری بیوی تھی۔ جو ایک اخباری ادارے میں کام بھی کرتی تھیں۔ ان کا نام میں نے اخبار جہاں میں پڑھا تھا۔ عام طور پر ہمارے ملک میں اس عمر میں مرد دوسری، تیسری شادی کر لیتے ہیں بڑی سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہئے۔ فرانزک ٹیسٹ کے بعد پتا چلے گا کہ میاں نے گولی چلا کر بیوی کو مارا اور خودکشی کی یا بیوی نے طبع آزمائی کر کے خود کو ہلاک کیا۔ ان شادیوں کا عام طور پرایسا ہی انجام ہوتا ہے۔ ڈکیتی کی واردات نہیں ہو سکتی۔ وہاں کافی تعداد میں گارڈز وغیرہ موجود تھے۔ ویسے وہ ثروت مند انسان تھے ان کے پاس ٹھیک ٹھاک پیسہ دولت موجود تھی فرانزک سے اصل حقائق سامنے آ جائیں گے کیونکہ گولیو ںکا چلنا اور لاشوں کی صورتحال بہت کچھ واضح کر دیتی ہے۔ شاہ زیب قتل کیس میں آج ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ہر جگہ محبت کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ماں باپ اپنے قتل ہونے والے بیٹے کی دیت بھی وصول کر سکتے ہیں اور قتل کرنے والا بھی رقم ادا کر دیتا ہے۔ ماڈل ٹاﺅن لاہور سانحہ کے کئی متاثرین سے میں ملا ہوں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں کافی ”آفرز“ آئیں لیکن انہوں نے رقم وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ کافی غریب لوگ اپنے مقتولین کا قصاص نہیں لیتے۔ بلکہ وہ انصاف چاہتے ہوئے ملزمان کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ مجھے کسی شخص نے دولت کا مطلب یوں سمجھایا کہ جس سے رقم لینی ہو۔ دھونس دھمکی، منت سماجت سے نکلوا لو۔ اور جس کے دینے ہیں اس کو ہر گز نہ دو۔ اسے دولت کہتے ہیں۔ میں نے ایک صنعتکار کو دیکھا جس کی 36 صنعتیں ہیں۔ وہ سادا کھدر کے کپڑے پہنتا اور ایک فلیٹ میں رہتا۔ اس کے نام پر کمپنیاں، بینک، صابن پر نام۔ میں نے جب ان سے پلنگ کے بارے کہا تو وہ کہنے لگے میں تو زمین پر سوتا ہوں لاہور میں ایک بڑی فیملی رہائش پذیر تھی۔ خواجہ سلطان وہ کرائم کے وکیل تھے۔ خواجہ حارث جو میاں نوازشریف کے وکیل ہیں۔ ان کے والد تھے۔ ان کا ایک بھائی خواجہ خورشید انور میوزک ڈائریکٹر تھا۔ ایم ایس سی کر کے وہ ممبئی گیا تھا ایک بھائی خواجہ آصف پاکستان ٹائمز اور امروز کا پرنٹر پبلشر تھا۔ تیسرا بھائی پنجاب کا ایڈووکیٹ جنرل تھا۔ خواجہ سلطان کہتے مشہور تھا کہ ڈیڑھ کروڑ جمع کر لو اور جس کو چاہے قتل کر دو اور ان کے پاس چلے جاﺅ۔ وہ کرائم اور فوجداری کے ٹاپ کے وکیل تھے۔ جو ان کے پاس چلا گیا وہ پکڑا نہیں جا سکتا۔ اس لئے ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے۔ ایک سیاست دان ایم انور بار ایٹ لاءایوب خان نے ان کی جج بننے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ کیونکہ انہوں نے اپنی ماں کو تہہ خانے میں بند کر رکھا تھا۔ ایوب خان نے مجھے بتایا کہ میں نے ملٹری والوں سے کہا کہ ایک دم جا کر حملہ کرو اور اس کی ماں کو بازیاب کرواﺅ۔ اس عورت نے کہا میں ان کی سگی ماں ہوں انہوں نے جائیداد کیلئے مجھے قید کر رکھا ہے۔ ہماری تاریخ میں ایسے جج اور وکلاءگزرے ہیں۔ جنہوں نے دولت کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا۔ ایک اٹارنی جنرل کو رفیق سہگل نے اتنی دولت دی کہ اس نے فوراً نوکری کو ٹھوکر مار دی۔ لہٰذا یہاں انصاف بکتا ہے۔ شاہ زیب کیس میں بھی ایسا ہی ہے۔ جس کے پاس دولت پیسہ ہو گا وہ صاف بچ نکل جائے گا۔ مجھے زندگی نے یہی کچھ سکھایا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری میرے ہمسائے ہیں میں اکثر ان سے ملتا رہتا ہوں۔ میاں نوازشریف کے والد میاں شریف نے جو اتفاق مسجد 187/H ماڈل ٹاﺅن میں بنائی تھی۔ ڈاکٹر صاحب دوپہر تک وہاں بیٹھا کرتے تھے۔ اور وہاں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے۔ انہوں نے خود لکھا ہے جب یہ نوازشریف اور شہباز شریف کے ساتھ حج کرنے گئے تو شہباز شریف نے انہیں کندھوں پر بٹھا کر غار حرا کی چڑھائی پر لے کر گئے۔ شریف فیملی ان کی اتنی عقیدت مند تھی۔ معلوم نہیں ان کی ناراضی کی وجہ کیا بنی۔ فرار وہ شخص ہوتا ہے جس کے پیچھے پولیس ہو یا پکڑا گیا ہو یا جیل میں ہو۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو فرار ہونا نہیں کہنا چاہئے۔ وہ بڑی اچھی اُردو بولتے ہیں۔ مولوی حضرات کا اصل کام پیسہ اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں دولت روپوں میں ملے گی۔ وہاں ڈالرز میں ملتے ہیں۔ وہ بے وقوف ہیں یہاں پیسے اکٹھے کریں۔ ایک مرتبہ میں ناروے گیا۔ انہوں نے مجھے منہاج القرآن کی بلڈنگ دکھائی گاڑی تین سے چار منٹ تک اس بڈنگ کے ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے چلتی رہی اور منہاج القرآن کی بلڈنگ ختم نہیں ہوئی۔ یہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں واقع تھی۔ اس کے علاوہ امریکہ میں پیرس میں، جرمنی میںان کی اتنی پراپرٹیاں ہیں کہ اتنہا ہے۔ لوگ انہیں پیسے دیتے ہیں لوگوں نے اپنی عاقبت درست کروانی ہے؟؟؟ پیر سیالوی کو لوگ پیسے کیوں دیتے ہیں۔ جس دربار پر بیٹھتے ہیں۔ لوگ وہاں چندے دیتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے ایک رگڑا دیا اور سیالوی صاحب بیٹھ گئے۔ مشائخ نے انہیں مشورہ دیا کہ پنجاب حکومت (اوقاف) ان کی گدیوں پر قبضہ کر لے گی۔ طاہر القادری کی دولت یہاں کروڑوں میں ہے لیکن یہاں بار بار ڈی ویلیو کی وجہ سے رقم کہاں سے کہاں چلی گئی ہو گی۔ جبکہ بیرون ملک دولت ڈالروں میں ہے وہ کتنی رفتار سے اوپر گئی ہو گی۔ میں 17 تاریخ کے لاہور ڈرامے کے فلاپ ہونے کی وجوہات اچھی طرح جانتا ہوں۔ کس طرح آصف زرداری واپس چلے گئے۔ عمران خان مایوس ہو گیا شیخ رشید نے استعفے کا اعلان کیا اور پھر واپس کر دیا۔ ایک طالبہ جسے بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کے لیکچرار نے دوستوں کے ساتھ مل کر بے آبرو کیا اور ویڈیو فلمیں بنائیں۔ اس کے پیچھے ملزم کے ہاتھ بہتت لمبے تھے۔ اس کا باپ، چچا، تایا ملتان بڑے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اس شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ لڑکی پہلے تو خاموش تھی پھر جب اس نے ویڈیو کو اس طرح پھیلتے دیکھا تو اس نے درخواست وائس چانسلر کو دی۔ انہوں نے بات نہیں سنی۔ پھر وہ تھانے چلی گئی۔ وہاں انہوں نے بھی نہیں سنی۔ اس کی فلمیں ہمارے نمائندے کو ملتان میں مل گئیں۔ مجھے جب ہمارے نمائندے میاں غفار نے بتایا تو میں نے پروگرام میں بات کی۔ میں نے گورنر پنجاب رفیق رجوانہ بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ اسلام آباد پنجاب ہاﺅس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے ساڑھے گیارہ بجے کے وقت مجھ سے بات کی۔ میں نے انہیں بتایا کہ بہاﺅالدین زکریا کے وائس چانسلر سے کہیں کہ ایک لڑکی نے اپنی بدسلوکی کی اپنی درخواست دے رکھی ہے انہوں نے نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے وائس چانسلر سے بات کی۔ وائسچانسلر نے پولیس والی بات کی کہ جہاں بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ ہمارے علاقے میں نہیں آتا۔ وہ یونیورسٹی کی حدود میں نہیں آتا بلکہ وہ پروفیسر شہر میں رہتا ہے۔ میں نے رانا ثناءاللہ نے دو، ڈھائی گھنٹے تک ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کو فون کریں۔ میرے پاس (3) فلمیں تھیں۔ میں نے انہیں دکھائیں۔ انہوں نے سی سی پی او کو فون کیا اور مجھے بھی کہا کہ آپ جو چاہیں اس سے پوچھ لیں اور اس کی بات سن لیں۔ سی سی پی او نے کہا کہ ہم نے ملزم علی رصا کے جتنے بھی موبائل کیچر کئے ہیں اس میں وہ ویڈیو موجود نہیں ہے۔ میں نے متاثرہ لڑکی کی ویڈیو رانا ثناءاللہ کی موجودگی میں سی سی پی او کو بھیجی ہے۔ یہ سائبر کرائم کا مقدمہ بنتا ہے۔ اس پر ٹیلی گراف کا مقدمہ بنانا کیس کی رینج ہی ہے۔ اسے کون بجانا چاہتا ہے جو درست مقدمہ میں درج کرنے میں راضی نہیں ہے۔ اس یونیورسٹی کے سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کو مبارک ہو۔ وہ بندوں کے حقوق کی تو بات کرتے ہیں، سرائیکی شعبہ کے استاد کا گھر لڑکیوں کو ذلیل کرنے کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا۔ آٹھ سال قبل عورت کے ساتھ یہ پکڑا گیا۔ اس کے ساتھ کام کرنے والی نے اس کے خلاف شکایت کی۔ لیکن لیکچرار کی تنظیم آئی اور اسے صاف بچا کر لے جاتی۔ ڈی ایس پی، صاحبہ شاہد قریشی وغیرہ سے ملی ہوئی ہیں۔ اس لئے مقدمات ہی غلط درج کئے گئے ہیں تا کہ مجرمان آسانی سے چھوٹ جائیں۔ لڑکی کا اصل قصور کیا ہے؟ وہ لرکی یہ کہتی ہے ڈیڑھ سال پہلے جب یونیورسٹی میں داخل ہوا تو میری اس لڑکے سے دوستی ہو گئی۔ ہم ملتے رہے۔ آپس میں جو کچھ کیا باہمی رصا مندی سے کیا۔ 7 ماہ تک میں ناراض رہی کیونکہ میں کہتی تھی کہ مجھ سے شادی کرو۔ وہ لڑکا کہتا تھا میں نے کسی اور جگہ شادی کرنی ہے۔ اس لڑکے نے پہلے بھی اور بہت سی لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کیا۔ اس لڑکی کو پتا چلا کہ اس کے دو اور لڑکیوں کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا وہ لڑکیاں اپنی عزت اور شرم کی وجہ سے چپ ہیں۔ اس لڑکی نے خود کو بچانے کے لئے یہ معاملہ اٹھا دیا اور پولیس کی درخواست دی یہی بیان اس نے پولیس کے پاس درج کروایا۔ بچیاں جو یونیورسٹی اور کالجوں میں پڑھتی ہیں خدا کے لئے وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بننے والے تعلقات کو محدود رکھیں اور شادی کے لئے اگر کوئی کہتا ہے تو اسے اپنے والدین کے سامنے رکھیں۔ اور خفیہ جگہوں پر جا کر ان کے ساتھ جھک نہ ماریں۔ ورنہ ایسا ہی انجام ہوا کرے گا۔ نمائندہ خبریں ملتان میاں غفار نے کہا ہے کہ ملزم علی رضا کا موبائل جب پولیس کے پاس پہنچا ہے اس میں سے فلمیں ڈیلیٹ ہو چکی تھیں۔ پولیس نے جب اس کے موبائل سے فلمیں پکڑی ہیں تو اس میں ایک خبر کے مطابق 22 اور دوسری کے مطابق 70 فحش فلمیں تھیں جو ساری یونیورسٹی کی تھیں۔ پولیس افسران کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فلمیں موجود نہیں ہیں میں نے سی سی پی او سے ملاقات کی انہیں اس کی تین فلمیں اپ لوڈ کر کے دیں۔ متاثرہ لڑکی پہلے تھانہ گلگشت گئی۔ یہ تھانہ ایلپا بنتا ہے۔ اس کے بعد وہ بی زیڈ تھانے گئی۔ اسی طرح یہ فلمیں ان ہی تھانوں میں گھومتی رہی ان میں سے کسی بھی تھانے کے اہلکار اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنے میں ملوث ہیں۔ اس واقعہ پر جو مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا اس میں محمد علی رضا قریشی، پروفیسر اجمل مہار، بینکار عثمان، کندیل اور حیدر شامل ہیں۔ پولیس نے چھاپے بھی مارے ہیں۔ لیکن سارا مواد تو ادھرادھر کر دیا گیا ہے ہمارے پاس تو تتین ویڈیوز ہیں۔ اس کے مطابق 5 تو آسانی سے کلیئر ہو جائیں گے۔ پولیس نے فضول قسم کا سائبر کرائم کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں ضمنی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے پولیس نے ڈھونڈنا ہے۔ پولیس نے اب کہہ دیا ہے کہ یہ وہ لڑکی نہیں ہے جس کی ویڈیو موجود ہے ٹیکنیکلی پولیس نے یہ مقدمہ ختم ہی کر دیا ہے۔

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      سعودی کمپنی کا پاکستانی ایئرپورٹ خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

      سانحہ پمز ، وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کے اسپتالوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم

      پمز سانحہ، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کا پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

      تازہ ترین

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.